umro_Ayyar

عمروکا دوا کے حصول کا انوکھا طریقہ

EjazNews

عمرو کا کام ختم ہوگیا تھا۔ وہ نوشدارو لینے چلا گیا۔ وہ ایک کسان کی صورت بنا کر قصائی کی دکان پر گیا۔ دو ایسے سکے کہ جن پر کچھ لکھا تھا۔ کوئی نشان تھا۔ اس کے آگے رکھ دیئے اور کہا۔ ”نوشدارو دے دو۔ اس نے حیران ہو کر کہا۔ کیا چیز مانگ رہے ہو۔ میں نے تو اس کا نام بھی نہیں سنا ہے۔ جائو کسی اور سے معلوم کرو عمرو ایک پنساری کی دکان پر آیا اور اس سے نوشدارو مانگا۔ یہ پنساری نوشدارو کو جانتا تھا اس نے کہا یہ میرے پاس نہیں ہے۔ تمہیں صرف ایک جگہ ملے گا۔ جا کر بادشاہ کی زنجیر ہلا۔ جب بادشاہ پوچھے تو اس سے مانگ وہ تم کو دے گا۔ عمرو وہاں سے گیا اور عدالت کی زنجیر ہلانے لگا۔ جب زنجیر کی آوازبادشاہ نے سنی تو اسے بلوایا۔ وہ آیا تو بادشاہ نے کہا۔ تو کون ہے اور تیرا مجھ سے کیا کام ہے۔ عمرو نے بادشاہ کے سامنے جا کر سلام کیا اور دونوں پیسے نکال کر بادشاہ کے تخت کے کونے میں رکھ دیئے اور کہا کہ میں گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ میرے بیٹے کو سانپ نے کاٹا ہے۔ میں نے بیٹے کو حکیم کو دکھایا تو حکیم نے کہا کہ تین مثقال نوشدارو ہوتو جب ہی اچھا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  پتھر کی مورتوں والا شہر

میں نے گاؤں کے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کہاں سے ملے گی۔ انہوں نے کہا مدائن سے ملے گی۔ میں نے یہاں کی دکانوں سے جا کر پوچھا مگر کسی نے نہیں دی۔ ایک دوکاندار نے کہا کہ بادشاہ کے ہاں سے ملے گی۔ اس لئے یہاں لینے آیا ہوں۔ یہ پیسے لیجئے اور نوشدارو دیجئے۔ وزن میں پوری ہوکم نہ ہو۔ پورا تو لیں۔ بادشاہ اور اس کے درباری عمرو کی باتوں پر بہت ہنسے۔ اس کے پیسے کسی نے نہیں اٹھائے تو وہ کہنے لگا۔ پیسے اٹھاؤ۔ میں غریب ضرور ہوں لیکن قیمت دیئے بغیر کوئی چیز نہیں لیتا۔ مجھے بہت ضرورت ہے نہیں تو یہاں آتا بھی نہیں۔ میرے بیٹے کی زندگی کا سوال ہے۔ نوشدارونہ ملی تو وہ مر جائے گا۔ بادشاہ کو اس دیہاتی کسان پررحم آ گیا۔ انہوں نے بزرجمہر کی طرف دیکھ کر کہا۔ اسے خزانے میں لے جاؤ اور تین مثقال نوشدارودے دو۔ بزرجمہر اسے اپنے ساتھ خزانے میں لے گئے اور صندوق میں سے ایک جڑاؤ ڈبہ نکالا اور تیل کے تین مثقال نوشدارو اسے دے دی اور تین تولے الگ نکال کر رکھی۔ کیونکہ انہوں نے علم نجوم سے معلوم کیا تھا کہ امیر کے زہر پینے کے بعد عمرو ضرور آئے گا۔ صندوق بند کر کے چلے تو عمرو نے پکڑ لیا اور کہا۔ وزیر ہوکر چوری کرتے ہو۔ یہ نوشدارو جو تم نے جیب میں رکھی ہے مجھے دو اگردوا نہ دی تو بادشاہ کو بتا دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  نظام شمسی اور ثناء کے سوالات

یہ سن کر بزرجمہررسوائی کے ڈر سے پریشان ہو گئے اور سوچنے لگے کہ کہیں کسی دوسرے نے سن لیا تو سمجھیں گے کہ میں نے چوری کی ہے۔ انہوں نے فورا نوشدارو عمرو کے حوالے کی اور اسے لے کر باہر آگئے بختک کو امیر کی حالت کا پتا تھا اوراسے یہ بھی پتہ تھا کہ امیر کے لئے نوشدارو کی ضرورت پڑے گی اور بزرجمہراس کے لئے نوشدارو نکال کر رکھے گا۔ اس لئے اس نے بادشاہ سے کہا کہ بزرجمہر نے نوشدارو چھپائی ہے۔ آپ اس کی تلاشی لیں۔ بادشاہ نے بزرجمہرکی تلاشی لی تو ان کے پاس سے نوشدارونہ نکلی۔ بادشاہ نے جھوٹا الزام لگانے پربختک پر جرمانہ کیا اور بزرجمہرسے معذرت کی۔ بزرجمہر نے دل میں خدااوردیہاتی کا شکر ادا کیا۔ اسی وقت بزرجمہرکے دل میں آیا کہ وہ عمروہی تھا جو اس طرح آ کر نوشدارو لے گیا۔ اس نے اطمینان اور سکون محسوس کیا۔ عمرونوشدارو لے کر شہر سے باہر نکلا تو اس نے اپنی اصلی صورت بنائی اور امیر کی طرف چلا۔

کیٹاگری میں : بچے