indian chircition

بھارت میں عیسائیوں کا برا حال ہے:بشپ کشور کمار

EjazNews

جب سے نریندرا مودی حکومت میں آئے ہیں اپنے ساتھ وہ تشدد اور نفرت کی ایسی لہر لے کر آئے ہیں جس سے انڈیا میں اقلیتوں کی زندگی دوبھر ہو کر رہ گئی ہے۔ ہندو سپرمیسی کا دعویٰ کرنے والے صرف مسلمانوں ہی کے دشمن نہیں ہیں بلکہ وہ ہر اس اقلیت کے دشمن ہیں جو ہندو نہیں ہے۔ جیسے وہاں پر رہنے والے مسلمان پریشانی ہیں اسی طر ح ہندوستان میں بسنے والے عیسای انتہائی خوف کی زندگی گزار ہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بھارت کے ایک کیتھولک چرچ کے بشپ کشور کمار کوجور نے کیا ۔کیتھولک چرچ ریڈ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح اقلیتوں کے خلاف بھارتی حکومت کے اقدامات نے عیسائیوں کو خوف کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بشپ کشور کمار نے کہا کہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ اپنی جان کے خطرے کے خوف سے مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔
واضح رہے کہ کشور کمار، اڑیسہ ریاست میں رہتے ہیں۔ جہاں2008ء میں عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں 100افراد ہلاک اور50ہزار زخمی ہو گئے تھے۔ ان ہنگاموں میں انتہا پسند ہندوئوں نے 250گرجا گھروں کو جلا دیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق 2008ء میں بھارت میں عیسائیوں کیخلاف تشدد کے477 واقعات رونما ہوئے ۔ بشپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں لوگوں کی اکثریت کو یہ معلوم نہیں کہ بھارت میں عیسائیوں پر کیا گزررہی ہے۔ ہندو، عیسائیوں کو غیر ملکی کہہ کر انہیں اپنے ملک واپس جانے کے لئے کہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے عیسائی، نریندر مودی کی ’’گڈبک‘‘ میں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  افغان انتخابات، افغانستان کے استحکام میں مشرق وسطیٰ کا استحکام ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں