Islam

نان و نفقہ و سکنی

EjazNews

س: مطلقہ اور متوفی عنہا زوجہا کا نان و نفقہ کس کے ذمہ ہے؟
مطلقہ رجیعہ کا نان و نفقہ اور سکنی عدت کے ختم ہونے تک خاوند کے ذمہ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں تم ان طلاق والی عورتوں کو بھی بساﺅ اور انھیں تنگ کرنے کےل ئے تکلیف نہ پہنچاﺅ اور اگر یہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا نہ ہو لے انھیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم ان کی اجرت دیدو اور باہم مناسب مشورہ کر لیا کرو اور اگرتم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہے سے کوئی اور دودھ پلائیگی کشادگی والے کو پانی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اورجس پر اس کی روزی میں تنگی کی گئی ہو اسے چاہئے کہ جو کچھ اسے اللہ نے دے رکھا ہے اسی میں سے اپنی حسب حیثیت دے کسی کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد آسانی اور فراغت بھی پیدا کر دے گا۔“(الطلاق)
یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزرنے تک اس کے رہنے کو اپنا مکان دے یہ حکم اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان جس کا ایک کونہ اسے دیدے۔ اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لئے اپنا حق مہر چھوڑ دے۔ یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ وہ ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں، رجوع کا اعلان کردیا۔ پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ بچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان و نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے اکثر علماءکا فرمان ہے کہ یہ حکم خاص ان عورتوں کے لئے بیان ہو رہا ہے جنھیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لئے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی خواہ وہ حمل سے ہوں خواہ بغیر حمل کے اور بعض علماءکرام فرماتے ہیں کہ یہ حکم بھی ان عورتوں کا بیان ہو رہا ہے کہ جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انھیں کا بیان تھا۔ اسے الگ اس لئے بیان کردیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے ۔ تو کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے تک کا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھرنہیں اس لئے صاف طورپر فرما دیا کہ رجعت والی عورت طلاق کے وقت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس وقت تک اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہئے۔ ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہئے گو پھر دوسری دفعہ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے تو اگر بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہئے۔ تم میں آپس میں جو کام ہو وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں۔ نہ یہ کہ اس کے نقصان کے در پے رہے نہ وہ اسے ایذا پہنچانے کی کوشش کرے جیسا کہ سورہ بقرہ میں ہے۔
ترجمہ: ”یعنی بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرر پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو ۔ “ (البقرہ)
پھر فرماتا ہے اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہو جو اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زیادہ مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضا رمند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں۔ ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہو اگر اس پر بھی بچہ کی ماں رضا مند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ بچہ کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہئے کہ بچہ پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے۔ طاقت سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ بعد عسر یسرا یعنی تنگی کے بعد آسانی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں نکاح کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں