shah mahmood

5اگست2020یو م استحصال کے طور پر منایا جائے گا:وزیر خارجہ

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کشمیر ہائی وے کا نام سرینگر ہائی وے رکھا جائے گا اور ابھی ہماری نظر سرینگر پر ہے۔ سری نگر ہائی وے ہمیں کشمیر تک لے جائے گا۔ گزشتہ ایک سال کشمیریوں نے کرب میں گزارا ہے لیکن اب ہم دنیا سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق عملی کام دیکھنا چاہتے ہیں باتیں نہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی حق خوداردایت کی فتح تک ساتھ ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی شناخت چھیننے کی کوشش کی اور آر ایس ایس بھارتی حکومت نے کشمیر کو ضم کرنے کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کا جھنڈا چھینا ان کا تشخص مٹانے کی کوشش کی تاہم پاکستان کشمیریوں کے ساتھ پہلے بھی کھڑا تھا اور آج بھی کھڑا ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی سرگرمیاں معطل ہیں جبکہ کرونا کے بعد دنیا کو معلوم ہو گیا کہ لاک ڈاون کیا ہے ؟ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں اجلاس میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا جبکہ جینوا میں جب کشمیریوں پر ظلم کی بات ہوئی تو بھارتی نمائندہ منہ چھپا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دن کشمیریوں کے ساتھ حمایت کا دن ہے۔ آج کے دن جموں و کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہوئی لیکن ہندو پنڈت، لداخ کا بدھ مت یا وادی کا مسلمان کسی نے تقسیم کو قبول نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  چینی نائب صدر کا دورۂ پاکستان

انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ آج بھی جاری ہے، دنیا جانتی ہے جو بنیادی حقوق آج بھی معطل ہیں اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے لے کر 5 اگست 2020 جو آنے والا ہے، امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں تو ان سے میرا سوال ہے کہ ایک سال تک طویل لاک ڈاؤن برداشت کرنا پڑجائے تو آپ پر کیا بیتے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست 2020 کو ہم نے پاکستانیوں اور کشمیریوں نے مل کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایک پیغام دینا ہے، جن کے عزم اور جذبے کو بھارت نے جبر، چھاپوں، شہادتوں کے بعد ان کی میتیں والدین کو نہ دے کر توڑنے کی کوشش کی ہے وہ نہیں توڑ پائے اور نہ توڑ پائیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے 5 اگست کے لیے ایک ایکشن پلان مرتب کیا ہے جس کے لیے قومی سلامتی ڈویژن اور وزارت اطلاعات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وزارت خارجہ کی رہنمائی کی ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سال 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم اور دنیا میں جہاں جہاں کشمیری بستے ہیں یومِ استحصال منائے گی، کشمیریوں کے ساتھ استحصال کو اجاگر کیا جائے اور ان کے ساتھ تجدید عہد کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرتار پور یاترا کیلئے 10ہزار یاتریوں کو ویزے جاری کیے جا چکے ہیں:ترجمان دفتر خارجہ