nusrat fateh ali

وہ جسے سنتے ہوئے عالم مدہوشی میں کھو جانے کو دل کرتا ہے

EjazNews

مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اس عظیم قوال کو کن الفاظ میں خراج تحسین پیش کروں ۔ کئی دفعہ آرٹیکل لکھا اور پھر سوچا کہ نہیں نصرت فتح علی خان ان الفاظ سے زیادہ کا مستحق ہے۔ یہ میری اندرونی کشمکش تھی۔ نصرت فتح علی خان 13اکتوبر1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ برصغیر پاک و ہند میں ان جیسی شہرت کسی اور قوال کے نصیب میں نہیں آئی۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے فن کو سراہا گیا۔
وہ فن موسیقی کے آسمان پر وہ روشن ستارہ ہیں جو ہمیشہ چمکتے رہیں گے۔ اگر یہ عظیم قوال آج زندہ ہوتا تو اس کی ہم 71ویں سالگرہ منا رہے ہوتے۔ پر قدرت کو جو منظور ہونا ہوتا ہے ہوتا وہی ہے۔ نصرت فتح علی خان کی بے شماری خوبیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انہوں نے قوالی کو مشرقی اور مغربی انداز میں یکجا کر کے یورپی ممالک میں رہنے والوں کو بھی اپنا گرویدہ بنایا۔ قوال گھرانے میں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان نے 16برس کی عمر میں باقاعدہ طور پر اپنے آپ کو بطور ایک قوال متعارف کروایا۔ ان کے بھائی مبارک علی خان کے انتقال کے بعد اپنا خاندانی فن انہوں نے آگے بڑھایا۔ شہرت کی دیوی ان پر اس قدر مہربان ہوئی کہ چار سو ان کا ڈنکا بجنے لگا۔ لاس اینجلس میں انہیں وائس آف پیراڈائز، پیرس میں مشرقی پاراوتی کا نام دیا گیا۔ ان کی خدمات کا اعتراف صرف بیرون ملک میں ہی نہیں کیا گیا بلکہ 1987ء میں انہیں صدارتی تمغے سے بھی نوازا گیا۔ بلاشبہ و ہ واقعتاً پاکستان کے ثقافتی سفیر تھے۔ ان کی شادی ان کی ہی کزن ناہید نصرت سے ہوئی تھی وہ بھی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔
پاکستان اورا نڈیا کی فلم انڈسٹری نے بھی ان کی شہرت سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کی قوالیوں کو اپنی فلموں میں شامل کر کے خوب مال بنایا۔ موسیقار اے آر رحمن کے ساتھ انہوں نے ایک مشترکہ البم ’’امن کے گرو‘‘ بھی ریلیز کی تھی۔ اب ان کے اس فن کو راحت فتح علی خان جو کہ ان کے بھتیجے ہیں آگے لے کر چل رہے ہیں۔
16اگست 1997ء کو یہ عظیم فنکار لندن میں انتقال کرگیا تھا۔جسے فیصل آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اداکار حبیب فنکار ہی نہیں انسان بھی بڑے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں