wife-haquq

بیوی میراث میں حقدار ہے

EjazNews

جاہلیت کے زمانہ میں عموماً عورتوں کو کچھ نہ سمجھتے تھے اور نہ ان کے واجبی حقوق کو ادا کرتے تھے۔خواہ وہ بیٹیاں ہوں یابیویاں وغیرہ ہوں اور نہ میراث میں سے ان کو کوئی ان کا حصہ دیتے تھے بلکہ بیوہ عورتوں کو اپنے ورثہ میں لے لیتے تھے اور جس طرح چاہتے اس کے ساتھ پیش آتے ۔

چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
ترجمہ : ’’اے ایمان والو تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے عورتوں کو زبردستی میراث میں لے لو۔ اور نہ یہ جائز ہے کہ دی ہوئی چیزوں میں سے کچھ واپس لینے کے خیال سے تم ان کو بند رکھو۔ البتہ اگر وہ کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں اور عورتوں کے ساتھ خوش معاملگی سے رہو اور وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ کوئی چیز تم کو ناپسند ہو اور اللہ نے اس میں بہت خوبیاں دی ہوں۔‘‘ (النساء)

جاہلیت کے زمانہ میں دستورتھا کہ جب کوئی مرد مر جاتا تو اس کابیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا یا اس کا کوئی اور رشتہ دار عزیز آکر متوفی کی بیوی پر چادر ڈال دیتا اور اس کی وجہ سے وہ اس عورت کا سب سے زیادہ حقدار بن جاتا تھا ،اگر چاہتا تو خود بلا مہر صرف مورث متوفی کے مہر پر اس کو نکا ح میں لے آتا اور چاہتا تو کسی دوسرے سے نکاح کر دیتا اور اگر چاہتا تو نہ خود اس سے نکاح کرتا اور نہ اس کو بطور خود کسی پر سے نکاح کر نے دیتا تھا۔ اسی طرح اس کو تکلیف دیتا رہتا تھا اور اگر وہ عورت مر جاتی تو بھی سوتیلا بیٹا یا میت کا عزیز اس عورت کے مال کا وارث بن جاتا تھا۔ ہاں اگر کپڑا ڈالنے سے پہلے وہ اپنے میکے میں چلی جاتی تو خود مختار ہوتی تھی۔ یہی طریقہ شروع اسلام میں رہا یہاں تک کہ ابو قیس انصاری کا انتقال ہو ااور متوفی کو بیو ی کبشہ بنت قیس انصاریہ اور ایک بیٹا قیس جو دوسری بیوی سے تھا باقی رہا ۔ قیس نے کبشہ پر چادر ڈال دی اور نکاح کا وارث ہوگیا۔ کبشہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی مصیبت بیان کرنے لگی اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺنہ مجھے خاوند کی میراث ملی اور نہ میرا پیچھا چھوٹا کہ دوسری جگہ نکاح کر لوں۔

حضور ﷺ نے فرمایا جائو صبر کر کے گھر بیٹھو اور حکم کا انتظار کرو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: اے مسلمانوں تم زبردستی عورتوں کے جان و مال کے وارث نہ بنو یہ تمہارے لیے قطعاً جائز نہیں کہ اپنے اقربا ءکی بیوی وغیرہ کے خواہ مخواہ بغیر کسی شرعی استحقاق کے وارث بن بیٹھو اورصرف ایک چادر ڈالنے سے ان کے مالک بن جائو ۔ اگر تم کو اپنی عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو اور تم ان کو طلاق دے چکو یا ان کے شوہر مر جائیں تو ان کو تکلیف دینے اور دکھ پہنچانے کے لیے بند نہ رکھو اور نکاح ثانی سے نہ روکو اور اس وجہ سے ان کی بندش نہ کرو کہ یہ مجبور ہو کر ادا کر دہ مہر واپس کریں۔ ہاں عورتیں تمہاری ناموس وری اور عزت شکنی کریں اور چار گواہوں سے ان کی زنا کاری ثابت ہو جائے تو ان کو مجبور کر کے مہر کی واپسی جائز ہے اور شرعی سزا بھی دو اور جب وہ نیک ہوں تو حسن سلوک ،خوش خلقی محبت انصاف نگہداشت حقوق کے ساتھ ان سے پیش آئو ان سے بہترین برتائو کرو۔ نان و نفقہ دینے میں انصاف کو ملحوظ رکھو۔ نرم کلامی اور دل جوئی کولازم پکڑلو۔‘‘ (النساء)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرنے میں بہتر ہو۔ (مشکوٰۃ)
اگر عورت کی بدصورتی ید بدخلقی کی وجہ سے تم کو ان سے نفرت ہو جائے تو تم کو ان ظاہری اسباب کی بنا پر بے رغبت نہ ہو نا چاہیے کیونکہ ہر چیز کا انجام خدا ہی خوب جانتا ہے تم کو نتیجہ اور مصلحت معلوم نہیں۔ ممکن ہے کہ جن چیزوں سے تم نفرت کرتے ہو اس میں خدائے تعالیٰ تمہارے لیے کوئی سود مند اور فائدہ آمیز نتیجہ پیدا کر دے ۔ بد صورت بیوی سے صالح اولاد پیدا کر دے یا بد شکل بیوی عصمت و عفت میں دوسری حسین و جاذب نظر عورتوں سے زائد ہو یا بد صورت عورت کا حسن انتظام، تربیت اولاد ، کفایت شعاری، گھر کی نگرانی اور اندرونی کمالات ایسے ہوں جو تمہارے لیے سہولت معیشت اور راحت قلبی کا سامان مہیا کرلیں۔ لہٰذا عورت کی خوبصورتی کو اپنی خانہ بربادی کا ذریعہ نہ بنائو۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام کے مطابق جائیداد میں بیٹیوں کا حق

غرض اسلام کی نظر میں مرد عورت دونوں کے حقوق قریب برابر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: اور جیسے مردوں کا حق عورتوں پر ہے اسی طرح دستور کے مطابق عورتوں کا مردوں پر بھی ہے اور مردوں کا مرتبہ عورتو ں سے زیادہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ (البقرہ)

جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں۔ اسی طرح حسن سلوک، احسان اور خوبی معاشرت کے حقوق عورتوں کے بھی مردوں پر ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ عورتوں کے حقوق سلب کر لیے جائیں۔ حقوق دونوں کے برابر ہیں۔ تفاوت صرف کیفیت حقوق میں ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر عورت اور مرد کے حق مساویانہ ایک دوسرے پر ہیں تو عورتیں مطلق العنان خود مختار ، شتر بے مہار ہو جائیں اور ہر وقت شوہر سے اختلاف رائے اورلڑنے جھگڑنے کے لیے تیار رہیں۔ آزادی کامل یا مظاہرہ بے حیائی کا مطالبہ کریں ۔ کیونکہ ’’وللرجال علیھن درجۃ ‘‘ مردوں کو بھی ایک مخصوص فوقیت حاصل ہے۔ ان کے اعضا قوی ہیں ہرقسم کی محنت برداشت کر سکتے ہیں ۔ عقل میں نقصان نہیں۔ تدبر مال اندیشی اور جفا کشی میں ان کو امتیازی درجہ حاصل ہے۔ عورتیں عموماً کوتاہ بیں ، نازک اندام، کم قوت اور ناقص العقل ہوتی ہیں۔ مرد عموماً عورتوںسے امور مذکورہ کے اعتبار سے افضل ہے۔ اب اگر کوئی خاص عورت امور مذکورہ میں سے زیادہ افضل یا ان کے مساوی ہو جائے تو کلیہ کا حکم نہیں ٹوٹتا۔ ’’واللہ عزیز حکیم ‘‘۔

خدائے تعالیٰ غالب ہے اور حکمت والا ہے اس نے اپنی حکمت سے مردوں اور عورتوں میں تفاوت جسمی اور عقلی اور اختلاف فرائض صنفی پیدا کیا ۔ مردوں کے فرائض علیحدہ بنائے اور ان کے اعضاء بھی ویسے ہی بنائے عورتوں کے فرائض جدا مرقرار کئے اور ویسے ہی خلقت اعضاسے ان کو عنایت کی مردوں اور عورتوں کو مساویانہ حقوق دئیے پھر اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کے لیے اور نظم عالم قائم رکھنے کیلئے مرد کو بعض امور میں عورتوں پر فضیلت دی اور درجہ بڑھایا لیکن حق تلفی کی اجازت نہی دی گئی ہے کہ قوی اور مضبوط ہونے کی وجہ سے کمزور کو ستائے یا ان کے حقوق کو سلب کرے بلکہ عدت و انصاف کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرمایا ہے:

ترجمہ:’’اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو دو اورتین اور چار عورتوں سے حسب پسند نکاح کر لو اور اگر تم کو عدل و انصاف نہ رکھنے کا اندیشہ ہو تو ایک ہی سے نکاح کر لو یا اپنی باندیوں سے ہی زیادہ قریب ہے اور ایک ہی طرف نہ جھک پڑو۔ ‘‘ (النساء)
امام بخاری نے بروایت حضر ت عائشہ صدیقہؓ بیان کیا ہے کہ عہد جاہلیت میں عرب کا دستور تھا کہ جو یتیم لڑکیاں ان کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوتی تھیں ان کے مال و جمال کی وجہ سے خود ان سے نکاح کر لیتے تھے اور چونکہ لڑکیاں ہر طرح ان کے قابو میں ہوتی تھیں اس لیے مہر بھی بہت کم مقرر کرتے تھے اور نکاح کے بعد حقوق ازدواجی کی بھی نگہداشت نہ کرتے تھے (اپنی سرپرستی کے احسان کی تلافی میں گویا باندیوں کی طرح سمجھتے تھے) اس بات کی ممانعت کے لیے خدا نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں سے شادی کرتے وقت ان کے حقوق ادا نہ کر سکو اور عدل، انصاف نہ رکھ سکو تو پھر ان سے نکاح بھی نہ کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  جائیداد میں پوتی کے حصوں کا بیان

دنیا میں عورتوں کا کال نہیں ہے جس سے چاہو جائز طور پر نکاح کر لو ’’مثنی و ثلث و ربع‘‘ عرب میں چوں کہ دستور تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہتے تھے نکاح کرتے چلے جاتے تھے۔ دس ، بیس، تیس بہرصورت کوئی حد مقرر نہ تھی اور تمدن انسانی کے لیے یہ بات مقرر تھی اس لیے اس آیت میں حد مقرر کر دی جس کا حاصل یہ ہے کہ تم جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو کر لو خواہ ایک سے کرو، دو سے کرو ، تین سے کرو، چار سے کرو مگر اس سے زائد کسی سے ایک وقت میں نہ کرو لیکن تعداد ازواج کے وقت مساوات ہونی چاہئے۔ نان و نفقہ اور شب باشی میں مساوات لازم ہے کمی بیشی حرام ہے۔ ’’فان خفتم الا تعدلو‘‘ اگر تم کو خوف ہے کہ تم سب بیویوں کو نان و نفقہ مساویانہ حیثیت سے نہ دے سکو گے یا شب باشی میں سب کے ساتھ برابر کا سلو ک نہ کر سکو گے تو پھر چند بیویاں نہ کرنا چاہئیں۔ یہ عدل کے خلاف ہے تو اس صورت میں ’’فواحد او ما ملکت ایمانکم ‘‘ ایک پر اکتفا کرناچاہئے یا صرف باندیوں سے حاجت پوری کرلینی چاہئے۔ ان میں مساوات ضروری نہیں یہ قانون تم کو انصاف اور عدل کی طرف قریب کرنے والا ہے اور کسی ایک طرف جھک جانے سے روکنے والا ہے۔ لہٰذا اس قانون پر کاربند ہو جائو۔ سورئہ نساء میں دوسری جگہ ارشاد ہے:
ترجمہ: ’’اور اے نبی آپ سے لوگ عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ اللہ ان عورتوں کے بارے میں حکم دیتا ہے اور وہ تم کو کتاب میں سنایا جاتا ہے ۔ وہ ان یتیم عورتوں کے حق میں ہے جن کو تم ان کا فرض کردہ حق نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں حکم دیتا ہے اور وہ حکم یہ ہے کہ تم یتیموں کے حقوق ادا کرنے میں انصاف کے ساتھ قائم رہو تم جو نیکی کرو گے اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔‘‘(النساء)

حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور بچوں کو میراث میں حصہ نہ دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ فرقہ دشمن سے لڑتا نہیں ، نہ قوم سے مضرت اعداء کو دفع کر سکتا ہے اس لیے میراث میں حصہ نہیں ہے لیکن جب مذہب اسلام آیا تو خدائے تعالیٰ نے عورتوں اوربچوں کو بھی میراث دینے کا حکم دیا اورآیت میراث نازل ہوئی جو اوپر لکھی جا چکی ہے۔

حاصل مطلب یہ ہے کہ اے نبی آپ سے لوگ عورتوں کے بعض حالات کے بارے میں سوال کرتے ہیں یعنی فتویٰ طلب کرتے ہیں ۔ یتیم کے نکاح اور میراث کے بارے میں فیصلہ دریافت کرتے ہیں ۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جن یتیم لڑکیوں کو تم مال میراث میں سے ان کا مفروضہ حصہ نہ دیتے تھے اور کسی دوسرے سے نکاح نہ ہونے دیتے تھے اور نہ خود ان سے نکاح کرتے تھے خدائے تعالیٰ نے قرآن میں ان کے متعلق جو حکم سنایا ہے وہ منسو خ نہیں ہوا بلکہ یہی ہے کہ تم یتیموں کی حق تلفی نہ کرو اور عدل و انصاف سے کام کرو۔ جو ہدایت گزشتہ آیت میں تم کو کر دی گئی ے، وہی ہدایت اب بھی تم کو اللہ تعالیٰ کرتا ہے کہ ان حقوق کا لحاظ رکھو اور ان پر ظلم نہ کرو۔ اور بیکس بچوں کے متعلق بھی وہی حکم دیتا ہے جو پہلے سنایا جا چکا ہے اور یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ تم یتیموں کے معاملہ میں انصاف کو کام میں لائو ان کا مہر اور میراث حصہ بغیر حق تلفی کے پورا پورا ان کو دو اور ادائے حقوق کے علاوہ جو کچھ تم ان کے ساتھ نیکی اور اچھائی کرو گے خدا کو اس کا علم ہوگا اور ہے اور تھا ۔ خدا اس کی تم کو جزا دے گا۔ نتیجہ ارشاد ہے کہ یتیم لڑکیوں اور بچو ں کو میراث اور نکاح وغیرہ کے احکام سورۂ نساء میں بیان کر دئیے گئے ہیں وہ ناقابل ترمیم ہیں ۔اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے بلکہ علاوہ حقوق مفروضہ کی ادائیگی یتیم بچوں کی حالت تو اس قابل ہے کہ ان کے ساتھ ہر قسم کا اچھا برتائو اور نیک سلوک کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھائی کی جائیداد میں بہنوں کا حصہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:’’اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے نشو زیا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ دونوں آپس میں صلح کر لیں اور صلح کرنا بہتر ہے اور لوگوں کی طبیعتیں حرص سے قریب کر دی گئی ہیں اور اگر تم نیکی کرو اور پرہیز گاری کرو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے تم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ تم سب بیبیوں کے درمیان برابر ی رکھو۔خواہ کتنا ہی چاہو۔ لہٰذا بالکل ایک ہی طرف مت جھک جائو کہ دوسری کوادھر میں لٹکا چھوڑ دو اور اگر صلح کر لو اور پرہیز کر لو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور اگر دونوں میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی طرف سے کشائش دے کر بے نیاز کر دے گا اور اللہ بڑا ہی وسعت والا ہے اور حکمت والا ہے۔‘‘

اس ارشاد گرامی کا حاصل مطلب یہ ہےکہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے لڑائی اور بے رخی کا خوف ہو اور علامات سے اس کو معلوم ہو جائے کہ شوہر میری طرف مائل نہیں توز وجین کے واسطے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ کسی طرح باہم صلح کر لیں ۔ عورت اپنے پورے حق سے دست بردار ہو جائے اور شوہر اس کی طرف مائل ہو جائے عورت کا حق عام ہے کہ خواہ نان و نفقہ و یا مہر واجب یا حقوق صنفی یا باری وغیرہ ، بہر حال اپنے حقوق معاف کر سکتی ہے اور رضا مندی کے ساتھ معاف کرانے میں شوہر پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے اورصلح کی بات بھی اچھی ہے۔(بضاوی)

انسانی طبائع لالچ اوربخل کے خمیر ہیں کوئی اپنے حقوق سے دست بردار ہونا اور اپنے مغوب طبع کو ترک کرنا نہیں چاہتا عورت اپنے حقوق مرد کو معاف کرنا نہیں چاہتی اور مرد کا دل جب دوسری عورت کی طرف لگ گیا تو پہلی بیوی کی طرف راغب نہیں ہوتا مگر صلح بہر حال اچھی بات ہے۔

صنفی معاملات و تعلقات میں حسن سلوک بہتر ہے۔ اگر ایک دوسرے سے حسن سلوک کروگے ، مرد عورت سے اور عورت مرد سے اچھا برتائو رکھے گی اور ایک دوسرے کی حق تلفی کرنے سے پرہیز کرو گے اور نان و نفقہ خرچ اور باری وغیرہ میں برابری سے کام لوگے تو خدا بھی غفور الرحیم ہے وہ قلبی محبت میں عدم مساوات کو معاف فرما دے گا اور تم میں جو میل و محبت کا تفاوت سے اس کو اپنی رحمت سے بخشے گا۔

زوجین کی دو حالتیں اوپر بیان کر دی گئی ہیں ایک تو وہ حالت کہ جب مرد کو عورت سے نفرت ہو دوسری وہ حالت کہ جب بیوی سے اتفاق کر لے ۔

اب یہاں تیسری حالت بیان کی جاتی ہے۔ حاصل ارشاد یہ ہے کہ اگر میاں بیوی میں صلح کی کوئی صورت ممکن نہ ہواور دونوں علیحدہ علیحدہ ہوجائیں اور مرد عورت کو طلاق دے دے تو پھر دونوں کا خدا کارساز ہے۔ ہر ایک کو دوسرے سے مستغنی کر دے گا ،مرد کو دوسری عورت ا ورعورت کو دوسرا مرد نصیب کر دے گا اور اپنے فضل سے دونوں کی حالت بہتر کر د ے کیونکہ خدا کا فضل وسیع ہے اور وہ ہر چیز کی مصلحت اور حکمت سے واقف ہے ۔ہر شخص کے لیے ضروری اسباب اپنے فضل و حکمت سے مہیا کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں