campr man with standing man

ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنی تشہیر کیلئے کام کرنا

EjazNews

ذرائع ابلاغ کو مخاطب کرنا:
اپنے کام کیلئے ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنا بہت فیصلہ کن ہوتا ہے۔ کیونکہ ذرائع ابلاغ ہرشخص کی روز انہ کی زندگی کا حصہ ہے۔ کسی مسئلے کے بارے میں عوامی شعور بڑھانے اور عوام کو ترک کرنے کیلئے ذرائع نشرواشاعت کا کردار بہت اہم ہے۔ ذرائع ابلاغ کو مؤثر طریقے سے مخاطب کرنے کیلئے خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر ہمیں محدود وقت اور جگہ کے مسئلے کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور ہمارے مخاطب لوگ بھی بہت ہی مختلف طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذیل میں ہم چند بنیادی رہنما اصولوں کو پیش کریں گے۔
مقامی؍ قومی اخبارات کے لئے لکھتا:
عملی نکات:
یہ ہدایت نامہ ’’کونسل ان امریکن اسلامک ریلیشن‘‘ (CAIR) نے ترتیب دیا ہے۔ یہ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو شمالی امریکہ میں اسلام اور مسلمانوں کی غلط تشریح کے مسائل پر کام کرتی ہے۔ لیکن متعدد تجاویز دیگر سماجی اور جغرافیائی پس منظر کے مطابق قابل عمل ہیں۔
ایڈ یٹر کو بھیجے گئے زیادہ تر خط شائع نہیں ہوتے کیونکہ یا تو وہ بہت لمبے ہوتے ہیں اور یا ان کا پیغام غیر واضح ہوتا ہے۔ اپنے خط کی اشاعت کے امکانات بڑھانے کے لئے آپ کو مندرجہ ذیل اصولوں کا خیال رکھنا چاہئے۔
(الف) اپنے خط کو 150 سے 200 الفاظ سے زیادہ طویل نہ کریں۔ اخبارات میں وقت اور جگہ کی گنجائش بڑی اہم ہوتی ہے۔ ایک مختصر لیکن مؤثر خط لکھنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس کے لئے بہت سی ایڈیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ آپ اپنے متعلقہ مسئلے کو جامع اور مؤثر طریقے سے بیان کر سکیں۔
(ب) اپنے بیان کو بنیادی خیال تک محدود رکھیں اور دیگر موضوعات کو شامل کرنے سے اجتناب برتیں۔ کیونکہ آپ کو مختصر خط لکھنا ہے اس لئے آپ اس میں تمام موضوعات شامل نہیں کر سکتے ۔ خواہ وہ کتنے ہی ضروری کیوں نہ ہوں ۔ آپ سب سے اہم مسئلے کومنتخب کر لیے اور پھر اپنی توجہ اسی پر مبذول رکھیں۔
(ج) اپنے خط میں خطوط کے ایڈیٹر کو براہ راست مخاطب کریں، اس سے کم از کم آپ کا پیغام براہ راست اس شخص تک پہنچ جاتا ہے جس نے اس کے شائع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اگر آپ کا خط متعلقہ ایڈ یٹر تک پہنچ جائے تو اس کی اشاعت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ تا ہم بہتر ہے کہ اپنے خط کی کاپیاں دوسرے لوگوں کو بھی ضروربھیجیں۔ خصوصاً جب آپ نے ان کومخاطب کیا ہو۔
(د) آپ جذباتی یا اختلافی انداز اپنا سکتے ہیں لیکن زیادہ مشکل انداز بیان یا کسی کی بے عزتی کرنے سے پرہیز کریں۔ نعرے بازی سے آپ اپنے مقصد سے ہٹ جاتے ہیں جس سے آپ کے خط کامتن درست ہونے پر شبہ پیدا ہو جاتا ہے۔
(ر) خط کا اصل مقصد پہلے پیراگراف میں ہی بیان کردیں جو 25 الفاظ سے زیادہ نہ ہو ،تا کہ بشمول ایڈیٹر دیگر قارئین فوراً آپ کے مقصد سے آگاہ ہو جائیں ۔ ورنہ آپ کے خط سےان کی دلچسپی ختم ہو جائیگی۔
(س) متعلقہ مسئلے کے بارے میں صرف ضروری معلومات دیں،لمبی چوڑی معلومات سے پر ہیز کریں۔ اس سے پڑھنے والا آپ کے خط کو بہتر طور پر سمجھ سکے گا۔

نیوز پیپر آج بھی پراپیگنڈا کا بڑا ذریعہ ہے

