Change the world

تبدیلی کیسے آئے گی

EjazNews

معاشرہ جس انداز سے تشکیل دے دیا گیا ہے، وہ اکثر عورتوں کو غربت کی زندگی گزارنے اور کمزور صحت قبول کرنے پر مجبور کر رہا ہے، لیکن معاشرے کو اس انداز میں بھی ترتیب دیا جاسکتا ہے، جو بیماری کی بجائے صحت کے حق میں بہتر ثابت ہو۔
چوں کہ خراب صحت کے اسباب، خاندان، بستی اور ملک، تینوں سطحوں پر پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے عورت کی صحت بہتر بنانے کے لیے ان میں سے ہر سطح پر تبدیلیاں ہونی چاہئیں۔
اپنے خاندان میں تبدیلی کے لیے کام کریں:
آپ عورت کی صحت کے مسائل کے بارے میں جان کر اور اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی میں تبدیلیاں لا کر، اپنی اور اپنے خاندان کی صحت بہتر بناسکتی ہیں۔ آپ اپنے ساتھی سے اس بارے میں بات کریں کہ آپ دونوں کی صحت بہتر کرنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ اس میں محفوظ جنسی ملاپ اور ذمہ داریوں کا بوجھ آپس میں صحیح طریقے سے تقسیم کرنا بھی شامل ہے۔ آپ اپنے بچوں کی صحت اور ان کا مستقبل سنوارنے کی خاطر بھی کام کرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں چند تجاویز یہ ہیں:

ایک بہتر دنیا کے لیے اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں :
زندگی کے پہلے لمحے سے ہم اپنے بچوں کی جس طرح تربیت کرتی ہیں، وہی، اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہمارے بچوں کی سوچ کیا ہوگی اور بڑے ہونے پر ان کی عملی زندگی کیسی ہوگی۔
ماں ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے بچوں کو ہر روز یہی تعلیم دیتی ہیں:
جب ہم اپنے شوہروں اور بیٹوں کو کھانا پہلے دیتی ہیں تو ہم اپنے بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ لڑکیوں اور عورتوں کی بھوک کم اہمیت رکھتی ہے۔
جب ہم صرف بیٹوں کو سکول بھیجتی ہیں تو ہم اپنے بچوں کو تعلیم دیتی ہیں کہ لڑکیاں ان مواقع کی مستحق نہیں جوتعلیم حاصل کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
جب ہم اپنے بیٹوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ سخت اور تند و تیز مزاج مردانگی کی علامت ہے تو ہم تند و تیز مزاج والے مرد تیار کرتی ہیں۔
جب ہم اپنے پڑوسی کے گھر میں ہونے والے تشدد اور مار پیٹ کے خلاف نہیں بولتیں تو ہم اپنے بیٹوں کوتعلیم دیتی ہیں کہ مرد کے لیے اپنی بیوی اور بچوں کو مارنا پیٹنا جائز ہے۔
ماں ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے بچوں کی فطرت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں :
ہم اپنے بیٹوں کی اس طرح تربیت کرسکتی ہیں کہ وہ مہربان، رحم دل اور درد مند بنیں تا کہ وہ بڑے ہوکر مہربان، رحم دل اور درد مند شوہر، باپ اور بھائی ثابت ہوں۔
ہم اپنی بیٹیوں کو یہ تعلیم دے سکتی ہیں کہ وہ اپنی قدر و قیمت اور اہمیت پہچانیں۔ اسی طرح وہ دوسروں سے بھی یہی توقع کریں گی کہ وہ ان کی قدر کریں گے اور انہیں اہمیت دیں گے۔
ہم اپنے بیٹوں کی تربیت کرسکتی ہیں کہ وہ گھر کے کام کاج میں حصہ لیتے ہوئے فخر محسوس کریں تا کہ ان کی بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں پر بہت زیادہ کام کا بوجھ نہ پڑے۔
ہم اپنی بیٹیوں کو یہ تربیت دے سکتی ہیں کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کریں یا کوئی ہنر سیکھ لیں، تا کہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھاسکیں۔
ہم اپنی بیٹیوںکویہ تعلیم دے سکتی ہیں کہ وہ تمام عورتوں کا احترام کریں اور ذمہ دار ازدواجی رفیق ثابت ہوں۔
اپنی بستی میں تبدیلی لانے کے لیے کام کریں:
دوسروں سے بات کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ عورتیں اکثر شرم محسوس کرتی ہیں (مثلاً جسم کے اعضا کے بارے میں بات کرتے ہوئے) یا ڈرتی ہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچیں گے، لیکن اس کے باوجود بات چیت ہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریہ صحت کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اور ان کے اسباب تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اکثر آپ کو بات چیت کرتے ہوئے یہ احساس ہوگا کہ عورتیں ایسے ہی مسائل کے بارے میں فکر مند ہیں اور وہ ان پر بات کرنا چاہتی ہیں۔
اپنی بستی کی چند عورتوں کو صحت کے مسائل پر بات چیت کے لیے جمع کریں۔ ان عورتوں کو دعوت دینے کی کوشش کریں جو آپ کی دوست ہوں یا آپ کی دوستوں کی دوست ہوں، پڑوسنیں ہوں یا وہ عورتیں ہوں جن کے ساتھ آپ کام کرتی ہوں۔ ایک بار اگر آپ نے صحت کے اس مسئلے کا سراغ لگا لیا جس سے کئی عورتیں دو چار ہیں تو آئندہ آپ صحت کے مسائل پر بات چیت کی غرض سے بستی کی عورتوں کو بلانے میں آسانی محسوس کریں گی۔ جب آپ عورتوں کو جمع کر لیں تو ، عورتوں کی صحت کے مسائل کی بنیادی وجوہات کے بارے میں مل کر غور کریں اور منصوبہ بندی کریں کہ آپ اپنے خاندان اور بستی میں ان مسائل کے حل کے لیے کیا تبدیلیاں لاسکتی ہیں۔ عورتوں کے کسی ایسے گروپ کے ساتھ مل کر غور کریں اور منصوبہ بندی کریں کہ آپ اپنے خاندان اور بستی میں ان مسائل کے حل کے لیے کیا تبدیلیاں لاسکتی ہیں۔
مرد کس طرح مدد کر سکتے ہیں :
ایک مرد، عورتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں اس طرح مدد دے سکتا ہے:
• اپنے بچوں کی تربیت کرے کہ وہ عورتوں کا احترام کریں اور وہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرے۔ •
عورتوں سے پوچھے کہ وہ کیا چھ سوچتی ہیں اور ان کی بات سنے۔ ایک مرد اپنی بیوی اور بیٹیوں کی پریشانیوں اور ضروریات کے بارے میں بات سن سکتا ہے۔ اور جائزہ لے سکتا ہے کہ گھر کے تمام لوگ مل کر، خاندان کے ہر فرد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کریں۔
اپنی بیوی سے اس بارے میں بات چیت کرسکتا ہے کہ ان کے کتنے بچے ہونے چاہئیں اور پھر وہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے مساوی ذمہ داری قبول کرے۔
• اپنی بیوی کی حوصلہ افزائی کرے کہ وہ باقاعدگی سے اپنا طبی معائنہ کرواتی رہے اور اس سلسلے میں رقم فراہم کرنے اور وقت نکالنے میں اس کی مدد کرے۔
بچوں کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کرنا اور گھر کے کام کاج کرنا۔
• اپنی بیوی کے ساتھ وفادار اور دیانت دار رہنا، محفوظ جنسی تعلقات رکھنا۔ اگر کوئی مردایس ٹی ڈی میں مبتلا ہو جائے تو اسے اپنے ازدواجی پارٹنرکو اس بات سے آگاہ کر دینا چاہیے تا کہ وہ اپنا علاج کروا سکے۔ •
اپنی بیوی کو اچھی خوراک میں شریک کرنا، چاہے خوراک کم ہی کیوں نہ ہو۔
• اپنے تمام بچوں کی ہمت افزائی کرنا کہ وہ سکول میں اپنی پڑھائی مکمل کریں۔ جتنا آگے تک وہ پڑھیں گے ، اتنا ہی زیادہ انہیں بڑے ہو کر انہیں اچھے مواقع ملیں گے اور ان کی صحت اتنی ہی بہتر ہوگی۔ .
ایک مرد اپنی بستی میں ایک اچھی مثال اس طرح بھی قائم کرسکتا ہے:
اپنی بستی کی عورتوں کی حوصلہ افزائی کرے کہ وہ اجتماعات میں شریک ہوں اور اس بات کا اہتمام کرے کہ ان اجتماعات میں عورتوں کو بولنے کا موقع ملے یاپھر عورتوں کو ترغیب دے کہ وہ اپنے علیحدہ اجتماعات منعقد کریں جن میں مرد نہ ہوں۔
منصوبوں کے بارے میں غور کریں اور انہیں چلانے میں عورتوں کو شریک کرے اور اس سلسلے میں عورتوں کی ہمت افزائی کرے۔
• بستی کے افراد کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال ترک یا محدود کریں۔ ان چیزوں سے معاشرے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ صرف پیسہ اور توانائی ضائع ہوتی ہے۔
عورتوں کے خلاف کسی قسم کے تشدد یا زبردستی کو برداشت نہ کرے۔
• اپنے بچوں کی تربیت کرے کہ وہ اپنی ذہنی، جسمانی اور جنسی صحت کا کس طرح خیال رکھ سکتے ہیں اور عام بیماریوں سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔
اس تصور کوتبدیل کرنے کی کوشش کرے کہ ایک مضبوط مرد وہ ہوتا ہے جس کے کئی عورتوں سے جنسی تعلقات ہیں۔ ایک مضبوط مرد ایک مضبوط ازدواجی رفیق ہوتا ہے۔
گوئٹے مالا کے ایک چھوٹے سے گائوں میں چندعورتوں نے مل کر ایک ’’بنائی گروپ‘‘ قائم کیا۔ اس گروپ کی رکن عورتیں نبائی کر کے مختلف اشیاء تیار کرتی ہیں۔ یہ اشیا خواتین کی مصنوعات کے ایک کوآپریٹو اسٹور کے ذریعہ دارالحکومت میں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ اب صورت یہ ہے کہ گروپ کی رکن عورتیں۔ علاقے کے بیشتر مردوں کے مقابلے سے زیادہ کما رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اپنے اپنے خاندانوں اور بستی میں ان عورتوں کو ایک نئی حیثیت حاصل ہوئی ہے اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ ضروری نہیں کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی صورت ہی میں کیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں