molana

یہ تاثر دیا گیا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ترامیم اپوزیشن کی ترامیم ہیں

EjazNews

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ایسا تاثر دیا گیا کہ ہم اختلاف برائے اختلاف کر رہے ہیں جب کہ ہم نے ہمیشہ قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا، آئین پر حملے روکنے میں بھی ہم سنجیدہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ منظور ہونے کے بعد بھی ان دونوں بلوں میں سقم باقی ہے۔یہ تاثر دیا گیا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ترامیم اپوزیشن کی ترامیم ہیں لیکن ان بلوں ہر ترامیم کے معاملہ پر ہمیں نہیں سنا گیا۔
مولانا اسعد محمود نے کہا کہ جنھوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بل پیش کیاان کے قانون دان ہونے پر اعتراض نہیں لیکن وہ خود مجبور اور ہیں اختیار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افسوس ہے کہ اپوزیشن کا کل فلور پر بیان آ گیا تھا کہ اب حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے پھر اچانک اتنی بڑی پیشرفت ہو گئی کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے راتوں رات ترامیم دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی یہ ترامیم آج منظور بھی ہوگئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے حکومت کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
رہنما جے یو آئی نے کہا کہ گزشتہ رات ہونے والی پیشرفت پر ہمارے تحفظات ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کے گھر ہونے والی ملاقاتوں پر بھی تحفظات ہیں، یہ ملاقاتیں پارلیمنٹ کے اندر کیوں نہیں ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیشل کمیٹی میں بھی ہماری نمائندگی موجود ہے، اسپیکر ہاؤس میں حکومت، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان کونسی ملاقاتیں ہوئیں، ہمیں ان ملاقاتوں پر اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
مولانا اسعد محمود نے کہا کہ اسپیکر نے ہمیں دعوت دی یا نہیں الگ بات ہے اپوزیشن جماعتیں تو ہمیں بتا سکتی تھیں، متحدہ مجلس عمل اپوزیشن کی تیسری بڑی جماعت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہمارا اپوزیشن لیڈر ہے، گلگت بلتستان میں بھی ہمارا اپوزیشن لیڈر تھا، تین صوبوں میں ہم اپوزیشن کو لیڈ کر رہے ہیں،
ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم سسٹم کے اندر وقعت نہیں رکھتے؟جن کی صرف کاغذی جماعتیں ہیں انھیں آن بورڈ کیا جاتا ہے۔ ہم تحفظات کے باوجود پاکستان کے عوام کی مشکلات سمجھ رہے ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی پتہ ہے کہ حکومت رہی تو مشکلات میں اضافہ ہو گا ماضی میں تحریکوں کے دوران اپوزیشن جماعتوں سے گلے شکوے اپنے اندر دبائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی کے لئے زرداری صاحب اور شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں، اب میں سوچ رہا ہوں کہ کل کی ملاقاتوں کے بعد اس کا کیا نتیجہ ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب رہبر کمیٹی کہاں کھڑی ہو گی؟رہبر کمیٹی کے بعد اے پی سی کہاں کھڑی ہو گی؟ یہ سوالات اور تحفظات میرے زہن میں بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سب جانتے ہیں اسلام کے نام پر سیاست کون کرتے ہیں:وزیراعظم