(ص) خط میں ہمیشہ غیر جانبدار ذرائع کا حوالہ دیں۔ اپنے دعوے کے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ شماریاتی یا سائنسی معلومات کے ذریعے اپنی بات کو ثابت کریں ۔ متعلقہ مسئلے کے بارے میں آپ کے تجربات اور مشاہدے کو مناسب طریقے سے بیان کر دینا ہی کافی ہوتا ہے۔
(ط) خط میں مسئلے کا حل ضرور پیش کریں۔ کسی ظاہری مسئلے کا جائزہ لینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ آپ کو مناسب تنقید یامسئلے کے مکمل کے بارے میں تجاویز بھی دینی چاہئیں۔
ریڈیو اور ٹی وی کومخاطب کرنا:
ریڈیو اور ٹی وی تک رسائی عام طور پر محدود ہوتی ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب ان پر حکومت یا چند اداروں کی اجارہ داری ہو لیکن اگر ان تک رسائی ہو سکے تو ان کے ذریعے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تک پہنچا جاسکتا ہے۔ آپ کے کام کا طریقہ کار بعض اوقات انتہائی محدود ذرائع ابلاغ کو بھی لوگوں کے سیاسی وسماجی مسائل کے بارے میں جواب دینے پر مجبور کرسکتا ہے۔
1995ء میں کینیڈا کی کونسل آف مسلم ویمن (CCMW) نے اپنی سالانہ کانفرنس کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے بارے میں ایک ورکشاپ منعقد کی ۔ جس کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ کینیڈا اور عالمی تناظر میں مسلمان عورتوں کے لئے کونسی باتیں اہم ہیں ۔ سی سی ایم ڈبلیو نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ذرائع ابلاغ میں اسلام اور مسلمانوں کی غلط تصویر کشی کا جواب ضرور دیں۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کے بارے میں غلط تصورات پیدا ہورہے ہیں ۔ ورکشاپ میں مقامی اور قومی ذرائع ابلاغ میں مسلمانوں کا نقطہ نظر پیش کئے جانے کے طریقوں پر بحث کی گئی ۔ ورکشاپ میں مقامی وقومی ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ افراد کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے درج ذیل طریقے اختیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ یہ طریقے کونسل کے ایک صحافی رکن نے پیش کئے کہ کس طرح کوئی تنظیم یا فرداپنے طور پر کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یا لوگوں کو متحرک کرنے کے لئے ان ہدایات پر عمل کر کے ذرائع ابلاغ کو استعمال کر سکتا ہے۔
(الف) ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطے کیلئے کسی ایک شخص کو متعین کر دینا بہتر ثابت ہوتا ہے، آپ کی تنظیم اور ذرائع ابلاغ کے درمیان تعلقات کے قیام کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔ اس سے ذرائع ابلاغ کے ساتھ تعلقات اور رابطے میں مددملتی ہے۔ کیونکہ جب ایڈیٹر اور رپورٹر آپ کی تنظیم کے نمائندے سے واقف ہو جاتے ہیں تو وہ اس تنظیم کی کارکردگی اور تجاویز کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
(ب)اس بات کا علم بھی بہت ضروری ہے کہ آپ کونسے پروگرام میں اپنی تنظیم کو زیادہ بہتر طور پر پیش کر سکتے ہیں نیز آپ کو علم بھی ہونا چاہئے کہ کونسار پورٹر کو نسے موضوعات کی رپورٹنگ کا ذمہ دار ہے۔ کیونکہ اگر آپ صحت سے متعلق کسی احتجاجی جلسے کی رپورٹنگ کے لئے کھیلوں کے رپورٹر سے رابط کریں گے تو اس کا نتیجہ زیادہ اچھا نہیں ہو گا۔ بہتر ہے کہ ایک فائل میں مختلف موضوعات مثلاً سماجی ، صحت اور ماحول وغیرہ کی کوریج کے ذمہ دار رپورٹروں کی تفصیلات جمع کر لی جائیں، اس سے متعلقہ موضوع سے وابستہ افراد سے رابطے اور ان کو مواد کی فرا ہمی آسان ہوجائے گی۔
(ج) یادر ہے کہ آپ کا پیغام یا خرمختصر اور واضح ہونا چاہئے جسے آسانی سے تبدیل نہ کیا جا سکے ورنہ اس کو کانٹ چھانٹ کر مختصر کر دیا جائے گا۔ یہ بات بھی یادر ہے کہ عام طور پر رپورٹر کسی مسئلے کی کوریج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ رپورٹر تو خبریں فراہم کر دیتے ہیں جبکہ اس بات کا فیصلہ ایڈیٹر کرتے ہیں کہ کونسی خبریں اور مسائل کی کوریج ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ ایڈیٹروں اور پروڈیوسروں سے بھی آگاہ ہوں اور انہیں براہ راست بھی اپنی خبر ارسال کریں۔
(د) واضح طور پر بتایئے کہ آپ کون ہیں کس کی نمائندگی کررہے ہیں اور کس مقصد سے وابستہ ہیں، اگر آپ واضح طور پرنہیں بتائیں گے تو ذرائع ابلاغ یہ کام خود کریں گے (جو ممکن ہے درست نہ ہو ) اپنے مقاصد واضح کیجئے خصوصاً اگر آپ کسی خاص مسئلے کے بارے میں معلوماتی گروپ ، سروس یا مشاورتی پروگرام سے منسلک ہوں تو آپ کو اپنی تنظیم کی جامع اور واضح تصویر دکھانی ہوگی کہ آپ کس چیز کے حق میں ہیں بجائے اس کے کہ آپ کس چیزکے مخالف ہیں۔
(ر) ذرائع ابلاغ کے رویے اور اس کی حدود و قیود کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے اور کسی ایک چیز کے مسترد ہونے سےیہ نہ سمجھیں کہ آپ کے معاملات میں ذرائع ابلاغ کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ ان سے رابطہ برقرار رکھیں اور انہیں اپنے معاملات سے مسلسل آگاہ کرتے رہیں ۔ یہ بات یادرکھیں کہ ذرائع ابلاغ کی دلچسپی بدلتی رہتی ہے۔ وہ تیزی سے ایک مسئلے سے دوسرے کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے ،ممکن ہے کہ وہ اس ہفتے آپ کے معاملات میں دلچسپی نہ لیں، لیکن دو تین ہفتے کے بعد وہ دوبارہ آپ کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذرائع ابلاغ کسی خاص مقصد کی تشہیر کی آزادی نہ رکھتا ہو لیکن انہیں اس بارے میں آگاہ ضرور ہونا چاہئے۔
(س) ذرائع ابلاغ کیلئے وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اس لئے رپورٹر سے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ اسے کس وقت تک رپورٹ پہنچا دینی چاہئے۔ عام طور پر ٹی وی کے نیوز روم کے پاس ایک دن کی ڈیڈ لائن ہوتی ہے جبکہ ریڈیو کے رپورٹر کی ہر گھنٹے کی ڈیڈلائن ہوتی ہے۔ اگر آپ مقررہ وقت کے مطابق انہیں اپنی خبر یا رپورٹ فراہم نہیں کر سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی خبرکی تشہیر کا موقع گنوادیا ہے۔ اس سے آپ کی تنظیم کے وقار کونقصان پہنچ سکتا ہے اور آپ کو نا قابل اعتبار اور غیر موثر سمجھا جاسکتا ہے۔
اخباری بیان لکھنے کے بنیادی اصول:
پریس ریلیز کسی واقعہ یا اہم معاملے سے متعلق اخبار یا دیگر ذرائع ابلاغ کو فراہم کیا جانے والامختصر بیان ہوتا ہے کسی خاص عوامی واقعہ یا صورتحال میں تبدیلی کے متعلق اطلاع کے لئے پر یس یا نیوز ریلیز ایک آسان اور سستا طریقہ ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ارکان کیلئے موثر پریس ریلیز تیار کرنے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات جاری کی ہیں۔
(الف) پریس ریلیز کامتن مختصر ہونا چاہئے ۔ اس کو عام طور پر دوصفحات سے زیادہ طویل نہیں ہونا چاہئے ، اس کا انداز بالکل واضح ہونا چاہئے ۔ طویل اور مشکل انداز میں لکھی گئی پر یس ریلیز شاید کوڑے کی ٹوکری میں ڈال دی جائے یا اس کو دوبارہ اس انداز میں لکھا جائے کہ اس کا پیغام واضح نہ ہو سکے۔
(ب) سب سے زیادہ اہم بات کو ابتدائی جملے میں بیان کریں۔
(ج) مقامی نقطہ نظر پر زیادہ توجہ دیں، کسی بھی دلچسپ واقعہ یا اہم شخصیت کی موجودگی کو ضرور بیان کریں۔
(د) پریس ریلیز کو (ڈبل سپیس) کھلا کھلا ٹائپ کریں۔
(ر) پریس ریلیز میں ان تمام لوگوں کے فون نمبر ضرور دیئے جائیں جو متعلقہ موضوع کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہوں تا کہ اگر رپورٹر کوئی سوال پوچھنا چاہے تو اسے رابطے میں مشکل نہ ہو۔
(س) ذرائع ابلاغ سے رابطوں کے بارے میں اپنی فائل میں تمام نئی معلومات شامل کرتے رہیں۔
براہ راست لا بنگ :
عوامی رابطے کی اہم شکل براہ راست رابطہ کہلاتی ہے، اگر چہ اب تک ہم عوامی شرکت کے جن طریقوں کا ذکر کر چکے ہیں وہ سب رابطے ہی کی قسمیں ہیں ۔ لیکن براہ راست رابطے کے تحت کسی تنظیم یا گروپ کے ارکان کسی اہم مسئلے پر گفتگو کے لئے سرکاری حکام سے ملاقات کرتے ہیں۔ اسی ملاقات سے قبل موضوع کے متعلق بہت تحقیق کی جاتی ہے اور ملاقات میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لئے یہ مواد پیش کیا جاتا ہے۔ حقائق پر مبنی معلومات اورتحقیق موثر رابطے کے لئے بے حد ضروری ہیں ۔ کامیاب را بطے اور گفت وشنید کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اقتدار میں موجود افرادکواپنی بات کی اہمیت کے بارے میں کس طرح قائل کرتے ہیں، گفتگو کو موضوع سے متعلق اہم باتوں تک محدود رکھنا مفید ہوتا ہے۔ لابی کرنے والوں کو سوالات کے علاوہ اپنی بات کو مؤثر طریقے سے سننا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری حکام سے ملاقات سے قبل آپ اپنی تنظیم کے اندر متعلقہ موضوع کے بارے میں خود بات چیت اور بحث و مباحثہ کریں۔ کام کو بہتر بنانے اور وقت بچانے کے لئے بہتر ہے کہ میٹنگ کا ایک تیار شدہ ایجنڈا یا خلاصہ میٹنگ سے پہلے جاری کر دیا جائے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ متعلقہ موضوع کیلئے عوامی حمایت حاصل کرنا بہت ضروری ہے تا کہ فیصلہ سازوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہو سکے، لابنگ کرنے والوں میں موقع شناسی اور لوگوں کو قائل کرنے کی خوبی ہونی چاہئے ۔ وہ سرکاری آداب کا علم رکھتے ہوں اور لوگوں سے تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں ۔ ملاقات کے بعد شکریے کا خط لکھنا مفید ہوتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف اچھے آداب کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ موضوع کی یاد دہانی بھی ہو جاتی ہے۔
براہ راست لابنگ کو معاشرے کے موجودہ ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے طویل المدت تبدیلیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی بارمقصد کے حصول کے بعد بھی لابی گروپ کا کام جاری رہتا ہے۔ کیونکہ اصلاحات کے عمل کی نگرانی اور دیگر تبدیلیوں کے لئے دباؤ برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ کسی بھی لابی گروپ کا کام اس وقت زیادہ موثر ہو جاتا ہے جب وہ اپنے مطالبات کے لئے با اثر افراد و تنظیموں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائے۔ لا بنگ کیلئے مسلسل کوشش اور عوامی پلیٹ فارم پر مسلسل موجودگی کے ساتھ ساتھ حکام اور سرکاری اداروں سے اکثر ملاقات بے حد ضروری ہے۔ براہ راست لا بنگ بڑا مشکل ہے جس کیلئے حوصلے اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ تبدیلی کاعمل سست رفتار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی کیلنڈر

اپنا تبصرہ بھیجیں