Imran khan +tybe urdgan am

گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے بڑی ریاستی دہشت گردی کی کیا مثال ہوسکتی ہے:ترک صدر طیب اردگان

EjazNews

وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے نفرت انگیز بیانیوں اور تقاریر کے تدارک کے موضوع پر امریکہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی مشترکہ میزبانی کی۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نائن الیون سے قبل 75 فیصد خود کش حملے ہندو تامل ٹائیگرز نے کیے، دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے امریکی جنگی جہازوں پر خود کش حملے کیے، وہ تمام خود کش حملے مذہب کے لیے نہیں تھے کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب خود کش حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے رہنماؤں نے انتہا پسندی اور خود کش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑ دیا۔دنیا میں کم و بیش تمام دہشت گردی کی کڑیاں سیاست سے جوڑتی ہیں، سیاست کی ناانصافیوں کے نتیجے پیدا ہونے والے حالات دہشت گردی کو تقویت بخشتے ہیں۔جرمنی اور نیوزی لینڈ میں مساجد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا لیکن اس کا مذہب سے تعلق نہیں جوڑا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے باشندوں کو نہیں معلوم ہے کہ پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے پر ہمیں کس قدر تکلیف پہچتی ہے کیونکہ وہ مذہب کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی بطور مسلمان ہمارے نزدیک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہولوکاسٹ کی وجہ سے یہودیوں کو دلی تکلیف پہنچتی ہے اور مغربی ممالک ہولوکاسٹ کے معاملے میں بہت محتاط ہیں بالکل اسی طرح انہیں اسلام کے بارے میں بھی حساسیت کا پہلو مد نظر رکھنا چاہیے۔
ڈائون نیوز کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر دو تین سال بعد یورپی اور امریکی شہروں میں کوئی ایک سامنے آتا ہے اور پیغمبر اسلام کے حوالے سے گستاخی کرتا ہے جس سے مسلمانوں میں ردعمل ہوتا ہے تو مذہب پر بات کی جاتی ہے اس لیے انہیں ہمارے درد کا پتہ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور
وزیراعظم عمران خان، ترک صدر رجب طیب اردگان،، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا فورم بہت اہم ہے جہاں مسلمان اور مسلم ممالک کے قائدین کو اس امر کی ضرورت وضاحت کرنی چاہیے کہ اسلام اور دہشت گردی دو مختلف چیزیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں مذہبی شخصیات اور کتابوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر تشدد اور امتیاز میں اضافہ ہو رہا ہے، نفرت انگیزی اور نسلی امتیاز کے محرکات اور نتائج سے نمٹنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ دنیا بھر کی کمیونیٹیز کے مابین برداشت اور زیادہ سمجھ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، نفرت آمیز تقریر کا مقابلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ باشعور مکالمے کا اہم پلیٹ فارم ہے اور دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام اور نبی کریم ﷺ سے مسلمانوں کو کتنی محبت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی مثال لے لیجیے جہاں انتہا پسند اور نسل پرست ملک پر حکمرانی کررہے ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے پہلے نفرت انگیز تقاریر جنم لیتی ہیں، پوری دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر کا آسان ہدف ہیں ۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ بھارت میں گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے بڑی ریاستی دہشت گردی کی کیا مثال ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو بہت بڑی جیل بنا دیا ہے اورجب وہاں کرفیو اٹھے گا توبڑی خون ریزی کا خدشہ ہے۔
ترک صدر نے اپنی تقریر کے اختتام پر پاکستان میں آنے والی زلزلے سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر اظہار افسوس بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  جیسے جیسے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، ہاؤسنگ پر مزید سرمایہ لگاتے رہیں گے:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں