Imran khan uno

جب ایٹمی ملک جنگ لڑتا ہے پھر اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے،اقوام متحدہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر:وزیراعظم

EjazNews

اقوام متحدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے آج ہم یہاں مسائل پر بات کرنے کے لیے جمع ہیں۔میں سب سے پہلے موسمیاتی تبدیلی سے اپنے خطاب کا آغاز کروں گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 5ہزار گلیشیئر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ جب ہماری جماعت خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی تو ہم نے ایک ارب درخت لگائے لیکن ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ اور دنیا کے امیر ممالک کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہناتھا کہ دوسرا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ ہر سال غریب ملکوں سے اربوں ڈالر نکل کر امیر ملکوں کے بینکوں میں پہنچ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک تباہ ہو رہے ہیں، منی لانڈرنگ اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پیسے امیر ملکوں سے نکل کر امیر ملکوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ہماری حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل ہمارے قرضے گزشتہ 60سال میں لیے گئے قرضوں کے مقابلے میں 4گنا بڑھ گئے تھے اور ایسے میں ہم 22کروڑ لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں چند خاندان حکمران تھے جو کرپشن کر کے اپنے پیسے باہر بھیج دیتے تھے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا تیسرا نقطہ جو ہے وہ اسلامو فوبیا سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا بڑھا اس حوالے سے عالمی برادری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔کہ چند ممالک میں حجاب کو ہتھیار سمجھا جاتا ہے یہ اس لیے کیونکہ اسلاموفوبیا ہے۔اسلامو فوبیا سےدنیا تقسیم ہو رہی ہے، خواتین حجاب پہن رہی ہیں لیکن چند ملکوں میں اس پر پابندی ہے اور انہیں اس سے مسئلہ ہے، کچھ ملکوںمیں کپڑے اتارنے کی تو اجازت ہے لیکن پہننے کی نہیں، اس اسلاموفوبیا کا آغازنائن الیون کے بعد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  چیف جسٹس نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع معطل کر دی
وزیراعظم عمران خان یو این او میں تقریر کرتے ہوئے

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ریڈیکل اسلام نہیں، اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں، صرف ایک اسلام ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔چند مغربی ممالک کے رہنما اس حوالے سے متضاد باتیں کرتے ہیں جس سے غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں حالانکہ اسلام صرف ایک ہے اس میں کوئی درجے نہیں ہیں۔بدقسمتی سے اسلامو فوبیا متعدد رہنماؤں کی وجہ سے پھیل رہا اور اس کی وجہ سے مسلمانوں میں مایوسی ہے اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد چند وجوہات کے باعث دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑا گیا حالانکہ نائن الیون سےپہلے خود کش حملوں کا تعلق تامل ٹائیگرز سے تھا اور وہ ہندو تھے لیکن کسی نے اس کو ہندووں سے نہیں جوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون حملوں کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ خودکش بمبار مسلمان ہوتے ہیں لیکن دنیا میں کسی نے بھی یہ تحقیق نہیں کی کہ خود کش حملے سری لنکا میں تامل نے کیے جن کا مذہب ہندو تھا لیکن اس کے لیے ہندو مذہب کو بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا اور اسی طرح جنگ عظیم میں جاپان کے طیاروں نے خودکش حملے کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر کے دوران انگلینڈ میں وقت گزارا ہے اور مغربی ممالک ان معاملات کو نہیں سمجھتے، مغرب میں مذہب کو بالکل الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ ہمارے لیے مذہب کیا حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی تو اس کا ردعمل سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں یہ تصور کر لیا گیا کہ اسلام عدم برداشت پر مبنی مذہب ہے۔
ان کا کہناتھا کہ دنیا میں پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد مدینہ میں ڈالی گئی جس میں کمزوروں کے حقوق خیال رکھا گیا اور امیروں پر ٹیکس عائد کر کے غریبوں کو سہولیات فراہم کی گئیں، اس مذہب میں سب برابر ہیں اور غلاموں نے بادشاہت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور توہین کے لیے استعمال نہ کیا جائےے کیونکہ اس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور یہ میرا اہم مقصد ہے لیکن پہلے میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ میں جنگ کے خلاف ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فوج نے مجاہدین کی مدد کی جس کی معاونت دیگر ممالک نے کی جن میں خاص کر امریکہ شامل ہے اور ان مجاہدین کو روس نے دہشت گرد کہا لیکن ہمارے لیے وہ فریڈم فائٹر تھے اور جب امریکہ افغانستان میں آیا تو ہم اس کے اتحادی تھے۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارے 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور معاشی حوالے سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ باہمی مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار تھے اور میں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی کہا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی شدت پسند تنظیم نہیں لیکن بھارت ہم پر الزام لگا رہا ہے، ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ان گروپس کے خلاف کارروائی کی اور اب وہاں اس طرح کے کوئی گروپس نہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو دعوت دی تھی، یہ دہشت گرد گروپس کسی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پاکستان سے ان پر حملے ہو رہے ہیں لیکن میں نے کہا کہ آپ کی سرزمین سے ہمارے بلوچستان میں حملے کیے جا رہے ہیں جس کا ثبوت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور 5 اگست سے مقبوضہ کشمیرمیں 80 لاکھ لوگوں کو محصور کردیاگیا ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس کی حکمرانی ہے جو ہٹلر کے نظرئیے کی حامی ہے اور مودی کی وزارت اعلیٰ کے نیچے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو ہٹالیا جائے گا اور لوگ باہر آئیں گے جہاں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں اس صورت میں خون ریزی کا خطرہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور کشمیر میں لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ جب ظلم و ستم کی انتہا ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے سامنے والے ہتھیاراٹھاتے ہیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ۔یہ بغیر لکھی ہوئی تقریر تھی اور ان کے الفاظ میں ان کے جذبات کی بھرپوری نمائندگی تھی۔ وزیراعظم نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 52 روز سے 80 لاکھ افراد 9 لاکھ فوج کی موجودگی میں محصور ہیں اور آرایس ایس کے تاحیات رکن نریندر مودی کی حکومت ان سے جانوروں جیسا سلوک کر رہی ہے۔
وزیرعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی۔انڈیا کے مظالم کے سبب پھر کشمیر میں کوئی واقعہ ہو گا اور انڈیا اس کا الزام پاکستان پر لگا دے گا۔ عالمی برادری کشمیر میں کرفیو ختم کرائے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوائے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر میں 11 ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ 13 ہزار نوجوانوں کو جیل میں قید کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا سے سات گنا چھوٹا ہے اور اگر دونوں ممالک میں روایتی جنگ ہوئی تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم آخر تک جنگ لڑیں گے اور جب ایک ایٹمی ملک جنگ لڑتا ہے تو پھر اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔

یہ بھی پڑھیں:  آہ!سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی بھی نہ رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں