30سال تک مصر کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے حسنی مبارک بھی نہ رہے

husni_mubarak

حسنی مبارک 14اکتوبر 1928 کو پیدا ہوئے تھے اور جب انتہا پسندوں نے فوجی پریڈ کے دوران صدر انور سادات پر حملہ کیا تو وہ اس وقت مصر کے نائب صدر تھے۔انور سادات اور حسنی مبارک فوجی پریڈ کا جائزہ لے رہے تھے کہ حملہ آروں نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں سادات دم توڑ گئے تھے جبکہ ایک گولی حسنی مبارک کو بھی چھوتی ہوئی گزری تھی جس سے وہ معمولی زخمی ہوئے تھے۔ایئرفورس کے سابق سربراہ کے منصب پر فائز رہنے والے حسنی مبارک نے اس واقع کے 8دن بعد صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔

30سال تک وہ مصر پر حکومت کرتے رہے، 2011 میں ان کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہو گیا تھا۔اپنے 30سالہ دور میں وہ امریکہ کے قریبی اتحادی تھے ۔تین دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے دوران حسنی مبارک پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے بھی کیے گئے جس میں سب سے خطرناک 1995 میں ایتھوپیا کے دارالحکومت ایدس ابابا میں کیا گیا تھا لیکن وہ خوش قسمتی سے تمام حملوں میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
حسنی مبارک کے اقتدار چھوڑنے کے بعد انتخابات کے نتیجے میں مرحوم صدر محمد مرسی اقتدار میں آئے۔لیکن ان کے ساتھ کیا ہوا اور وہ دوران قید کیسے اس دنیا فانی سے چلے گئی یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں