umro_ayyar

عمرونے بازی پلٹ دی

EjazNews

حکیم نے عمرو سے کہا ایک بڑاہرن پکڑ لاو امیر کے سامنے ہرن کے کباب بنائیں گے تو اس کی بو سے امیر کو زیادہ خوشی ہوگی ،عمرو یہ سن کر جنگل کی طرف چلا۔ وہاں بہت سے ہرن چررہے تھے۔ عمروان کو پکڑنے بھاگا تو وہ چاروں طرف پھیل گئے مگر عمرو نے دوڑ کر ایک موٹے ہرن کو پکڑ لیا اس کے پاوں باندھ کے ایک طرف رکھ دیا اور خود سیر کرنے لگا۔ آگے بڑھا تو اس نے دیکھا کہ ایک لشکر اترا ہوا ہے اور دور خیمے پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی صورت بدل کر آگے بڑھا کر دیکھیں کس کا لشکر ہے۔ آگے ایک تالاب دیکھا وہاں دو آدمی پانی بھر رہے تھے ایک کے ہاتھ میں سونے کا لوٹا اور دوسرے کے ہاتھ میں چاندی کا تھا۔ عمرو نے ان کو سلام کیا اور پوچھا کہ کس کا لشکر ہے اور تم کون ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ لشکر اولاد بن مرزبان کا ہے اور ہم نوشیرواں بادشاہ کی بیٹی مہر نگار کے غلام ہیں۔ بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی امیرحمزہ سے طے کی تھی وہ ہندوستان جا کر لندھور کے ساتھ لڑ کر مارا گیا۔ بادشاہ کو اس کا غم ہوا۔ بختک نے بادشاہ کو پٹی پڑھائی کہ مہر نگار کی شادی اولادبن مرزبان سے کر دو۔ مہرنگار مانتی نہ تھی مگر بزرجمہر نے اس سے کہا کہ ہاں کردو اور اس کے ساتھ جاو چالیسویں دن تمہاری حمزہ سے ملاقات ہوگی۔ آج چالیسواں دن ہے۔ کل مہرنگار زہر کھا کر مر جائے گی۔ عمرو نے دل میں بہت افسوس کیا۔ ان سے کہنے گا”تم نے عجیب بات سنائی۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی نہیں سنی۔ اب میری بھی سنو، میں ایک پاوں سے لنگڑا اور ایک ہاتھ سے اپاہج ہوں۔ حکیم نے مجھے یہ علاج بتایا ہے کہ اگر چاندی کے برتن میں پانی پیوتو تمہارا ہاتھ ٹھیک ہوسکتا ہے اور سونے کے برتن میں پانی پیوتو تمہارا پاوں اچھا ہوسکتا ہے میں غریب آدی ہوں۔ یہ چیز میں کہاں سے لاسکتا ہوں۔ ہاں اگرتم مہربانی کروتو میں ٹھیک ہوسکتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا تھا پہلے اس نے دیا کہ پتہ چل جائے گا کہ سچ ہے یا جھوٹ۔ عمرونے چاندی کے برتن میں پانی پی کر ہاتھ ہلایا اور کہا”یار تمہاری مہربانی سے میرا ہاتھ اچھا ہو گیا ہے اب دوسرا بھی دو کہ میرا پاوں ٹھیک ہو۔ دوسرے نے سونے کا لوٹا دیا عمرو نے اس میں پانی پیا اور پاوں ہلایا اور دونوں برتنوں کو لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ انہوں نے کہا۔ اب اچھے ہو گئے ہو۔ ہمارے لوٹے واپس کرو۔ عمرو نے کہا۔اگر یہی بیماری مجھے دوبارہ ہوئی تو میں یہ چیزیں کہاں سے لاوں گا۔ یہ کہہ کر وہ بھاگ گیا۔

دونوں حیران ہوئے اور پھر آپس میں لڑنے لگے۔ ایک نے کہا پہل تم نے کی تھی تم نہ دیتے تو میں بھی نہ دیتا۔ دوسرے نے کہا میں نے تو چاندی کا دیا تھا تم نے سونے کا دے دیا۔ دونوں لڑتے ہوئے شہزادی کے پاس جانے لگے کہ وہ انصاف کریں کہ قصور کس کا ہے۔ جب لشکر کے قریب پہنچے تو کہنے لگے ذرا یہاں بھی دیکھتے چلیں ہوسکتا ہے وہ آدمی یہاں ہو۔ اس طرف گئے تو دیکھا کہ ایک آدی چادر بچھا کر بیٹھا ہے اور فال نکال رہا ہے۔ جو کوئی اس کے پاس جاکر کوئی بات پوچھتا ہے وہ اس کا جواب دیتا ہے۔ یہ دونوں بھی اس کے پاس جا بیٹھے اور کہا ہماری فال بھی نکالو۔ اس نے فال دیکھ کر کہا کہ تمہاری کوئی چیز کھوگئی ہے یہ دو چیزیں تھیں۔ ایک سونے کی تھی اور دوسری چاندی کی تھی۔ انہوں نے کہا۔ واہ واہ۔ یہ تو بہت سچ کہا۔ اب یہ بتاوکہ وہ ملے گی بھی یانہیں۔ کہا۔یقین تو ہے کہ ملے گی۔ یہ دونوں بہت خوش ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کمال کا آدمی ہے۔ شہزادی کو بتانا چاہئے کہ وہ اس سے کچھ پوچھیں۔ ایک وہیں بیٹھا رہا اور دوسرابتانے گیا اور کنیز کو کہا شہزادی کو کچھ بتانا ہے۔ اس نے بلوایا تو آدمی کے اچھا ہونے اور سونے چاندی کے برتن لے کر بھاگ جانے اور فال والے کی بات بتائی۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی پڑھائی کی ابتدا

مہرنگار کے دل میں خیال آیا کہ اتنی چالاکی تو عمرو کرسکتا ہے۔ ضرور یہ دونوں آدمی عمرو ہوں گے۔ یہ خیال آتے ہی غلام سے کہا۔جاو¿ اسے بلا لاو۔ ہم بھی اس سے کچھ پوچھیں گے۔ وہ گیا اور اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ مہر نگارنے پردے کے پیچھے سے کہا۔ نجومی میرافال دیکھو۔ اس نے کہا،میں سوال کرنے والے کا منہ دیکھے بغیر فال نہیں کھولتا۔ بعض لوگوں کا حال مشکل سے معلوم ہوجاتا ہے۔ میرے سامنے آ کر پوچھو۔ اس نے سامنے آ کر پوچھا اور اس نے سارا حال سنادیا کیونکہ وہ غلاموں سے سن چکا تھا۔ مہرنگارنے بہت قیمتیخلعت اسے دیا تو وہ خلعت کوالٹ پلٹ کے دیکھنے لگا۔ مہر نگار نے کہا۔ یہ خلعت کو اس طرح الٹ پلٹ کے کیوں دیکھ رہے ہو کہنے لگا میں دیکھ رہا ہوں کہ کتنے کی بکے گی، مہر نگار نے کہا اسے مت بیچنا۔ گزارے کے لئے مجھ سے روپے لے لو اور ایک تھیلی روپوں کی دی۔ وہ روپوں کو دیکھنے لگا۔

اب مہر نگارکو شک ہونے لگا کہ یہ حرکتیں تو عمرو جیسی کر رہا ہے کہیں واقع عمرونہ ہو۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی داڑھی کھینچ لی۔ داڑھی اس کے ہاتھ میں آگئی اور عمرو کی صورت نظر آنے کی۔ مہر نگار بہت خوشی ہوئی اور کہا،حمزہ کہاں ہے، عمرو نے کہا۔ اس پہاڑی کے دوسری طرف ہے۔ اتنے میں شور ہوا کہ نجومی کو اولاد بن مرزبان نے بلایا ہے وہ اس سے شادی کا وقت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ عمرو نے کہا۔ تم اطمینان سے رہو اور دیکھو کہ میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں کہ پھرکبھی شادی کا نام نہ لے گایہ کہہ کر اپنی داڑھی لگائی اور اولاد بن مرزبان کے خیمے کی طرف چل پڑا۔ عمرو اولاد کے پاس پہنچا تو پوچھا مجھے کیوں یاد کیا ہے۔ اس نے کہا تھے مہر نگارنے بلایا تھا کیا پوچھا۔ کہنے لگی۔ ایک غائب حال پوچھا میں نے کہا وہ مارا گیا۔ اس کی توقع نہ رکھو۔ یہ سن کر اولاد بہت خوش ہوا۔ اور کہا تم بہت بلند ہو۔ مجھے شادی کا اچھا اور مناسب وقت بتاﺅعمر ونے ایک وقت بتادیا۔ وہ بہت خوش ہوا اور عمر وکو بہت انعام دیا۔

عمروجب آنے لگا تو کہنے گا”میرے چار بیٹے ہیں۔ ایک نے گرز بنایا ہے اور وہ گر بازی کرتا ہے۔ ایک پٹہ بازی کرتا ہے۔ ایک بہت اچھا ڈھول بجاتا ہے۔ ایک بانسری بجاتا ہے اور خوب بجاتا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو کل میں ان کو بھیج دوں آپ کی شادی میں تماشا کریں گے اور انعام لیں گے۔ اس نے کہا۔ بہت اچھابھیج دینا۔ ہم بھی ان کا کمال دیکھ لیں گے، عمرو یہاں سے باہر آیا۔ میدان میں آ کر اپنی اصلی صورت بنائی اور اپنے لشکر پہنچا۔ وہاں مقبل کھڑا تھا اس سے کہا۔ تم عادی کو لے کر لندھور کے پاس آﺅ۔ وہ اس طرف چلا۔ یہ لندھور کے پاس گیا۔ جاتے ہی اس کو کہنے لگا کہ حمزہ نے ساری مصیبت مہرنگار کی وجہ سے ٹھائی ہے۔ اگر کوئی اس کو لے جائے تو بڑا غضب ہوجائے گا۔ لندھور نے کہا۔ ” کون لے جائے گا“ – عمرو نے کہا ”پہاڑ کی دوسری طرف وہ لشکر کے ساتھ ہے کل وہ مہر نگار کے ساتھ شادی کررہا ہے۔ لندھور نے کہا۔ ”ایسے کیسے شادی کررہا ہے۔ عمرو نے ساری بات بتائی تو لندھور کو غصہ آ گیا۔ اس نے کہا۔ میں اسی وقت اپنی فوج لے کر جاتا ہوں اور اس گرز سے اس کو ختم کرتا ہوں، عمرو نے کہا۔ امیر کا مزاج دوسری طرح کا ہے۔ شاید وہ اس کے مارے جانے پر ناراض ہوں اگر ایسا ہوا تو مشکل آجائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے زندہ پکڑیں اور مہر نگار بھی ہمیں مل جائے۔ انھوں نے کہا پھر کوئی ترکیب کرو۔ اسی وقت مقبل بھی عادی کو لے آیا۔ عمرو نے ان دونوں کو بھی پوری بات بتائی۔

یہ بھی پڑھیں:  پریوں کا محل

اب ان لوگوں نے مشورہ کر کے تر کیب بتائی کہ عادی ڈھول والا بیٹا بنے۔ مقبل بانسری بجانے والا۔ پٹہ بازی کرنے والاعمرو بنے۔ گرز چلانے والالندھور بنے۔ا ور اپنے بارہ ہزار سپاہی پہاڑی کے پیچھے تیار رکھے جب موقع بنے تو لندھور نعرہ مارے جس کو سن کر سپاہی آجائیں۔ لندھور کی سواری حاضر کریں۔ اولاد بن مرزبان کو زندہ پکڑ لیں اور باقی لوگوں کو ماریں۔ رات گزری تو صبح کو عادی کے گلے میں ڈھول دیا کہ بجاتا ہوا چل۔مقبل کو بانسری دی اور عمرو خود ایک خوبصورت لڑکے کی صورت بنا کر پٹہ بازی کرتا ہوا ان کو ساتھ لے کر اولا د بن مرزبان کے لشکر کی طرف چل دیا۔ یہ چاروں جب لشکر میں پہنچے تو اولاد بن مرزبان نے اپنا در بارسجارکھا تھا اور بہت خوش تھا۔ عمرو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کے خیمے پر گیا اور لوگوں سے کہا کہ جا کر خبر کروکہ نجومی کے بیٹے آئے ہیں۔ جب اس کو بتایا گیا تو اس نے اندر آنے کی اجازت دی۔ ان کے عجیب سے حلیئے دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ عادی بہت موٹا پہلوان تھا اور گلے میں ڈھول ڈال رکھا تھا۔ لندھور لمبا موٹا شیر کی طرح پہلوان تھا اور گرزاٹھائے تھا۔ مقبل عام انسانوں جیسا جوان تھا جو بانسری پکڑے تھا اور عمرو ایک خوبصورت لڑکا تھا جو گیارہ پٹے پکڑے ہوئے تھا۔ سب ان کو دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔ مرزبان کے جتنے سردار تھے منہ اٹھائے تماشاد یکھنے کو تیار تھے۔

