Wife with husband

کسی مشکل کے حل کے بہترین طریقے

EjazNews

ایک سوشل ورکر (ساجی کارکن) مسز آلن جیمس نے خاندانی جھگڑوں کے حل کے سلسلہ میں کئی ہزار پریشانیاں سنیں۔ وہ کہتی ہیں (لڑنے والے فریقین کو اکثر اس کی ضرورت پڑتی ہے کہ کھلے طور پر اپنے دلوں کی بھڑاس نکالیں تا کہ غصہ سے جاری ہوئی مقدار با برانڈیل دیں) اس لیے جب آپ کی بیوی آپ سے بحث کرنے لگے تو ضروری ہے کہ آپ اسے کہنے دیں اور اس کی بات ختم ہونے تک نہ کا ٹیں۔ اب عقل مند وہی ہے جو موقع کی نزاکت پہچانے ۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ مناسب وقت پر آپ کیا کہیں گے؟ آپ اس وقت تک دخل نہ دیں جب تک آپ واقعی محسوس کر لیں کہ آپ کی بیوی اپنی بات مکمل کر چکی ہے اور جو کچھ وہ کہنا چاہتی ہے کہہ چکی ہے۔ بعض شوہر بیوی کی ہر بات کو سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ بعض یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس کی بات سن رہے ہیں۔ جب کہ وہ کسی اور خیال میں مگن ہوتے ہیں۔ لیکن سب سے برا شوہر وہ ہے جو اپنے مطلب کے اعتبار سے سنے۔ تو وہ جو بات سننا چاہتا ہے اس پر دھیان دے اور جونہ سننا چاہتا ہے اس کو سنی ان سنی کر دے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ بعض جملوں کو غور سے سنتا ہے تا کہ بعد میں ان جملوں کا حوالہ دے اور شریک حیات پر اسی کے ذریعہ حملہ کرے۔
جب آپ شریک حیات کی بات سن رہے ہوں تو اس درمیان حکم لگانا چھوڑ دیں، اس کی گفتگو کے دوران پیش آنے والے اپنے خیالات پر بھروسہ نہ کریں۔ کوئی معاملہ جو کسی شخص کو پیش آئے اس میں فوری رد عمل کا مطلب ہے خود اپنے بچاؤ کا سوچنا۔ شادی بیاہ کے امور کی ایک ماہر ڈاکٹر مارگریٹ لیروی کہتی ہیں: اکثر لوگ دوسروں کی مشکلات سنتے ہوئے اس کا حل بتانے کی خواہش محسوس کرتے ہیں ۔ وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں تا کہ اس مشکل میں اپنے آپ کو پھنسانے سے بچ سکیں۔
شریک حیات جو کام بھی آپ کے لیے کرے اس پر اس کا شکریہ ادا کیجئے اس لیے کہ وہ آپ کی طرف سے جھوٹی تعریف کی خواہش مند نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ یہ چاہتی ہے کہ آپ دونوں کی زندگی خوشی اور مسرت سے بھری ہوئی ہو۔ درحقیقت شکریہ ادا کرنا ایک انتہائی بلند انسانی سلوک ہے۔ اس لیے کہ جو اپنے وقت کو آپ کے ساتھ گفتگو میں لگارہا ہے۔ وہ انہی فکروں کا خیال کر رہا ہے جو آپ کو لاحق ہیں اور کچھ ہی ہو جائے آپ کی شریک حیات آپ کی خیر خواہ ہی رہے گی ۔نہ کہ دشمن بن جائے گی۔
ہمت افزائی کرنے اور اطمینان وخوشی ظاہر کرنے میں پہل کیجئے۔ اس سے گفتگو کی کڑواہٹ کم ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی نہ ہو کہ ردعمل کے ظاہر کرنے میں برف کی طرح ٹھنڈے بن جاؤ یا اس لحاظ سے مبالغہ کرنے لگو۔ ایسی حالت میں وہ غم وغصہ سے مرنہ جائے اور معاملہ زیادہ خراب نہ ہوجائے۔
آپ نے شریک حیات سے جو کچھ سنا اسے دوبارہ دہرائے تا کہ جس بات پر آپ اس سے گفتگو کررہے تھے، اس کے مطلب سمجھنے پر آپ کو اطمینان ہوجائے۔ کوشش کیجئے کہ آپ کی شریک حیات نے جس پریشانی کو غصہ سے ذکر کیا ہے۔ اس میں ان باتوں کو بار بار دہرا کر نرم اور واضح الفاظ میں وضاحت کیجئے تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ آپ دونوں کی گفتگو کو آپ نے واقعی اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔
مخالف رائے کو کھلے دل سے قبول ہے اورمثبت جذبات کے ساتھ اس پراظہار خیال کیجئے۔ اس بات کو یادر کھئے جو کسی نے کہا ہے (جب دوشریک کسی بات پرمتفق ہوجائیں تو ان میں سے کوئی ایک غیرضروری ہو جاتا ہے) اگر کسی بات پر آپ کی توجہ نہیں تھی تو شریک حیات کا شکریہ ادا کیجئے کہ اس نے آپ کو اس طرف توجہ دلائی بلکہ شاید یہ گفتگو ایسا موقع بن جائے جس کے ذریعہ آپ اپنی غلطی پر باقی رہنے کی بجائے اپنے رویے کو ٹھیک کر سکیں۔ جبکہ دوسروں کی رائے قبول کرنے سے ضد اور ہٹ دھری کا ہتھیار بے کار ہو جاتا ہے اور ذہنی پریشانی کی تیزی کم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سار ہ لتیفوف اپنی کتاب (بہتر تعلقات کے لیے آپ کا رہنما) میں لکھتی ہیں۔ ’’اگر بیوی کوئی ایسا کام کرے جس سے آپ کا غصہ بھڑک اٹھتا ہو تو ایک گہری سانس لیجئے اور اس مشکل کوحل کرنے کے لیے کوئی اور وقت مقرر کیجئے۔
غلطیاں تلاش متکیجئے لیکن ان کا علاج معلوم کیجئے۔ (ہنری فورڈ)
کسی مشکل کا سامنا کرنے کی پا نچ ضرورتیں
مسٹر ولیم کلاسر، انسانی تعلقات کے موضوع کے ایک ماہر کہتے ہیں: نہ انسان کے دل میں کچھ بنیادی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ جن کو ( زندگی کا مقصد ) کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی ضروریات پانچ ہیں:
1۔ زیادہ سے زیادہ ممکن طویل عرصہ تک باقی اور زندہ رہنے کی ضرورت۔
2۔قوت اور طاقت اور کامیابی کے ساتھ دوسروں کی خدمت کرنے کی ضرورت۔
انسانوں کی فطری اور بشری ضرور بات۔
ان ضروریات کے پوری کرنے میں عورت۔
مرد سے بالکل مختلف ہے۔
مردان ضروریات کے پوری کرنے میں عورت سے بالکل مختلف ہے۔
مقصد ایک ہے مگر ذریعہ الگ الگ ہے۔
3۔محبت اور اہمیت دینے کی ضرورت ۔
4۔ آزادی اور اپنی بات کہنے کا موقع ملنے کی ضرورت۔
5۔ سکون پانے اور لطف اندوز ہونے کی ضرورت۔
اس لحاظ سے انسان کا ہرعمل ان ضروریات کو پوری کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ چنانچہ انسان کے بعض اہم معاملات در حقیقت اوپر ذکر کی گئی بنیادی ضرورتوں ہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ وہ ضرورتیں ہیں جن کے بارہ میں عموماً انسان بات کرتا رہتا ہے لیکن وہ اپنے متعین رویہ سے اس کا اظہار کرتا ہے کیونکہ ان کا براہ راست اظہار بہادری چاہتا ہے جوا کثر لوگوں میں نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم دوسرے کے ساتھ اس کی ضرورت کے مطابق پیش آئے تو ان ضرورتوں کا پورا کرنا آسان ہے۔ ڈاکٹر سوزن فورورڈ اپنی کتاب (محبت بیماری بن جائے ) میں کہتی ہیں ، ہم لوگ اپنی ولادت کے اعتبار سے صرف متاثر ہونے والی مخلوق ہیں۔ جب ہم اپنی بنیادی ضرورتوں کے پوری ہونے سے محروم ہونے لگتے ہیں تو غصہ ہوجاتے ہیں اور ہماری طبیعت بری بن جاتی ہے۔ ہماری عمر اور قومیت جوبھی ہولیکن ہمار الاشعور ان جذبات محسوسات کو واپس لانے کی کوشش کرتا ہے اور اس متحدہ کیفیت کی واپسی چاہتا ہے۔ اس لیے کہ جن جذبات کی خاطر ہم زندگی گزارتے ہیں وہ ہمارے اندرون میں بڑی گہرائی کے ساتھ باقی رہتے ہیں۔’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم عورتوں کا لحاظ کرو کیونکہ وہ تمہارے برابر ہیں ،تم نے انھیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے اور اللہ کا نام لے کر انھیں اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اور تم پر ان کا کھانا پینا اور لباس معروف طریقہ سے فرض ہے۔(حدیث صحیح ،رواءالغلیل) ۔
