Nikha fisakh

خیار فسخ

EjazNews

س: خیار فسخ کسے کہتے ہیں اور اس کے احکام کیا ہیں؟
یہ پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ نکاح کے لئے عورتوں سے اجازت ضروری ہے جب وہ اپنی مرضی سے اجازت دیدیں تب ان کا ولی نکاح کرے۔ اگر کوئی لڑکی نابالغہ ہے اور اسے بھلے برے زوج کی خبر نہیں اور اس کے ولی نےبچپن میں اس کا نکاح کر دیا ہے بالغہ ہونے کے بعد اس بچپن کے نکاح کے باقی رکھنے اور توڑ دینے کا حق حاصل ہے۔ اگر وہ چاہے تو ولی کے کئے ہوئے نکاح کو باقی رکھے اور اپنے خاوند کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے اور اگر اسے یہ نکاح اور یہ خاوند پسند نہیں ہے تو حاکم کے یہاں درخواست دے کر اس نکاح کو توڑ سکتی ہے اس نکاح توڑنے کے اختیار کو خیار فسخ کہتے ہیں۔
مسند احمد اور ابوداﺅد میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ حدیث مروی ہے کہ ایک لڑکی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ میرے باپ نے میری مرضی کے خلاف میری شادی کر دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا چاہے نکاح باقی رکھے یا توڑ دے۔(ابو داﺅد)
دار قطنی میں حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ ایسے ہی ایک مقدے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنا پر زوجین میں تفریق کر ادی کہ نکاح لڑکی کی مرضی کے خلاف ہوا تھا۔ (الدارقطنی)
نسائی میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان لڑکی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اپنے بھتیجے سے اس کا نکاح کر دیا ہے ”فجعل الامر الیھا“ تو آپ نے اسے اختیار دیا کہ چاہے اس کے نکاح کو باقی رکھے اور چاہے توڑ دے اس لڑکی نے اس پر عرض کیا۔اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ میرے باپ نے کیا ہے۔ میں اس کو منظور اور قبول کرتی ہوں، اس سے میرا یہ مقصد تھا کہ عورتوں کو بتا دوں کہ ان کے باپ اس معاملہ میں بالکل مختار نہیں ہیں۔ (دار قطنی)
س:اگر کسی نابالغہ لڑکی کا نکاح باپ دادا نے کیا تو اس لڑکی کو خیار فسخ حاصل ہے یا نہیں؟
خواہ باپ دادانے کیا ہے یا اور کسی ولی نے کیا ہر صورت میں اسے یہ اختیار حاصل ہے کیونکہ مذکورہ بالا حدیثوں میں باپ کے کئے ہوئے نکاح کی صورت میں لڑکی کو اختیار دیا ہے تو باپ کے علاوہ دوسرے ولیوں کے کر دینے میں بدرجہ اولیٰ اختیار حاصل ہوگا۔ اور جس طرح باپ دادا کے علاوہ دوسرے ولیوں کے کر دینے میں شفقت اور عدم شفقت اور کامل الرائے اور وافر الشفقت کا احتمام و امکان ہے اسی طرح باپ دادا میں بھی امکان ہے لہٰذا سب برابر ہیں۔
عیوب میں خیار فسخ
س: میاں بیوی میں سے کسی ایک میں کوئی ایسا عیب ہے جس سے دوسرا طبعاً متنفر ہے ۔ جیسے میاں میں نعوذ باللہ کوڑھ یا جنون وغیرہ کی بیماری ہے۔ تو بیوی کو خلع وغیرہ کا اختیار ہے یا نہیں؟
اگر بیوی میں اس قسم کا عیب ہے تو خاوند کو ہر قسم کا اختیار ہے خواہ رکھے یا چھوڑ دے اور میاں میں اس قسم کی بیماری ہے تو اسے بھی طلاق لینے اور خلع کرنے کا اختیار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”فدیہ دے کے اپنے نفس کے چھڑانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور خاوند کو بھی چاہئے کہ جب وہ خود ایسی بیماری کی حالت میں ہے تو اس کو چھوڑ دے تاکہ بیوی کو تکلیف نہ پہنچے اور تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہ روکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:”اور تنگ اور نقصان پہنچانے کے لئے ان عورتوں کو مت روکے رکھو بلکہ خوشی سے چھوڑ دو۔“(البقرہ)
اوراگر خاوند نامرد ہے ۔ باوجود علاج وغیرہ کے بھی بیوی کی خواہش کو پوری نہیں کر سکتا ہے تو بیوی کو خلع کا حق ہے اور ایسی حالت میں خاوند نہ طلاق دیتا ہے ، نہ خلع کرتا ہے تو مسلمان حاکم کے یہاں مرافعہ کرے وہ تحقیق کے بعد تفریق کرادے۔

یہ بھی پڑھیں:  نکاح کے بعد لڑکی کو رُخصتی کے وقت نصیحت

اپنا تبصرہ بھیجیں