islam_qurbani

خواہشات کی قربانی

EjazNews

عید الاضحی اور انسانی خواہشات کی قربانی کے حوالے سے یاد رکھنے والی اہم بات یہ ہے کہ ہم جانور کو ذبح کر دیتے ہیں، مگر اپنی خواہشات کے گلے پر چھری پھیرنا گوارا نہیں کرتے۔ عید الاضحی گزر جاتی ہے مگر ہمارے قلوب واذہان قربانی کے حقیقی جذبوں سے خالی ہی رہتے ہیں۔

مسلمان جانوروں کی صورت میں ہر سال قربانی تو کرتے ہیں لیکن اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے قربان کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ بلکہ ہم نے خواہشات کے ایسے بت بنا لیے کہ چھوڑنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ خواہشات کو معبود بنا لینے کا مطلب ہے کہ نسان اپنی خواہش کا بندہ بن کر رہ جائے۔ جو جی چاہے کر گزرے، خواہ حرام اور نافرمانی کا کام ہو۔ اسی بارے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ترجمہ: پھر کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ (الجاثیة:23)

خواہش پرست کی مثال:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:اگر ہم چاہتے اسے ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں۔(الاعراف:76)

کتے کی مثال:
اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی حالت کو کتے سے تشبیہ دی ہے جس کی ہر وقت لٹکی ہوئی زبان اورٹپکتی ہوئی رال ایک نہ بجھنے والی آتش حرص اور کبھی نہ سیر ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ پیٹ کا بندہ توقعات کی دنیا دل میں لیے، زبان لٹکائے، ہانپتا کانپتا کھڑا ہی رہے گا۔ ساری دنیا کو وہ بس پیٹ ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس شہوت شکم کے بعد اگر کوئی بد ترین خواہش شہوت رانی ہے۔ پس تشبیہ کا مدعا یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی جب علم اور ایمان کی رسی تڑا کر بھاگتا ہے اور اس کی اندھی خواہشات کے ہاتھ میں اپنی باگیں دے دیتا ہے تو پھر کتے کی حالت کو پہنچے بغیر نہیں رہتا، ہمہ تن پیٹ اور ہمہ تن شرمگاہ۔

خواہش پرستی گمراہی ہے:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔(القصص:50)
دوسری جگہ فرمایا:
ترجمہ:بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔ (الروم:29)

یہ بھی پڑھیں:  ربیعہ بن نصر حاکم یمن

خواہش پرست سے بچنے کا حکم :
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
ترجمہ: اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ (الکھف:28)

دوسری جگہ فرمایا:
ترجمہ: اور خواہش کی پیروی نہ کر، اور نہ وہ تھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے۔ (ص:26)
خواہشات کو ترک کرنے پر جنت کی بشارت
ارشاد باری تعالیٰ:
ترجمہ:اور ر ہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔(النازعات:40-41)

وقت اور صلاحیت کی قربانی :
وقت اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جس کا ایک بھی لمحہ جو ذکر الٰہی اور فکر دین کے بغیر گذرا وہ روز قیامت حسرت بن جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں جانور کی صورت میں قربانی پیش کرتے ہیں وہاں اپنے وقت اور صلاحیتوں کی بھی قربانی دیں تا کہ خاندان ، معاشرہ اور قوم و ملک بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ پوری کائنات میں دین اسلام کا غلبہ ہو سکے اور ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہو سکیں۔
سیدنا ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فر مایا:
ترجمہ:قیامت کے دن کسی بندے کے پاﺅں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا اور اس کے علم کے متعلق کہ اس پر عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا۔( صحیح ۔سنن الترمذی:2417)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم کی ﷺنے فرمایا:
ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے ہمت اور فراغت ۔(صحیح البخاری: 6412)

قربانی اور جذ بہ ایثار کے واقعات
قربانی کا ایک بڑا فلسفہ مسلمانوں میں حقیقی جذبہ ایثار بیدار کرنا ہے۔ اس احساس کو بیدار کرنا ہے کہ اگر کبھی بھی اللہ تعالی اور اس کے دین کی خاطر مال ودولت ، قوم وملت چھوڑنے کی نوبت آئی تو ہم سب اللہ کی راہ میں قربان کر دیں گے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور سلف صالحین نے دین حنیف اور امت مسلمہ کے لیے قربانیاں دیں۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓکی سچی محبت اور جذ بہ ایثار وقربانی کی گواہی دی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ:
ترجمہ:اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو تر جیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خودمختاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (الحشر:9)

یہ بھی پڑھیں:  اذان دین کا بنیادی شعار

انصار صحابہؓ کا جذ بہ ایثار:
سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے انصار کو بلایا کہ انھیں بحرین میں ( جاگیرکی تحریر) لکھ دیں۔ انھوں نے کہا، اللہ کی قسم ! ہم تو اس وقت تک جاگیر نہیں لیں گے، جب تک آپ ﷺہمارے قریشی بھائیوں کو بھی ویسی ہی جاگیر نہ لکھ دیں۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ چاہے گا ان کو بھی مل جائے گا۔ انصار اصرار کرتے ر ہے کہ قریشی بھائیوں کے لیے بھی جاگیرلکھ دیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے انصار سے فرمایا: ”تم میرے بعد دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کوتم پر ترجیح دی جائے گی تو تم مجھ سے ملنے تک صبر کرنا۔“ (صحیح البخاری:3163)

سیدنا ابو بکر صدیق ؓ بے مثال قربانی:
سیدنا عمر بن خطاب ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر ؓ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہوگا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا ، رسول اللہﷺ نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟، میں نے کہا: اسی قدر آدھا مال، اور ابوبکر ؓ نے اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا:اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو چھوڑ کر آیا ہوں ، تب میں نے دل میں کہا میں آپؓ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔( [ حسن ] سنن ابی داود:1678)

جذ بہ ایثارکا بےنظیر واقعہ:
سیدنا ابو ہریرہؓسے روایت ہے کہ ایک صاحب (خود ابو ہریرہؓ ہی مراد ہیں) رسول اللہﷺکی خدمت میں بھو کے حاضر ہوئے، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا۔ (تاکہ ان کو کھانا دیں) ازواج مطہرات نے کہا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس پر آپ ﷺنے فرمایا : ان کی کون مہمانی کرے گا؟ ایک انصاری صحابی ؓبولے میں کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور اپنے بچوں کو بھوکا سلا دیا، پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھارہے ہیں ، لیکن ان دونوں نے اپنے بچوں سمیت رات فاقہ سے گزار دی ، صبح کے وقت جب وہ صحابی ؓآپﷺ کی خدمت میں آئے تو آپﷺ نے فرمایا:تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑایا (یہ فرمایا )کہ اسے پسند کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ”ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصة“(صحیح البخاری :3798)

یہ بھی پڑھیں:  فتح مکّہ تاریخ ساز اور فیصلہ کن معرکہ

اخوت و بھائی چارہ کی عمدہ قربانی:
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب عبد الرحمن بن عوفؓ مدینہ آئے، تو رسول اللہﷺنے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری ؓ سے کرادیا۔ سعد رضی اللہ عنہ مالدار آدمی تھے۔ انہوں نے عبدالرحمن ؓ سے کہا: ” میں اور آپ میرے مال سے آدھا آدھا لے لیں۔ اور میں اپنی ایک بیوی سے ) آپ کی شادی کرا دوں۔ عبد الرحمن ؓنے اس کے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے۔ (صحیح البخاری :2049)

محبوب مال کی عظیم قربانی:
سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہؓ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیر حا ءکا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبویﷺ کے بالکل سامنے تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :”لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون، یعنی تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ یہ سن کر ابوطلحہ ؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ اور مجھے بیر حاءکا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ ان کی مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا خوب !یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے۔ (صحیح البخاری:1461)