موجودہ نفسیاتی علم نے انکشاف کیا ہے کہ اکثر لوگ اپنے آپ کوغم اور خوف کے جذبات واحساسات سے بچانے کے لیے جس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں وہ تین طرح کا ہوتا ہے۔
پہلی حالت: مخاطب پر غلبہ کی کوشش اور اپنی خواہش کے مطابق اسے بدلنے کی چاہت۔
دوسری حالت :غصہ ہونے والے شخص کے ساتھ مزید بدمزگی کے ڈر سے مخاطب کی خاموشی اور بات ماننے کی حالت۔
تیسری حالت : غصہ ہونے والے کم کا اس مشکل سے تجاہل برتنا اورمخاطب کو خاطر میں نہ لانا۔
شوہر اور بیوی دونوں یہ کوشش کرتے ہیں کہ مدافعت کا اسلوب اختیار کریں تا کہ اصلاح کرنے اور جھک جانے کی سیاست سے بچیں۔ اس وجہ سے ان دونوں کے درمیان جذباتی دوری اور علیحدگی کی حد تک پیدا ہوجاتی ہے۔ اور دونوں کے در میان مسلسل بڑے اور طرفین میں محبت نہ ہونے کارجحان پیدا ہوجاتا ہے اور اس بنیاد پرفوری ناکامی کا خطرہ اس شادی کو گھیر لیتا ہے۔
ہم دونوں سے یہ کہیں گے کہ اس دنیا میں کسی جھگڑے سے بہتر سے بہتر نتائج حاصل کر کے اسے ختم کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جھگڑے سے گریز کیا جائے۔ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ 90 فیصد حالات جن میں بحث و تکرار ہوتی ہے۔ وہ اس طرح ختم ہوتے ہیں کہ ہم اپنی رائے پر پہلے سے زیادہ مصر ہو جاتا ہے اور مخاطب کی رائے سے اسے اطمینان نہیں ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔ کونسی عورت سب سے زیادہ بہتر ہے۔ آپؐ نے فرمایا جس کو اس کا شوہر دیکھے تو وہ عورت خوش ہو جائے اور اگر کسی بات کے کرنے کو کہے تو مان لے اور جو چیز اس کے شوہر کو ناپسند ہوا سے اپنی ذات (جسم) اور اس کے مال میں اس کے خلاف نہ کرے۔(حدیث حسن ، رواء الغلیل)۔
انسانی تعلقات کے موضوع پر ایک ماہر مسٹرڈیل کارنیگی کی ایک بات مجھے بڑی اچھی لگی ہے جوانھوں نے اپنی مشہور کتاب (آپ دوست کس طرح بنائیں) میں لکھی ہے: آپ ہر حالت میں بحث وتکرار میں جیت نہیں سکتے ۔ کیونکہ اگر آپ ہار جائیں تو یہ ظاہر ہے لیکن اگر آپ جیت جائیں تب بھی آپ ہار چکے ہیں وہ کس طرح؟ اگر ہم فرض کریں کہ آپ مخاطب پر غالب آگئے اور آپ نے اس کے دلائل اس طرح سے کمزور ثابت کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہ رہا تو اس کے بعد آپ تو اطمینان کی سانس لے لیں گے لیکن وہ؟ آپ نے اس کو یہ احساس دلایا کہ وہ آپ سے کم ہے، اس کا وقار آپ نے مجروح کیا ہے وہ آپ کے غالب آجانے پرآپ سے کینہ رکھے گا۔
امریکی صدر مسٹر بنجامین فرانکلین ، اپنے مخالفین سے بحث وتکرار سے پہلے ہمیشہ یہ کہتے تھے (اگر آپ بحث و تکرار کریں گے تو شاید آپ بعض اعتبار سے جیت جائیں گے لیکن آپ کی یہ جیت برائے نام ہوگی کیونکہ آپ ہرگز اپنے مقابل کی نیک خواہشات کو بھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’آج تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمھیں معاف کرے۔‘‘ (سورہ یوسف)
تجربات سے مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ مرد صلح میں پہل نہیں کرنا چاہے ۔وہ خودہی جھگڑے کا سبب ہو،اس لیے عورت یا نظارہ کرے کہ شو ہر صلح کے لیے اس کے پاس آئے گا بلکہ وہ خوپہل کرے اور آج ہی اس کے پاس چلی جائے۔ (خلیفہ المحرزی) |
لوگ اپنی پریشانیاں کیسے حل کریں؟
اس دنیا میں سارے تعلقات میں فطری تبدیلیوں کے خودبخو د پیش آنے کی وجہ سے اختلافات کے اسباب ابھرتے ہیں ۔ مشکل یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت اپنے اپنے گھروں میں پیش آنے والے اختلافات کے حل کاصحیح طریقہ نہیں جانتی ہے۔ اس وجہ سے از دواجی تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر آلن لوی مکیگنس نے اپنی کتابوں میں ایک حقیقت لکھی ہے جو کہ بہت سے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ارادوں تک پہنچنے کا راستہ نہیں جانتے ہیں وہ کہتی ہیں: مجھے اکثر یہ بات نظر آئی کہ محبت صرف ان میں محدود نہیں ہے جو بڑے خوبصورت اور ہوشیار ہوتے ہیں بلکہ ان کا حصہ ہوتی ہے جو از دوارجی زندگی کو مستقل اور پائیدار بنانے کے لیے اس کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ محبت کبھی بھی فطری طور پر ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اس لیے ختم ہوتی ہے کیونکہ ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کسی طرح محبت پیدا کرنے والے طریقوں کومضبوط بنائیں۔ محبت دراصل ہماری غلطیوں، کوتاہیوں اور لا پرواہی سے مر جاتی ہے۔
لیکن کچھ معقول اور کامیاب شوہر ایسے بھی ہیں جو آسانی سے تکرار اور رنجش بڑھانے کی فکر کے سامنے ہتھیارنہیں ڈالتے اور بیویوں کی بھڑ کائی ہوئی آگ کے بجھانے کے لیے گھر یلو طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ لوگ اپنے اختلافات کو اس مشہور اصول کی روشنی میں دیکھتے ہیں جس میں کہا گیا ہے۔(ہرمشکل کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے) ۔
یہاں میں از دواجی اختلافات کےحل کا طریقہ بعض شوہروں اور بیویوں کے عملی تجربات کی روشنی میں پیش کرتا ہوں۔ ان لوگوں نے اپنے جذبات کو سردکرلیاتو انھیں آرام مل گیا اور دوسروں کو بھی سکون ملا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی از دواجی مشکلات پر کس طرح قابو پایا اور اس کا کیا حل نکالا۔
1۔مسٹر اے سویدی :ایک دوسرے کو سمجھنا ہی گھر یلو مشکلات کا واحد حل ہے۔ گھریلو مشکلات کے بڑھ جانے اور تمام افراد کی ذہنی پریشانی پیدا کرنے کے اہم اسباب میں سے ایک سبب کی شکل کے حل میں گھر سے باہر کے افراد کی دخل اندازی ہے۔
2۔محترمہ ام سالمین: مشکلات کا سامنا کرنے پر اس کا حل یہ ہے کہ پرسکون ہو کر عقل کو استعمال کر کے حل کیا جائے ۔ اس لیے کہ اکثر حالات میں جذباتی بن جانے سے الٹے نتائج نکلتے ہیں اور وہ مشکل حل ہونے کے بجائے اس کی تیزی مزید بڑھ جاتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات میں اپنے شوہر سے صراحت کے ساتھ گفتگو کرتی ہوں ،چاہے کسی مشکل کے پیش آنے کا وہی سبب کیوں نہ ہوں۔ اس لیے کہ عورت ، مرد کے مقابلے میں نے شروع کرنے پر زیادہ قادر ہے۔
ہم تبدیلی شوہر کے لیے نہیں لاتے ہیں بلکہ شوہروں کے ساتھ لاتے ہیں۔ (جاسم المطوع)

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں کے حقوق کی عالمی تحریکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں