wife and husband lovly mode

دو چار منٹ از دواجی تعلقات کا فیصلہ کر دیتے ہیں

EjazNews

ایک دن ڈیوٹی پر جانے والاشخص دیر سے پہنچا۔ منیجر نے وارننگ لیٹر جاری کیا جس میں اس کے ہمیشہ دیر سے آنے پر تنبیہ کی۔ وہ شخص آفس میں اپنے ساتھیوں کی نصیحتوں کو بادل ناخواستہ سنتا رہا اور خاموش رہا، گھر لوٹتے ہوئے وہ ریڈی سگنل کا خیال نہیں کر سکا اور بغیر ارادہ اسے پار کر لیا اس نے توجہ نہیں دی کی تھوڑی دور پر پولیس اس کی انتظار میں ہے۔ قانون توڑنے کا الزام اس پر عائد ہوا اور دوسرے دن ٹریفک ڈپارٹمنٹ میں آنے کے لیے اس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی ضبط کیا گیا۔ وہ شخص غصہ میں بھرا گھر لوٹا گویا وہ آتش فشاں پہاڑ ہے جب وہ انتہائی غصہ کی حالت میں گھر پہنچا تو اپنی بیوی پر بری طرح گرجا کیونکہ حمام میں اسے تولیہ نہیں ملا۔ وہ بے تحاشہ گالیاں دینے لگا اور اس دن پرلعنت بھیجنے لگا جس دن اس نے اس عورت سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بیوی سمجھ گئی کہ اس کے شوہر کے غصہ کا سبب محض تولیہ کا نہ ملنا نہیں ہے وہ محض ایک سہارا ہے جس کے ذریعہ سے وہ اندر کے بھرے ہوئے غصہ کو باہر نکال رہا ہے۔ وہ اس کے سامنے خاموش رہی اور کچھ نہ بولی ، شوہر نے کھانا کھایا اور دوپہر کے خالی وقت میں آرام کرنے لگا۔ نیند سے اٹھ کر وہ فوراً گھر سے باہر چلا گیا۔ جب وہ شام کو لوٹا اور بیوی کے تیار کردہ خاص اس کے لیے رات کے کھانے سے فارغ ہوا تو وہ اس کے ساتھ بیٹھی اور میٹھی گفتگو کرنے لگی اس طرح کہ وہ اپنی پریشانی کو ظاہر کرے۔ شروع میں اسے تردد ہوا لیکن جلد ہی سارے دن کا غم و غصہ وہ اسے بتاتا چلا گیاوہ سنتی رہی جیسے ہی اس نے اپنی بات ختم کی خودہی اپنے آج کے رویے پر معذرت کرنے لگا ۔اسے ایک ابلتی ہوئی محبت کا احساس اپنی بیوی کے لیے ہوا اور اس نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
علم نفسیات اور ازدواجی تعلقات کے ایک ماہر استاد مسٹر ھانکس ولیم کہتے ہیں۔ میاں بیوی کی گفتگو کے شروع کے تین منٹ اس نتیجہ کو طے کر دیتے ہیں کہ یہ گفتگوکسی اختلاف کوجنم دے گی یا اپنی عام حالت پر باقی رہے گی۔ پہلے تین منٹ یہ ثابت کریں گے کہ شادی کامیاب و جاری رہے گی یا ناکام اور بے نتیجہ رہے گی ؟ اس لیے ہر بیوی کو ہر مرتبہ جب شوہر گھر میں داخل ہوتو اسے اچھی طرح نفسیاتی طور پر تیار رہنا چاہے خصوصاً پہلے تین منٹ ، اس لیے کہ وہی فیصلہ کن اور حساس لمحات ہوتے ہیں ۔وہ کوشش کرے کہ اپنے اعصاب پر قابو رکھے اور بے قابو نہ ہونے پائے تا کہ چھوٹی سی بات پر معاملات خراب نہ ہوں جس کو شوہر خود بعد میں سمجھ لے گا۔
ڈاکٹر ڈان گوتمان ( مسرت بھری شادی کے اصول) کتاب کے مصنف اور واشنگٹن یونیورسٹی میں نفسیات کے استاذجو مرکز گوتمان برائے خاندانی تعلقات کے بانی ہیں، انھوں نے کوئی 1130سے زائد نئے شادی شدہ جوڑوں کے حوالے سے ویڈیو کیسٹ تیار کی ہیں۔ وہ پانچ سال سے زائد عرصہ تک ان تعلقات کا تجزیہ کرتے رہے۔ وہ کہتے ہیں : میاں بیوی کی گفتگو کے پہلے تین منٹ بڑے سخت ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ان لمحات ہی میں موضوع گفتگو طے ہوتا ہے اور اس پر ان کا ردعمل بھی مقرر ہو جاتا ہے۔ اگر اس تجزیہ ہی کو ہم اپنالیں تو ہم کامیاب گفتگو اور سلوک کا تعین نہایت بار یکی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ اور80 فیصد حالات اس پرمنطبق ہوں گے۔
اس لیے ہم ہر بیوی کو یہ مشورہ دیں گے کہ شوہر کے گھر لوٹنے پراس کا استقبال کرنا ہی سب سے پہلا مرحلہ ہے اور جب دونوں میں سے کوئی پہلے تین منٹ کے دوران اپنی بات رکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کونرمی اور سکون کے ساتھ رکھے۔ ذاتی حملہ کرے نہ دوسرے کی شخصیت کو الزام دے، وہ الفاظ جن سے دشمنی یا توہین کا پہلو نکلتا ہو اور جس سے ایسا لگے کہ آپ اس کی ذات کو معمولی سمجھتے ہیں ، زبان سے ادانہ ہوں۔ دوسری تکنیک ہے۔ اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی زندگی پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت واحترام کے ساتھ پیش آتی تھیں۔ اس کی ایک مثال ام المومنین حضرت ام سلمہؓ ہیں۔ امام احمدؒ نے اپنی مسند میں حدیث ذکر کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن حضرت ام سلمہؓ کے پاس گئے آپ کا چہرہ پریشان کن سا تھا۔ حضرت ام سلمہؓ نے جیسے ہی آپ کو اس حال میں دیکھا تو دوڑ کر پاس گئیں اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر فرمانے لگیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے ۔آپ کا چہرہ پریشان کن ہے ،کیا یہ درد کی وجہ سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ]نہیں یہ ان سات دینار کی وجہ سے ہے جو ہمیں دیئے گئے۔ ہم نے رات گزار دی اور وہ جیسے کے ویسے رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت مندوں پرخرچ نہیں ہوئے۔ حضرت ام سلمہؓ نے آپ کوتسلی دی اور ان دینار کو اللہ کے راہ میں خرچ کر دیا۔)
دیکھئے کہ ام المومنین نے اپنے اس عظیم شوہر کا کیا خیال کیا اور ہر چیز چھوڑ کر کس طرح آپ کی طرف دوڑتی ہوئی گئیں اور کوئی کام اس لحاظ وخیال کے کرنے میں آڑے نہیں آیا۔
امام مسلم الخوانی جب گھر میں داخل ہوتے تو ان کی بیوی ان کے لیے کھڑی ہو جاتیں۔ ان کی چادر اور جوتی سنبھالتیں، پھر گرم کھانا انہیں پیش کرتیں۔ نہ وہ ان کے عتاب پر توجہ دیتیں اور نہ ہی ان کی آواز سے بلند آواز میں بات کرتیں بلکہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ بہترین سلوک کے لیے تیار رکھتیں۔
میاں بیوی کے جھگڑوں میں یہ ضروری ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بات کو مکمل خاموشی اور اہتمام کے ساتھ سنے پھر اپنی رائے کا اظہار کرے اور باقی گفتگو مکمل کرے۔ اس لیے کہ گفتگو سننے اور سنانے اور گفتگو کرنے والوں کے درمیان تبادلہ خیال کا نام ہے نہ یہ کہ ہم اس کو تنقید کرنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا ذریعہ بنائیں۔ میاں اور بیوی دونوں سے یہ کہنا ہے کہ اگر تم میں سے ہر ایک اپنے دفاعی قلعوں میں بند ہو جائے اور دوسرے پر الزامات تھوپے گا تو ایسی گفتگوضرور کسی مشکل پر جا کر ختم ہوگی۔
گفتگو کی گرمی کو ختم کرنے اور جھگڑے کے سبب کو منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم کسی نکتہ یا ہنسانے والی بات کو درمیان میں ذکر کریں یا یہ مان لیں کہ ہاں ذمہ داری دونوں کی ہے اور کوئی ایک ہی ذمہ دار نہیں ہے۔ روسی لیڈرنیکتا گردبچوف کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ جب بھی وہ غصہ ہونے لگتا تو یہ نکتہ ضرور کہتا ، ماسکو میں ایک فیکٹری کے مزدور نے حد سے زیادہ شراب پی لی پھر وہ لال میدان کی سڑکوں پر گھومنے لگا وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کی گرد بچوف ایک نا معقول اور بیوقوف آدمی ہے میں سچ کہہ رہا ہوں۔ فطری بات ہے کہ روسی سی آئی ڈی K.B.G کے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے اور جیل میں اسے بند کر دیا۔ اسے قاضی کے سامنے پیش کیا گیا کیس سننے کے بعد قاضی نے اسے سائبیریا کے برفانی علاقوں میں 25 سال تک قید رکھنے کا حکم سنایا۔ ایک شخص بول پڑا 25 سال؟ یہ تو بڑا سخت حکم دیا گیا۔ قاضی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا 5سال ملک کے ایک اہم ترین شخص کو بدنام کرنے کے سبب اور 20 سال عام جگہ پر ملک کے صدر کے بارے میں ایک راز فاش کرنے کے سبب۔
اس لیے ازدواجی تعلقات کی کامیابی کا راز دوسرے کی بات کو مان لینے، اپنی رائے پر جمے نہ رہنے دوسرے کی بے جا باتوں کو نظرانداز کرنے اور اس کی غلطی کو معاف کر دینے میں ہے۔ لیکن اگر ان میں سے ہر ایک اپنے دماغ میں دوسرے کی غلطیوں کو جمع کرتا رہے تو جلد ہی ایک رجسٹربھر جائے گا اور دونوں کے درمیان تعلقات باقی رہنانا ممکن ہوجائے گا۔
میں اس بحث کو اس واقعہ کے ذکر پرختم کرتا ہوں جونبی صلی اللہ علیہ سلم کی زندگی کے حالات میں محفوظ کیا گیا ہے۔ جب آپ ایک ایسے سخت مرحلے سے گزرے کہ اس نے آپ کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔ ایک مرتبہ جب آپ گھردیر سے لوٹے تو آپ کی عظیم زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓنے آپ کا استقبال کیا۔ وہ آپ پرغصہ نہیں ہوئیں اور نہ آپ کی عجیب وغریب بات کی اہمیت کو کم کیا کہ اگر آپ وہ بات عام افراد کو سناتے تو کوئی یقین نہیں کرتا۔ حضرت عائشہؓ بتلاتی ہیں کہ کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں اکیلے لمبے عرصہ تک ٹھہرے رہے پھر اپنی بیوی حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے۔ ایک رات آسمانی فرشتہ حضرت جبرئیل تشریف لے آئے ۔آپ کو پوری طاقت سے سینے سے لگایا اور کہا پڑھو”اقر اباسم رب“ الخ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس اچانک واقعہ پرڈر گئے۔ گھر واپس آئے آپ گھبراہٹ اور خوف سے کانپ رہے تھے، جیسے ہی حضرت خدیجہ کے گھر میں داخل ہوئے آپ نے فرمایا مجھے چادر اڑھاو¿، مجھے چادر اڑھاﺅ، جب آپ کو آرام ملا تو حضرت خدیجہ ؓسے فرمایا۔ بخدا مجھے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا انھوں نے جواب دیا بخدا ہر گز نہیں اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں۔ دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور پریشان حال کی مدد کرتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں۔ حق دار کو اس کا حق دلانے پر مدد کرتے ہیں، انھوں نے اس بہترین گفتگوپرہی اکتفا نہیں کیا جس کا ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر جادو کا ا ثر ہوا بلکہ وہ ان کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس لے کر گئیں۔ وہ جاہلیت کے اس دور میں عیسائی بن چکے تھے اور نبیوں رسولوں کی خبریں ان کو معلوم تھیں، انھیں یہودی عبرانی زبان لکھنا پڑھنا بھی آتی تھی۔ وہ بڑھاپے کی وجہ سے اندھے ہو گئے تھے۔ ان سے حضرت خدیجہ ؓنے کہا میرے چچازاد بھائی ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سنو!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قصہ سنایا ورقہ بن نوفل خوشی اور مسرت سے زور سے بول پڑے یہ توبخدا وہی فرشتہ ہے جوحضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔
غور فرمائیے اس عظیم بیوی نے جب اس کے پاک شوہر کوسخت مرحلہ پیش آیا تو اس نے کس طرح کا سلوک کیا ان پر خوف کی حالت ہونے کے باوجود انھوں نے اچھی طرح آپ کا استقبال کیا اور آپ کے کہنے پربجلی کی تیزی سے چادر اڑھائی۔ فوراً خوف و گھبراہٹ کا سبب نہ پوچھا بلکہ خاموش رہیں یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خودہی گفتگوفر مائی جب آپ نے گفتگو شروع کی تو بغیر مداخلت غور سے سنا،یہاں تک کہ آپ نے اپنی بات ختم فرمائی جب آپ پوری بات فرما چکے تو بڑی عقلمندی سے انھوں نے کام کیا اس طرح کہ آپ کا خوف جاتار ہا۔ انھوں نے آپ کے فضائل اور عمدہ اخلاق کا ذکر فرمایا۔ آپ کی تعریف کی آپ کی مثبت باتوں پر زور دیا اور صرف اس پراکتفا نہیں کیا بلکہ چچازاد بھائی جو مذہب سے واقف تھے، ان کے پاس لے کر گئیں تا کہ اس واقع کی ہولناکی کوکم کریں اور غار میں پیش آئے واقع کی صحیح تفسیر معلوم ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے ہاں عورت مارچ کو لے کر ہلہ گلہ اٹھایا جارہا ہے اور دنیا میں عورتیں سیاروں کی تلاش کر رہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں