hysteria

ہسٹیریا پر کیسے قابو پایا جائے ؟

EjazNews

اخناق الرحم یا ہسٹیریا(Hysteria) شدید بے چینی اور اضطراب سے جنم لینے والی ایک ذہنی اور اعصابی بیماری ہے۔ جس کے شکار افراد کا اپنے افعال اور جذبات پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا ہے۔ ہسٹیریا کا مریض یا مریضہ اچانک تڑپنے لگتا ہے اور اس پر ہیجانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اس بیماری میں اگرچہ مرد بھی مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے، زیادہ تر خواتین ہی اس کا شکار پائی جاتی ہیں۔ یہ بیماری عموماً 14 سال سے 25سال کی عمر کے درمیان حملہ آور ہوتی ہے کیونکہ عمر کا یہ حصہ جذابیت اور فطری حساسیت کا زمانہ ہوتا ہے۔ 14سے 20سال کی عمر میں یہ بیماری زیادہ حملہ آور ہوتی ہے لیکن 25سال کی عمر کے بعد یہ کم ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ 45سال کی عمر کے بعد یہ تقریبا ختم ہی ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس مریض ہی نہیں کیرئیر بھی پھیلائو کا سبب بن سکتے ہیں

ممتاز ماہر نفسیات اوسلر (Osler) نے ہسٹیریا کی یہ تعریف متعین کی ہے۔ یہ زیادہ تر عورتوں کا ایک عارضہ ہے جس کے دوان مریضہ کی جذباتی کیفیات ہی اس کی جسمانی حرکتوں کا کنٹرول سنبھالے رکھتی ہیں۔ اس سے کئی ذہنی اور جذباتی انحرافات رونما ہوتے ہیں اور بعض رطوبتوں کا فعل بھی متاثر ہوتا ہے۔
زمانہ قدیم سے ہی انسان اس بیماری سے اچھی طرح باخبر تھا۔ لفظ منیر یا یونانی لفظ (Hystron)سے ماخوذ ہے جس کے معنی ”ر حم“ کے ہیں۔ تاریخ کے مطابق اس کی تشخیص پہلی مرتبہ مصر میں کا نوس پیپرس (Kanus papyrus) نے کی تھی۔ یہ زمانہ 1900 قبل مسیح کا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ”خواتین میں رحم کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا کئی بیماریوں کا سبب بن جاتا ہے لہٰذارحم کو اپنی اصلی جگہ پر لانے کا کوئی طریقہ ہو نا چاہئے۔ از منہ وسطی میں اس بیماری کو جنوں، بھوتوں کی کارستانی، نظر بد، سایہ اور جادو ٹونے کا اثر سمجھا جاتا تھا۔ جاہل اور ان پڑھ لوگ ہسٹیریا کو بیماری سمجھنے کے بجائے اسے بھوت پریت کا اثر سمجھتے ہیں اور اس سے محفوظ رہنے کے لئے سادھوں، پیروں، مجاوروں، عاملوں اور نام نہاد روحانی طبیبوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ان کی نفسیاتی کمزوریوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ آج کل بھی دیہی علاقوں میں یہ کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔ لوٹنے والے لوٹ رہے ہیں لٹنے والے لٹ رہے ہیں۔ ان بیمار خواتین کے سرپرست والد، بھائی اور شوہر جیبوں میں بھاری نذرانے لئے ہوئے ان جعلی روحانی شخصیتوں کے پاس مریضہ کو کمرے کے اندر بھیج کر اطمینان سے باہر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ سفاک شخص ”جن“ نکالنے کے لئے مریضہ پر تشدد کر تا ہے تو یہ اسے علاج کا حصہ تصور کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان، ہندوستان، سری لنکا، نیپال اور افریقہ کے پسماندہ علاقوں میں علاج کے نام پر یہ مکروہ د ہندہ آج بھی زور و شور سے ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نفسی ، جسمانی عوارض

ہسٹیریا کی علامات :
ہسٹیریا کی علامات بہت متنوع ہوتی ہیں لیکن تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اس کا دورہ بعض اوقات اچانک پڑتا ہے لیکن بعض اوقات دورے کی علامات آہستہ آہستہ سامنے آتی ہیں اور کئی گھنٹوں کے بعد رونما ہوتی ہیں۔ کسی ایک واقعہ کے یاد آجانے یا کسی کی ناگوار بات سن لینے یاناخو شگوار واقعہ دل پر لینے سے بھی مریضہ کو اشتعال آسکتا ہے۔ اس کی عام علامات میں غیر معقول خوشی یا غمی کا اظہار ، بلاوجہ رونے لگنا، بے تحاشا اور بے جاہنسی، اعضاءمیں اینٹھن، گہر ی گہری سانسیں لینا، پیٹ میں ہلکے ہلکے مروڑ اٹھنااور اپناگلا دبتا ہوا محسوس ہونا شامل ہیں۔
ہسٹیر یائی علامات کے دو درجے ہوتے ہیں۔ پہلا در جہ یہ ہوتا ہے کہ مریضہ کو اپنے اعضاءمیں بھاری پن محسوس ہو تا ہے جس کے نتیجے میں اس کے جسم میں شدید اینٹھن پیدا ہونے لگتی ہے، پھیپھڑوںپر شدید دباو¿ محسوس ہو تا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، نبض تیز ہو جاتی ہے، گلے میں کوئی چیز پھنس جانے کا احساس ہوتا ہے، گردن اور جبڑے کی رگیں پھول جاتی ہیں، سر میں درد ہو تا ہے اور دانت بھی بھنچ جاتے ہیں۔ ہسٹیریا کے دورے کے دوران مریضہ پورے ہوش میں ہوتی ہے۔ جسم میں مروڑ عموماً ہلکے سے ہوتے ہیں اور یہ خاص طور پر اس وقت وقوع پذیر ہوتے ہیں جب مریضہ جھکی ہوئی ہو یا اپنے اعضاءپھیلائے ہوئے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  ذہنی تناؤ کو خود سے دور رکھیں

