Marriage Husband with child

میرا شوہر بہت حساس ہے

EjazNews

بسا اوقات کوئی خاتون مجھ سے کہتی ہے:مجھے نہیں معلوم میں کس طرح کا سلوک ’’ان‘‘ کے ساتھ کروں میں ہر انداز سے تھک گئی ہوں ۔ وہ اکثر ایسے الفاظ اور جملے کہتے ہیں جن کا بہت گہرا مطلب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ غصہ ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ بد گمان رہتے ہیں وہ بے حد حساس ہیں۔ کسی بات کا ہمیشہ الٹا مطلب نکالتے ہیں۔
شوہر کی نازک مزاجی کے انداز:
۱۔ بیوی سے بدگمانی اور اس کے ہرعمل اور قول پر بھروسہ نہ کرنا۔
۲۔کسی بھی تجویز یا مشورہ پر بار بار اعتراض ۔
۳- بیوی سے ہٹ کر رہنے کی چاہت تا کہ وہ اس کی گفتگونہ سنے۔
۴۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ سماجی تعلقات میں شوہر کی ناکامی اور اس کے نتیجے میں گھر میں پڑےرہنا۔
۵۔ بیوی کے ساتھ بار بار بحث و تکرار۔
۶۔ بیوی کی گفتگو کے دوران شوہر کا جلد جذباتی ہو جانا ہے۔
۷۔ ہر بات کو اس کے مقصد کے خلاف لے جانا اور غلط انداز سے سوچنا۔
۸- بیوی کے نظریات اور کاموں پر زیادہ تر تنقید کرنا اور بیزاری ظاہر کرنا۔
۹۔ ہر موقع پر بیوی کے ساتھ کسی بات کو بڑھانا۔
۱۰۔ تمام پریشانیوں کو ایک ہی انداز سے سوچنا۔
ان پریشانیوں کے اسباب:
۱۔شوہرکایہ خیال کہ وہ ہمیشہ حق پر ہے اور اس کے علاوہ ہرشخص غلط ہے۔
۲۔ ماضی میں کسی بات کے پیش آنے کے لحاظ سے بعد کی تمام باتوں کواسی طرح سمجھنا اور پچھلے سلوک کو بعد کے سلوک کے ساتھ جوڑنا۔
۳۔کسی بات پر فیصلہ میں جلدی کرنا اور معاملات میں مستقل مزاج نہ ہونا۔
۴۔شوہر کا اپنی غلطی کو نہ ماننا۔
۵۔ وہ تربیت جوشوہر کو اس کے والدین کے گھر میں ملی اور اس کی شخصیت پراثرانداز ہوئی۔
۶۔ بعض حالات میں بیوی کا شوہر کے حالات کی رعایت نہ کرنا۔
۷۔ بیوی کی بات کا غلط مطلب سمجھنا اورمنفی پہلوئوں پرتوجہ رکھنا۔
۸۔ اپنے آپ پر کمزور اعتماد ہونا۔
۹۔ شوہرکازیاد مایوس کن حالات میں گھرے رہنا جس کی وجہ سے وہ نازک مزاج بن جائے۔
۱۰۔ شوہر کا یہ احساس کہ بیوی اس کی ذاتی پریشانیوں کا خیال نہیں کرتی ہے۔
۱۱۔ شوہر کا بیوی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات میں بیزار ہو جانا۔
۱۲ ۔شوہر کا بیوی کے سلوک اور رویہ کو برداشت نہ کرنا۔
۱۳۔ ازدواجی تعلقات اور ان کی مشکلات کوحل کرنے کے طریقہ سے ناواقف ہونا۔
ان پریشانیوں کے علاج کا تجویز کردہ حل:
ا۔ بیوی کو چاہئے کہ وہ شوہر کے ساتھ اپنی گفتگو اور رویہ میں باریک بینی سے کام لے۔
۲۔شوہر کونہایت اچھے انداز اور خوبصورت الفاظ اور جملہ کہا کرے۔
۳۔ بچوں اور رشتہ داروں کے سامنے اس پرتنقید نہ کرے۔
۴ ۔ گھر میں اس کی شخصیت اور اس کی ذمہ داری کا اسے احساس دلائے اور یہ ظاہر کرے کہ وہی فیصلہ کرنے کاحق رکھتا ہے۔
۵۔بعض معمولی کام اس کے ذمہ لگائے تا کہ وہ خوداعتمادی محسوس کرے اور اس کو اس کا اختیار دے کہ وہ اپنی پسند کا کام کرے۔
۶۔ شوہر کو اس کا موقع دیا جائے کہ وہ اپنی رائے ہر نئے مسئلہ پر ظاہر کرے۔
۷۔شوہر کو اس کا موقع نہ دیا جائے کہ وہ جیسا چاہے ہر معاملہ کی تاویل کرے اور اس کا الگ مطلب بتائے، بلکہ بیوی کا معاملہ اس قدر واضح ہو کہ اس میں تاویل کی گنجائش ہی نہ ہو۔
۸۔شوہر کے ساتھ کھلی گفتگوکانداز اپنایا جائے تا کہ ہر معاملہ اس کے لحاظ سے واضح ہو۔
۹۔بعض تربیتی اصولوں پر اسے چلانے کی کوشش ہو، جیسے خوش گمان رہنا، صاف صاف گفتگو کرنا ، یہ کام ان موضوعات پر تقریروں کے کیسٹ سنوانے ، یا ان سے متعلق کتابیں اور میگزین اسے دینے سے ہوسکتا ہے۔
۱۰۔ اس کی روزانہ کی سخت کلامی کونظرانداز کیا جائے اور وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے اسے کہنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
۱۱۔ بازاریاعام جگہوں پر شوہر کو ساتھ رکھا جائے۔
۱۲۔ بازار، ماکیٹ یا ہاسپٹل وغیرہ جیسی جگہوں پر اکیلے جانے سے گریز کیا جائے یا کم سے کم جایا جائے۔
۱۳۔ جب شوہرگھر سے باہر ہو توٹیلی فون بند رکھا جائے۔
۱۴۔ گھر سے باہرنہایت بن سنور کر اور مبالغہ کی حد تک خوبصورت بن کر نہ نکلا جائے۔
۵ا۔ لباس اور ظاہری حالت میں ستر پوشی کا خاص اہتمام کیا جائے۔
وہ خاتون دو ماہ بعد میرے پاس آئیں اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کے شوہر کا حال بہت بہتر ہو چکا ہے۔ وہ اس پر شک کرنا چھوڑ چکا ہے اور ان پر ہمیشہ بھروسہ کرنے لگا ہے۔
اہم بات:حالات انسان کونہیں بناتے ہیں بلکہ انسان حالات کو بناتا ہے۔(بنیامن دیرز)

یہ بھی پڑھیں:  طلاقوں کی بڑی وجہ ختم ہوتی عدم برداشت

اپنا تبصرہ بھیجیں