women with husband

بیوی کس طرح پریشانیاں کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے؟

EjazNews

بعض مردوں کا خیال ہے کہ بیوی کے ساتھ ان کے سلوک کا سبب وہ خود ہوتی ہے وہ گھر میں مشکلات کو ہوا دیتی ہے۔ برطانیہ میں اس موضوع سے متعلق ایک مشہور ادارہ کے دانشمندوں نے اپنی تحقیقات کے نتیجہ میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ پانچ بچوں کا وجود جو اپنی ذاتی عادتوں میں ہر طرح سے ایک دوسرے سے مشابہ تھے، انتخاب کیا گیا۔ اس کا خیال رکھا گیا کہ ان کی شخصی اٹھان میں کوئی فرق نہ رہے اور وہ کچھ لوگوں کے سامنے کسی عین مسئلہ پر بات کریں۔ عین اسی لمحہ ان دانشمندوں نے ان لوگوں سے جنہیں اس تجربہ کے بارہ میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے انھیں خبر دی کہ یہ بچے ان کے سامنے ایک مسئلہ رکھیں گے اور یہ کہ یہ بچے اپنی اپنی شخصیتوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ چنانچہ پہلے بچے میں قیادت اور لیڈرشپ کی صلاحیت ہے ،دوسرا بچہ کسی قدر مایوس ہے۔ تیسرا ظریف مزاج ہے۔ چوتھا بچہ پر جوش مزاج ہے اور پانچواں بچہ کمزور رائے رکھنے والا اور ہر بات کو مان لینے والا ہے۔ ان لوگوں کے ذمہ یہ تھا کہ وہ مایوس بچے کو جوش دلا ئیں۔ پر جوش مزاج بچے کی ہمت افزائی کریں، ہنس مکھ بچہ کے انداز کو سرا ہیں، اور ہر بات مان لینے والے مزاج کے بچے کو اس کے منفی طبیعت پر عار دلائیں۔ جب ان پانچوں ایک دوسرے سے مشابہ بچوں کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تو لوگوں نے ان کے ساتھ سنجیدگی سے بات کرنا شروع کی اور دانشمندوں سے طے شدہ پروگرام کے مطابق عمل کرتے گئے ۔ وہ ایک کی ہمت افزائی کرتے تو دوسرے کے لیے تالی بجاتے اور گرم جوشی کا اظہار کرتے ۔ دس پندرہ منٹ نہیں گزرے تھے کہ پانچوں بچوں پر حاضرین کی دلچسپی کا تاثر ظاہر ہونا شروع ہوا۔ جس کے ساتھ لوگوں نے اس طرح کی دلچسپی لی کہ اس میں قیادت کی صلاحیت ہے، اس نے اسی طرح کا انداز اپنایا جس کے ساتھ لوگوں کا انداز یہ تھا کہ وہ مایوس صفت ہے، اس کا انداز اسی طرح کا تھا۔ اس طرح بچوں کے ساتھ گفتگو اور بحث نے بچوں میں وہ رجحانات پیدا کئے جو ان میں بالکل نہیں تھے۔ بلکہ اس کے برعکس گفتگو کے دوران بچوں نے وہ رد عمل ظاہر کیا جو بحث و مباحث کے دوران واضح ہوا۔
تو جب بیوی اپنے شوہر کو بحث کے دوران یہ کہتی ہے: آپ ہمیشہ سخت مزاج رہتے ہیں ،نرمی اور سمجھ داری آپ کو معلوم نہیں ہے تو اس طرح گویا بیوی اپنے شوہر کو نفسیاتی اور اعصابی لحاظ سے تیار کررہی ہے کہ وہ دوران گفتگو بدمزاج ہوجائے ۔ جب شوہر اپنی بیوی سے بار بار اور کسی وجہ یابغیر وجہ کے ان الفاظ کوسنتا ہے تو و ہ اپنی عقل کواسی طرح استعمال کرنا شروع کرتا ہے اور اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ اکثر موقعوں پر تیز مزاج ہوجائے ۔ اس لیے کہ ایک اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اسی طرح سمجھنے لگتا ہے اور دوسرے اس لحاظ سے کہ اس کی بیوی کی نظر میں وہ گرم اعصاب کا مالک ہے۔شوہر جب کسی متعین مشکل کا سامنا کرتا ہے تو اسکے باطنی شعور میں بھی احساس زور پکڑتا ہے کہ وہ عصبی المزاج ہے اور جس نفسیاتی دباؤ کا اسے سامنا ہے وہ اس سے مقابلہ پر قدرت نہیں رکھتا ہے اور جب اس کی بیوی ہی اسے گرم مزاج سمجھتی ہے تو وہ کیوں اپنے اعصاب کو قابو میں رکھے، اس لیے بیوی کے ساتھ نرم بننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ فائدہ مند کوشش نہیں ہوگی ۔ بس میں گرم مزاج اورکج رویہ ہوں لہٰذاکسی نرمی کی ضرورت نہیں ہے اور میں اسی طرح اپنے جذبات کو برانگیختہ کرتا رہوں گا۔
دیکھئے کہ بیوی نے کس طرح شوہر کو تیز مزاج بنانے میں حصہ لیا، یہاں تک کہ اس کو ذہنی طور پر پھٹ پڑنے کے لائق بنا چھوڑا۔ اس لیے کسی عصبی مزاج کے شخص کے ساتھ اچھے سلوک کا پہلا قدم یہ ہے کہ اس کونفی ذہنی حالت کی طرف نہ موڑ اجائے اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کے سامنے مستقل، اس کی گرم مزاجی کا ذکر نہ کیا جائے بلکہ بہتر یہ ہوگا کہ ہم یہ معلوم کریں کہ ان جملوں کے استعمال سے کیسے رکا جائے، جو شوہر کی تیز مزاجی کو اچھال دیتے ہیں۔ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو یاد رکھنا چاہے جو آپؐ نے عورتوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’تین طرح کے لوگوں کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی نہ ہی ان کی کوئی نیکی آسمان تک پہنچتی ہے۔ (1) بھاگا ہوا غلام جب تک وہ اپنے مالک کے پاس واپس نہ آئے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے نہ کرے (۲) دوسرے وہ عورت جس سے اس کا شوہر ناراض ہوتو جب تک راضی نہ ہو جائے (۳) تیسرے شراب پیا ہوا شخص جب تک ہوش میں نہ آئے۔(ابن حبان)
اس لحاظ سے ہم 60فیصد مشکل کو حل کریں گے۔ باقی رہی40فیصد گرم مزاجی تو اس کو چند قواعد کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے جو یہ ہیں۔
1۔ جیسے ہی گفتگو میں شوہر پرگرم مزاجی کے آثار ظاہر ہونے لگیں۔ گفتگوفوراً روک دی جائے اور جاری نہ رکھی جائے ۔ کسی اور وقت کے لیے اس کو ٹال دیا جائے ۔ تھوڑی دیر کے لیے شوہر کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ پانی یا پھلوں کارس اسے دیا جائے اور کسی، ذیلی موضوع کو چھیڑا جائے جس کا اس بنیادی موضوع سے کوئی تعلق نہ ہو۔
2۔ گفتگو میں شوہر کی پسند کے انداز کو معلوم کیا جائے۔ اس لیے کہ عصبی مزاج رکھنے والے شوہر حقیقت بھری سیاست کو بالکل پسند نہیں کرتے اور یہی شوہر اور بیوی کی سب سے بری عادت ہے۔
3۔ بیوی امکان بھر کوشش کرے کہ گفتگو کے دوران شوہر کے نامناسب ردعمل خود بھی نامناسب رول نہ ظاہر کرے۔ یہ عادت منٹوں میں نہیں بن سکتی بلکہ اس کے لیے ان جیسے موقعوں پر اعصاب پر قابو پانے اور نفسیاتی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
4۔ نیک اور عظیم المرتبت لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھے جائیں اور غضب وغصہ کے موقعوں پران کا سلوک اور انداز دیکھا جائے۔
5۔ شوہر کے ساتھ بے موقع اور نامناسب اوقات میں گفتگو سے پرہیز کیا جائے جیسے دو پہر میں کام سے تھک کر آنے کے فوراً بعد، یا جب وہ اخبار پڑھ رہا ہو یاٹی وی کو دیکھ رہا ہو ۔ مناسب اوقات میں گفتگو کی جائے جیسے فارغ اوقات جو بھی میسر ہوںیا پھر جن کے شوہر عصر کے بعد یا دوپہر میں آرام کرتے اس کے بعد۔
یہ بات قاعدے کی ہے کہ جب مشکلات بہت زیادہ ہوجائیں تو جائزہ لیجئے، ہوسکتا ہے کہ آپ کا کوئی اقدام صحیح نہیں تھا۔ تب وسیلہ اور راستہ بدل دیجئے نہ کہ مقصد۔

یہ بھی پڑھیں:  جڑواں بچے، دوہری مشکل

اپنا تبصرہ بھیجیں