daughter

اسلام میں بیٹی کی اہمیت

EjazNews

اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کا کوئی صحیح درجہ بھی نہ تھا وہ ایک قسم کی جانور سمجھی جاتی تھیں بلکہ جانوروں کا کچھ وقار بھی تھا ۔ ان کا کچھ وقار نہ تھا اپنی سگی لڑکیوں بیٹیوں کی ننگ و عار کے خوف سے مار ڈالتے اور زندہ دفن کردیتے تھے۔ اس کے قتل کو اپنے لیے باعث فخر و ناز سمجھتے تھے۔ قرآن مجید میں ان کی اس وحشیانہ حرکت کا اس طرح بیان ہے:
ترجمہ: ان مشرکوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ ان کے شریکوں نے ان کی نظر میں بچوں کے قتل کو اچھا بنا رکھا ہے تاکہ ان کو ہلاک کر ڈالیں۔(الانعام)
جب ان کے یہاں کوئی لڑکی پیدا ہوتی تو شرمندہ و پریشان ہوتے اللہ تعالیٰ نے ان کی سفاہت کو یوں بیان فرمایا:
ترجمہ: اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرا سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے ۔ اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس ذلت کو لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے۔ خبر دار ہو، بہت ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں۔ (النحل)
یہ ان کی نادانی اور حماقت ہے کہ سخت ضرورت کے باوجود لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”قد خسرالذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم “ ۔”وہ لوگ سخت نقصان اٹھانے والے ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو اپنی حماقت سے بغیر سمجھے بوجھے مار ڈالا ہے۔“
بہت سے ایسے دردناک واقعات ہیں انسانی قصائیوں کے ہاتھوں سینکڑوں لڑکیاں ذبح کی گئیں اور منوں مٹی تلے دبا دی گئیں۔
عرب کا ایک مشہور سردار قیس جس وقت دربار نبوی میں حاضر ہوا تو اپنی زندگی کے نمایاں کارنامے بیان کرتے ہوئے اس نے یہ بھی بیان کیا کہ میرے یہاں ایک بچی پیدا ہوئی۔ میں اس وقت سفر میں تھا میری بیوی نے خوف کی وجہ سے لڑکی کو اپنی بہن کے یہاں پرورش کے لیے بھیج دیا ۔ میں جب واپس آیا تو مجھ سے کہہ دیا کہ ایک مرا ہوا بچہ پیدا ہوا تھا۔ زمانہ گزرتا گیا لڑکی پرورش پاتی رہی اور ہم کو کچھ پتہ نہ چلا۔ ایک دن جب کہ میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ وہ لڑکی اپنی ماں سے ملنے آئی۔ اتفاقاً اس کی موجودگی میں بھی گھر پہنچ گیا۔ میں نے ایک خوبصورت نازک، مہذب لڑکی دیکھی تو اپنی بیوی سے میں نے سوال کیا کہ یہ کس کی بچی ہے میرے اس سوال سے اگرچہ لڑکی کی والدہ گھبرا گئی لیکن میری محبت بھری نگاہوں کو دیکھ کر جو اس بچی پر پڑ رہی تھیں (خیال کیاکہ شاید خون کے رشتہ نے مجھ پر اثر کیا ہے اور میں اس کے ساتھ محبت و رحم کا برتاﺅ کروں گا)اظہار واقعہ کر دیا اس وقت مجھ پر بھی محبت پدری نے ایسا غلبہ کیا کہ اس بچی پر رحم آگیا اور بیوی سے کہہ دیا کہ اس کی پرورش کرے۔
ایک دن میری غیرت کا جام لبریزہوگیا۔ سجی بنی لڑکی کو دعوت کے بہانے جنگل میں لے گیا اور گڑھا کھودنا شروع کیا۔ جب میں گڑھا کھود رہا تھا تو میرے کپڑوں پر مٹی اچھل کر پڑتی تو وہ وفور محبت میں اس کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے دونوں ننھے ننھے ہاتھوں سے میرے کپڑوں کو جھاڑتی اور میری قلبی شقاوت کا یہ عالم تھا کہ مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ گڑھ میں بچی کو کھڑا کر کے اس پر مٹی ڈالنی شروع کی اپنی پیاری زبان سے لڑکھڑاتے ہوئے الفاظ میں کہہ رہی تھی اے ابا جان تم یہ کیا کر رہے ہو تم کو قسم ہے بتاﺅ کیا کر رہے ہو۔ ابا کیا تم مجھ کو یہاں تنہا چھوڑکرچلے جاﺅ گے۔ اس کی اس درد بھری آواز سے زمین شق ہو جاتی۔ فولاد پانی ہو جاتا۔ پہاڑ پھٹ جاتا۔ انسانی دل تو کہنا ہی کیا تھا مگر میں دیوانہ وار اپنے کام میں مشغو ل تھا۔ اس کو زندہ دبایا اور چلا آیا۔ مگر اس کے بعد معلوم ہوا کہ قلب کے اس معصوم ٹکڑے کی فریاد نے جگر پر ایسا زخم کر دیا تھا جو آج تک نہ بھرا۔ اس کی یاداب بھی نمک پاشی کرتی رہتی ہے۔
سردار دو عالم ، رحمت مجسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کی زبانی اس کی شقاوت قلبی اور معصوم و مظلوم بچی کی یہ درد بھری کہانی سنی تو دل بھر آیا اور چشم مبارک پر نم ہو گئیں اور زبان معلی پر یہ الفاظ جاری ہو گئے ۔ ”واللہ ان ذالک لقسوة “۔ یہ بڑی سخت دلی ہے۔ ”من لم یرحم“ جو رحم نہ کرے اس پربھی رحم نہ کیا جائے۔
اسی طرح مسند دارمیں میں ایک صاحب کا واقعہ مذکورہ ہے کہ انہوں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بچی کو اپنے ہاتھوں سے کنویں میں پھینک دینے کا واقعہ بیان کیا اور وہ اے میرے ابا اے میرے ابا کی صدائیں لگاتی رہی اور یہ اس کی آوازیں سنتے سنتے وہاں سے رفوچکر ہو گئے۔
البدایة والنہایة کی ایک حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک صاحب نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آٹھ لڑکیوں کا زندہ درگور کرنا بیان کیا۔ الغرض اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ صنف نازک جو ظلم و تعدی اور قساوت کی تیرہ تاریک گھٹاﺅں میں پریشان تھی۔ اسلام نے جلوہ گر ہو کر اس کو مسند کرامت وعزت پرلابٹھایا کہ اس کی تمام مصائب کا یک لخت قلع قمع ہوگیا اور خاص جزئی میں بھی ایک پرہیبت اور پر جلال فرمان نافذ فرما کر ایسا کرنے والوں کو روک دیا گیا اور سخت تہ دیا فرمائی ۔ چنانچہ ارشاد ہوا: ”ولا تقتلو اولادکم خشیة املاق نحن نرزقھم وایاکم “۔ ”اپنی اولاد کو افلاس کے خوف کثرت اخراجات کے خطرے سے مت قتل کرو۔ تم ان کو رزق نہیں دیتے بلکہ ان کو اور تم کو رزق دینے والے ہم ہیں“ (بنی اسرائیل)
اور بھی سخت ترین تہدید ان الفاظ میں فرمائی گئی۔
ترجمہ: (ڈرو اس احکم الحاکمین سے)جب قیامت کے دن سوال کرے گا کہ بچیوں کو کس گناہ اور جرم میں قتل کیا تھا ۔
بازار قرابت کی اس ردی اور ذلیل جنس کا مذکورہ احکام اور فرامین سے تحفظ فرما کر محبت، رواداری ، خوش معاملگی، تربیت اور ترحم کا بھی درس دیا اور ترغیب دے کر اس کی عزت کو چار چاند لگا دئیے۔ چنانچہ فرمایا گیا
ترجمہ”اورچاہیے کہ ڈریں وہ لوگ اللہ سے کہ اگر اپنے پیچھے چھوڑ جائیں اولاد ضعیف۔ اور ان کے بارے میں خطرہ رکھتے ہوں کہ ہمارے بعد ان پر کیا گزرے گا اورکہیں بات سیدھی اور مناسب ۔“ (نساء)
یعنی یہ نہیں کہ صرف اپنی لڑکی کے ساتھ ہی محبت و شفقت کا برتاﺅ ہو بلکہ ہر ایک بچی و بچہ کے ساتھ یہی طریقہ ہونا چاہیے۔ اور خصوصاً ان لوگوں کو اس کا زیادہ اہتمام کرناچاہیے۔ جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں کہ اگر وہ خود مرجائیں تو کل کو ان کے بچے بچیوں کےساتھ کیا برتاﺅ ہوگا اور کیا گزرے گی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لڑکیوں کو برا نہ سمجھو۔ میں لڑکیوں کا باپ ہوں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کی ایک بیٹی ہو اور اس نے اس کو نہ گاڑا زندہ اور نہ حقیر و ذلیل بنا رکھا اور نہ ترجیح دی ہو لڑکے کو اس پر اللہ تعلیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔(ابوداﺅ۔ مشکوة)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی پرورش کرے دو بیٹیوں کی یہاں تک کہ وہ بالغہ ہو جائیں یا رخصت ہو جائیں اپنے خاوند کے پاس ۔ آوے گا وہ قیامت کے دن اس طرح کہ میں اور وہ ایک ساتھ ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ۔ “ (رواہ مسلم)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں بھی تھیں۔ اس نے مجھ سے سوال کیا اس وقت میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہیں تھا۔ وہی ایک کھجور اٹھا کر میں نے دے دی۔ اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ایک، ایک لڑکی کو، دوسرا دوسری لڑکی کو دے دیا اور خود نہیں کھایا۔ وہ کھڑی ہو کر چلی گئی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے یہ واقعہ ذکر کیا ۔
آپ نے فرمایا: ” جو ان لڑکیوں کی پریشانی میں مبتلا ہوجائے ان کے ساتھ نیکی کا برتاﺅ برتا تو یہ لڑکیاں جہنم سے اس کے لئے پرد ہ اور روک بن جائیں گی۔ “ (بخاری و مسلم)
اور فرمایا: ”لڑکیوں کو برا مت سمجھو کیونکہ یہ مونس اور غم خوار ہیں۔“
اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے:” جس نے لڑکی کی شادی کر دی، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا۔ لڑکیاں شفقت والیاں اور برکت والیاں ہیں“ (کنزالعمال)
کنز العمال اور دیگر کتابوں میں لڑکیوں اور بہنوں کی تربیت وتعلیم وغیرہ کے سلسلے میں بہت سی حدیثیں ہیں سب کا خلاصہ یہی ہے کہ لڑکیوں کے پالنے اورپوسنے والے جنتی آدمی ہیں اور یہ لڑکیاں خیرو برکت کی سبب ہیں۔ نسل انسانی کی بقاءانھیں لڑکیوں کی وجہ سے ہے یہ بھی اللہ کی پیدا کی ہوئی بہترین مخلوق ہیں۔
اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:
ترجمہ: ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹی بیٹا دونوں عنایت فرما دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔“(الشوری)
یعنی لڑکی اور لڑکا دونوں خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں ایک دوسرے پر ترجیح دینا کچھ اچھی بات نہیں ہے۔ اس آیت کریمہ میں لڑکیوں کا ذکر پہلے آیا ہے جن سے عورتوں کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے ایک آیت میں دونوں کی برابری کا ذکر آیا ہے کہ سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور اسی نفس سے مردوں عورتوں کوپیدا کیا ہے۔ دونوں ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اس لیے دونوں کادرجہ اپنی جگہ قائم ہے فائدے میں دونوں برابر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں ظلم کا بیان

اپنا تبصرہ بھیجیں