women_with_child

کیاشادی کے بعد عورت صرف بچوں کی ماں ہے؟نہیں بلکہ ایک بیوی بھی

EjazNews

شادی اور بچوں کی پرورش دونوں ہی خا سے چیلنجنگ کام ہیں جن میں تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی ماضی کا کوئی تجر بہ ضروری ہے۔ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں اور جوں جوں قدم بڑھاتے جائیں بہت ساری چیزیں سیکھتے چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ کہ ہمارے معاشرے میں کسی قسم کی معلومات اس حوالے سے در کار نہیں ہوتیں کہ شادی کے بعد کے کیا فرائض ہیں اور بچوں کی تربیت کن خطوط پر کرنا ہے۔ جب کسی لڑکی کی شادی ہونے لگتی ہے تواسے ہر طرف سے مفت مشور ے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر اس قسم کے کہ اپنے شوہر اور سسرال والوں پر حکمرانی کس طرح کرنا ہے لیکن اپنے طور پر سامنے آنے والے یہ ہمدرد جب نئی نویلی دلہن کو یہ مشورے دیکر اپنی مہارت جتلا رہے ہوتے ہیں تو اس بات کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ ان کی اپنی شادی کس قدر مراحل سے گزر چکی ہوتی ہے۔
وہ لڑکیاں جو اعتماد سے عاری ہیں ایک چھوٹا سا ٹیسٹ دے کر خود کو شادی کے بکھیڑوں میں الجھنے سے بچا سکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی شوہر کے ساتھ تلخ کلامی اور پھر لڑائی جھگڑا ہو جائے تو آپ کیا کریں گی؟

1۔ ایک دوسرے کو تھپڑیاطمانچے ماریں گی۔
2۔پیار سے ایک دوسرے کو منانے کی کوشش کریں گی۔
3۔ الگ الگ راستوں کا انتخاب کر لیں گی۔
4۔ ہر وہ کام کر نے کی کوشش کریں گی جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔

بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ بڑی باریک بینی یا گہرائی سے بنایا جانے والا ٹیسٹ بھی کامیاب شادی کا پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ یہ کسی بھی حال میں محض ایک جوا ہے اور ذرا بھی حیران نہ ہوں کہ ہمارے یہاں خاندان کی تقسیم اور طلا قوں کی شرح خطرے کے نشان کو چھو رہی ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کوئی شادی کا ارادہ کر تا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی طلسماتی دنیا ہے۔ شوہر کا خیال یہ ہو تا ہے کہ جب وہ دن بھر کام کے بعد تھکا ہار اواپس لوٹے گا تو ایک ایسی دنیا اس کی منتظر ہو گی جس میں کھانے پینے کے ساتھ ہی اس کے لئے حسب خواہش ہر چیز حاضر ہو گی۔ بیوی کا خواب یہ ہوتا ہے کہ اس کا گھر سلیقہ مندی کا آئینہ دار ہو گا اور وہ فینسی ریستورانوں میں کھانے کھا کر بہترین بیوی اور مثالی ماں کہلائے گی۔ شادی کے بعد جسمانی رشتے کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے، پہلے سال یا اس کے لگ بھگ عرصے میں ہر چیز خواب کی مانند محسوس ہوتی ہے اور پہلے بچے کی آمد کے بعد یہ تاج محل مسار ہونے لگتا ہے۔ ایک بچے کے ساتھ گھر داری میں دونوں افراد یعنی ماں اور باپ کے پاس یہ موقع ہو تا ہے کہ وہ مزید بچوں کی منصوبہ بندی کے بجائے اس ایک بچے پر پوری توجہ دیں۔ اگر وہ لڑ کی ہے تو زیادہ امکان یہ ہے کہ باپ کی لاڈلی ہو گی اور ماں کا دفاع کرے گی۔ اگر یہ لڑکا ہے تو پھر ماں کا پسندیدہ ہو گا اور اس کی بھر پور توجہ کا طالب رہے گا بلکہ عمر کے کسی بھی حصے میں ماں کی محبت کے مقابل کسی کو نہیں دیکھنا چاہے گا۔ کسی طرح کے بھی حالات کیوں نہ ہوں، جب ماں کی بات آتی ہے تو منظر میں بچوں کے داخلے کے بعد باپ خود بخود پچھلی نشست پر چلا جاتا ہے بلکہ یہ بات عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے کہ اگر کسی گھر یلو چپقلش میں بچے ماں کا ساتھ دے رہے ہوں تو باپ کو ہتھیار پھینک کر خود بخود پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ شادی اور پھر بچوں کی تربیت کو ممکن ہے کہ ایک تباہ کن یا بے قابو چیز تصور کیا جارہا ہو کیونکہ یہ محض ایک فرد کی بات نہیں بلکہ اس میں کئی زندگیاں ملوث ہوتی ہیں۔ بچے کتنے بھی ہو سکتے ہیں اور گھر میں ہونے والی ایک بات ہر ایک پر اپنے اثرات مرتب کر سکتی ہے، یہاں تک کہ ایک در جن بچوں پر بھی اگر کوئی اس سے زائد کی خواہش رکھتا ہے تو اس کے پاس یا تو کوئی دوسرا کام ہی نہیں اور یا پھر اس کے دماغ میں خلل ہے)۔

یہ بھی پڑھیں:  حسد آپ کی شخصیت کو تباہ کردینے والا منفی رویہ ہے

شادی کرنے کا مطلب گویا کسی ”رولر کوسٹر میں سوار ی ہے، اس کی وضاحت یوں کر دیں کہ رولر کوسٹر بچوں کی ریل گاڑی کے لئے ایسی پٹڑی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر پارکوں یا تفر یحی مقامات پر لگی ہوتی ہے جس کے کھلے ڈلے اونچے نیچے خمیدہ راستوں پر تیزی سے چلتے ہیں۔ رولر کوسٹر کی طرح شادی شدہ زندگی بھی اونچی نیچے راستوں پر موڑ کا ٹتی اور جٹھکے لیتی ہوئی چلتی رہتی ہے جس میں ہر طرح کا دھکا سہناپڑتا ہے۔ ایک مرتبہ یہ شروع ہو جائے تو پھر اس کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ خواہ اس مثال پر آپ ہمیں منفی ذہنیت کا طعنہ ہی کیوں نہ دے ڈالیں لیکن بڑی تلخ حقیقت یہی ہے کہ بیشتر شادیاں ہمارے ہاں اس طرح چلتی رہتی ہیں۔ اگر یہ نکتہ تسلیم کر لیا جائے کہ کچھ شادیاں کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں لیکن کیا شادی کے وقت یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا انجام اختتام کیا ہو گا؟ اس بات کی گارنٹی کون دے سکتا ہے کہ آپ کو چاہنے والا جس چاو¿ سے یہ شادی کر رہا ہے، بیس برس بعد بھی آج جیسا ہو گا… لہٰذا اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا سیکھیں۔ ذرا اندازہ کریں کہ کیا آپ آج بھی بالکل وہی ہیں جیسی کہ 2000ءمیں تھیں، یقینا نہیں کیونکہ انسانوں میں وقت کے ساتھ ہی ظاہری طور پر ہی نہیں مزاج کی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں جن کا تعلق براہ ر است حالات سے ہی ہو تا ہے۔ کوئی بھی کسی کو پہلے ہی سے نہیں بتادیا کہ اس نے کیا سے کیا توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں یا کون سی امیدیں لگائی ہوئی ہیں۔ فرض کریں کہ ایسا کر بھی لیا جائے تو نہ جانے 20 برس بعد کیسے حالات ہوں اور اس وقت کسی کی خواہشات کا محور کون سی چیز ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ جانتی ہیں ناشتہ کی کیا اہمیت ہوتی ہے

جوڑے آسمانوں پر ضرور بنتے ہیں مگر ان کا ملاپ اس دنیا میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ الگ الگ پرورش کے مراحل سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ ان کی سوچنے اور سمجھنے کا انداز جداگانہ ہو تا ہے۔ ڈائنوسار کا ایک گروہ ممکن ہے کہ یکساں سوچ کا حامل ہو اور لگے بندھے اصولوں پر چل سکے لیکن انسان کو اس سے ہر طرح الگ سمجھنا ہو گا کیونکہ ان میں سوچنے اور فیصلہ کرنے کی قوت موجود ہوتی ہے، اسی لئے ان کی سوچیں متضاد اور ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتی ہیں۔ کیا آپ اس ذہنی تبدیلی کے لئے خود کو تیار محسوس کرتے ہیں؟۔

کسی بھی نوعیت کی کشش کے سبب آپ کسی سے قریب ہو سکتے ہیں، خواہ وہ جسمانی ہو یا پھر مالی کوئی اور لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کوئی آپ کے اندر کے انسان کو دیکھ کر آپ کا ہو جائے اور آپ کے ساتھ آپ کے ہر دکھ اور سکھ میں شریک رہے، ہر مشکل کو برداشت کرے۔ مثال کے طور پر خاندان میں کسی کی موت ہو جاتی ہے تو وہ بھی آپ کی طرح اس موت کے غم کو محسوس کر سکے ، کسی بیماری، آزاری اور چھوٹی موٹی پریشانی میں آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔ آپ کا شوہر رات کو سونے سے قبل برش نہیں کرتا اور اس کی یہ عادت آپ کو پاگل کر دیتی ہے لیکن آپ کو یہ بات اس وقت معلوم نہیں ہوتی جب آپ شادی کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ تمام باتیں کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ دو مختلف شخصیات کو یکجا ہونے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار کر ہی بہت سی باتوں کا علم ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  روپ سروپ اور آپ کی خوراک (۲)

جن خواتین کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ان کے لئے چھو ٹا سا مشورہ یہ ہے کہ ابھی تو آپ کے شوہر کی سوچ یہ ہے کہ آپ بہت رومانٹک، حسین اور بھر پور جسمانی کشش کی حامل ہیں۔ لہٰذا آپ سے دور رہنا اس کے لئے خاصا مشکل کام ہے لیکن چند برسوں کے بعد جب دو، تین بچے بھی اس دنیا میں آچکے ہوں گے اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے آپ کی خوش مزاجی، چلبلا پن اور حس مزاح دم توڑ چکی ہو گی تو آپ کو ایک بد مزاج عورت کے روپ میں دیکھ کر شوہر میں چڑ چڑا پن پیدا ہو سکتا ہے۔ اب آپ صرف اپنے بچوں کی ماں ہیں، ایک ایسی ماں جس کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ وہ شوہر کے لئے بطور خاص تیار ہو کر بیٹھ سکے اور اس کی گھر واپسی پر خوشدلی کے ساتھ اس کا استقبال کرے۔ شوہر کو اب گھر واپسی پر گلا پھاڑ کر بچوں پر چلاتی ہوئی ایک نیم پاگل عورت ملے گی جو ادھر ادھر بھاگتے بچوں پر اپنا غصہ نکال رہی ہو گی اور پھر اسی عالم میں اپنے شوہر کا استقبال کرنے کے بجائے بچوں کی شکایتیں اور د کھڑے لے کر بیٹھ جائے گی۔

شادی مکمل طور پر ایک رسک ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ دو مختلف اشخاص مل کر کوئی کام شروع کرتے ہیں اور اس امید کے ساتھ انہیں کامیابی حاصل ہو گی لیکن کار و بار اور شادی میں ناکامی کا پہلو با لکل یکساں ہے کیونکہ دونوں معاملات میں زیادہ تر اطلاعات غلط فہمی پر مبنی ہوتی ہیں۔ کاروبار اس لئے ناکام ہوتے ہیں کہ دونوں پارٹنرز کے پاس مارکیٹ سے متعلق کوئی خبر نہیں ہوتی جبکہ شادی کی ناکامی کا سبب حد سے زیادہ خبروں کی فراہمی ہوتی ہے اور پارٹنرز کو آگے بڑھنے اور رشتے کو موثر بنانے کے لئے کار آمد ماحول میسر نہیں آتا۔
شازیہ احمد صدیقی