دوسرے درجے کی علامات جنہیں زائد علامات بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان میں مریضہ کی دردناک چیخیں، نیم بے ہوشی طاری ہو جانا، گردن سوج جانا، نبض کی رفتار بے حد تیز ہو جانا،ا عضلات کا کھنچ جاتا، اس کے چہرے سے وحشت ٹپکنا، منہ سے بہت زیادہ تھوک یا جھاگ نکلنا اور بستر پر چھلانگیں لگانا شامل ہیں۔ واضح رہے کہ منہ سے جھاگ آنا اور بستر پر کھیل کود کر ناہسٹیریا کے مرد مریضوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ یہ حملہ کئی گھنٹے تک بھی جاری رہ سکتا ہے جس کے بعد مریضہ اچانک ہوش کی حالت میں واپس آجاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اسے کچھ ہواہی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت مندی کیلئے چندمشورے

ہسٹیریا کی نفسیاتی کیفیات میں مریضہ کی کمزور قوت ارادی، دوسروں سے محبت اور ہمدردی کی بڑھتی ہوئی طلب اور جذبات میں عدم استحکام شامل ہیں۔ مریضائیں اپنے رد عمل کے اظہار میں بہت جلد باز ہوتی ہیں۔ ایک لمحے کے لئے محبت کا اظہار کرتی ہیں اور اگلے لمحے شدید نفرت اور حقارت کا مظاہرہ کرنے لگتی ہیں، ماحول کافور اً اثر قبول کر لیتی ہیں ان کے پاگل ہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے اور لوگ ان کی حرکات و سکنات کو سمجھنے کی کوشش ہی ترک کر دیتے ہیں۔ ان مریضاوں کی یاد داشت بے حد کمزور ہوتی ہے۔ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ چند لمحات پہلے وہ کیا حرکات کررہی تھیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کی شخصیت دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک حصہ کچھ حرکت کر تا ہے اور دوسرا کچھ اور جن بھوت نکالنے والے جعلی معالج ایسی مریضہ کی اس کیفیت کو جن کی آمد سے تعبیر کر کے مریضہ کے جاہل رشتہ داروں کو مزید بے وقوف بناتے ہیں اور ان کا مقصد پیسہ سمیٹنا ہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوانوں کی ذہنی صحت پورے معاشرے کیلئے اہم ہوتی ہے

یہ ہسٹیریائی کیفیات کئی دنوں یا ہفتوں تک بھی جاری رہ سکتی ہیں۔ مریضہ گہری نیند میں دکھائی دینے لگتی ہے لیکن اس کے دوران اس کے عضلات عموماً بے سکونی کی حالت میں رہتے ہیں۔ مرض کی شدت بڑھ جائے تو حالت یہاں تک بن جاتی ہے کہ دل کی دھڑکن اور سانس کی آمدروفت کا بھی بہ مشکل احساس ہوتا ہے جس سے مریضہ مردہ حالت میں نظر آنے لگتی ہے۔ کئی ایسے واقعات بھی ہو چکے ہیں کہ لواحقین نے ہسٹیریائی کیفیت میں مبتلا مریضہ کو مردہ سمجھ کر دفنابھی دیا۔
نیند کے دوران چلنا بھی ایک ہسٹیریائی کیفیت ہے۔ اس میں مریضہ (یا مریض )کے اعضاءاپنے آپ حرکت کرتے ہیں جبکہ دماغ کو پتہ تک نہیں ہوتا کہ اعضاءکیا کر رہے ہیں۔
ہسٹیریا کے اسباب اور چند مشورے:
ہسٹیریا ایک مرض ہے اور اس کے لاحق ہونے کے عام اسباب مندرجہ ذیل ہیں۔
حد سے تجاوز کردہ جنسی جذبہ
جنسی جذبے کو دبانے کی کوشش
گمراہ کن خیالات
سستی و کاہلی اور کام چوری
علاوہ ازیں گھر کی تربیت کا بھی اس بیماری میں بڑادخل ہوتا ہے۔ جن خاندانوں میں بچوں کی جسمانی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے وہاں ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے ہیں۔ جسم کے لئے مناسب آرام کے لمحات، تازہ ہوا، کھانے اور نیند کے باقاعدہ اوقات اور تفر یح کے لئے اچھے ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذہنی صحت کے لئے مریض یا مریضہ کو خود پر قابو پانے کی تربیت دینا اور مثبت انداز فکر اپنانے کی تلقین کرنا ضروری ہے۔ اس کے ذہن کو اپنی ذات سے ہٹ کر بھی سوچنے کی دعوت دی جانی چاہئے۔ شادی شدہ مریضہ کے شوہر کو بھی اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی ذمہ داری سے آگاہ کیا جانا چاہئے کیونکہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ شوہر ایسے حالات میں بہت جلد بیزار ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈپریشن محض ایک احساس نہیں۔۔۔۔بیماری ہے

ہسٹیریا کی بہت سی مریضا ئیں تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری کا شکار بھی ہو چکی ہوتی ہیں اس لئے انہیں دودھ بہت فائدہ پہنچاتا ہے۔ دودھ جسم کو مضبوط بناتا ہے اور اعصاب کو تقویت بخشتا ہے۔ مریضہ کی غذا میں پھولوں کو بھی شامل رکھنا چاہئے۔ مریض یا مریضہ کو چائے ،کافی، تمباکو، سفید چینی اور سفید آٹے سے بنی ہوئی اشیاءسے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  سر اور گردن کے کینسر کی چند عمومی علامات

شہد بھی ہسٹر یا کے لئے کافی موثر دوا ہے۔ خواتین میں ہسٹیریا کے دو اہم اسباب ایام کی بے قاعدگی اور دماغی عدم توازن ہیں۔ شہد ان دونوں کے لئے بہت مفید ہے۔ شہد دور ان ایام خون کے بہاو¿ کو متوازن بناتا ہے، رحم کی صفائی کرتا ہے، دماغ اور رحم کے عضلات کو تقویت دیتا ہے اور جسم کے درجہ حرارت کو نارمل بناتا ہے۔ مریضہ کو شہد کے استعمال کو اپنی عام عادت بنالینا چاہئے اور جب ہسٹیریا کا دورہ پڑے تو اس کی مقدار بڑھا لینی چاہئے۔ ورزش اور آوٹ ڈور گیمز میں حصہ لینا، ہسٹیریا پر قابو پانے اور اس سے بچنے کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سے طبیعت بہل جاتی ہے۔ توجہ اپنی ذات سے ہٹ کرمثبت سرگرمیوں کی طرف مبذول ہوتی ہے اور انسان ہشاش بشاش رہتا ہے۔ یوگا کے بھی کئی آسن ہسٹیریا پر قابو پانے کے لئے مفید سمجھے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بدلتے موسم میں صحت مند رہنے کیلئے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے

ایسی خواتین جو ہسٹیریا کی شکار ہیں اور ورزشیں اور یوگا کے آسان نہیں کر سکتی ہوں وہ ہفتے میں تین چار دفعہ جسم کی مالش کر لیا کریں۔ علاوہ ازیں سردیوں میں دھوپ سینکنا اور گر میوں و سردیوں میں قابل برداشت ٹھنڈے پانی سے نہانا بھی اعصابی قوت کی بحالی کے لئے بے حد فائدہ مند ہوتا ہے۔ مریضہ کی نیند اور آرام کے اوقات بھی باقاعدہ ہونے چاہئیں کیونکہ آرام اور نیند کی بے قاعدگی مریضوں کو مزید مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ اگر آپ کے سامنے ہسٹیریا کی کسی مریضہ پر دورہ پڑ جائے تو اسے فوری طور پر کسی ہموار جگہ پر چت لیٹا دیجئے اور اس دوران مریضہ کے چہرے پر ہلکی ہلکی چپت لگاتے رہے تا کہ وہ ہوش میں آنے کی خود بھی کوشش کرتی رہے۔ اس کے پاوں اور کلائیوں پر رائی کا لیپ کیجئے۔ معمولی نوعیت کا ہسٹیریا کا دورہ اس عمل سے گزر جاتاہے، اس کے لئے مزید علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ دورہ غیر معمولی ہو تو مریضہ کے سر پر اور ریڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈا پانی ڈالئے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ٹھنڈا پانی ان دونوں جگہوں پر ڈالنا یا چھڑکنا شروع کر دینے اور چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار ے۔ مریضہ کو تازہ ہوالگنے دیجئے تاکہ اسے سانس لینے میں آسانی ہو اور جسم کو بھی تازہ ہوامل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  ذہنی دباؤ کم کیجئے

دورے کے اختتام پر مریضہ کو آرام اور سکون پہنچانے کا اہتمام کیے۔ اس کے لئے خاموش ماحول سب سے بہترین ہے۔ ممکن ہو تو کمرے میں کچھ کچھ اندھیرا رکھئے کیونکہ زیادہ روشن اعصاب کو اشتعال دلاتی ہے۔ مریضہ کو اچھی نیند کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ نیند کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کر تی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت