wife husband 7th segations

کسی جھگڑے سے پہلے کے سات اصول

EjazNews

جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ہم صرف مسلسل تنقید کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سمجھ کب آئے گی کہ تنقید سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور اس سے کوئی مشکل حل نہیں ہوتی بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے ۔تو آئیے دوسری طرف کو سدھارنے ، اس کی اصلاح اور رہنمائی کرنے کی سیاست کو اپناتے ہیں ۔وہ شوہر جو اپنی بیویوں پرتنقید کرتے ہیں وہ عموماً اپنے لیے غم و تکلیف کو مزید بڑھا لیتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کا اندرونی واحد اسلوب تنقید و ملامت کرتا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ وہ دوسرے فرد سے جو الفاظ اور جملے کہہ رہے ہیں انھیں وہ عین انداز میں سنتا ہے اور ان الفاظ اور جملوں کی قوت وطاقت کے بقدر فطری رد عمل کے لیے سنتا ہے۔ کسی شخص پرتنقید کرنا درحقیقت اپنے آپ پر تنقید کرنا ہے اس سے پہلے کہ اس کا اثر دوسرے شخص پر ہو۔ اس لیے کہ ہماری شریک حیات ہماری اپنی شخصیت کا پرتو ہے۔ ہم اس میں جو دیکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل ہمارے اندر بھی ہوتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جب ہم اپنی شخصیت کے بعض پہلوﺅں کا انکار کرتے ہیں تو دوسروں پرتنقید کے ذرائع کو استعمال کرتے ہیں تا کہ اپنے کامل نہ ہونے کی سزا خود کو دیں جب ڈاکٹر ہیری لو باز نے اپنی کتاب (آپ خودایک طاقت ہیں) تصنیف کی تو اس میں اپنا مشہور نظریہ پیش کیا( اپنے آپ پر بھروسہ کرنا سیکھو تو زندگی لامحدود خوشیاں تمہیں دے گی) اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو زندگی میں بعض چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کوئی شخص اس کے بغیر زندگی نہیں گزارتا ہے اور میرا خیال ہے کہ سب سے بڑی مشکل جس کا ہم کو سامنا ہے وہ یہ کہ جس بات سے ہمیں آزاد ہونا چاہئے اس کے بارے میں معمولی سی فکر بھی ہمارے اندر نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ زندگی کو جیسے گزرنا چاہئے وہ گزررہی ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہم زندگی سے کس چیز کی توقع کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کونسی چیزہے جو ہمیں اس تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے راستہ میں کھڑی ان رکاوٹوں کے بارے میں غور کریں۔ اگر کوئی نیا خاندان یہی طے کر لے کہ ان کے جھگڑوں کے حل کے لیے تنقیدہی مستقل عادت ہوگی تو ایسے میاں بیوی کسی بھی مشکل کے پیش آنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی صرف اپنے پرتنقید ہی کرتے رہیں گے ،ہوسکتا ہے کہ یہ بری عادت ان کی اولاد میں بھی آجائے اس لیے کہ تنقید کرنا ان کے ذہنوں میں جمع رہے گا یہاں تک کہ بالغ ہو جائیں، تب وہ بھی ان غلط افکار کو اپنانا شروع کریں گے اور مستقبل میں جب وہ مشکلات کا شکار ہوں گے تو اپنے آپ کے ساتھ مثبت تعلقات کھو بیٹھیں گے اس لیے میں آپ کی مشکلات کے حل کے لیے ڈسنے والی تنقید کے بجائے کچھ اصولوں کی طرف رہنمائی کرتا ہوں تا کہ فریق مخالف آپ کے رویہ کو معمولی اور غلط نہ سمجھنے لگے۔
کسی مشکل سے پہلے سات اصول یاد رکھیں:
۱۔ تنہائی میں شریک حیات کے ساتھ بات چیت کریں۔ کسی اور شخص کی خواہ بچے اور نوکرانی کیوں نہ ہوں موجودگی میں بات نہ کریں۔
۲۔ حتی الامکان شریک حیات سے گفتگو سے پہلے پرسکون رہنے کی کوشش کریں۔
۳۔ اپنی گفتگو کے درمیان جن باتوں کا آپ حوالہ دیں گے، ان کے صحیح اور درست ہونے کا آپ کو یقین ہو۔
۴۔ ایک متعین رویہ کی بات کریں نہ کہ عام باتوں پرگفتگوکر یں۔ شریک حیات کی کسی واقعی غلطی ہی کا ذکر کریں عموی رنگ نہ دیں۔
۵۔ کوشش کریں کہ کسی مشکل کے پیش آنے پرفوراً ہی گفتگو ہو ۔اس شرط کے ساتھ کہ آپ غصہ کی حالت میں اور جذباتی نہ ہوں۔ کیونکہ سکون کی حالت کے چند منٹ میں پیش کیا جانے والاعل، غصہ کی حالت کے گھنٹوں میں دیئے جانے والے عمل سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس مشکل کو دوسرے وقت کے لیے نہ چھوڑ دیں تا کہ اس وقت اسی موضوع پر گفتگو ہو (خودزمانہ اور وقت کا گزرنا ایک علاج ہے) کا اصول اس موقع پر فائدہ مند نہیں ہے۔
۶۔ گفتگو کو آپسی سمجھ داری پر ختم کریں، اس نتیجہ پر جوشریک حیات سے گفتگو کے بعد آپ کو ملا ہے۔ اس کو بلا نتیجہ نہ چھوڑ دیں ہے۔
۷۔اس موضوع کو ختم کردیں۔ مستقبل میں کسی دوسری گفتگو میں اسے نہ چھیڑیں نہ ہی اس کو بطور ہتھیار استعمال کریں کہ آپ شریک حیات کے ساتھ جنگ کررہے ہیں۔ شریک حیات سے آپ کو جس چیز کی امید ہے اس پراپنے اعتماد کا اظہار کرنا نہ بھولیں۔ اس طرح کہ بس اسے تھوڑا سا وقت دینے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: اللہ نے تمہیں جو دیا ہے اس کے ذر یعہ آخرت کے گھر کو چا ہوا اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھولواور جیسے اللہ تعالی نے تم پر احسان کیا ہے تم بھی اچھا سلوک کرو اور زمین میں فساد برپا مت کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ (سورہ قصص )

یہ بھی پڑھیں:  خواتین کو اپنی مدد آپ کرنی ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں