old women

ماں کا اولاد کی جائیداد میں حصہ

EjazNews

ماں کی اہمیت دنیا کو معلوم ہے لیکن اس کے حق کی ادائیگی سے قاصر ہے اسلام نے اس کو پورا پورا حق دیا ہے عباد ت الٰہی کے بعد والدین کی خدمت اور اطاعت کا درجہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:”اور تیرے پروردگار نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ اگر ان دونوں میں کوئی یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو۔ اور ان سے نرمی سے بات چیت کرو اور مہربانی کا بازو ان کے ساتھ بچھاﺅ اور ان کے حق میں دعا کرو کہ خدایا جس طرح میرے باپ نے مجھے بچپن میں پالا پوسا ہے تو ان پر رحم فرما، تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم نیک ہو تو اللہ تعالیٰ رجوع کرنیوالے کو معاف کرنے والا ہے۔ “ (بنی اسرائیل)
ترجمہ: اور ہم نے انسان کواس کے ماں باپ کے حق کے بارے میں وصیت کی ہے اور ماں کےساتھ خصوصیت سے تاکیدی حکم دیا ہے اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں کی تو میری اور اپنےماں باپ کی شکر گزاری کر کہ میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباﺅ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرلے جس کا تجھے علم نہ ہو۔ تو تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھا برتاﺅ کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو۔ تم سب کو لوٹنا میری ہی طرف ہے جو کچھ تم کرتے ہو اس سے پھر تمہیں خبردار کروں گا۔ “ (سورہ لقمن)
ان کے علاوہ قرآن مجید میں متعدد جگہ ”و بالوالدین احسانا“ کا لفظ آیا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ ماں کی خدمت گزاری کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ ذیل میں چند حدیثیں نقل کی جای ہیں۔ بہزین حکیم کے دادا نے عرض کیا :
ترجمہ:”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس کے ساتھ نیکی کروں فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پھر میں نے عرض کیا کس کے ساتھ بھلائی کروں۔ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پھر میں نے عرض کا کس کے ساتھ حسن سلوک کروں فرمایا اپنی ماں کے ساتھ، پھر میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کس کے ساتھ نیکی کروں، فرمایا اپنے باپ کے ساتھ پھر جو تجھ سے زیادہ قریب کا رشتہ دار ہو۔ “(ترمذی)
حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد میری ماں مکہ سے مدینہ منورہ مجھ سے ملنے کے لیے میریے پاس آئیں اور وہ مشرکہ تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میری ماں آئی ہیں۔
ترجمہ: ”اس کو ابھی تک اسلام سے رغبت نہیں ہے تو کیا میں اس کے ساتھ نیکی کا سلوک کروں۔ آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ نیکی سے پیش آﺅ۔ “(بخاری و مسلم)
ماں کے قدم کے پاس جنت ہے حضرت جاہمہ صحابی ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہو اور عرض کیا میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ آپ سے مشورہ لینے کیلئے حاضر ہواہوں۔ آپ نے فرمایا :
ترجمہ: ”کیا تیری ماں زندہ ہے عرض کیا ہاں موجود ہے آپ نے فرمایا تو اس کی خدمت میں حاضر رہ، اس کو لازم پکڑلے جنت اس کے پاﺅں کے پاس ہے۔“(احمد، نسائی)
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ماحق الوالدین علی ولد ھما قال ھما جنتک اونارک “ ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے فرمایا تیری جنت اور دوزخ وہی دونوں ہیں یعنی ماں باپ کےساتھ نیکی کرنے سے جنت ملے گی اور برائی کرنے سے جہنم ۔ “ (ابن ماجہ)
اس سلسلے میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ماں کے ساتھ ہمیشہ نرمی و عاجزی سے پیش آﺅ۔ نہ اس سے سخت کلامی کرو اور نہ اس کا جواب دو جواس کا نان و نفقہ تمہارے ذمہ ضروری ہے اس کو ادا کرو۔ بغیر اس کی اجازت کے جہاد میں اور سفر میں نہ جاﺅ اگر تمہاری بیوی موجود ہے تو بیوی کو ماں پرترجیح مت دو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے مہاجرین و انصار تم آگاہ ہو جاﺅ جو شخض اپنی بیوی کو اپنی ماں پر فضیلت دے گا۔ تو اس پر خدا کی لعنت ہے۔ اور اس کے فرض نفل کو اللہ قبول نہیں کرے گا۔ “
اورنہ ماں کو گالی دو ہمیشہ اس کی عزت کرو اس کیلئے دعا کرتے رہو اور ماں کی سہیلیوں کےساتھ حسن سلوک سے پیش آﺅ اور رضائی ماں (دودھ پلانیوالی ماں) کی سگی ماں کی طرح عزت کرو۔ اور دادی اور نانی کی بھی عزت و احترام کرو۔“
اولاد کے مال میں ماں کا حق
دنیا کے دیگر مذہبوں میں اولاد کے مال میں اولاد کے مرنے کے بعد ماں کا کوئی حق نہیں ہے لیکن اسلام نے ماں کو حق دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:”اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اولاد کے ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا جبکہ میت کی اولاد ہو اور اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ اس کے وارث ہوں تو ماں کو ایک تہائی ملے گا اور باقی سب باپ کو لیکن اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہن ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔“
مطلب یہ ہے کہ میت کی ماں کی تین حالتیں ہیں۔
(۱) میت کے اولاد ہو یعنی بیٹا، بیٹی، یوتا، پوتی وغیرہ تو اس صورت میں ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(۲) میت کے دو یا دو سے زیادہ بھائی ہوں خواہ وہ سوتیلے یا سگے تو اس صورت میں بھی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(۳) اور اگر میت کے اولاد نہیں ہے اور نہ بھائی بہن دویا دو سے زیادہ ہیں تو ماں کو کل متروکہ میت کا تہائی ملے گا۔ یہ اس صوت میں ہے جبکہ میت کے ماں باپ کے ساتھ احد الزوجین نہ ہوں اور اگر احد الزوجین ہوں گے تو بعد دینے احد الزوجین کے ماں کو باقی کا ثلث ملے گا جیسا کہ سراجی وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اور دادی و نانی کا حق بھی ہے جس کی تفصیل فرائض کی کتابوں میں ہے۔
خالہ پھوپھی کا حق
خالہ بھی ماں کے حکم میں ہے، جو خدمت اور حق ماں کا ہے وہی خالہ کا ہے۔ خالہ کے ساتھ نیکی کرنا گویا ماں کے ساتھ بھلائی کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ایک گناہ کا صدور ہو گیا ہے۔ اس گناہ کے معاف ہونے اور توبہ قبول ہونے اور خدا کے راضی ہونے کی کیا صورت ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا تیری ماں ہے اس نے کہا نہیں ہے مرچکی ہے۔ آپ نے فرمایا تیری خالہ ہے اس نے کہا ہاں حضور میری خالہ زندہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اپنی خالہ کے ساتھ نیکی کر ۔ (ترمذی)
خالہ کے ساتھ بھلائی کرنے سے گناہ معاف ہو جائے گا اور خدا بھی راضی ہو جائے گا ۔ صلہ رحمی گناہ کا کفارہ ہے۔
سید الشہداءحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادہ کے قصہ میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”خالہ ماں کے حکم میں ہے۔“ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  بیوی میراث میں حقدار ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں