son+daughter

جائیداد میں پوتی کے حصوں کا بیان

EjazNews

محاورے میں بیٹے کی لڑکی کو پوتی کہتے ہیں لیکن یہاں خاص وہی مراد نہیں بلکہ پوتے اور پرپوتے کی بیٹی کو بھی پوتی کہتے ہیں اور اگر بیٹے کی بیٹی موجود نہ ہو تو پوتے کی بیٹی کو حصے ملتے ہیں اور اگر پوتے کی بیٹی بھی نہ ہو تو پرپوتے کی بیٹی انھیں حصوں کی مستحق ہوگی۔ پوتی کی میراث کی چھ صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن پرپوتی وغیرہ کے حال کو بھی اس کے تحت میں داخل کر کے دس گیارہ حالتیں لکھی جاتی ہیں۔
(۱) اگر میت کے بیٹا بیٹی موجو د نہ ہو ا ور دو پوتیاں یا دو سے زیادہ موجود ہوں تو ان کو کل مال کا دو تہائی دیا جائے گا۔ اس صورت میں بھی یہ پوتیاں بیٹیوں کےقائم مقام ہیں اور جس طر ح بیٹیاں دو ثلث کو باہم تقسیم کر لیتی تھیں اسی طرح یہ بھی کر لیں گی۔ خواہ دو پوتیاں ہوں یا زیادہ ہوں اگر پوتی کوئی نہ ہو تو پوپوتیوں کا یہی حال ہوگا۔
(۳) اگر میت کے بیٹا بٹی نہ ہو ایک پوتی یا کئی پوتیاں ہوں اور ان کے ساتھ کوئی پوتا ہو تو جو کچھ ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد باقی رہے اس کو یہ پوتا پوتی باہم تقسیم کر لیں ۔ اس جگہ پر پوتی قائم مقام پوتی کے نہیں ہو سکی کیونکہ پوتی کے سامنے وہ محروم رہتی ہے۔
(۴) الف: اگر میت کے بیٹا بیٹی نہ ہو اور کوئی پوتا بھی نہ ہو تو ایک یا کئی پوتیاں ہوں اور پر پوتا ہو تب بھی ذو ی الفروض کے بعد جو کچھ باقی رہے گا اس کو یہ پوتیاں اور پرپوتا باہم تقسیم کر لیں ۔ مرد کو دوہرا عورت کو آدھا، اگر میت کے بیٹا بیٹی پوتا پوتی کوئی نہیں پوتے اور پرپوتے ہیں تب بھی ذوی الفروض کے بعد باقی مائندہ ترکہ کو باہم تقسیم کر لیں۔ ’’للذکر مثل حظ الانثین ‘‘ (النسآء)
ب: اگر میت کے بیٹا پوتا پر پوتا موجود نہ ہو لیکن صرف ایک بیٹی موجود ہو تو پوتیوں کو صرف چھٹا حصہ ملے گا خواہ پوتی ایک ہو یا دو چار ہوں۔
ج: اگر میت کے بیٹا پوتا پرپوتا سگڑتا پوتا موجود نہ ہو ں اور پوتی بھی موجود نہ ہو بلکہ صرف ایک بیٹی پر پوتی ہو تو پر پوتی کو چھٹا حصے ملے گا خواہ ایک ہو یا چند۔
(۵) الف: اگر میت کے بیٹا، پوتا ، پرپوتا نہ ہو دو بیٹیا ںیا دو سے زیادہ ہوں تو پوتی بالکل محروم رہیگی۔
ب: اگر میت کے بیٹا، پوتا ، پرپوتا، سگڑپوتا نہ ہو دو پوتیاں یا دو سے زیادہ موجود ہوں تو پرپوتی بالکل محروم رہیگی۔
(۶) اگر میت کے بیٹا موجود ہے تو پوتیاں پرپوتیاں سگڑپوتیاں محروم رہ جائیں گی۔
اس کی تشریح یوں ہے کہ پوتیوں کا جو حال بیان ہوا اس میںیہ ضروری نہیں کہ سب پوتیاں ایک بیٹے کی اولاد ہوں یا سب پرپوتیاں ایک پوتے سے ہوں بلکہ اگر مختلف بیٹیوں کی بیٹیاں ہوں تو ان کے بھی وہی حصے ہیں۔ مثلاً ایک بیٹے کی ایک بیٹی ہے اور دوسرے بیٹے کی پانچ ہیں تو اب اگر ان کو دو ثلث ملیں گے تو باہم اس کے چھ حصے کر کے ہر ایک پوتی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ بیٹی اپنے باپ کو تنہا ہے اس کو کچھ زیادہ حصہ دیدیں۔ اس طرح پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ ہونے میں یہ ضروری نہیں کہ وہ پوتی اور پوتے سب ایک شخص کی اولاد ہوں بلکہ اگر بیٹے کا بیٹا موجود ہو تو بھی پوتیاں عصبہ ہو جائیں گی۔ نیز پوتیوں کے محروم ہونے کے لیے یہ شرط نہیں کہ میت کا بیٹا موجود ہو وہ ان کا باپ ہو بلکہ اگر پوتیوں کا باپ مر گیا ہو اور دوسرا بیٹا موجود ہو جو ان لڑکیوں کا باپ نہیں چچا ہے تب بھی محروم رہیں گی۔
ضروری بات: مزید سہولت کے لیے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بہن بھائی تین قسم کے ہو سکتے ہیں۔
(۱)ایک عینی یعنی حقیقی بھائی بہن جو ماں باپ دونوں میں شریک ہوتے ہیں اور سگے بھائی بہن کہلاتے ہیں۔
(۲) دوسرے علاتی یعنی وہ بھائی بہن جو صرف باپ میں شریک ہوں ماں علیحدہ علیحدہ ہو۔ ان کو سوتیلے بھائی بہن کہتے ہیں۔
(۳) تیسرے اخیافی یعنی وہ بھائی بہن جو صرف ماں میں شریک ہوں اورباپ سب کے علیحدہ علیحدہ ہوں۔
علاتی اور حقیقی بھائی ذوی الفروض میں داخل نہیں ان کی تفصیل فرائض کی کتابوں میں اپنے اپنے مقام پر ہے۔ یہاں صرف تینوں قسم کی بہنوں کے حصے اور میراث کا حال بیان کرنا منظور ہے۔ لیکن یہاں بھی ان تینوں قسم کے بھائی بہنوں کی نسبت یہ یاد کر لینا چاہئے کہ اگر میت کے باپ دادا وغیرہ یا بیٹا وغیرہ یا پوتا سگڑپوتا موجود ہو تو ہر قسم کے بھائی بہن میراث کے بالکل مستحق نہیں ہوتے چنانچہ ہر ایک کی تفصیل فرائض کی کتابوں میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوی میراث میں حقدار ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں