divorce-position

طلاق کی قسمیں

EjazNews

طلاق کی کتنی قسمیں ہیں؟
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ طلاق کی چار صورتیں ہیں، دو صورتوں میں حلال اور دو صورتوں میں حرام ہے۔ حلال کی دو صورتوں میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ عورت کو ایسے طہر کی حالت میں طلاق دے جس میں ہم بستر نہ ہوا ہو اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو حمل کی حالت میں طلاق دے دو۔
حرام والی صورتوں میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دے اور دوسری یہ ہے کہ ہم بستری کے بعد طلاق دے جس میں یہ شک ہو کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں ۔ (دار قطنی ، منتقی ، نیل الاوطار)
علامہ شوکانی نے نیل الاوطار میں فرمایا ہے کہ بعض حالت میں طلاق مکروہ اور حرام ہے اور بعض حالتوں میں واجب اور بعض صورتوں میں مندوب اور جائز ہے۔ علاوہ ابن قدامہؒ نے بھی المغنی میں اسی طرح فرمایا ہے۔ بعض کہتے ہیں دراصل طلاق کی دو ہی قسمیں ہیں ایک سنی دوسرے بدعی۔ طلاق سنی یہ ہے کہ خدا اور رسول کے حکم کے موافق ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کئے ہو اور عدت ختم ہونے تک چھوڑ رکھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اپنی بیوی کو حیض میں ایک طلاق دیدی تھی۔ پھر دو طلاقیں دوسرے حیض میں دینے کا ارادہ کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : تم نے طلاق سنت کے خلاف دی ہے۔
”والسنة ان تستقبل الطھر فتطلق لکل قرءالخ“۔ سنی طلاق یہ ہے کہ آئندہ طہر میں طلاق دو۔ پھر ہر طہر میں طلاق دو۔
قرآن مجید میں فطلقو ھن لعدتھن “ سے یہی طلاق مراد ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن عمر فرماتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ طہر میں بغیرجماع کے ایک طلاق دے پھر سا کے بعد جو حیض آکر گزر جائے اور دوسرا طہر آجائے تو بغیر جماع کے اس دورسے طہر میں دوسری طلاق دے پھر اس کے بعد حیض آکر گزر جائے اور تیسرا طہر آجائے تو اس تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے۔ (نسائی ، کتاب الطلاق )
اور حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ طہر میں طلاق دے کر چھوڑ دے یہاں تک کہ عدت ختم ہو جائے یا رجوع کرے۔ (ابن عبدالبروالمغنی)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو حضرت عمرؓ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ وہ رجوع کرے اور اس عورت کو حیض آنے تک اپنے پاس رہنے دے پھر اس کو حیض آنے دے۔ پھر جب حیض سے پاک ہو جائے تو اس کواختیار ہے چاہے رکھے چاہے چھوڑ دے یہی مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کہ عورتوں کو ان کی عدت میں طلاق دو۔ “(بخاری)
اور حیض میں یا جماع شدہ طہر میں طلاق دینے کو طلاق بدعی کہتے ہیں۔ حیض میں طلاق دینے سے طلاق پڑ جاتی ہے لیکن رجوع کر لینا واجب ہے حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دیدی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹانے کا حکم دیا۔ (بخاری)
اور جماع شدہ طہر میں طلاق دینے سے طلاق پڑ جاتی ہے اس کو بھی لوٹانا چاہیے۔ کیونکہ یہ بھی طلاق بدعی ہے اور خلاف سنت ہے۔ اور ایک ساتھ تین طلاق بھی خلا ف سنت ہے۔ طلاق کا حق عاقل، بالغ شوہر کو ہے اور یہ تین طتلاقوں کا مالک ہے۔ ہر طہر میں ایک ایک طلاق دے سکتا ہے تین طلاقوں کے بیوی حرام ہوجاتی ہے اور بغیر شرعی حلالہ کے حلال نہیں ہوسکتی ہے اورط لاق کی گنتی عورتوں کے درجہ پر موقوف ہے۔ آزاد عورت تین طلاقوں کی محل ہے کہ اسے تین طلاق دینا جائز ہے اور باندی صرف دو طلاق کی محل ہے۔
بعض علماءکرام نے طلاق کی یہ تین قسمیں احسن و حسن اوربدعی کی ہیں۔
احسن یہ ہے کہ ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں نہ جماع کیا ہو اور نہ ہی عدت میں رجوع کیا ہو۔
اور حسن یہ ہے کہ تین طہروں میں تین طلاقیں الگ الگ دے اور ان تین طہروں میں کسی ایک طہر میں بھی اس نے جماع نہ کیا ہو۔ اور طلاق سے یہی وطی کر چکا ہو۔ یعنی اس کی مدخولہ و موطو وہ ہو اور غیر موطوہ کے لئے طلاق حسن یہ ہے کہ ایک طلاق دے۔
اور بدیعی یہ ہے کہ تین متفرق طلاقیں دے یا دو دے ایک ہی طہر میں اور رجوع نہ کرے یا ایسے طہر میں جس میں جماع کرچکا ہو۔ یا حیض کی حالت میں طلاق دے اور طلاق کی دوسری تقسیم یوں بھی کی جاتی ہے کہ طلاق کی یہ تین قسمیں ہیں۔ رجعی، بائن، مغلظہ۔
رجعی یہ ہے کہ صراحتاً ایک ہی طلاق دے، اس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندررجوع کر سکتا ہے اور عدت کے بعد نیا نکاح کر سکتا ہے۔ اور بائن یوں ہے کہ یوں کہے کہ میں طلاق بائن دیتا ہوں۔ یا طلاق کے ساتھ کوئی دوسرا لفظ بولے جس سے اس کی شدت پائی جائے۔ یا اس کی صفت ہو۔ خواہ لفظ بائن و بتہ ہو یا اور کوئی لفظ ہو، اس میں بھی عدت کے نکاح ہو سکتا ہے اور مغلظہ یہ ہے کہ تین طہر میں تین طلاقیں الگ الگ دے، اس کا حکم یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد یہ عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور اس سے جماع کرے پھر دوسرا خاوند اپنی خوشی سے طلاق دے یا مرجائے تو اس کی عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند کے لئے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ اور طلاق صریحی اور کنائی بھی طلاق کی قسمیں ہیں۔
صریحی یہ ہے کہ صاف لفظوں میں طلاق دے کہ طلاق کے علاوہ اور کسی چیز کا احتما ل نہ ہو۔ جیسے صریح لفظوں میں یوں کہے کہ میں نے تجھے طلاق دیدی ہے اور کنائی یہ ہے کہ ایسے لفظوں سے طلاق دے کہ طلاق کے معنی کے علاوہ دوسرے معنی کا بھی احتمال ہو۔ یعنی وہ لفظ طلاق ہی کے لئے موضوع نہ ہو۔ لیکن اس میں طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال ہے اس کنائی طلاق میں اگر طلاق کی نیت ہے تو طلاق پڑے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو نہیں پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  آداب مباشرت

اپنا تبصرہ بھیجیں