Khana_kaba

فضائل عرفہ اور خطبہ حجة الوداع

EjazNews

خطبہ حجة الوداع ابلاغ، اتمام اور دین کے کمال پر مشتمل ہے۔ یہ انسانیت کے نام آخری پیغام اور رسول اللہ ﷺ کی الودائی وصیتیں ہیں۔ یہ خطبہ دین و مذہب کا خلاصہ، تمدن و معیشت کے اصول ، نظام حیات کی اساسیات اور اجتماعی زندگی کے اصول اور معاشرتی روشن اقدار پرمشتمل ہے۔ رسول اللہﷺ کے تمام خطبات ، مواعظ، تقاریر اور ذخیرہ احادیث میں فر امین کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو بلاشبہ آپ کی گفتگو برمحل، بر جستہ مختصر اور کلام کی جامعیت کے تمام پہلووں پرمحیط ہے۔
قرآن مجید فصیح و بلیغ اور لفظ ومعنی کی تمام تر جامعیت کے ساتھ واضح عربی زبان میں نازل ہوا۔

فرمان باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔ تمہارے دل پر، تا کہ تم ڈرانے والوں سے ہو جاو۔ واضح عربی زبان میں ۔ (الشعراء:193-195)
صاحب قرآن جناب رسول اللہ ﷺ کو بھی جوامع الکلم عطا کیے گئے اور خطبہ حجتہ الوداع اس کی بہترین مثال ہے۔ سیدنا ابو ہر بر ایشان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجھے جوامع الکلم (مختصر، فصیح و بلیغ اور کثیر المعنی کلام ) دے کر بھیجا گیا ہے۔ (صحیح البخاری:2977)

یہ بھی پڑھیں:  گناہوں کو چھوٹا، کم تر مت جانیے

یوم عرفہ، فضائل اور اعمال:
ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔ عرفہ نام کی وجہ تسمیہ میں اختلاف ہے۔ ایک قول کے مطابق جب سیدنا آدم اور سید حواءعلیہما السلام کو زمین پر بھیجا تو وہ دونوں جبل عرفات پر ایک دوسرے سے ملے۔
دوسرے قول کے مطابق جب سیدنا ابر اہیم ؑ کو حج کے مناسک دکھائے گئے تو وہ کہنے لگے: عرفت ، عرفت، جس کا معنی ہے میں پہچان گیا، میں پہچان گیا۔ اسی سے عرفہ نام پڑ گیا۔
عرفہ کا دن بہت فضیلت اور عظمت والا ہے۔ عرفہ، ذوالحج حرمت والے مہینے کے پہلے عشرے کا ایک مبارک دن ہے، اور وقوف عرفہ کا عظیم رکن ہے۔
یوم عرفہ، نزول باری تعالیٰ اور مغفرت کا اعلان:
جب حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنا اور ان پر فخر کرتا ہے۔ کیونکہ پوری دنیا سے حجاج کرام ایک ہی لباس میں اور ایک ہی مقصد کے تحت یک زبان ہو کر تلبیہ پکارتے ہیں۔ جس طرح کہ روز قیامت تمام لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں ، پھر آسمان والوں کے سامنے زمین والوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میرے ان بندوں کو دیکھو، میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوئے، دور دراز کے رستوں سے آئے ہیں، اے فرشتو! تم گواہ رہو کہ میں نے انھیں معاف کردیا ہے۔ [صحیح ] صحیح ابن خزیمة: 1338/2، ح:2839)
اسی دن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نعمت اسلام کو مکمل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ترجمہ:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ (المائدة:3)
یوم عرفہ کی قرآن نے قسم اٹھائی:
ترجمہ:یہی دن ہے کہ جس کی قرآن مجید میں قسم کھائی گئی ہے۔
ترجمہ:یوم مشہود سے مرادعرفہ کا دن اور (شاہد) سے مراد جمعہ کا دن ہے۔ ([ حسن ] سنن الترمذی :3339 3)

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں مشورہ کی اہمیت

مسلمانوں کی عید کے دن:
یہ دن مسلمانوں کی عید اور اجتماعی خوشی کا دن ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یوم عرفہ، یوم التحر (ذوالحجہ کی 9 اور 10 تاریخ اور ایام تشریق (13-12-11) ہم اہل اسلام کی عید ہے۔( [صحیح] سنن ابوداود:2419)
عرفہ کا روزہ ، دو سال کے گناہوں کا کفارہ:
عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے دو سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ سیدنا ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ سول اللہ ﷺنے فرمایا:عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اوراگلے سال کے گناہوں کا بھی۔ (صحیح مسلم:1162 5)
عرفہ کے دن دعا کرنا بہترین عمل ہے:
سیدنا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی ہے اور میں نے اب تک جو کچھ (بطور ذکر )کیا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے انبیاءکرام علیہ السلام نے کہا ہے، ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے: للہ واحد کے سوا کوئی معبود بات نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ( کل کائنات) کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ([ حسن ] سنن الترمذی: 3585)
عالم ارواح میں مقام عرفہ پر عہد الست لیا:
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد سے عہد الست کا وعدہ مقام عرفہ پر لیا۔([حسن] مسند احمد: 2455 )
وقوفہ عرفہ کو رسول اللہ ﷺ نے حج قرار دیتے ہوئے فرمایا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے۔ ([صحیح] سنن الترمذی :889)
یوم عرفہ جہنم سے آزادی کا دن:
سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں اللہ تعالی بندوں کو آگ سے اتنا آزاد کرتا ہو جتنا عرفہ کے دن آزاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور فرشتوں پر بندوں کا حال دیکھ کر فخرکرتا اور فرماتا ہے:یہ کس ارادہ سے جمع ہوئے ہیں؟“ (مسلم: 1348)

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں مساجد کی صفائی کی اہمیت

عرفہ کی فضیلت کیسے حاصل کریں؟:
شریعت اسلامیہ نے ایسے اعمال کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے کہ جن پرعمل پیرا ہو کر عرفہ کے دن اور ماہ ذوالحجہ کی فضائل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا جوشخص اس سال سفر حج کی سعادت حاصل نہیں کر سکا اور عرفہ کا قیام نہیں کر پایا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر قائم ہو جائے۔
جوعرفہ میں رات نہیں گزار سکا، وہ دنیا میں جہاں بھی ہو، رات کو تہجد اور قیام الیل کا اہتمام کر لے۔
جوحج کے موقع پر ھدی نہیں کر سکا، وہ ماضی کی قربانی پر عمل پیرا ہو جائے اور اللہ سے مزید توفیق طلب کرے کہ وہ بیت اللہ میں جا کر ھدی کرنے کی طاقت بھی عنایت فرمائے گا۔
جو بیت اللہ نہیں جا سکا وہ اللہ کے گھر مسجد میں جا کر دعا کرے اور توفیق مانگے کہ اللہ اسے بیت اللہ کی زیارت نصیب کرے۔
ذکر شکر ، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، مساکین کی حاجات کو پورا کرنا اور کثرت سے دعا کرنا، یہ عرفہ کے دن کے محبوب اعمال ہیں۔ نیک اعمال اور عمل کرنے والے کے فضائل کبھی ختم نہیں ہوئے۔