wife with husband talking

وہ الفاظ جو میاں بیوی اپنی گفتگو میں استعمال نہ کریں

EjazNews

بہت ممکن ہے کہ جو جملے ہمارے منہ سے نکلتے ہیں شاید ان کی کوئی حیثیت دوسروں کے نزدیک نہ ہو ۔کوئی بات کسی کوقتل تو نہیں کرتی لیکن ایسا گہرازخم چھوڑ جاتی ہے جس کا کہنے والے کو پتہ نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہر انسان کی ”عقل باطن “میں اس کے دماغ کے اندر ایک ریکارڈ ہوتا ہے۔ جو خارجی ماحول سے جارحانہ سوقیانہ الفاظ کو اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ اور عجیب بات یہ بھی ہے کہ ان منفی جملوں میں سے کچھ ہمارے اندرون میں محفوظ ہو جاتے ہیں جو ہمارے لیے نفسیاتی تکلیف کا سبب بنتے ہیں اور ہماری پریشانیوں میں ہماری ذات کونقصان پہنچاتے ہیں۔ کچھ اصول جن کا ہم بعد میں تذکرہ کریں گے۔ ہمیں مشکلات کے بم پھٹنے سے پہلے، اس کے حل کرنے میں مدددیں گے اور شریک حیات کے ساتھ گفتگو میں سخت رویہ کونرم بناسکیں گے۔ اور اس کے مقابلہ میں شاید آپ کو معلوم بھی نہ ہو سکے کہ ان کے ذر یعہ نا پسندیدگی ، کینہ اورتنگ جذبات جو ہماری ازدواجی زندگی کے صاف ستھرے ماحول کو ملوث کرتے ہیں ان کو دور کرنے میں مد دیں گے۔
دوران گفتگوتوریہ:
صاف گفتگو نہ کرنے سے وہ معنی بھی مبہم ہو جاتے ہیں جو آپ شریک حیات سے کہنا چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ اور سمجھے جو کہ آپ کا مقصد نہیں تھا۔ ایک بات یہ بھی ہے گفتگو میں توریہ و کنایہ لوگوں کی بڑی تعداد کو پسند نہیں ہے۔ جبکہ وہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والی کھلی طبیعت کا آدمی نہیں ہے اور یہ کہ وہ کچھ باتیں چھپاتا ہے تا کہ دوسرے شخص کو پتہ نہ چلے۔ فقہاءنے اگر چہ کہا ہے کہ اشارہ و کنایہ کی با تیں جھوٹ سے بچاتی ہیں۔ لیکن صراحت اور کھلی گفتگو از دواجی زندگی کی بنیادی کڑی ہے۔
خاص اصطلاحات:
جو میاں بیوی استعمال کریں۔ ہوسکتا ہے کہ دور کے شخص کے لیے وہ مبہم بن جائیں اور وہ ان اصطلاحات کوسمجھ نہ سکے مگر اس کا کوئی اور مطلب سمجھ لے جس کا آپ نے ارادہ نہیں کیا تھا۔ گفتگو میں اس کا خیال رکھے تا کہ شریک حیات شک وشبہ اور پریشانی میں نہ پڑ جائے۔
اجنبی الفاظ:
بعض لوگ اگر مادری زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو جانتے ہیں تو وہ جان بوجھ کر یا بے خیالی میں دوسرے شخص کے ساتھ بولنے لگتے ہیں۔ مادری زبان کے الفاظ چھوڑ کر ان الفاظ کا استعمال اس طرح سے ہوتا ہے کہ دوسرا شخص سمجھ نہیں پاتا ہے۔ شریک حیات کے ساتھ ایسی گفتگو سے پرہیز کریں۔
سوقیانہ الفاظ:
بعض لوگ دوران گفتگو عام ضرب الامثال استعمال کرتے ہیں جس کے کئی مطلب ہوا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد گفتگو میں زور پیدا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن کبھی بھی وہ اسے صحیح مطلب کے لحاظ سے استعمال نہیں کر پاتے وہ ایسے سوقیانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جو عام طور پر شرفاءاستعمال نہیں کرتے جس کی وجہ سے شریک حیات کا دل چھوٹا ہوجاتا ہے اور اس مثال کے مقصد کے بارہ میں بحث ونزاع کانیا دروازہ کھلتا ہے۔
جارحانہ الفاظ:
میاں بیوی کے جھگڑوں میں یہ سب سے بڑی مصیبت ہے جب سخت گفتگو ہونے لگتی ہے تو ہر ایک اپنی حد سے باہر نکل آتا ہے اور ایسے الفاظ استعمال کرنے لگتا ہے ،جن کا جذبات کے اچھالنے میں بڑادخل ہوتا ہے۔ بعض نفسیاتی تجزیہ سے یہ بات ثابت ہے کہ جارحانہ اور حملہ کرنے والے الفاظ کا دوسرے پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور وہ زیر بحث موضوع کوسخت گفتگو کا ایسارنگ دے دیتا ہے جو سلامتی کے ساتھ ختم نہیں ہوتا ہے۔
مبہم الفاظ :
آپ کو اپنی گفتگو میں واضح اور ایک بات پر حد ود ہونا چاہے۔ آپ کوئی ایسی مبہم بات نہ کہیں جس کو سننے والا سن کر یہ سمجھے کہ آپ اس کے پردہ میں اس پر الزام لگا رہے ہیں۔ اس لیے آپ اپنی گفتگو میں ابہام نہ رکھیں کہ دوسراشخص اس کومنفی انداز سے سمجھنے پر مجبور ہو۔
پیچیدہ الفاظ:
آپ کی کوشش یہ ہو کہ آپ کے الفاظ سادہ، آسان اور عام فہم ہوں۔ آپ پیچیدہ اور بھاری بھرکم الفاظ کے استعمال سے گریز کریں یا ایسے الفاظ جو خاص طور پر طبی یا نفسیاتی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
بیہودہ الفاظ:
بعض لوگ (اللہ انھیں ہدایت دے) بیہودہ اور گندے الفاظ کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے جن سے کسی کی عزت اور اس کی بڑائی مجروح ہوتی ہے۔ ایسے الفاظ کا استعمال کرنے والا غیر اخلاقی گندگی میں جا گرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو طرح طرح کے کھانے کھائیں گے اور مختلف اقسام کے مشروب پئیں گے اور طرح طرح کے کپڑے پہنیں گئے اور بڑی بڑی باتیں کریں گے یہ میری امت کے سب سے برے لوگ ہوں گے۔ (حدیث حسن)

یہ بھی پڑھیں:  میاں بیوی کی ناکام گفتگو کی ایک مثال

اپنا تبصرہ بھیجیں