nawaz sharif

نواز شریف کی سیاسی زندگی پر ایک نظر

EjazNews

نواز شریف کے سیاسی کیرئیر کا ایک مختصر خاکہ ہم دیکھتے ہیں۔نواز شریف کے والدکا نام محمد شریف ، والدہ شمیم اختر، اہلیہ کلثوم شریف، بچے حسین نواز،حسن نواز اور مریم نواز،تعلیم کامرس کالج لاہور اور پنجاب کالج لاہور سے لاءکی ڈگری،1981وزیر خزانہ و سپورٹس پنجاب، 1985 ءمارشل لاءکے خاتمے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ ، اکتوبر 1990ءمیں پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم نامزد ہوئے،6نومبر 1990ءکو پہلی مرتبہ وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ سابق صدر غلام اسحق خان نے بدعنوانی اور نااہلی پر مبنی ایک چارج شیٹ جاری کر کے برطرف کر دیا اور اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔26نومبر 1993ءمیں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی بحالی کا حکم جاری کر دیا ۔ ان کی کابینہ کی برطرفی غیر قانونی قرار پائی اور ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے۔ تاہم یہ حکومت زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور کاکڑ فارمولے کے تحت میاں نواز شریف اور غلام اسحق خان دونوں مستعفی ہو گئے۔ 3فروری 1997ءکو دوسری مرتبہ وزیراعظم نامزد ہوئے۔17فروری 1997ءکو وزارت عظمی کا حلف اٹھالیا۔ 12اکتوبر 1999ءجنرل پرویز مشرف نے طیارہ سازش کیس کے الزام میں تختہ الٹ دیا۔جنرل پرویز مشرف جنوری 2000ءکو ہائی جیکنگ ، قتل اوراقدام قتل کے الزام میں سماعت شروع ہو گئی۔ 6اپریل 2000ءکو عدالت نے ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو درست قرار دے دیا۔ انہوں نے مشرف کا طیارہ اترنے کی روکنے کی کوشش کی جبکہ طیارہ کا ایندھن ختم ہونے والا تھا۔ وہ قتل کے الزام میں عمر بھر کے لیے جیل کی سزا ہوئی لیکن دوست ممالک کے درمیان میں آنے کے بعد انہیں بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ 22جولائی 2000ءکو عدالت نے انہیں ہائی جیکنگ،اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزام میں 14سال کی سزا سنائی۔اثاثے ڈکلیئر نہ کرنے اور ٹیکس چوری کے الزام بھی تھے۔
29اکتوبر کو میاں محمد شریف، نواز شریف کے والد کادوران جلاوطنی سعودی عرب میں انتقال ہوگیا۔ وہ اس وقت پاکستان میں ہی تھے ،نواز شریف نے پاکستان آنے کی کوشش کی انہوں صرف 4گھنٹے کے لیے جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی جو نہیں دی گئی۔ 25نومبر 2007ءکے بعد نواز شریف پاکستان واپس آگئے۔18فروری 2008ءمیں پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب رہی ،مسلم لیگ ن کو 67نشستیں ملیں یہ دوسرے نمبر پر تھی، یہ الگ بات ہے سیاست میں کوئی سیکنڈ پوزیشن نہیں ہوتی ۔20فروری 2008ءپاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مشترکہ حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ 26مئی 2009ءکو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو انتخابات لڑنے اور پبلک آفس ہولڈ کرنے کا اہل قرار دے دیا۔ قبل ازیں فروری 2009ءمیں سپریم کورٹ نے انہیں فوجداری مقدمہ کے تحت نااہل قرار دے چکی تھی ان پر آئینی پابندی بھی تھی آئین تیسری مرتبہ صدارت کی اجازت نہیں دیتاتھا۔
17جولائی 2009ءسپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا اور نواز شریف پر ہائی جیکنگ اور اس سے متعلقہ تمام مقدمات سے بری قرار دے دیا۔19اپریل 2010ءاس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے 18ویں ترمیم پر دستخط کر دئیے اپنے اختیارات صوبوں کو دے دیئے اور تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے فیصلے پر دستخطکر دئیے۔
30اگست 2014ءمیاں نواز شریف نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ان پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔اور بعد کی صورتحال سب کے سامنے ہے کہ کس طرح دھرنے ہوئے اور کیسے نواز شریف کو عدالتی فیصلے کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا اور انہوں نے کیسے جی ٹی روڈ سے لاہورکا سفر کیا اور اس کے بعد سے وہ پابند سلاسل ہیں۔
ان پر کئی مرتبہ الزام بھی لگا کہ وہ ملک چھوڑ کر جانے والے ہیں ، وہ ملک میں نہیں رہیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن وہ پاکستان میں ہیں اور اپنے مقدموں کا سامنا بھی کر رہے ہیں اور سزا بھی کاٹ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آپ نے کہا تھا کہ نواز شریف ظالم ہے تو اب میں سوال کرتا ہوں کہ کیا عمران خان ظالم ہے یا نہیں:امیر جماعت اسلامی

اپنا تبصرہ بھیجیں