taybe urdgan-1

ترکی نے 3.6ملین شامی مہاجرین پر40بلین ڈالر خرچ کئے ہیں:طیب اردگان

EjazNews

شام میں ترکی کا فوجی آپریشن ’’چشمہ امن‘‘ جاری ہے اور اسی آپریشن کے تناظر میں ترک صدر طیب اردگان نے ایک کالم امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل میں لکھا ہے ۔
ترک صدر کے کالم کا عنوان ہے، ’’جب سب چُپ بیٹھے ہیں ترکی قدم اٹھا رہا ہے‘‘۔کالم میں طیب اردگان لکھتے ہیں 2011میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے لے کر اب تک کسی بھی ملک نے درپیش بحران کی تکلیف کو ترکی جتنے واضح انداز میں محسوس نہیں کیا۔ ترکی نے 3.6 ملین شامی مہاجرین کو قبول کیا ہے اور مہاجرین کی تعلیم، صحت اور رہائش کے لئے 40بلین ڈالربھی خرچ کئے ہیں۔ اس معاملے میں بین الاقوامی برادری سے ہمیں بہت کم تعاون ملا ہے ۔ہم نے اپنی فطری مہمان نوازی کے تحت لاکھوں جنگی متاثرین کا بوجھ تن تنہا اٹھا رکھا ہے۔ ترکی جو کچھ کر سکتا تھا اس نے کر دیا ہے اور اب ایک سرحد تک پہنچ گیا ہے۔ ہم نے متعدد دفعہ وارننگ دی ہے کہ بین الاقوامی مالی مدد کے بغیر ہم مہاجرین کو مغرب جانے سے نہیں روکیں گے۔ ذمہ داریوں سے جان چھڑانے والی حکومتوں نے بے نتیجہ رہنے والی ہماری تمام تر تنبیہات کو حقیقت کے بیان کے طور پر نہیں بلکہ دھمکی کی شکل میں پیش کیا ہے۔ جب ہمیں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ بین الاقوامی برادری اس معاملے میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گی تب ہم نے شام کے شمال کے لئے ایک پلان تیار کیا ہے۔ ہمارا مقصد YPG/PKK اور داعش کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ شامی کردوں کو دہشت گرد تنظیم PKK کے ساتھ ایک ہی پلڑے میں رکھے جانے پر ہمیں اعتراض ہے۔آپریشن کی مخالفت کرنے پر عرب لیگ کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی کی شامی مہاجرین کو ان کے وطن سے ملانے کی کوششوں پر اس قدر بے اطمینان ہونے والے ان ملکوں نے خود کتنے جنگی متاثرین کے لئے اپنے دروازے کھولے ہیں؟شام میں خانہ جنگی کے اختتام کے لئے کیا کردار ادا کیا ہے؟ خانہ جنگی کے خاتمے کے لئے کیا سیاسی اقدامات کئے ہیں؟۔ شامی بحران پورے علاقے کو عدم استحکام کے گرداب میں دھکیل رہا ہے اور بین الاقوامی برادری نے علاقے کو اس گرداب سے بچانے کا موقع گنوا دیا ہے۔ بہت سے ممالک اس بحران کے غیر منظم ہجرت اور بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے حملوں جیسے مابعد اثرات کا تجربہ کر چکے ہیں۔ چشمہ امن آپریشن بین الاقوامی برادری کو ایک دفعہ پھر ،شام کی اس پراکسی وار کو ختم کروانے اور علاقے میں امن و استحکام کی تعمیر نو کرنے کے لئے،ترکی کے ساتھ تعاون کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ یورپی یونین اور پوری دنیا کو ترکی کی کاوشوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے سب کی نظریں اسی پر ہیں

شامی بحران، بین الاقوامی جوڑ توڑ اور مفادات کے حصول کے لیے ہرحربے کو جائز قرار دینے کی ایک بد ترین مثال ہے۔ ہر ایک فریق یہ کہہ کر جان چھڑوا لیتا ہے کہ شام کا مسئلہ انتہائی گنجلک ہے اور اس کا کوئی فوری اور جامع حل موجود نہیں، لیکن پھر جس کسی علاقائی و عالمی طاقت کو موقع ملتا ہے، وہ جنگ کے میدان میں کود پڑتی ہے۔ اگر شامی خانہ جنگی کا جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ علاقائی و عالمی طاقتیں کس طرح جنگ، سیاست اور سفارت کاری کواپنے حق میں بازی پلٹنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی مُلک اس کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں، جبکہ یہ ایک بھیانک بحران کی صورت اختیار کر چکا ہےاور اس کے نتیجے میں پوری دُنیا مسئلہ فلسطین اور اسرائیلی جارحیت کو فراموش کر چُکی ہے۔ تاہم، شام میں جاری خوں ریزی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ فوجی طاقت کے بل پر امن قائم نہیں کیا جا سکتا، اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنا بہر حال لازمی ہے۔ شام میں جاری خوں ریزی اب تک اس صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا کے لاپتہ ہونے والے طیارے کا ملبہ مل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں