Dengue

ڈینگی پھیل رہا ہے، محکمہ صحت کو 2011ءکی طرح دوبارہ جگانا ہوگا

EjazNews

مچھروں نے آج کل پاکستانیوں اور خاص کر پنجاب میں رہنے والوں کو اپنی بھیہ بھیہ پر نچا رکھا ہے ، ملیریا، ڈینگو فیور جیسی خوفناک بیماریاں مچھروں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہی ہیں۔
یہ نہیں کہ یہ مچھر زمانہ قدیم میں انسانوں کیلئے خطرہ نہیں تھا بلکہ زمانہ قدیم میں ملیریافیور اور ایسی دوسری بیماریوں نے نسلوں کی نسلیں برباد کردیں۔ لیکن آج انسان اپنی سائنسی ترقی سے مچھروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا،بیماریوں پر قابو پانے کے بعد اب سائنسدانوں کو اگلا ہدف مچھر خود ہیں۔ سائنسدانوں بیماریوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ایسے مچھروں کی تیاری میں بھی کوششیں کررہے ہیں جو ملیریا فری ہوں۔
لیکن اگر ملک عزیز کی طرف دیکھیں تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس وائرس سے کم از کم 47 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور متاثرین کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ اس سے متاثرہ افراد کو تیز بخار اور جسم میں شدید در ہونا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ ڈینگی سے انسانی جسم میں وائٹ سیل ختم ہو نا شروع ہو جاتے ہیں ۔ مذکورہ بیماری کے لیے کوئی خصوصی علاج نہیں ہے البتہ بیماری کی شروع میں ہی تشخیص اور بہتر علاج کے باعث اموات کی شرح کم کی جاسکتی ہے ورنہ یہ بیماری زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
نکاسی آب کے نظام کا فقدان اور موسمیاتی تبدیلیاں ڈینگی میں اضافے کا سبب رہی ہے۔اس بخار کے متعلق شعور میں اضافہ کی بھی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں خاص کر پنجاب میں اس پر بہت کام ہوا تھا ۔2011میں اس کا حملہ بھی بڑا شدید تھا اور اس وقت 3سو 70افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ڈینگی 2011ءمیں جب پھیلا تو محکمہ صحت کی انتظامیہ غافل تھی۔ ہائیکورٹ کے حکم پر صحت کی سکیمیں شروع کی گئیں۔ ہائیکورٹ نے ڈینگی کے مرحلہ وار بچاﺅ کے پروگرام بنانے کی کوشش کی ۔لاروا بننے سے پہلے اسے مارنے کی ہدایت کی گئی۔لیکن پھر کیا ہوا ڈینگی تھوڑا سے قابو میں آیا اور محکمہ صحت غفلت کی نیند پھر ایک بار سو گیا۔
محققین کے مطابق گزشتہ ایک عشرے میں تیس کے قریب نئے وائرس، بیکٹریاں یا وائرس دریافت ہوئے ہیں۔ یا ان کے حملے میں شدت میں دنیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ پاکستان میں ڈینگی اور امریکہ زکاءوائرس بھی شامل ہیں۔ زکاءوائرس کا پہلا کیس ایک افریقی ملک کے جنگلوں میں 1947ءمیں سامنے آیا۔ لیکن 2015ءمیں جب یہ سیاحوں کے ذریعے فلوریڈا پہنچے تو امریکی محکمہ صحت میں تفتیش کی لہر دوڑ گئی۔ کہاجاتا ہے کہ پاکستان میں بھی ڈینگی وائرس استعمال شدہ ٹائروں کے ذریعے آیا تھا۔
بعض محققین نے ان دونوں امراض سے بچاﺅ کا ایک بڑا آسان سانسخہ بتایا ہے ان کے مطابق انسانی جسم میں بعض خلیے mitochondriaکے قسم کے بیکٹریا سے زمانہ قدیم میں بنے۔ یہ سر خ سفید سیل اور سپرم کے علاوہ کچھ خلیے اسی کی مرہون منت ہیں۔ لیکن جب ہم اینٹی بائیوٹک کی کارپیٹ بمباری کرتے ہیں توانسانی جسم کے اندر پور ا microbial ecoccosyspamیعنی مائیکرو بائیل ایکو سسٹم کو برباد کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل انسانی جسم کا حفاظتی نظام ہے۔ حملہ آور کو روکنا اسی کا کام ہے۔ لیکن اینٹی بائیوٹکس بسا اوقات ہر قسم کے بیکٹریا پر وار کرتی ہے اسے اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں یہ ایسے بیکٹریا بھی مار دیتی ہے جو بعض خوفناک بیماریوں کیخلاف ڈھال بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے مرنے سے پیٹ ، سرطان، ذیابیطس، پارکسن جیسے کئی بیماریوں میں انسان مبتلا ہو سکتا ہے۔ ان محققین کے مطابق wolbachiaنامی بیکٹریا ڈینگی کیخلاف زبردست ڈھال بن سکتا ہے۔ یہ ویکٹا وائرس کے خاتمے میں بھی مو¿ثر ہے۔ایک محقق کے مطابق اس وائرس کی موجودگی کے باعث ڈینگی وائرس کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ مس کرنے کے قابل نہیںرہتا۔ اسی طرح یہی بیکٹریا ویکٹا وائرس کے کیرئیر میں وائرس کی منتقلی کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے بڑی ریاستی دہشت گردی کی کیا مثال ہوسکتی ہے:ترک صدر طیب اردگان

اپنا تبصرہ بھیجیں