lahore-1884

1883-84میں لاہور کے پیشے ،صنعتیں ، تجارت اور مواصلات(۱)

EjazNews

جٹ، آرائیں،لبانے اورمہتم گنتی قوم ہیں اور وہ کھیتوں میں خود کام کرتے ہیں۔ اسی طرح راجپوت، ڈوگر اور کھرل بھی مجبوری کی حالت میں اپنا کام کر لیتے ہیں البتہ آخرالذکرقوموں کے متمول افرادخودبھی ہل نہیں چلاتے۔ جب بھی میں نے دیہات کا دورہ کیا ہے، مجھے جٹوں اور راجپوتوں کے دیہات میں ایک واضح فرق نظر آیا۔ مانا کہ دونوں قوموں کے دیہات گندے ہوتے ہیں لیکن راجپوتوں کے مقابلے میں جٹوں کے مکان سلیقے سے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ وہاں مویشیوں کے لیے چارے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور ان کے کھیتوں میں ہریالی نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد ریاستیں، کشمیر (۲)

شہروں اور قصبوں کی وہ عورتیں جو گھریلو کام نہیں کرتیں روئی کا تنے۔ غلہ پیسنے اور اناج سکھانے کا کام کرتی ہیں۔ اس کے باعکس دیہات کی عورتیں گھریلو کام کاج کرتی ہیں البتہ آرائیوں اور جٹوں کی عورتیں کھیتوں سے صرف کپاس کی چنائی جیساہلکا پھلکا کام کرتی ہیں ۔ جولاہوں کی بیویوں کی طرح دھوبیوں، کمہاروں اور تیلیوں کی عورتیں بھی کام میں شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔
شہروں میں رہنے والے اروڑوں اور کھتریوں کے بچے، جن کی عمر 7 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہے کپڑے کے تاجروں ساہوکاروں، حکیموں اورحلوائیوں کے ہاں شاگرد کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انہیں ایک سے پانچ روپیہ ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ مسلمان تاجروں میں بھی شاگرد پیشی کے ملازم رکھے جاتے ہیں۔ نچلے اور محنت کش طبقوں کے بچے عام طور پر اپنے باپ کا پیشہ اپناتے ہیں جبکہ ان کی بچیاں گھریلو کام میں ماؤں کی معاونت کرتی ہیں۔ دیہات میں لڑکے جنہیں لکھایا پڑھایانہیں جاتا، جیسے ہی جسمانی لحاظ سے محنت مشقت کے قابل ہوتے ہیں، اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا شروع کردیتے ہیں۔ چھ ، سات سال کی عمر کے یہ بچے کنووں میں بیل جوتنا ،کھیتوں میں پانی لگانا اور مویشی چرانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس عمر کی لڑکیاں ایندھن کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرتی اور اُپلے تھا پتی نظر آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  برصغیر کی آزاد ریاستیں اور تمدنی انقلاب

اہم صنعتیں:
لاہور سکول آف آرٹ کے پرنسپل مسٹرلاک وڈ کپلنگنے ضلع لاہور میں قائم خصوصی صنعتوں کے بارے میں درج ذیل نوٹ فراہم کیا ہے:
معدوم صنعتیں:
لاہور میں صنعتی فنون کی موجودہ صورت حال سے آگہی رکھنے والے لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ یورپ میں ہندوستانی آرٹ کے نمونوں کی فہرست میں شامل بعض نادر اور بیمثال اشیاء کو لا ہور شہر سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان میں شیشہ ،مینا کاری کے نمونے اور بینظیر ہتھیارشامل ہیں ۔ بعض صورتوں میں لاہور کا تذکرہ پنجاب کے وسیع تناظر میں کر دیا گیا ہے لیکن اکثر معاملوں میں اس کے بے مثل فنی نمونوں اور اشیاء کا نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ 80 سال بیت گئے ، لاہور شہر میں کوئی نادر چیز تیار نہیں ہوئی۔ لاہور میں نقش و نگار سے مزین جو ہتھیار بنائے جاتے ہیں، اب ان کے چند ایک نمونے صرف دو یا تین بوڑھوں کے پاس موجود ہیں۔ جن مقامات پر شاہی دربار موجود ہوتا ، وہاں سونے سے زردوزی کی صنعت فطری طور پر فروغ پذیر ہوتی ۔ لاہور کے کندلاکش (چاندی کے ڈلے) اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ سونے کے تاروں سے نقش و نگار بنانے والے صرف دو تین کاریگر باقی رہ گئے ہیں۔ اب یہ بات بھی مشکوک ہوگئی ہے کہ سر جارج برڈنے شوخ رنگوں والے شیشے کی جن چیزوں کا تذکرہ کیا ہے وہ واقعی لاہور میں تیار ہوتی تھیں یاکہیں اور؟۔

یہ بھی پڑھیں:  نظام آف حیدرآباد میرآف عثمان علی کی حیدر آباد کو ہندو تسلط بچانے کی کوششیں

موجودہ صنعتیں: شیشہ
لاہور میں شیشے کی چوڑیاں دو یا تین کاریگر بناتے ہیں لیکن ان کے رنگ شوخ نہیں ہیں ۔ شیشے سے بننے والی سب سے اہم لالٹین کی چمنیاں ہیں جو ریلوے اور گھریلو استعمال کے لیے بڑی مقدار میں تیار کی جاتی ہیں تاہم اسے مستقل صنعت کا درج نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس میں بورک کے سوا کوئی اور خام مال استعمال نہیں ہوتا۔ شیشے کےٹکڑوں کو پگھلا کر چینی تیار کر دی جاتی ہے۔ نادرفنون کا کاروبار اب عام لوگوں کے بجائے تاجر پیش لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ فن عام آدمی کی خوشحالی کا ذریعہ نہیں بلکہ صرف محدود طبقے کی عیاشی کا آلہ کاربن کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دہلی کو آباد کرنے والے لوگ کیسے تھے؟

ویجی ٹیبل آئل، ایسڈز، صابن اور موم بتیاں:
اس وقت لاہور میں بھاپ سے چلنے والی مشینری سے ویجیٹیبل آئل بنانے لیبارٹریوں میں سلفیورک اور نائیٹرک ایسڈ ، صابن اور موم بتیاں تیار کرنے اور اعلیٰ قسم کے پرنٹنگ پریسوں میں کام ہورہا ہے۔ یہ کاروبار مقامی باشندوں کے ہاتھ میں ہیں اور پھل پھول رہے ہیں۔ چمڑے کی صنعت خاص طور پر فروغ پارہی ہے اور ہر سال چمڑے کی زینیں اور جوتے بڑی تعدادمیں تیار ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ پر حکومت کرنے والے آخری ہندو راجہ

کپاس:
کھدر جو پورے پنجاب میں سارا سال استعمال ہوتا ہے اور جسم کو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا رکھتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کھیس بھی بڑی تعداد میں بنے جاتے ہیں۔ اس کے باوجودصوبے کے مغربی ضلعوں میں کھدراور کھیسوں کی پیداوار زیادہ ہے اور بعض اوقات کپڑا ان علاقوں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ململ کی کھپت بہت زیادہ ہے لیکن لاہور میں اس کی پیداوار نہایت قلیل ہے۔یورپی سوتی کپڑے کی بڑی مانگ ہے۔ شادی کی تقریبات کے لیے سوتی کپڑا مختلف رنگوں میں پرنٹ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور گزیٹئر1883-84:لاہور کیساتھا؟(۲)

اون:
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لاہور میں تیار ہونے والا پشمینہ امرتسر کے مقابلے میں بہت معیاری ہے۔ اس دعوے میں کوئی صداقت ہے یا نہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں پشمینے کی تجارت کو بہت فروغ ملا ہے۔ لاہور میں چادر ،دھسا اورپٹکے کے علاوہ کئی چیزیں تیار ہورہی ہیں ۔ کھڈی پرکشیدہ کاری کا بہترین کام کشمیری کرتے ہیں جن کی لاہور میں بہتات ہے۔ ان کے علاوہ اون کی لوئیاں بھی بڑی تعداد میں بنائی جاتی ہیں ۔ کپڑے اور اون سے تیار ہونے والی یہ لوئیاں ابھی تک یورپی باشندوں کی توجہ کا مرکز نہیں بنیں اور صرف چند یور پی باشندے لا ہور شہر اور اس کے نواحی علاقوں مزنگ وغیرہ میں انہیں تلاش کر پائے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ دکانوں کے باہر ان کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ ہر میلے میں بھی ان کے ایک دو سٹال لگائے جاتے ہیں ۔ اگر چہ انگلستان سے بھاری مقدار میں گرم کپڑ ادرآمد ہورہا ہے، اس کے باوجود لاہور میں ہاتھ سے بنے گرم کپڑے کی مانگ کم نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور کی نباتات: گزیٹئر 1883-84لاہور کیسا تھا؟ (۳)

ریشم
ریشم کے کپڑے کی صنعت فروغ پذیر ہے۔ یہاں تیار ہونے والا ریشمی کپڑا بارہ آنے فی گز دستیاب ہے۔ گلبدین نامی کپڑا اس سے پہلے بہت مضبوط ہوتا تھا اور اس کا عرض بھی زیادہ ہوتا تھا۔ دھوپ چھاؤں کا رنگ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ سرخ اور سبز رنگ سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ ریشمی کپڑا عام طور پر خواتین کے زیر استعمال آتا ہے البتہ یورپی باشندے ریشمی کپڑے کو پسند نہیں کرتے ۔ ریشم اور سوت کو ملا کر تیار کیے جانے والے کپڑوں کی پیداوار بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خلجی خاندان کا خاتمہ

لکڑی کا فرنیچر:
گزشتہ عشرے میں لکڑی کی مصنوعات اور فرنیچر تیارکرنے کی صنعت نے نمایاں ترقی کی ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے ورکشاپس نے اہم کردار ادا کیا ہے جہاں لوگوں کی بڑی تعداد کو یورپی ماہرین کی نگرانی میں تربیت دی گئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقامی باشندے مشینیں چلانے میں مہارت حاصل کرنے سے گریزاں ہیں اور کام میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ اس سے ان لوگوں کو حیرت ہوتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مقامی کارکنوں کو ہنر سیکھنے میں گہری دلچسپی ہے۔ ریلوے ورکشاپس کے بعض ملازمین کی بھی یورپی ورکشاپ میں کام کرنے کے اہل ہیں لیکن ان اداروں میں کامیابی حاصل کرنے والے کارکنوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ ان کے بارے میں لاپروائی اور سستی کی شکایت عام پائی جاتی ہے۔ اب یہ شک کیا جارہا ہے کہ پنجابی دنیا کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں محنت سے جی چراتے ہیں لیکن یہ بات کسی بھی شک وشبہے سے بالاتر ہے کہ پنجاب کی صنعتوں میں ہم آہنگی اور ترتیب کا فقدان ہے۔ نجی طور پر کام کرنے والے کاریگر بہت محنتی ہیں لیکن وہ اپنی مرضی کے اوقات میں کام کرتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں وہ رات کو دن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہاں کی سماجی روایات بھی ایسی ہیں کہ جوشخص جب چاہے ایک دو دن کے لیے چھٹی کر لیتا ہے۔ چنانچہ یہاں کے کارکن باقاعدگی کے ساتھ فیکٹری جانے سے گریز کرتے ہیں ۔ غفلت اور صفائی سے لاپروائی مقامی لوگوں کی عادت ثانیہ بن گئی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پنجاب کی صنعت اور زراعت پیش نسلوں کا دکن سے موازنہ کیا جائے تو واضح ہوگا کہ لوگ ان کے مقابلے میں گندے اورکم ہنر مند ہیں ۔ ان کے آلات بھی فرسودہ اور مکان کوڑے کرکٹ سے اٹے پڑے ہوتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکارنہیں کیا جاسکتا کہ بعض اوقات وہ اس قدر طاقت اور جفاکشی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو جنوب میں نظر نہیں آتی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اچھا فرنیچر یورپی باشندوں کے پاس ہے لیکن مسلسل نقل مکانی کے باعث یہ فرنیچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ مقامی کاریگر فرنیچر یورپی باشندوں کے زیرنگرانی تیار کرتے ہیں لیکن ان کا ڈیزائن عموماً مقامی نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ کاریگر با قاعدگی کے ساتھ مسلسل فرنیچر فراہم نہیں کر سکتے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے دوسرے کاریگروں کی طرح لاہور کے بڑھی کے ہاتھوں میں ہنر تو موجود ہے لیکن ان کے دماغ تجارتی تقاضوں اور ضروریات کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ کاروبار کبریاؤں کے ہاتھ میں ہے اور ان کی دکانیں ٹونہم کورٹ روڈ کے فرنیچر ڈیلروں میر بین سٹور،ڈیلر یا پرانی کتابوں کے سٹال کا منظر پیش کرتی ہیں بعض تاجروں نے ایسے افراد ملازم رکھے ہوئے ہیں جنہیں انگلستان میں ’’شاپ ہینڈ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ دیوار کی گیلیوں کے ٹکڑوں کو جمع کر کےسستی الماریاں اور فرنیچر کی دوسری چیز یں بنا کر دانش کے ذریعے ان کے عیب چھپادیتے ہیں۔
یہ کاروبار خاصا منافع بخش ہے لیکن اس کام میں زیادہ محنت اور ذہانت بروئے کار نہیں لائی جاتی۔ جب تک ڈیلر خود کاریگر رہے گا، اس وقت تک اس کاروبار میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ مئیوسکول آف آرٹ فرنیچر اور بعض دوسرے فنون مثلاً کاٹن ،پرنٹ اورمیٹل ورک میں بہتری کے لیے کافی جدوجہد کر رہا ہے۔ اس سکول میں بہترین ڈیزائن کی چیز یں تیار کی جاتی ہیں اور کاریگروں کوفنی مشورے دئیے جاتے ہیں تا کہ وہ اپنی مصنوعات پیر س،میلبورن ،لاہور اور کلکتے کی نمائشوں میں پیش کرسکیں۔ اس ادارے کا مقصد پنجاب کے فنون کی حوصلہ افزائی اور انہیں بیرونی دنیا میں متعارف کرانا ہے۔ بعض شعبوں میں ادارے کی کوششیں بار آور ثابت ہوئی ہیں اور کئی مصنوعات کی بیرون ملک مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہزارہ کا تاریخی پس منظر

سٹیل ورک (تانبااور پیتل):
لاہور شہر میں تانبے کا بازار بے حد مصروف اور پر شور ہے۔ یہاں بکنے والے زیادہ تربرتن باہر سے منگوائے جاتے ہیں۔ پاندان لکھنؤ سے دیگچیاں دہلی سے اور پیتل کے برتن پنجاب کے دوسرے علاقوں سے درآمد کیے جاتے ہیں اور سرمے دانیاں اور چھوٹی موٹی چیزیں لاہور ہی میں تیار ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سلطنت مغلیہ اکبر کے بعد

چاندی:
لاہور میں چاندی کے زیورات تیار کرنے والے صرف دو تین کاریگر ہیں تاہم چاندی کے زیورات فروخت کرنے والے صرافیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بالائی طبقے کے لوگ لا ہور میں موجود دہلی کی جیولری کی ایک فرم کی برانچ سے زیورات خریدتے ہیں۔ عام زیورات بناوٹ کے اعتبار سے عمدہ اور نفیس نہیں ہیں۔ چوڑیوں کی پرانی قسموں کا رواج نہیں رہاالبتہ عطریات کے لیے بوتلیں اور دوسری چھوٹی چھوٹی نقرئی اشیا بہت معیاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور گزیٹئر1883-84:لاہور کیساتھا؟(۲)

مہر کند:
لاہور میں مہر کند بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں بہت صفائی ہے ۔یہ لوگ شیشے پرکشیدہ کاری نہیں کرتے حالانکہ ان کے اوزار اس کام کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ یہ لوگ قناعت پسند ہیں اور اپنے فن کو وسعت دینے پر دھیان نہیں دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:  دہلی کو آباد کرنے والے لوگ کیسے تھے؟

ظروف سازی:
اس وقت لاہور میں برتن تیار کرنے کی کوئی قابل ذکر صنعت موجود نہیں البتہ پنجاب پر کابل کی حکومت کے زمانے میں یہاں چمکدار اورر نگین برتن تیار ہوتے تھے۔ اب اس صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس وقت مٹی کی بنی ہوئی چمکداری چلیں اور پیالے فروخت ہوتے ہیں ۔ سستے انگریزی برتنوں کی بڑی مانگ ہے۔ امرتسر اور پشاور کے راستے سے منگوائے جانے والے چائے کے چینی کپ بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ برتن سازی کا فن اب بندریج ترقی کرنے لگا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بہترین ظروف ساز ذات کے کمہار نہیں بلکہ کشمیری یاا علیٰ ذات کے ہندو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد ریاستیں، کشمیر (۲)

اینٹوں کی تیاری:
لاہور میں شروع سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے قرب و جوار میں کئی کئی میل تک ایک بھی پتھر نظر نہیں آتا۔ پرانے طرز کی دیگی اینٹیں انگریزی اینٹوں کے مقابلے میں چوڑی اور مضبوط ہیں۔ انہیں آگ پر اچھی طرح پکایا جاتا ہے جس سے زمین کی نمی اور شور ہ اس پر اثر انداز نہیں ہوتا جو عام طور پر عمارتوں کے لیے حد درجہ مضرت رساں ہوتا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے انگر یز ی ساخت کی اینٹیں بھی تیار ہونے لگی ہیں جس کے فنی محاسن قابل تعریف ہیں۔ ریلوےسٹیشن کی عمارت ان اینٹوں کا شاہکار نمونہ ہے۔ حال ہی میں جونئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، وہ بھی ہر اعتبار سے مضبوط اور جاذب نظر ہیں ۔ میونسپلٹی اور پرائیویٹ فر میں بڑی تعداد میں اینٹیں تیار کررہی ہیں۔ اب لاہور میں بھی انگلستان کی طرز کی مختلف سائز اورقسموں کی عمدہ اینٹیں بننےلگی ہیں۔ کٹائی کے لیے تیشے جیسے معمولی اوزار استعمال ہوتے ہیں۔ اب چھتوں کے اوپر لیٹرین بنانے کا رواج شروع ہوگیا ہے جس سے گھریلو زندگی پرآسائش ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور کی نباتات: گزیٹئر 1883-84لاہور کیسا تھا؟ (۳)

ٹائلیں:
فرش کے لیے ٹائلیں بڑی تعداد میں تیار ہوتی ہیں لیکن یہ ٹائلیں غیر معیاری ہیں ۔ بالائی ہندوستان میں عمدہ قسم کی بڑ ی ٹائیلوں کی اشد ضرورت ہے لیکن عام میدانی علاقوں کی مٹی میں یہ ٹائلیں تیار کرنے کی استعداد موجود نہیں کیونکہ ان میں نمی کی مزاحمت کا فقدان ہے۔ اب رانی گنج کے علاقے سے جو مٹی حاصل کی جارہی ہے، اس سے کوئلے کی حرارت سے اول درجے کی ٹائلیں بن رہی ہیں۔ یہ ٹا ئلیں سٹیفورڈ شائر میں بننے والی ٹائیلوں کے ہم پلہ ہیں۔