after divorce

عدت کا بیان

EjazNews

س: عدت کے کیا معنی ہیں ؟
عدت کے معنی شمار اور گنتی کے ہیں اور شرعی محاورہ میں مطلقہ یا متوفی عنہا زوجہا عورتوں کو طلاق یا خاوند کے مرنے کی وجہ سے چند دنوں تک نفس کو نکاح سے روکے رہنے کو عدت کہتے ہیں ۔ جیسے اگر کسی عورت کو طلاق دے دی گئی ہے اور اسے ایام ماہواری آتے ہیں تو وہ تین حیض تک عدت گزارے یعنی نکاح کرنے سے رکی رہے۔ اور جب یہ تین حیض کی میعاد گزر جائے تو نکاح کر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو چار مہینے دس دن تک زینت کی چیزوں کو چھوڑ کر نکاح سے رکی رہے جب اتنا زمانہ گزر جائے تووہ نکاح کر سکتی ہے عدت کے زمانہ میں کسی سے دوسرا نکاح کرنا جائز نہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:”اور طلاق دی ہوئی عورتیں۔۔۔تین حیض تک اپنے کو نکاح ثانی سے روکے رہیں اگر ان کا ایمان اللہ اور قیامت کے دن پر ہے تو ان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ جو چیز اللہ نے ان کے رحم کے اندر پیدا کی ہے اس کو چھپا لیں اس مدت میں ان کے شوہروں کو لوٹا لینے کا حق ہے۔ بشرطیکہ ان کو اصلاح مقصود ہو۔“
یعنی عورتوں کو ہم بستری کے بعد طلاق دی گئی اور وہ حیض والیو ں میں سے ہیں تو ان کو تین حیض تک یعنی تین مہینے تک نکاح ثانی سے رکنا چاہئے اور جو چیز خدا نے ان کے رحم میں پیدا کی ہے اس کو پوشیدہ نہ کریں بلکہ حیض کو ٹھیک ٹھیک حساب کےساتھ ساتھ ظاہر کر دیں دوسرے شوہر کے ساتھ جلدی نکاح کرنے کی غرض سے حیض کو چھپائیں نہیں اور اس بات کا خوف نہ کریں کہ نو ماہ تک وضع حمل کا کون انتظار کرے۔ اگر ان کا خدا اور قیامت کے دن پر ایمان ہے اور وہاں حساب و کتاب دینا ہے تو ناجائز حرکت سے بچنا چاہئے۔ اور اگر عدت کا زمانہ ابھی ختم نہیں ہوا تو عدت میں خاوند کو رجوع کرنے کا حق ہے۔ اور جن بوڑھی عورتوں کے ایام ماہواری بڑھاپے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں اور وہ مطلقہ ہو جائیں تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں کہ کم سنی کی وجہ سے ابھی تک حیض نہیں آیا تو مطلقہ ہو جانے کے بعد تین مہینے کی عدت گزاریں گی اور حمل والی عورتو ں کی عدت وضع حمل (بچہ جن دینا) ہے۔ یعنی بچہ جننے کے بعد وہ عدت سے فارغ ہو جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
ترجمہ: ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے بچے کا پیدا ہو جانا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے ہر کام میں آسانی کر دے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہوں کو دور کر دے گا ۔ اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔ “ (الطلاق)
جن بڑھیاعورتوں کو بوجہ اپنی بڑی عمر کے ایام حیض بند ہو گئے ہوں ان کی عدت یہاں بتلائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں۔ جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ والی آیت۔ اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ حیض آئے ان کی عدت بھی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو اس کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استحاضہ کی بیماری کا اور دوسرا قول ہے کہ ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو۔ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے۔ اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا تھا یا رسول اللہ ﷺ بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی۔ کم سن لڑکیاں بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں، اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی، کہ وضع حمل اس کی عدت ہے گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی وضع حمل ہو جائے۔ جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں۔ اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے اور جمہور علماءسلف و خلف کا قول ہے ہاں حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزار ے۔ یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچہ ہونے تک عدت ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابن عباس ؓ کےپاس آیا اس وقت حضرت ابوہریرہ ؓ بھی وہیں موجود تھے۔ اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ پیدا ہو جائے۔ آپ نے فرمایا دونوں عدتوں میں سے آخری عدت گزارنی پڑے گی۔ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ قرآن میں جو ہے کہ حمل والی عورتوں کی عدت بچہ ہوجانا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔
حضرت ابن عباسؓ نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو مائی ام سلمہؓ کے پاس بھیجا کہ جاﺅں ان سے یہ مسئلہ پوچھ آﺅ۔ انہوں نے فرمایا سبیعہ اسلمیہ کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت دو جیا تھیں۔ چالیس راتوں کے بعد بچہ ہوگیا۔ اسی وقت مانگا آیا اور آنحضرت ﷺ نے نکاح کر دیا ۔ مانگا ڈالنے والوں میں سے ایک حضر ت ابو السنابل بھی تھے۔ (ابن کثیر)
س: اگر کسی نے کسی عورت سے نکاح کر لیا لیکن جماع سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی تو ایسی عورت پر عدت ہے یا نہیں؟
غیر مدخلولہ کے طلاق دینے میں اس پر کچھ عدت نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اے ایمان والو جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دیدو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں ہے جسے تم شمار کرو تمہیں کچھ نہ کچھ انہیں دے دینا چاہئے اور اچھے طریقے سے انہیں رخصت کر دینا چاہئے۔ “ (الاحزاب)
یعنی ہم بستری سے پہلے ایسی عورتوں کوطلاق دے دو تو ان پر عدت نہیں ہے بلکہ طلاق کے بعد ہی اگر چاہیں تو دوسرے سے نکاح کر سکتی ہیں۔ ہاں اگر ایسی حالت میں خاوند مرگیا ہو تو اسے چار مہینے دس روز کی عدت گزارنی ضروری ہے۔ تمام آئمہ اور علماءکرام کا اس پر اتفاق ہے پس نکاح کے بعد ہی اگر میاں نے بیوی کو طلاق دیدی ہے اورمہر مقرر ہو چکا ہے تو اس صوت میں آدھا مہر دینا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اور اگر ہاتھ لگانے سےپہلے طلاق دے دو اور مہر مقرر کر چکے ہو تو مقرر شدہ کا آدھا ان عورتوں کو دے دو۔“(البقرہ)
اور اگر مہر کچھ مقرر ہی نہیں ہوا ہے اور جماع سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی ہے تو کچھ مہر دینا ضروری نہیں ہے ہاں اپنی طاقت کے موافق کچھ تھوڑا بہت دینا چاہئے یہ بات اچھے اور نیک لوگوں کے لئے ضروری ہے۔
حضرت امیمہ بنت شرجیلؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا۔ اور ہم بستر ہونے سے پہلے آپ ﷺنے طلاق دے دی تو دو رازقیہ کپڑے دیکر رخصت کر دیا تھا۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں نکاح کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں