balochistan child water

بلوچستان میں پانی کی قلت کے خطرات

EjazNews

پاکستان کائونسل برائے تحقیق آبی ذخائر ( پی سی آر ڈبلیو آر ) نے متنبہّ کیا ہے کہ 2025ء تک پاکستان میں پانی کی شدید قلّت واقع ہو جائے گی۔ کائونسل کی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990ء میں پاکستان اُن ممالک کی صف میں شامل ہو گیا تھا کہ جہاں آبادی زیادہ اور آبی ذخائر کم ہیں، جس کے باعث مُلک میں دست یاب آبی ذخائر پر دبائو بڑھ گیا ۔ 2005ء میں پاکستان قلّتِ آب کے شکار ممالک کی صف میں شامل ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی، تو پاکستان میں بہت جلد شدید قلّتِ آب پیدا ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں مُلک میں خُشک سالی کا بھی خدشہ ہے، جب کہ بلوچستان کو سب سے گمبھیر صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں اس وقت زیرِ زمین پانی کی سطح تشویش ناک حد تک گر گئی ہے۔ کائونسل کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے فوری طور پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیمز کی تعمیر ضروری ہے۔ نیز، غیر قانونی ٹیوب ویلز کی تنصیب کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے اور پانی کے زیاں کو روکنا ہو گا۔ علاوہ ازیں، عوام میں پانی کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ پاکستان قلّتِ آب کے شکار 17ممالک میں شامل ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت مُلک میں ہر شہری کو 5ہزار 600کیوبک میٹر پانی دست یاب تھا، جب کہ اب اس کی مقدار کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گئی ہے اور 2025ء تک یہ 800کیوبک میٹر رہ جائے گی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مُلک میں پانی کی قلّت، توانائی کی قلّت سے بڑا مسئلہ بن چُکی ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کی جانب توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔
پانی زندگی کی علامت ہے۔ انسان، چرند پرند، نباتات، حشرات الارض، سمکیات اور دیگر سمندری حیات کے لیے پانی کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہے۔ دُنیا کے بڑے بڑے شہر، لندن، پیرس، قاہرہ، بغداد، لاہور، سکھر، روہڑی، کوٹری اور حیدر آباد وغیرہ اس لیے آباد ہوئے کہ وہاں پانی کے منابع موجود تھے، جہاں سے پینے اور دیگرضروریات کے لیے پانی کی وافر مقدار دست یاب تھی۔ کوئٹہ شہر کو انگریزوں نے اپنی فوجی ضروریات کے پیشِ نظر ایک پیالہ نما وادی میں آباد کیا تھا، مگر رفتہ رفتہ اس شہر کی آبادی اتنی بڑھی کہ یہ ٹریفک، صحت و صفائی، نکاسیٔ آب اور صاف پانی کی دست یابی کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اس وقت ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک کا ازدحام، چار سُو پھیلے گندگی کے ڈھیر اور موسمِ گرما میں صاف پانی کی عدم دست یابی اس شہر کے بڑے مسائل ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ کوئٹہ کے مضافاتی علاقے، بروری، کرانی، خلی، سریاب، برمہ ہوٹل، اسپنی روڈ، کلی گُل محمد، اسمنگلی، نو حصار، شیخ ماندہ، بلیلی، ہنّہ اور اُڑک اپنے باغات اور سبزے کی وجہ سے شہر کے خُوب صُورت مقامات تصوّر کیے جاتے تھے، لیکن اب ان علاقوں میں زیرِ زمین سطحِ آب خطرناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے یہاں واقع باغات کے لیے پانی کی عدم دست یابی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نیز، مقامی باشندوں کی ضروریات میں اضافے، تیزی سے بڑھتی آبادی ، مُلک کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی آمد اور مکانات کی تعمیر کے سبب یہ سر سبز علاقے مٹتے جارہے ہیں۔ سو، کوئٹہ شہر ایک سیّاحتی مقام کی بہ جائے کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں انسان کو درکار ہریالی اور آکسیجن کی فراہمی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

ایک خاندان کے مختلف افراد پانی اور اپنے دوسرے ساماان کے ساتھ (گوگل فوٹو)

کوئٹہ کے نواحی علاقے شہری علاقوں میں ضم ہونے کی وجہ سے مسائل میں بے انتہا اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ 1935ء میں زلزلے کے وقت کوئٹہ کی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل تھی، جس میں سے نصف زلزلے کی نذر ہو گئی ، جب کہ آج کوئٹہ کی آبادی 30لاکھ سے بھی متجاوز ہے اور ایک سیّاحتی و پُر فضا مقام کے طور پر بسایا جانے والا یہ شہر مسائل کا گڑھ بن چُکا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب کرخسہ، ولی تنگی اور اسپین کاریز کے چشموں سے رِس کر آنے والا پانی مقامی آبادی کے علاوہ کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں مقیم باشندوں کی پانی کی ضروریات بھی پوری کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، بعد میں تعمیر کیے گئے ہنّہ اور کرخسہ کے ذخیرۂ آب کئی علاقوں میں پانی کی ضروریات پوری کرتے تھے، لیکن اب یہ بھی کافی حد تک خُشک ہوچُکے ہیں۔ ہنّہ جھیل بارشوں اور برف باری میں کمی کی وجہ سے کبھی خُشک، تو کبھی تر نظر آتی ہے، جب کہ کرخسہ کا بند کئی برس پہلے ہی ٹوٹ چُکا ہے۔ پانی کے سوتے بھی آہستہ آہستہ خُشک ہو رہے ہیں اور سبزے ، ہریالی کی کمی کی وجہ سے اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ مغرب سے ہوا کے تیز جھکّڑ، ایران کے دشتِ لوط کی مٹّی اور ریت کے ذرّات برسا رہے ہوتے ہیں، جو ہماری تباہی کا پیش خیمہ ہیں، کیوں کہ مٹّی اور ریت کے یہ ذرّات ہمارے ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔ اس وقت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تقریباً ہر بڑے شہر کو پانی کی قلّت جیسا اہم مسئلہ در پیش ہے۔ گوادر بھی، جو کہ آنے والے دِنوں میں مُلک کا معاشی مرکز بننے جارہا ہے، قلّتِ آب کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ حب ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہونے کی وجہ سے حب اور کراچی کے بعض علاقوں کو پانی کی عدم دست یابی کا سامنا ہے۔ نیز، نوشکی، دالبندین، پنج گور، تُربت، سبّی اور ڈیرہ مراد جمالی سے بھی موسمِ گرما میں صاف پانی کی قلّت کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔
1970ء تک صاف پانی کی فراہمی کے معاملے میں بلوچستان کے بڑے شہروں، مثلاً کوئٹہ، سبّی، لورالائی اور ژوب کے شہریوں کو ترجیح دی جاتی رہی۔ دیہی علاقوں کی آبادی کا بیش تر حصّہ صاف پانی تک رسائی سے محروم اور ہاتھ سے کھودے گئے کنوئوں، چشموں اور برسات کے جمع شدہ پانی کے استعمال پر مجبور تھا۔بڑےشہروں کے علاوہ فوجی مراکز اور سرکاری کالونیوں میں بھی صاف پانی کی فراہمی کا انتظام کیا جاتا، جس سے مقامی آبادی بھی استفادہ کرلیتی۔ صوبے کا درجہ ملنے کے بعد بلوچستان میں ایم ای ایس اور صوبائی محکمے، بی اینڈ آر کی جانب سے فراہمیٔ آب کی چھوٹی اسکیمز کی منصوبہ بندی کی ابتدا ہوئی۔ بعد ازاں، ان اسکیمز کو محکمۂ آب پاشی و برقیات کے حوالے کر دیا گیا۔ 1987ء تک پورے صوبے میں ایسی265اسکیمز مکمل کی گئیں۔ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جولائی 1987ء میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے نام سے نیا محکمہ تشکیل دیا گیا، جس کی ذمّے داری صوبے کی شہری و دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنا تھا۔ اس ذمّے داری کے تناظر میں صوبے کے مختلف علاقوں میں 424مشینی ٹیوب ویلز نصب کیے گئے۔ 1992ء تک فراہمیٔ آب کی اسکیمز کی تعداد 701تک پہنچ گئی۔ اسکیمز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی انہیں چلانے اور ان کی مرمّت و بحالی کے لیے ضروریات میں اضافہ ہو گیا۔ 1992ء میں حکومتِ پاکستان اور ورلڈ بینک کے توسّط سے ملٹی ڈونر کنسورشیم کی جانب سے سوشل ایکشن پروگرام (سیپ) کا آغاز کیا گیا۔ ’’سیپ‘‘ کا مقصد ترقّیاتی کاموں میں مقامی آبادی کو شراکت دار بنانے کے تصوّر کو آگے لانا تھا، تاکہ ان اسکیمز کو چلانے اور ان کی بحالی و مرمّت کی مَد میں سرکاری اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ اس نئے تصوّر کی وجہ سے یہ سمجھا جانے لگا کہ آپریشن اور مینٹی نینس اب مقامی آبادی کے ذمّے ہے اور پی ایچ ای کو اس مَد میں فنڈز مہیا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس پروگرام کے تحت 1992ء سے1997ء کے دوران فراہمیٔ آب کی 1740اسکیمزبنائی گئیں ، جن میں سے715کمیونٹی کے حوالے کی گئیں۔ 1987ء سے اب تک فراہمیٔ آب کی 3509اسکیمز مکمل کی جا چُکی ہیں، جن میں سے 1116پی ایچ ای اور2393کمیونٹی کی جانب سے چلائی جا رہی ہیں۔ پی ایچ ای کا دعویٰ ہے کہ اس سے صوبے کے شہری و دیہی علاقوں کی72فی صد آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک آزادی کشمیر : حقائق اور تقاضے
بچیاں ہتھ ریڑھی پر پانی لاتے ہوئے

حکومت بلوچستان نے وفاقی واٹر پالیسی 2009ء کی روشنی میں حکمتِ عملی برائے2015ء تا 2020ء مرتّب کی ہے، تاکہ شہریوں کو صاف پانی کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ یہ پالیسی حکومت کے اُس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ جو ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے ساتویں ہدف سے متعلق ہے، جس میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے واضح پالیسی مرتّب کرنا اور اس سلسلے میں حکمتِ عملی اور عمل درآمد کا طریقۂ کار وضع کرنا شامل ہیں۔ نئی مرتّب کردہ پالیسی یا حکمتِ عملی کا مقصد بڑھتی ہوئی آبادی کی پینے کے محفوظ پانی تک رسائی کو یقینی بنانا اور پالیسی پر عمل درآمد سے متعلق مشکلات کی نشان دہی کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ یہ پالیسی تمام متعلقہ اداروں کے لیے ناگزیر حکمتِ عملی وضع کرتی ہے، تاکہ سب مل کر بلوچستان کے منفرد حالات کے پیشِ نظر پانی کی ترسیل کے کار آمد اور دیرپا منصوبے متعارف کروا سکیں۔ نئی حکمتِ عملی پینے کے پانی کے جدید نظام کی تنصیب کے ساتھ پرانے نظام کی بحالی و مرمّت بھی تجویز کرتی ہے، تاکہ دیہی و شہری علاقوں کی آبادی کی یکساں طور پر صاف پانی تک رسائی ہو۔ اس نئی پالیسی کی روشنی میں بنیادی معلومات کے حصول کے لیے سروے کروایا جائے گا، تاکہ موجودہ صورتِ حال کا دُرست اندازہ لگایا جا سکے اور مستقبل کے لیے ضروری اقدامات اور ترجیحات کا تعیّن کیا جا سکے۔ اس پالیسی کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ وفاقی پالیسی کے 2025ء تک کے ہدف ’’تمام آبادی کی صاف اور محفوظ پانی تک رسائی‘‘ کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ اس پالیسی میں گھریلو سطح پر پینے کے پانی کی ترسیل کے ساتھ، صفائی سمیت روزمرّہ کے دیگر گھریلو کاموں میں پانی کے باکفایت استعمال پر توجّہ مرکوز کی گئی ہے۔ صوبائی پالیسی کی تیاری کے دوران وفاقی پالیسی کے اصولوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔بلوچستان میں فراہمیٔ آب کی مذکورہ پالیسی کی تیاری میں وسیع پیمانے پر شراکت داروں سے مدد لی گئی، جن میں تیکنیکی ماہرین، سرکاری افسران، غیر سرکاری تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے شامل تھے ، جب کہ شراکت داروں سے مشاورت صوبائی اور ڈویژن کی سطح پر کی گئی۔ پالیسی کی تیاری کے مرحلے میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکمے نے قائدانہ کردار ادا کیا۔
