kashmir hot issue

کشمیر نئے سیاسی تناظر میں

EjazNews

اکتوبر 1932ءمیں کشمیر میں پہلی دفعہ ایک باقاعدہ سیاسی تنظیم جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے اولین صدرشیخ محمد عبداللہ قرار پائے۔ شیخ عبداللہ علی گڑھ مسلم یونیوٹی کے گریجوایٹ تھے اور ایک دو سال پیشتر کشمیر میں ایک سکول ٹیچر کے طور پر اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ تحریک کے دوران عوامی اجتماعات میں خوش الحانی سے نعت خوانی کرتے اور جذبات انگیز تقریروں سے لوگوں کی تحسین و آفرین کے سزاوار ہوتے ہوتے یک دم شیر کشمیر کہلانے لگے اور اب کشمیر کی اولین سیاسی تنظیم کے صدر بھی قرار پائے۔ ظاہر ہے کہ ایسے سنہری موقعوں پر کچھ نعرہ باز ساتھی بھی مل جاتے ہیں۔ طالع آزما انسان کی نفسیات بھی عجیب ہوتی ہیں جس کے پرت رفتہ رفتہ کھلتے ہیں اور اصل شخصیت کا روپ سامنے آتا ہے۔ بہر کیف اس وقت تو وہ شیر کشمیر بھی بن گئے اور کشمیر کے مسلمہ لیڈربھی، مگر آگے چل کر وہ کیا نکلے؟ اس کا فیصلہ تو رفتار حوادث کے ساتھ ہوگا۔ تاہم کشمیر کی آزادی (؟) یا محکومی میں ان کی ذات کو بھی خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس لیے اس گفتگو پر کوئی حتمی فیصلہ حقائق کے منظر پر آنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ یہاں ”شیر کشمیر“ کی ذات شریف کا اتناہی حوالہ کافی ہے کہ ایک معمولی آدمی اپنی طلافت لسانی اور نعت خوانی کی بدولت قیادت کی بلند سیڑھی پرتو پہنچ گیا ،آگے اس پر اورکشمیر پر جو کچھ بیتی ، وہ ایک الگ داستان ہے۔
جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ 1930 کے عشرے میں ایک نہایت نازک موڑ سے گزررہی تھی جس میں برطانوی مقبوضہ ہند اور دیسی ریاستیں بھی شامل تھیں۔ ملک کے سیاسی زعماءریاستی نمائندوں اور برطانوی حکمرانوں کے مابین دستوری معاملات پر لندن میں گول میز کانفرنسوں کا سلسلہ جاری تھا جس کے نتیجے میں انڈیا ایکٹ 1935ءکی صورت میں دستوری الجھنوں کاحل تین آئینی اصلاحات کی شکل میں سامنے آیا-
(1) فرقہ وار مسئلے کا ثالثی فیصلہ ( کمیونل ایوارڈ ) ۔
(2) صوبائی حکومتوں کی خوداختیاری۔
(3) برطانوی ہند کے صوبوں اور دیسی ریاستوں پرمشتمل ایک مرکز کی وفاق کا قیام۔
ان میں پہلی دو اصلاحات پر فوری طور پر عملدرآمد شروع ہو گیا اور تیسری صورت کو ان کے کچھ عرصے بعد وقوع پذیر ہونا تھا مگر دوسری جنگ عالمگیر کے آغاز کے ساتھ اسے پہلے التوا میں ڈالا گیا اور پھر ختم کر دیا گیا۔ کیونکہ کی سیاسی حالات بہت بدل گئے تھے جن کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں مگر یہ بات واضح ہے کہ جنگ کے بعد ان مسائل پر (خصوصاً وفاق کے مسئلے پر ) از سر نوغور ہونا تھا اور برطانوی ہند کے صوبوں اور پانچ سو سے زائد دیسی ریاستوں کے مسئلے کو بھی سامنے آنا تھا جیسا کہ1946-47 میں یہ سامنے آئے۔
کشمیر کے سلسلے میں مختصراً یہ جاننا ضروری ہوگا کہ مسلم اکثریت (58 فیصد مسلم اکثریت) کی اس ریاست میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قیام (1932) کے بعد اس پر کیا بیتی؟ اور اس سلسلے میں کیا کیاریشہ دوانیاں ہوئیں؟
اس سلسلے میں ایک بات پس منظر کے طور پر گول میز کانفرنس کے مباحث کے دوران سامنے آ جاتی ہے کہ آل انڈیا وفاق کی صورت میں برطانوی صوبوں اور دیسی ریاستوں جن میں بعض بڑی ریاستیں مثلاً ریاست حیدرآباداور ریاست کشمیر وغیر ہ تھیں ان کی حیثیت اور صورت کیا ہوگی؟ جبکہ ریاست حیدرآباد میں ہندو قوم کی اکثریت تھی اور حکمران مسلمان تھا (اسی طرح بھوپال رام پور وغیرہ) اور ریاست جموں وکشمیر جس میں مسلمانوں کی اکثریت (58 فیصد سے زائد تھی )اور حکمران ہندو تھا اور پھر ان کی آبادی کی صورت یہ بھی تھی کہ اول الذکر ریاستیں ہندو اکثریت کے صوبوں میں گھری ہوئی تھیں اور کشمیرو جموں مسلم اکثریت کے صوبوں پنجاب اور سرحد کے اندتھی۔ یہ مسائل حقیقی طور پر سامنے تھے۔ اگر چہ آل انڈیا مسلم لیگ نے باضابط طور پر تقسیم ہند کی قرارداد لاہور 1940 بھی پیش نہیں کی تھی۔ مگر فیڈریشن اور کانفیڈریشن کے ایشوز پر یہ باتیں ذہنوں میں گردش کررہی تھیں۔ اور علامہ اقبال کو اپنے خطبہ آل انڈیا مسلم لیگ (دسمبر 1930) میں شمال مغربی ہند کے ایک علیحدہ وفاق کے بارے میں با قاعدہ اپنا نقطہ نظر پیش کر چکے تھے۔ اس وقت کی سیاسی صورت حال یہ تھی کہ آل انڈیا مسلم لیگ (قیام1906ء) تنظیمی لحاظ سے تحریک خلافت کے بعد منتشر ومضمحل تھی جس کی قیادت سید علی جناحؒ نے انگلستان کی خود ساختہ جلا وطنی ترک کر کے 1934 میں سنبھالی اور اس کی تنظیم کا از سر نو بیڑہ اٹھایا تھا۔ مسلم لیگ کے برعکس انڈین نیشنل کانگریس (قیام 1885ء) ایک منظم سیاسی جماعت تھی جس کے ساتھ دولت مند ہندوقوم تھی اور مہاتما گاندھی نہرو پٹیل وغیرہ اس کے فعال لیڈر تھے اور سیاسی طور پر یہ جماعت نہ صرف برطانوی ہند میں منظم تھی بلکہ دیسی ریاستوں پر بھی اس کی گرفت مضبوط تھی اور پھر برطانیہ و امریکہ وغیرہ میں بھی اس کے اثرات (پروپیگنڈے کے مراکز ) موجود تھے۔ اور یہ بات گول میز کانفرنس کے اندر بھی واضح ہو کر سامنے آ چکی تھی۔ اس حالت میں ریاست جموں وکشمیر میں جو مسلم اکثریت کی ریاست تھی اور جس کا مہاراجہ متعصب ہندو ڈوگرہ تھا اس میں مسلم کانفرنس کی بیل کہاں تک سرسبز ہو سکتی تھی؟ یہ مسئلہ قابل غور ہے اور ایک نام نہاد شیر کشمیر کا کردار بھی اسی صورت حال میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔جسے پنڈت پریم ناتھ بزاز جیسے سیکولر سوشلسٹ احباب بھی ایک ایسی راہ پر لا رہے تھے جو دنیا پرستی کی طرف جاتی ہے اور جہاں پھسلنے کے شاندار مواقع موجود تھے۔
1936ء میں مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک انتہا پسند ہندو گوپال سوامی آئینگر کو ریاست کا وزیراعظم مقرر کیا جس نے بڑی ہنر مندی سے شیخ عبداللہ کی نو در یافت سیکولرازم کی پیٹھ ٹھونکی اور دوسرے اسلام پسند اکابر سے انہیں الگ کرنے کی کوشش میں حصہ لیا ۔ اب نعت خواں اور اسلام پرست اپنا چولا بدل کر سیکولر، سوشلسٹ ،لبرل وغیرہ کے روپ میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے فرقوں کا بھی ترجمان بننے لگا۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی اس کے مراسم کا آغاز ہوا ،اور وہ مسلم کانفرنس سے رشتہ توڑ کر انڈین نیشنل کانگریس سے رشتہ جوڑنے کے درپے ہوا۔ اپنے ان خیالات کا اظہار اس نے مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس مارچ 1938ء میں یوں کیا:
’’جب ہم اپنے سیاسی مسائل کو زیر بحث لائیں تو ہمیں مسلم اور غیر مسلم کی اصطلاحوں میں سوچنے کا سلسلہ ترک کر کے فرقہ پرستی کو ختم کردینا چاہیے اور ہمیں اپنے دروازے ان تمام ہندووں اور سکھوں کے لئے کھول دینے چاہئیں جو ہماری ایک غیر ذمہ دار حکومت کے شکنجے سے اپنے ملک کی آزادی میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘
چنانچہ 28جون 1938ء کو مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے ایک طویل اجلاس میں گرماگرم بحث کے بعد ایک قرارداد کے ذریعے یہ طے پایا کہ کانفرنس میں تمام لوگ با لحاظ مذہب و ملت شامل ہو سکتے ہیں۔ اس طرح جون 1939ء میں مسلم کانفرنس کی جگہ باضابطہ طور پرنیشنل کانفرنس کا وجو دعمل میں آ گیا۔ میرواعظ محمد یوسف شاہ کے علاوہ کئی شخصیتوں نے اس تبدیلی سے اختلاف کیا اور مسلم کانفرنس کا دامن تھامے رکھا۔ یہ بنیا دتھی کشمیر میں آنے والے طوفان کی جس کے آثار جنوبی ایشیا کی کشیدہ فضا میں نظر آ رہے تھے۔
جنوبی ایشیا کے سیاسی احوال میں کشمیراب محض ایک ریاستی مسئلہ نہیں رہ گیا تھا۔ چنانچہ نیشنل کانفرنس کو انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ بنا کر شیر کشمیر نے کشمیری مسلمانوں کو ڈوگرہ راجہ کی بجائے گاندھی اور نہرو کے چرنوں میں لا بٹھایا۔ یہ وہ وقت تھا جب آل انڈیا مسلم لیگ قائداعظم محمدعلی جناح ؒکی قیادت میں منظم ہو کر ہندو کانگریس اور برطانوی استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے مطالبہ آزادی کو پیش کرنے پر کمر بستہ ہو چکی تھی اور برصغیر میں یہ نعرہ گونج رہا تھا کہ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘اسلامیان ہند نے منظم ہوکر 23مارچ 1940ء کو جنوبی ایشیا میں اپنے آزادخطوں کے قیام کا نصب العین پیش کر دیا۔ اس آواز نے کشمیری مسلمانوں کو بھی بیدار کر دیا اور وہ بہت جلد پھر مسلم کانفرنس کی طرف لوٹ آئے۔
جوزف کوریل لکھتا ہے:
’’ حالات بہت جلدنیشنل کانفرنس کے خلاف ہو گئے۔ چونکہ برطانوی ہند میں مسلمان ایک خودمختار پاکستان کی تحریک کے حامی بنتے گئے۔ جموں و کشمیر میں بھی مسلمان چودھری غلام عباس کی زیر قیادت مسلم کانفرنس میں واپس آنے لگے اور اس طرح سے انہوں نے شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کی صفوں کو خیر باد کہہ دیا۔‘‘1944ء میں قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کچھ دنوں کے لئے سری نگر کشمیر گئے تو انہوں نے مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس کی صدارت بھی کی۔ اس سے اس تنظیم میں ایک نئی روح پھونکی گئی۔ مئی 1946ء میں شیخ عبداللہ نے اپنی گری ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لئے ہندو کانگریس کے نقش قدم پر کویٹ (Quit) کشمیر کا ڈھونگ رچایا۔ یہ وہ موقع تھا جب برطانیہ کا وزارتی مشن دہلی وشملہ میں دینی رہنمائوں سے گفت و شنید کر رہا تھا۔ اس تحر یک کو کانگریسی سیاستدانوں کی حمایت حاصل تھی۔ شیخ عبداللہ کی گرفتاری اور نہرو کا اضطراب قابل دید تھا۔ (بحوالہ: اقبال اور تحر یک آزادی کشمیر تالیف غلام نبی خیال)
تقسیم ہند اور بھارت و پاکستان کا قیام:
انتقال اقتدار کے سلسلے میں برطانوی وزارتی کمیشن کی زونل سکیم اور مرکز کی عبوری حکومت کے سلسلے میں جو سیاسی دائوپیج اور مکر و فریب ہندو کانگریس نے کیے اور جو قلابازیاں کمیشن کے ارکان نے کھائیں وہ ایک طویل داستان ہے اور تاریخ کا حصہ ہے یہاں اس پر تبصرے کی گنجائش نہیں۔ مگر اس سے ایک حقیقت واضح ہوگئی کہ ہند کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ناگزیر ہے۔ تاہم اس موقع پر دو باتیں بڑی اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ عبوری مرکزی حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت ہندو کانگریس کے لئے ایک سانحہ سا بن گئی اور وائسرائے لارڈ ویول کی ذات ،جو سیاسی معاملات کو ذرا صاف اور سید ھا رکھنا چاہتا تھا۔ ہندو کانگریس کی کاغذی کی تو پوں ( اخبارات ) کا ہدف بن گئی۔ بالآ خر برطانوی حکومت نے لارڈ ویول کو برطرف کر کے اس کی جگہ پنڈت جواہر لال نہرو کے دوست کرم فرما اور برطانوی شاہی خاندان کے فردلا رڈ لوئی مونٹ بیٹن کو وائسرائے ہند بنا کر اور اسے انتقال اقتدار کے مکمل اختیارات دے کر مارچ 1947ء میں یہاں بھیج دیا اور اسی لحے ملک کی تقسیم کو حتمی جانتے ہوئے ہندو کانگریس نے تقسیم درتقسیم کے اپنے خفیہ منصوبے کے تحت( جس کی ایک جھلک راجگوپال اچاریہ فارمولے میں موجود تھی) پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا اور اس مطالبے پر برطانیہ کی طرف سے فوری طور پر نہ صرف صاد کر دیا گیا بلکہ انتقال اقتدار کی مقررہ تاریخ جون 1948ء کی بجائے 15اگست 1947ء کوحتمی تاریخ قرار دے دیا گیا اور از حد شرعت اور بات سے اس منصوبے پر کام شروع ہوگیا۔
ہندو کانگریس کی مرکزی قیادت اور وائسرائے لارڈ لوئی مائونٹ بیٹن کے درمیان ہی وہ خفیہ سازش تھی جس میں کروڑوں انسانوں کی بربادی اور لاکھوں انسانوں کے خون خرابے کے آثار واضح طور پر نظر آ رہے تھے مگر شیطانی زبان بڑی مہارت سے یہ منظر تیار کر رہا تھا۔ جموں و کشمیر کے المیے کے تارو پودبھی اس میں موجود تھے۔
3 جون1947ء کا منصوبہ تقسیم اور کشمیر
وائسرائے ہند مائونٹ بیٹن نے 2جون1947ءکو ایک خصوصی اجلاس بلایا جس میں سات سیاسی رہنما شریک تھے۔ ان میں مسٹر محمدعلی جناح، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بائی پٹیل، اچاریہ کر پلانی، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر اور بلدیو سنگھ شامل تھے۔ تقسیم ہند کا برطانوی منصو بہ ان رہنماوں کے سامنے رکھا گیا جسے منظور کر لیا گیا۔ ۳۔ جون کی شام کور یڈ یو پر وائسرائے نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ 18 جولائی1947ء کو برطانوی پارلیمنٹ نے ’’آزادی ہند ‘‘کا قانون منظور کرلیا۔اس منصوبے کے مطابق 15اگست کو انڈیا اور پاکستان دوآ زاد مملکتیں بن جانا تھیں۔ اس تقسیم در تقسیم میں ہندو اکثریتی علاقے انڈیا میں شامل ہونا قرار پائے اور مسلم اکثریتی علاقے پا کستان کے ساتھ شامل ہوئے جبکہ خود مختار ریاستیں جن کی تعداد تقریبا ساڑھے پانچ سو سے اوپر تھیں اور جو براہ راست حکومت برطانیہ کے ماتحت تھیں ان کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ اپنی جغرافیائی حیثیت اورعوامی رجحان کے مطابق دونوں ملکوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیںیا پھر اپنی خود مختار حیثیت کو برقرار رکھیں۔
3جون 1947ءکے ریڈیو اعلان میں وائسرائے نے پنجاب اور بنگال کی ضلع وار تقسیم کرتے ہوئے مسلم اکثریت اور ہندو سکھ و دیگر اقوام (جنرل) کا الگ الگ ذکر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم اکثریت کے ضلع گورداسپور کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے وہاں بعض دیگر امور کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے اسے حتمی فہرست سے الگ کرنے کا اشارہ دیا گیا۔ اس حوالے سے اکثر لوگوں کا ماتھا ٹھنکار [راقم الحروف اُس روز شام کو امرتسر میں تھا اور وائسرائے کا یہ اعلان سن رہا تھا۔ ان موہوم ’’دیگر امور‘‘ کے تذکرے سے ہمارے کان کھڑے ہو گئے۔ میرا تعلق بٹالہ شہر سے تھا۔ ضلع گورداسپور کی چارتحصیلیں بٹالہ ۔گورداسپور۔ شکر گڑھ اور پٹھانکوٹ تھیں۔ ان میں اول الذکر تین تحصیلیں غالب مسلم اکثریت کی تھیں۔ جبکہ آخری تحصیل پٹھانکوٹ میں ہندووں اور دیگر اقوام کو معمولی سی برتری تھی۔ ظاہر ہے کہ یہاں ضلعوں کا ذکر ہو رہا تھا تحصیلوں کا ذکر نہیں تھا پھر دیگر امور کونسے تھے۔ یہ عقدہ اس وقت تو حل نہ ہوا۔ حتیٰ کہ 15اگست کو یوم آزادی بھی گزر گیا اور ضلع گورداسپور کے مسلمان ان دیگر امور سے بے خبر14اگست کو حسب اعلان پاکستان میں یوم آزادی مناتے رہے۔ اور یکدم 15 اگست کو ان پر انکشاف ہوا کہ وہ پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت میں محصور ہو چکے ہیں اور ان کے سامنے جان کی امان اور ہجرت در پیش تھی۔ اب انکشاف ہوا کہ یہ’’ دیگر امور‘‘ حقیقت میں بھارت کا کشمیر سے زمینی رابطے تھا!]
انتقال اقتدار کی تاریخ حکومت برطانیہ کی جانب سے 15- اگست مقرر ہو چکی تھی ( پاکستان کے لئے ہی تاریخ 14اگست ہوگئی تھی اس تاریخ سے صرف تین دن پہلے 12اگست 1947کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمران ہری سنگھ نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے درخواست کی کہ اس کے ساتھ ایک معاہدہ قائمہ (Standstill Agreement) کرلیا جائے جس کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک بھارت اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت حسب سابق رہے۔ مہاراجہ صاحب کو بخوبی معلوم تھا کہ ریاست کے مسلم عوام جن کی اکثریت85 فیصد ہے) پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں لیکن وہ ہندو ہونے کی وجہ سے ریاست کا الحاق پاکستان سے نہیں چاہتے تھے۔ بہر کیف، حکومت پاکستان نے15 اگست 1947 کو ٹیلی گرام کے ذریعے اس معاہدے کوقبول کرنے کا فیصلہ مہاراجہ کو پہنچا دیالیکن حکومت ہند نے اس بارے میں کوئی جواب نہ دیا۔ پاکستان نے اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے باور کروایا کہ معاہدہ قائمہ کے بارے میں بھارت کے رویئے سے محسوس ہوتا ہے کہ ہندو حکومت اپنے ساتھ کشمیر کے فوری الحاق کے لئے کوئی گہری چال چل رہی ہے۔ مگر بھارتی حکومت نے پاکستان کے اس خدشے کو بے بنیادقراردیا۔
کشمیر پر قبضے کی بھارتی سازش:
بھارتی لیڈر کسی صورت میں بھی کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہیں چاہتے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ کشمیر خود مختارر ہے کیونکہ اس صورت میں بھی خطے کے تمام تر جغرافیائی مواصلاتی اقتصادی ،معاشرتی اور مذہبی روابط پاکستان کے ساتھ ہی استوار ہوتے تھے جو ہندو لیڈروں کو کسی بھی صورت گوارا نہ تھا۔ اسی وجہ سے نہرو گاندھی، پٹیل وغیرہ نے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی تا کہ پاکستان کو کشمیر سے محروم رکھا جائے۔
مذکور ہ سازش اور وائسرائے کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جون1947 ءتقسیم ہند کا منصوبہ پیش کیا گیا تو کشمیر کا حکمران اپنی ریاست کو مستقبل میں خودمختار رکھنے کے منصوبے بنارہا تھا۔ اس موقع پر ہندوستان کا وائسرائے اپنی گونا گوں مصروفیات ترک کر کے خاص طور پر کشمیر پہنچ گیا اور17 جون سے 23 جون تک اس نے کشمیر میں قیام کیا اور اس نے انتقال اقتدار سے دو ماہ قبل ہی ہری سنگھ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اگر وہ ہندوستان سے الحاق کر لے تو اس کی مکمل حمایت اور حفاظت کی جائے گی ،قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ لارڈماونٹ بیٹن نے564 خودمختار ریاستوں میں سے صرف کشمیر پر ہی اتنی توجہ کیوں دی؟ اس دورے کے بعد دیگر مسلمان مخالف لیڈروں نے ہری سنگھ سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کے لئے قائل کرنے کا جتن کرنے لگے۔ سب سے آخر میں خود مہاتما گاندھی نے کشمیر کا دورہ یکم اگست 1947ء میں کیا اور مہاراجہ کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستان سے الحاق کرے۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ انگر یز وائسرائے ماونٹ بیٹن اور ہندو لیڈر پہلے ہی ایسی سازش تیار کر چکے تھے جس کے نتیجے میں تقسیم کے اصولوں کی پامالی کرتے ہوئے کشمیر کو ہر حال میں ہندوستان کا حصہ بنانا مقصود تھا۔
مذکورہ بالا سازش کے تحت کشمیر میں بہت سے انتظامی ردو بدل کیے گئے۔ جموں وکشمیر کا ہندوستان سے فوری زمینی رابطہ پیدا کرنے کے لئے برطانوی حکومت نے دریائے راوی پر کشتیوں کا پل ہنگامی حالت میں بنوایا تھا تاکہ پٹھان کوٹ کی جانب سے ہندوستان سے زمینی رابطہ قائم ہو، دن رات کام کروا کر جموں کو ملانے والی سڑکوں ( کٹھوعہ روڈ ) کی تھی اور پختگی کا کام مکمل کیا گیا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ آ خری لمحوں میں وائسرائے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن نے ریڈ کلف کے ثالثی فیصلے میں تبدیلی کروا کر مسلم اکثریت کاضلع گورداسپور پاکستان کی بجائے بھارت میں شامل کروایا تا کہ ہندوستان کو کشمیر کے ساتھ زمینی راستہ میسر آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  بحرانی صورتحال پرردعمل

اپنا تبصرہ بھیجیں