unfinished-obelisk

مصر میں ساڑھے تین ہزار سال پرانی دریافت چار سو ڈنکے اور موہنجو داڑو کی تہذیب آج بھی چھپی ہوئی ہے

EjazNews

مصر میں ملنے والے یہ نا مکمل ڈیزائن قدیم انجینئرنگ کا نادر اور نایاب نمونہ ہیں۔ جنہیں دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ روزانہ اس علاقے میں جاتے ہیں۔ اور یہ اب اہرام مصر کے بعد مصریوں کی آمدنی کا ایک آسان ذریعہ بنا ہوا ہے، سیاحوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین اس ڈیزائن کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آخرساڑھے تین ہزار سال پہلے نیست و نابود ہوجانے والی تہذیب نے کتنی ترقی کی تھی۔ اسی نقطے میں ان کی دلچسپی انہیں یہاں کھینچ لاتی ہے جبکہ آثار قدیمہ کے ماہرین یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قدیم مصری باشندوں نے انہیں ادھورا کیوں چھوڑ دیا تھا جب ہر چیز مکمل اور جامع شکل میں ملی ہے تو پھر اس ڈیزائن کی بنیادیں رکھ کر اسے تعمیر کیوں نہیںکیاگیا۔ کیا کسی قدرتی آفت نے انہیں اپنی لپیٹ میں نہیں لے لیا تھا۔
ان نامکمل ڈیزائنز کو ان فنشڈ Unfinished Obeliskکہا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 137فیٹ ہے جبکہ وزن کم از کم 12سو ٹن ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے اندازوں کے مطابق یہ ڈیزائن ایک فرعون کی ملکہ یا شہزادی کے لیے Hatshepsutنے 18ویں پشت میں ساڑھے تین ہزار سال سے بھی پہلے بنوایا ہوگا۔ اس کی 4سمعتیں ہیں جبکہ قدیم مصری باشندے اسے Tekhenuکہا کرتے تھے۔ اب محققین نے اس کا نام Obelisksرکھا ہے۔ یہ یونانی لفظ Obeliskosسے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ ڈیزائن ایک ٹیمپل کے آغاز میں بنایا گیا ہے اور قدیم انجینئرنگ میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اس سے اس تہذیب کی سائنسی برتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
احرام مصر کی طرح اس کی تعمیر بھی انتہائی انوکھے انداز میں ہوئی ہے۔ اس زمانے میں مستریوں نے مضبوطی کے لیے پتھربھی استعمال کیے۔ یہ پتھر ہماری آج کی اینٹوں سے کہیں زیادہ مضبوط تھے۔ ایسے قدیم پتھر آج بھی اسوان تہذیب کے علاوہ دریا کے کنارے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ گرینائٹ سے بھی زیادہ ٹھوس ہیں۔ اس کے اوپر ہتھوڑے مارتے رہیں لیکن اسے کچھ نہ ہوگا۔ یہ تجربہ مصر میں ماہرین آثار قدیمہ کر چکے ہیں۔ اس کی تعمیر میں مصریوں یا ماہرین نے ناقابل یقین اور انوکھا انداز اختیا ر کیا ہے۔ مصریوں نے ان پتھروں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ بنا کر ان میں سورج میں خشک کی گئی لکڑی کے ٹکڑے پھنسا دئیے۔ اس کے بعد لکڑی کو بار بار پانی سے گیلا کیا گیا۔ یقین کیجئے گیلی لکڑی نے پھیل کر اس مضبوط پتھر میں دراڑیں ڈال دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساڑھے تینہزار سال قبل کے مستری اس سائنسی عمل سے آگاہ تھے کہ لکڑی گیلی ہو کر پھیلتی اور مضبوط ہوتی ہے اگر وہ ایسا نہ کرتے تو شاید اس کی تعمیر میں بہت دقت پیش آتی۔
اس ساری صورتحال کو دیکھ کر دل میں خوشی کے ساتھ ساتھ ایک غم بھی آجا تا ہے کہ ہمارے دنیا کی پرانی ترین تہذیب کے باسی ہیں یہ تہذیب مصر سے بھی پرانی ہے اورآثار قدیمہ بھی موجود ہیں لیکن تحقیق کے میدان میں آج بھی ہم دنیا کے تیسرے درجے کے ممالک میں شامل ہیں ۔ موہنجو داڑو کو دنیا کو دکھانے کی ضرورت ہے اور بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ دنیا کی کس قدر قدیم تہذیب ہے ۔ مصری سیاحت سے اربوںڈالر کماتے ہیں اور پاکستان میں اس کا عشر عشیر بھی سیاحت کیلئے نہیں آتا ۔ ہمیں سیاحت کو فروغ دینے کی بہت ضرورت ہے اور ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو دنیا دیکھنا چاہتی ہے بس رسائی آسان بنا دیجئے اور تشہیر مکمل کر دیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیلی فورنیا میں دنیا کی سب سے چھوٹی ،کم وزن بچی کی پیدائش

اپنا تبصرہ بھیجیں