بلوچستان میں تین قسم کے آبی ذخائر پائے جاتے ہیں۔ (1)انڈس بیسن (2)سیلابہ /سطحی پانی (3) ٹیوب ویلز ، چشمے اور کاریز وغیرہ۔ اس پالیسی میں درج ذیل اہداف شامل ہیں۔ پانی کے ذخائر/ نکاسیٔ آب کے مربوط انتظام کے لیے قانون سازی کرنا۔ پینے کے پانی کے تمام ذخائر اور ترسیلی نظام کو عوام /کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے محفوظ بنانا۔ دیہی علاقوں میں 10گیلن فی کس اور شہری علاقوں میں 20گیلن فی کس پانی کی ضرورت پوری کرنا۔ نکاسیٔ آب /استعمال شدہ پانی کی صفائی اور مختلف مقاصد کے لیے اس کے استعمال کو فروغ دینا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات کو ترقّی دینا، تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچا جا سکے اور عوامی سطح پر پانی کی صفائی، محفوظ کرنے اور صفائی سُتھرائی کے طریقوں کو یقینی بنانا۔ پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈیولپمنٹ) کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ماضی میں کوئٹہ شہر میں شہریوں کو پینے کا محفوظ اور صاف پانی مہیا کرنے کے لیے محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے واٹر فلٹر یشن پلانٹس نصب کیے گئے تھے، لیکن مناسب دیکھ بھال اور مینٹی نینس نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے بیش تر ناکارہ اور غیر فعال ہو گئے، جس کے سبب شہری صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اب ان میں سے صرف ایک آدھ پلانٹ ہی فعال ہے۔ کوئٹہ کے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کو فعال کیا جائے، تاکہ انہیں پینے کا صاف پانی میسّر ہو۔
اب اگر ’’بلوچستان واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی‘‘ (بی واسا) کی بات کی جائے، تو اس کا قیام1989ء اور 2004ء کے ایکٹ کے نفاذ کے بعد عمل میں آیا، جس میں 2010ء میں مزید ترامیم کی گئیں۔ 2004ء کے ایکٹ کے تحت، پانی کی ترسیل کے منصوبوں کی ابتدا، ہمہ گیر تعمیر و فعالیت، شہر میں نکاسیٔ آب، پانی کی ترسیل اور انتظامات کی نگرانی بی واسا کی ذمّے داری ہے۔ نیز، بی واسا ہی کوئٹہ میں گھریلو پانی کی ترسیل اور نکاسیٔ آب کو رفع کرنے کے نظام کا نظم و نسق بھی سنبھالتی ہے، جب کہ اندرونِ شہر اور ملحقہ آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کی ذمّے داری بھی اسی کی ہے۔ بی واسا کی جانب سے 412ٹیوب ویلز کے ذریعے شہر کو پانی مہیا کیا جا رہا تھا۔ ان میں سے 20ٹیوب ویلز ناکارہ ہو چُکے ہیں، جن کی دوبارہ تنصیب ضروری ہے۔
بی واسا کے ذرایع کے مطابق، اس وقت کوئٹہ شہر میں پانی کی کھپت 5کروڑ گیلن یومیہ ہے، جب کہ بی واسا کے ٹیوب ویلز سے یومیہ 3کروڑگیلن پانی شہریوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ یعنی یومیہ 2کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے اور یہ کمی نجی واٹر ٹینکرز اور نجی ٹیوب ویلز سے پوری کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق، ہر فرد کو استعمال کے لیے یومیہ 45گیلن پانی درکار ہوتا ہے، جب کہ کوئٹہ کے شہریوں کو فی کس 15سے 18 گیلن پانی مل رہا ہے، جو بین الاقوامی معیار سے انتہائی کم ہے۔ بی واسا کے ذرایع نے مزید بتایا کہ ’’شہر میں پانی کی قلّت کی بنیادی وجہ ٹیوب ویلز کی پرانی مشینری اور مینٹی نینس کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی ہے۔ اگر کوئی ٹیوب ویل خُشک ہو جاتا ہے، تو اس کی جگہ نیا ٹیوب ویل لگانے کے لیے فنڈز موجود نہیں ہوتے۔ نیز، پائپ یا والو کی تبدیلی کے لیے بھی مناسب رقم موجود نہیں ہوتی۔ رواں برس صوبائی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں بی واسا کے لیے کوئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ پائپ نکالنے اور نصب کرنے والی دونوں کرینزخراب ہو چُکی ہیں۔ پرانے ٹیوب ویلز سے مٹی کی آمیزش والا پانی آرہا ہے اور ہمارے پاس ان ٹیوب ویلز کے پانی کو صاف کرنے والے کمپریسر کی خریداری کے لیے فنڈز دست یاب نہیں۔ مری آباد، ہارڈ راک میں نصب 4ٹیوب ویلز ، جو شہر کے ایک بڑے حصّے کو صاف پانی مہیا کرتے ہیں،میں سے 2خُشک ہو چُکے ہیں۔‘‘ ذرایع کے مطابق، ’’رواں برس ایک سو نئے ٹیوب ویلز کی تنصیب، کرینز اور کمپریسر زکی خریداری اور پرانے ٹیوب ویلز کی بحالی و مرمّت کے لیے پی ایس ڈی پی کے ذریعے حکومتِ بلوچستان سے فنڈز مانگے گئے تھے، جو فراہم نہیں کیے گئے۔ اس وقت کوئٹہ میں قانونی واٹر کنیکشنز کی تعداد 75ہزار ہے اور کنیکشنز کی قلیل تعداد کی وجہ سے ادارے کی آمدنی کے ذرایع محدود ہیں۔ اگر ہم ناجائز کنیکشنز کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں، تو امن و امان کی صورتِ حال بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے اور جب ہم شہریوں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے واٹر کنیکشنز کو قانونی شکل دیں، تو وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ’’ جب ہماری پانی کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی، تو ہم بل کیوں ادا کریں۔‘‘ بی واسا کے پاس کوئٹہ میں غیر قانونی ٹیوب ویلز کی تنصیب روکنے کے لیے مجسٹریسی اختیارات نہیں ہیں۔ ماضی میں بلوچستان ہائی کورٹ نے یہ حُکم دیا تھا کہ غیر قانونی ٹیوب ویلز کی تنصیب روکنے کے لیے بی واسا کی نشان دہی پر ڈپٹی کمشنر کارروائی کرے گا، مگر اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے اور اگر غیر قانونی ٹیوب ویلز کی تنصیب روکنے کی کوشش کی جائے، تو منتخب نمایندے اور با اثر افراد آڑے آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً کارروائی رُک جاتی ہے۔ گرچہ اس ضمن میں انڈر گرائونڈ واٹر مینجمنٹ رُولز اور ڈسٹرکٹ واٹر کمیٹی اور پراونشل واٹر بورڈ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود صورتِ حال دن بہ دن گمبھیر ہوتی جا رہی ہے۔‘‘
اندرونِ کوئٹہ پرانی و بوسیدہ پائپ لائنز کے سبب مضرِ صحت پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ پائپ لائنز آج سے 60سے 70برس قبل بچھائی گئی تھیں۔ چند برس قبل سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی، راحیلہ حمید خان دُرّانی نے، جو تب صوبائی وزیر تھیں اور گورنر اور وزیرِاعلیٰ سیکریٹریٹ کے قریب رہائش پذیر تھیں، اس علاقے میں مضرِ صحت پانی کی فراہمی کی شکایت کی تھی۔ اب جب شہر کے پوش علاقوں میں مضرِ صحت پانی کی فراہمی کی شکایات ہیں، تو پھر عوام کو کس قسم کا پانی فراہم کیا جا رہا ہو گا۔ ماضی میں ’’کوئٹہ واٹر سپلائی اینڈ انوائرمینٹل امپروومنٹ پروجیکٹ‘‘ کے تحت مری آباد، ہزار گنجی اور دیگر علاقوں میں 40ٹیوب ویلز نصب کیے گئے تھے، جن میں سے بعض سے اب بھی کوئٹہ شہر کو پانی مہیا کیا جا رہا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان ٹیوب ویلز کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، جنہیں مرمّت کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح کوئٹہ میں مانگی ڈیم اور ہلک ڈیم کی تعمیر کی اطلاعات گزشتہ ایک دہائی سے عام ہیں، جن کا مقصد بارشوں کا ذخیرہ شدہ پانی کوئٹہ کے شہریوں کو فراہم کرنا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ڈیمز کی تعمیر سے قبل ہی کوئٹہ میں 2ہزار کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جا چُکی ہے۔ اگر بالفرض ڈیمز تعمیر بھی ہو جائیں، تو کوئٹہ اور اس کے اطراف میں بارشوں اور برف باری کی موجودہ صُورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کون یقین سے کہہ سکتا ہے کہ یہ ڈیمز پانی سے بَھر جائیں گے، جب کہ گزشتہ تین، چار برس سے مطلوبہ مقدار میں بارشیں اور برف باری نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ ڈیمز بھی خُشک ہو چُکے ہیں۔
کوئٹہ میں پینے اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کے حصول کا واحد ذریعہ زیرِ زمین آبی وسائل ہیں اور ان کی ری چارجنگ کا ذریعہ بارش اور برف باری ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ آبی وسائل سخت چٹانوں، پنکھے کی شکل کے دریائی مٹی کے ذخائر، ندی نالوں اور میدانی علاقوں سے ری چارج ہوتے ہیں۔ سخت چٹانوں میں پانی صدیوں کے رسائو سے جمع ہوتا ہے، جب کہ دریائی مٹی کے ذخائر، ندی نالوں اور میدانی علاقوں میں پانی کے رسائو کا انحصارر سیزن پر ہوتا ہے۔ بارشیں ہوتی ہیں، تو ان سوتوں میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور اگر بارشیں کم ہوں، تو پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ چوں کہ اس وقت بارشیں اور برف باری کم ہو رہی ہے ، جب کہ دھڑا دھڑ ٹیوب ویلز کی تنصیب سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور زیرِ زمین سطحِ آب بھی کم ہوتی جارہی ہے، تو ماہرین کے مطابق، پانی کے اس اخراج سے جو خلا پیدا ہوتا ہے، اس کے سبب زمین دھنسنے کے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ کوئٹہ میں ہارڈ راک کے علاوہ کہیں اور ٹیوب ویلز کی تنصیب پر مکمل پابندی عاید کی جانی چاہیے، چاہے وہ نجی مقاصد کے لیے ہوں یا سرکاری و اجتماعی مقاصد کے لیے۔ پھر کوئٹہ میں پہاڑوں کے دامن تک پختہ تعمیرات کی وجہ سے بارش کا پانی بہہ کر نشیبی علاقوں میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے آبی وسائل مطلوبہ حد تک ری چارج نہیں ہوپاتے۔
اس غیر موزوں اور ناخوش گوار صورتِ حال میں حکومتی اور عوامی سطح پر کچھ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ جن کے نتیجے میں پانی کے موجودہ ذخائر میں اضافہ ہو اور پانی کے باکفایت استعمال سے ہم تا دیر قدرت کی ان نعمتوں سے فیض یاب ہو سکیں۔اس سلسلے میں بعض اہم تجاویز و سفارشات پیش کی جارہی ہیں۔ اب ہم سب کو اس بات پر سنجیدگی سےغور کرنے کی ضرورت ہے کہ بے تحاشا قدرتی وسائل بھی استعمال کے سبب ختم ہو سکتے ہیں، لہٰذا، ہمیں ان کے با کفایت استعمال پر توجّہ دینی چاہیے۔ صاف پانی کی ترسیل کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اس کا انتظام و انصرام کسی ایک محکمے کے حوالے کیا جائے، جب کہ اس وقت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور بی واسا دونوں ہی صاف پانی کی فراہمی کے ذمّے دار ہیں۔ علاوہ ازیں، وادیٔ کوئٹہ میں ہارڈ راک کے علاوہ کہیں بھی ٹیوب ویلز لگانے کی اجازت نہ ہو۔ بی واسا اور پی ایچ ای کو پرانے ٹیوب ویلز کی بحالی اور نئے ٹیوب ویلز کی تنصیب کے لیے فنڈز، وسائل اور مشینری مہیا کی جائے۔ بلوچستان میں پانی کے ذرایع کی ترقّی، خصوصاً کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں پینے کے پانی کے حوالے سے مُلکی ماہرین کی کانفرنس طلب کر کے ان کی سفارشات کی روشنی میں منصوبہ بندی کی جائے۔ واٹر ایمرجینسی نافذ کی جائے اور واٹر مجسٹریٹ کی تعیّناتی عمل میں لائی جائے، جو متعلقہ محکموں کی نشان دہی پر یا بہ ذاتِ خود غیر قانونی ٹیوب ویلز کی تنصیب کے خلاف کارروائی کرے۔ بی واسا اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے والو مین اور دیگر اسٹاف کو مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی کا شیڈول بنا کر دیا جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا جائے۔ نیز، پہاڑ کے دامن میں ایک خاص حد تک پختہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی ہونی چاہیے ۔ پانی کے باکفایت استعمال کے حوالے سے آگہی مُہم چلائی جائے۔ مانگی اور ہلک ڈیمز کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے ۔ اس بات کی تحقیقات بھی ہونی چاہئیں کہ ڈیمز کی تعمیر سے قبل پائپ لائن بچھانے کی کیا وجوہ ہیں؟ کوئٹہ شہر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کو دوبارہ فعال کیا جائے۔ غسل خانے کے استعمال شدہ پانی سے گھروں میں سبزہ اور درخت لگانے کی ترغیب دی جائے اور واٹر رولز 1978 ء پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ انفارمیشن اینڈ ڈیٹا مینجمنٹ کے بارے میں جانتے ہیں؟

(بشکریہ جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں