kashmi on thrit

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ(U.N.O) میں

EjazNews

مجاہدین کی پے در پے کامیابیوں اور بھارتی فوج کے پاوں اکھڑتے دیکھ کر بھارتی حکومت نے حواس باختہ ہو کر یکم جنوری 1948کو اقوام متحدہ چارٹر کی شق 35 کے تحت پاکستان کے خلاف سلامتی کونسل میں شکایت کی اور اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ پاکستان کو جموں وکشمیر میں حملہ آوروں کی امداد سے باز رکھا جائے اور ایسا نہ ہو سکنے پر ہندوستان نے اپنے دفاع کے لئے پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ۔ سلامتی کونسل کے صدر نے فوراً دونوں ملکوں سے ٹیلی گرام کے ذریعے درخواست کی کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے پرہیز کریں جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے۔ اس کے جواب میں دونوں ملکوں نے یقین دہانی کرائی کی حالات کو مزید نہیں بگڑنے دیا جائے گا لیکن لڑائی بدستور جاری رہی ۔کیونکہ فوج نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔
اس مسئلے پر سلامتی کونسل کا اجلاس 15جنوری 1948کو طلب کیا گیا۔ اجلاس میں شرکت کے لئے بھارت سے سرگوپال سوامی آئینگر مسٹر سیئتلواداور جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے لیڈر عبداللہ کو بھیجا گیا۔ پاکستانی وفد میں چوہدری ظفراللہ خاں، ابوالحسن اصفہانی، چوہدری محمد علی، مسٹروسیم ،آزادکشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم اور ان کے سیکرٹری ڈاکٹر تاثیر شامل تھے۔
15جنوری کے اجلاس میں بھارت کے نمائندے نے کشمیر میں صورت حال کو فوری طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا اور اسے بین الاقومی امن و تحفظ کے لئے ایک خطرہ قرار دیا اور پاکستان کو جارحیت پسند ملک ثابت کرنے کی کوشش کی –! پاکستان کی طرف سے چوہدری ظفر اللہ خاں نے جواب دعویٰ پیش کیا جس میں بھارت پر دس الزامات عائد کرتے ہوئے تین بنیادی امور کی جانب سلامتی ان کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی۔ سب سے پہلے قبائلی مجاہدین کو امداد دینے کے الزام سے انکار کیا اور اس کے بعد بھارت کے خلاف یہ الزام عائد کیا کہ اس نے طاقت کے بل بوتے پر جوناگڑھ، منگرول اور منادر پر قبضہ کرلیا اور پرتشد کارروائیاں کیں اور ساتھ ہی ساتھ دھوکہ دہی اور تشدد کے ذریعے کشمیر میں فوجیں داخل کیں جوکہ تقسیم کے معاہدے کی سراسر خلاف ورزی اور پاکستان پر براہ راست حملے کے مترادف تھا۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت ہند کو ہر اس فعل سے باز رہنے کا حکم دے جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہو اور ہندوستان (بھارت) ان تمام معاہدوں کی پاسداری کرے جو اس نے پاکستان کے ساتھ کیے ہیں۔ پاکستان نے یہ درخواست کی کہ ایک کمیشن مقرر کیا جائے جو ہندوستان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی تحقیقات کرے۔ کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کا خاتمہ کرنے ،کشمیر میں موجود بیرونی قوتوں سے خواہ ان کا تعلق پاکستان سے ہو یا ہندوستان سے خطے کو پاک کرے۔ کشمیری مہاجرین کی واپسی اور ان کی بحالی کا بندوبست کرے اور کشمیر میں ایک غیر جانبدار انتظامیہ قائم کرے اور آخر کار اقوام متحدہ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کا انعقادکشمیر میں کروایا جائے۔

پاکستان کے نمائندے نے اس موقع پر ایک تاریخ ساز تقریر کی جس کا دورانیہ پانچ گھنٹے تھا۔ تقر یراز حد موثر تھی۔ بھارت کے نمائندے نے کوشش کی کہ سلامتی کونسل صرف قبائلی اور دوسرے حملہ آوروں کو کشمیر سے باہر نکالنے کے مسئلے تک ہی محد ودر ہے اور باقی معاملات کو نہ چھیڑے۔ لیکن نظر اللہ خاں نے سلامتی کونسل کو باور کروایا کہ مسئلہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی جڑیں بہت گہرائی تک پھیلی ہوئی ہیں اور جب تک اس ظلم اور نا انصافی کا سد باب نہیں کیا جائے گا جس کی بدولت مسئلہ پیدا ہوا تب تک ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات منصفانہ اور پرامن بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتے۔
پاکستان نے اس مناسبت سے سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ اس مسئلے کو مسئلہ کشمیر، لکھنے کے بجائے پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ لکھا جائے اور مضبوط دلائل کی بنیاد پر پاکستان کا موقف تسلیم کیا گیا اور سلامتی کونسل نے 22جنوری 1948ءکو ہندوستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے مذکورہ مطالبہ مان لیا۔
بھارت نے پاکستان کو جارحیت پسند ملک ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن چونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے ۔اس لئے ہندوستان کو منہ کی کھانی پڑی اور بھارت کا موقف مسترد کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل نے اس ابتدائی مرحلے پر 17جنوری 1948اور20 جنوری 1948ءکو د قرار داد میں منظور کیں۔ پہلی قرار داد میں بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے کہا گیا کہ وہ صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کریں، جبکہ دوسری قرار داد میں ایک کمیشن کا تقرر کیا گیا۔ اس کا نام اقوام متحدہ کمیشن برائے پاک و ہند (UNCIP) تھا۔ ابتدائی طور پر اس کے اراکین کی تعداد میں تھی۔ بھارت کو اس ابتدائی مرحلے پر ہی اقوام متحدہ میں ہزیمت اٹھانی پڑی۔ 6 فروری کو سلامتی کونسل کے صدر جنرل میکناٹن (MC Naughton) جن کا تعلق کینیڈاسے تھا نے ایک قرارداد پیش کی۔ قرارداد اس وقت کی اکثریتی رائے کی عکاس تھی۔ اس میں کہا گیاتھا کہ
1۔کشمیر سے تمام کے بے قاعد فوج نکال لی جائے۔
2۔ہندوستان اور پاکستان مشترکہ طور پر امن عامہ کو بحال کریں اور پھر با قاعد فوج بھی نکالی جائے۔
3۔ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے جولوگوں کا اعتماد بحال کرے۔
4۔ سلامتی کونسل کے زیر اختیار رائے شماری کا انعقاد کروایا جائے۔
اس قرارداد پر طویل بحث ہوئی۔ بھارتی نمائندے آئینگر (Ayyenger) نے زور دیا کہ رائے شماری موجودہ انتظامیہ کے تحت کروائی جائے اورکو نسل کا کردار صرف مبصرین بھیجنے تک محدودر ہے جو رائے شماری کے عمل کا مشاہدہ کر سکیں۔
جب ہندوستانی نمائندے نے کونسل کے اراکین کی رائے اپنے حق میں محسوس نہ کی تو اس نے اجلاس کو 20مارچ تک ملتوی کرنے کو کہا تا کہ وہ ہندوستان جا کر مزید ہدایات لے سکے۔ کونسل کے معزز اراکین نے ہندوستانی مندوب کو یاد دہانی کروائی کہ یہ ہندوستان ہی تھا جو کہ فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔
حکومت ہند نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے پر بحث ملتوی کروادی۔ اس کے لئے برطانیہ پر ماونٹ بیٹن کے ذریعے دبائو ڈالا گیا۔ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنے تجارتی اورصنعتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا ساتھ دیا۔ اس دوران ہندوستان نے اپنے مقاصدفوجی طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی۔
بھارت کا دوہرا کردار:
ایک طرف تو ہندوستان سلامتی کونسل میں مگر مچھ کے آنسو بہا کر خود کو امن پسند اور پاکستان کو جارحیت پسند ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ دوسری جانب وہ سلامتی کونسل کی ہدایات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں جنگی تیاریوں میں مصروف تھا۔ 15مارچ 1948کو بھارت کے وزیردفاع نے اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج اگلے دو تین مہینے میں کشمیر کی سرزمین سے ہر طرح کی مزاحمت کو ختم کردے گی۔
بھارت کے عزائم کو دیکھتے ہوئے پاکستانی فوج کے کمانڈر جنرل گر یسی نے ایک رپورٹ حکومت پاکستان کو پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی فوج نے کشمیر میں چھوٹے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔12اپریل کورا جوری پر قبضہ کر کے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا گیا ہے۔ میرے خیال کے مطابق جلد ہی شمال اور جنوب میں بڑے حملے کا آغاز ہو جائے گا اور پھر میر پور اور بھمبر پر قبضہ ہندوستان کو پاکستان کی سرحدوں پر لا کھڑا کرے گا اورنتیجتاًنہایت اہمیت کے حامل منگلا ہیڈ ورکس پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔
جنر ل گریسی نے سفارش کی کہ:

یہ بھی پڑھیں:  کراچی خوابوں کا شہر، مگر حالت کیا بنا دی ہے اس کی ہم نے ؟

If Pakistan is not to face another serious refugee problem with about 2,750,000 people uprooted from their homes; if India is not to be allowed to sit on the doorstep of Pakistan to the rear and on the flank, likely to enter at its will and pleasure; if civilion and military morale is not to be affected to dangerous extent, and if subversive potential forces are not to be encouraged and let loose within Pakistan itself, it is imperative that the Indian Army should not be allowed to advance beyond the general line “Uri-Poonch Naushera.”

جنرل اکبر خاں اس حوالے سے تقریر کرتے ہیں کہ چند روز بعد حکومت پاکستان نے دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور کچھ فوجی دستے روانہ کیے تا کہ اگر اچانک کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے جس کے نتیجے میں پاکستانی سرحد میں غیر محفوظ ہو جائیں تو وہ سرحدوں کا دفاع کرسکیں‘‘۔
اقوام متحدہ کی کارروائی اور بھارت کا عدم تعاون:
تقریباً دو ہفتے کے وقت کے بعد سلامتی کونسل میں بحث دوبارہ شروع ہوئی -12 اپریل1948ءکو بلیجیم، کینیڈا، چین، کولمبیا، برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایک قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی جس کے تحت کمیشن کے اراکین کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کر دی گئی اور پاکستان اور ہندوستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ کمیشن کے لیے اپنا ایک ایک نمائندہ نامزد کر یں ،کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچ کر اپنی کارروائی شروع کرے۔ اس کے علاوہ ریاست میں امن عامہ کی بحالی اور برسر پیکارعناصر کی ریاست سے واپسی سیکرٹری جنرل کی جانب سے رائے شماری کے لئے نظم کا تقرر اور ہندوستان کا اس پر اتفاق رائے اور ریاست میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی جیسے معاملات تفصیلاً اس قرارداد کے مسودے میں شامل تھے۔
بھارتی اخبارات نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس میں پاکستان کی مذمت نہیں کی گئی تھی۔ بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو نے اس قرارداد کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مستردکردیا لیکن ایک ماہ بعد بھارت نے کمیشن کو خوش آمدید کہا۔
کمیشن 7جولائی 1948کو کراچی پہنچا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ حکومت ہند نے سلامتی کونسل میں جو دعوے کیے تھے حقیقت حال اس سے بالکل برعکس تھی۔ مختلف رہنمائوں سے ملاقاتوں اور اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد کمیشن نے 13 اگست 1948 کو ایک نہایت اہم قرار داد منظور کی اس کے تین نکات تھے:
1 ۔ جنگ بندی کا حکم
2۔ فوجوں کے انخلاکا معاہدہ Truce Agreement ?
3۔ پاکستان اور ہندوستان اس خواہش کا اعادہ کریں کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہوگا۔ اس کے بعد کمیشن نے 5جنوری 1949کو ایک اور قرار داد منظور کی جس میں 13اگست کی قرارداد پر عملدرآمد کروانے کا کہا گیا اور دونوں قراردادوں کی سلامتی کونسل سے توثیق کروائی گئی۔ کمیشن نے اپنا کام مکمل کرنے کے بعد مسئلے کے حل کے لیے سفارشات سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیں۔ پاکستان نے ان سفارشات کو فوراً تسلیم کر لیا لیکن ہندوستان نے ان کو مسترد کر دیا جس سے کمیشن کے اراکین کو سخت مایوسی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  اقبال ؒکا تصورِ شاہین

ان سفارشات کے اہم نکات یہ تھے:۔
1۔جنگ بندی اور اس کے بعد جنگ بندی لائین کاتعین
2۔ہندوستان کی افواج کے بیشتر حصے اور پاکستان کی فوج قبائلی مجاہدین اور پاکستان کے شہریوں کا ریاست سے انخلائ
3۔ رائے شماری کے منتظم کے تحت رائے شماری کا انعقار
ہندوستان نے کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور کئی علاقوں میں فوج کشی کی اور کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا۔ کمیشن کی کوششوں سے فریقین جنگ بندی پر راضی ہوئے اور یکم جنوری 1949ءکو جنگ بندی لائن کا تعین کیا گیا۔
پاکستان نے ہر موقع پر اقوام متحدہ سے تعاون کیا اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار دادوں کو فراخ دلی سے تسلیم کیا جبکہ بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منفی رویہ اختیار کیا جومسئلے کے حل میں رکاوٹ بنا رہا۔ آخر کار کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ بھارت جان بوجھ کر مسئلے کے حل میں تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔سلامتی کونسل نے کشمیر کا قضیہ کرنے کی ذمہ داری یکے بعد دیگرے سرا وون ڈکسن اور ڈاکٹرفر یک گراہم کو سونپی لیکن بھارتی منفی روینے سے عاجز آ کر سب کو مایوس لوٹنا پڑا۔ بھارتی حکومت کی اصل توجہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی طرف رہی۔ پنڈت نہرو جو وقتاًفوقتاً بھارتی پارلیمنٹ اور کبھی پبلک میں دنیا کو فریب دینے کے لئے اس قسم کے بیانات دیتے رہے تھے:
“Ultimately, there is no doubt in my mind, that in Kashmir as else where, the people of Kashmir will decide finally and that al l we wish is that they should have freedom of decision without any external compuision”.
(March 5, 1948 )
we have given our pledge to the people of kashmir, and subsequently to the united nations: we stood by it and we stand by it today. let thepeople of kashmir decide.
(February 12, 1951 )
مگر مکر و فریب کا یہ پردہ جلد ہی ہٹ گیا اور یہی پنڈت نہرو چند سال بعد کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہنے کی رٹ لگانے لگے اور استصواب رائے کا وعد ہ قصہ ماضی بن گیا۔
بھارت نے عالمی رائے عامہ کوفریب دینے کے لئے نہ صرف کشمیر کے جعلی الحاق کی فرضی دستاویز کا ڈھنڈورا پیٹا بلکہ کشمیر میں فوج کشی کے بعد پنڈت نہرو نے شیخ عبداللہ کی ملی بھگت سے جولائی 1952میں بھارتی دستور میں ایک نئی شق نمبر 370 کا اضافہ کیا جس کے مطابق کشمیرکی حیثیت دوسری ملحقہ دیسی ریاستوں سے جدا ہو جاتی ہے۔ اس شق کی رو سے کشمیر صرف دفاع، امور خارجہ اور مواصلات کے معاملات میں بھارتی آئین کے ماتحت تھا- آرٹیکل238 کی روسے کشمیر کا اپنا آئین تھا جس میں ریاست کا سربراہ صدر ریاست کہلاتا اور انتظامیہ کا سربراہ وزیراعظم کہلاتا ۔ درحقیقت یہ دکھاوے کی شقیں بھی موقع آنے پر حذف ہوسکتی تھیں اور بھارت کا فریب بھی کچھ عرصے کے بعد ٹوٹنے لگا۔ کشمیر کی نامزد کونسل کا پہلا سربراہ شیخ عبداللہ کوبنایا گیا اور وہ وزیراعظم کہلایا۔ کرن سنگھ ( ہری سنگھ کا فرزند اور جانشیں) صدر ریاست (سٹیٹ پریذیڈنٹ ) کہلایا ۔کشمیر کے اٹوٹ انگ کی تمہیدتھی- اس اٹوٹ انگ کا پہلا ہدف بھی شیخ عبداللہ بنا جس کے سر پرست پنڈت نہرو کی تلون مزارجی نے اگست 1953ءکو برطرف کر کے اگلے روز جیل میں بھجوا دیا اور وہ دس سال سے زائد عرصے تک جنوبی ہند میں قید رہا۔ اس کے بعد اس غدار اعظم کی تیار کردہ غداروں کی ایک کھیپ ( بخشی غلام محمد، غلام صادق وغیرہ) نامزد اور جعلی اسمبلیوں کے ذریعے اس منصب پر یکے بعد دیگرے آتی اور پھر جاتی رہی۔ اسی زمانے میں وزیراعظم کے منصب کو وزیراعلی (چیف منسٹر ) اور صدر ریاست کے منصب کو گورنر میں بدل دیا گیا جیسا کہ بھارت کے دوسرے صوبجات کے دستور میں تھا)۔
ایسے ہی موقع پر لارڈ برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت بین الاقوامی معاملات میں جس بلند نظری کا پرچار کرتی ہے جب نظر آئے کہ اپنی اس بلندنظری کو بھارت ہی نے کشمیر کے سلسلے میں خاک میں ملا دیا ہے تو دل پر ایک احساس نامرادی چھا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ عبداللہ نے (1957-59) میں زنداں سے سکیورٹی کونسل کے نام ایک طویل مکتوب لکھ کر کشمیر کی حقیقت احوال بیان کرنے کی جسارت بھی کی تو اسے کسی نام نہادسازش میں ملوث کر کے مزید عرصے کے لیے عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا۔ مگر تعجب ہے کہ شیخ صاحب نے اپنی آپ بیتی” آتش چنار“ میں اس مکتوب کو گول ہی کر دیا ہے۔ میر عبدالعزیز کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہوگی کہ مزید غداریوں کا صلہ بھارتی حکومت سے وصول ہو سکے اور اس کار خیر کا کسی کو پتہ ہی نہ چلے۔ چنانچہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں شیخ صاحب کو آخر عمر میں دوبارہ مقبوضہ کشمیر کا وزیراعلیٰ کا منصب عطا ہوا اور اس کی وفات (1982ء) کے بعد اس منصب پر اس کے فرزند فاروق عبداللہ اور دامادجی ایم شاہ یکے بعد دیگرے اعزاز حاصل کرتے رہے۔
اٹوٹ انگ“ کے مفروضے کی سرپرستی کرتے ہوئے اسی دور میں سکیورٹی کونسل کے اندرسوویٹ روس نے قدم قدم پر ”ویٹو“ کا حق استعمال کر کے بھارت کی حمایت میں کشمیر کے بارے میں ہر قابل عمل فیصلے کو سرد خانے میں ڈلوادیا اور یو این او بے بس ہو کر بیٹھ گئی- یہی رویہ اب ایک دوسرے انداز میں موجودہ واحد سپر پاور نے اختیار کر رکھا ہے!!۔1965ءکی پاک ہند جنگ کے بعد سکیورٹی کونسل سے باہرروس کی سر پرستی میں اعلان تاشقند ہوا۔ جو اس سرد خانے پر ایک اور زنجیر چڑھا گیا-1971ءکی پاک بھارت جنگ کے بعد شملہ معاہدہ (1972ء) ہوا تو یہ مسئلہ سکیورٹی کونسل کی بجائے دوطرفہ مذاکرات کی نذر ہو گیا جو کبھی نہ ہو سکے اور وادی کشمیر بدستور آتش فشاں کے دہانے پر کھڑی رہی۔ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے رہے۔ قابض بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑتی رہی۔ کشمیریوں کا خون وادی میں بہتا رہا، شہدا کے قبرستان آباد ہوتے رہے عصمتیں لٹتی رہیں اور لٹے پٹے کشمیری مہاجرین کے قافلے آزادکشمیر میں پناہ گزیں ہوتے رہے۔ عالمی طاقتیں اور حقوق انسانی کی تنظیمیں دم بخودیہ سب کچھ دیکھتی رہیں اور دیکھ رہی ہیں۔
اس دوران بھارت نے کئی بار سنگینوں کے سائے میں مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کا ڈھونگ رچایا مگر ہر بارکشمیری مسلمانوں نے اس ناٹک کو چلنے نہ دیا۔ غیر نمائندہ، جعلی اسمبلیاں( مقبوضہ کشمیر کی ہوں یا لوک سبھا کی) ناکام و نامراد ہوتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آزادی کشمیر کا کٹھن سفر

اپنا تبصرہ بھیجیں