Swaran_Lata

پہلی پاکستانی پنجابی فلم جس نے سولو سینما میں سلور جوبلی منائی

EjazNews

جس دور میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے یہ فلمبنائی اس وقت ہماری فلمیں بھارت جاتی تھیں۔ محض بزنس کو دیکھتے ہوئے یہ فلم ہندو کرداروں پر بنائی گئی۔ پاکستان کی پہلی پنجابی فلم جس نے سولو سینما میں سلور جوبلی منائی اور کامیاب کہلائی۔
پھیرے ، دو دوستوں کے گرد گھومتی کہانی تھی جو بے حد شرارتی تھے۔ فلم میں دوستی، محبت ، دشمنی اور چودھریوں کے رعب و دب دبے پر مبنی فلم تھی۔
انڈین فلموں کی پاکستان میں درآمد کے دور میں یہ فلم صرف دو ماہ میں مکمل کی گئی ۔ بابا چشتی نے تمام گانے ایک ہی دن میں ریکارڈ کئے جو تمام کے تمام سپرہٹ تھے۔ لاہور کے پیلس سینما میں یہ فلم 25ہفتوں تک چلی تھی اور اس نے انڈیا میں بھی آمدن کے ریکارڈ قائم کئے۔
انڈیا میں اس فلم کی ہیروئن سورن لتا کے بھائی فلم کے تقسیم کار تھے۔ جن کا جالندھر میں آفس تھا اور وہ سکھ فیملی سے تعلق رکھتے تھے جبکہ سورن لتا نے نذیر سے شادی کر کے مذہب اسلام قبول کر کے اپنا نام سعیدہ بانو رکھ لیا تھا۔ اس فلم کی کامیابی میں جی اے چشتی کا بڑا ہاتھ تھا۔ 50سال قبل انتہائی نامساعد حالات میں صدا بند کئے نغمے آج بھی سنیں تو تروتازہ محسوس ہوتے ہیں۔ فلم کا ہیرو ہیروئن کی ابتدائی ملاقات کے موقع پر یہ نغمہ تھا
مینوں رب دی سوں تیرے نال پیار ہوگیا وے چناں سچی مچی
اکھاں لگیاں تے دل بے قرار ہوگیا وے چناں سچی مچی
جدائی کے نغموں میں
اکھیاں لاویں نا
فیر پچھتاویں نا
عشق دے معاملے اولے
جب ہیروئن کی شادی ہو جاتی ہے تو ہیرو کا اس کی ڈولی کو جاتے دیکھ کر گانا
جے نئیں سی پیار نبھانا
سانوں دس جا کوئی ٹھکانہ
جیسے نغمے وجود میں آئے جو سچوایشن پر معنوی اعتبار سے بے حد فٹ تھے۔ گلوکار عنایت حسین بھٹی کی یہ پہلی فلم تھی جس کے گانے ہٹ ہونے پر وہ بھی ہٹ ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ وسائی کا نورجہاں سے میڈم نور جہاں تک کا سفر

اپنا تبصرہ بھیجیں