عمرو نے گیارہ سنہری پٹے اپنے ہاتھ میں لئے اور خوب پٹہ بازی کی۔ وہ اتنی خوبی سے پٹے گھما رہا تھا کہ عقل حیران ہوتی تھی اس کا کمال اس پرختم تھا اور ایسا تماشا پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ سب بہت خوش ہوئے اور عمرو کو خوش ہوکر ریشم اور سونے کی تاروں کا بنا ہوا خوبصورت کوٹ دیا گیا۔ عمرو کے بعد مقبل اور عادی آئے اور انہوں نے بانسری اور ڈھول کی تھاپ کی سنگت سے رنگ جمایا۔ لوگ خوش ہوئے اور ان کوریشم اور چاندی کی تاروں کا بنا ہوا کوٹ دیا گیا۔ اب لندھور کی باری تھی جب وہ آیا اور گرز ہلانے لگا تو سب اپنی کرسیوں سے گرنے لگے۔ سب شور کرنے لگے کہ ایسے تماشے سے ہم باز آ ئے۔ یہ تماشا بند کرو۔ عمرو نے لندھور کو اشارہ کیا کہ یہی وقت ہے۔ اپنا کام شروع کرو۔ لندھور نے ایک گرز در بار کے ستونوں پر اس زور سے مارا کہ در بار ستونوں سمیت گر گیا اور سب اس میں دب گئے۔ جو لوگ باہر تھے انہوں نے ان چاروں کو گھیرلیا اورلڑنے لگے۔ لندھور نے زور سے نعرہ مارا۔

نہیں کوئی جانتا، لے جان

میں ہوں لندھور بن سعدان

اس آواز کو سن کر لشکر کے چھپے ہوئے بارہ ہزار سوار آ گئے۔ اورلندھور کا ہاتھی سواری کو دیا۔لندھورسوار ہوا اور سب مل کرلڑنے لگے۔ اولا دبن مرزبان کے بیس ہزار سپاہیوں میں سے دس ہزار پکڑے گئے۔ پانچ ہزارزخمی ہوئے اور پانچ ہزار بھاگ گئے۔

سب لڑرہے تھے تو عادی کو خیال آیا کہ آج تو شادی کا دن تھا۔ بہت کھانا پکا ہوگا۔ باورچی خانہ میں جا کر خوب کھانا کھانا چاہئے۔ پہلے ایک آدمی کا سرکاٹ کر اپنے پاس رکھ لوں تا کہ عمرو پوچھے تو اسے بتاسکوں کہ میں نے بھی لوگوں کو مارا ہے۔اسی وقت اس نے دیکھا کہ ایک آدمی گرے ہوئے دربار میں سے نکل رہا ہے۔ عادی نے اس پرڈھول رکھ دیا اور زور لگایا تو ڈھول پھٹ گیا اور وہ آدمی ڈھول کے اندر گھس گیا۔ وہ اولاد بن مرزبان تھا مگر عادی کو پتہ ہی نہ چلا۔ اب عادی نے باورچی خانہ میں جا کر کھانا شروع کردیا۔ اس کے مزے آگئے تھے رنگ برنگے کھانے پکے ہوئے تھے اور وہ اکیلا کھانے والا تھا۔ عمرواولاد بن مرزبان کو ڈھونڈ رہا تھا اس کا پتہ نہیں چل رہا تھا اس لئے وہ اسے ہر جگہ ڈھونڈتا پھر رہا تھا کہ وہ باورچی خانہ کے پاس سے گزرا۔ اس نے جھانکا کہ شاید یہاں چھپا ہوا ہو تو اس نے عادی کو کھانا کھاتے دیکھا۔ عمرو کو بہت برا لگا اور وہ اس پر برس پڑا کہ ہم حمزہ کے لشکر کے مشہور پہلوان ہیں سب سے زیادہ لڑائی کرنی چاہے مگرتم یہاں چھپے ہوئے کھانا کھارہے ہو۔ کیا تمہیں وہاں کھانا ہیں تا کہ کھانے کے لئے پاگل ہورہے ہو۔ عادی نے کہا۔ میں نے بھی ایک آدمی پکڑا ہے۔ عمرو نے کہا۔ ذرا دیکھوں تو کونسا تیر مارا ہے اور کس کو پکڑ کر بیٹھے ہو کہاں ہے وہ آدمی۔ عادی نے کہا۔ ڈھول میں بند ہے۔ عمرو نے ڈھول میں دیکھا تو وہ اولاد بن مرزبان تھا۔ عمرو بہت خوش ہوا اور کہا۔ اے عادی تم نے بہت بڑا کام کیا ہے تو ایک لاکھ کے برابر ہے میں تو اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا تھا۔ عمرو نے کہا اب اس کوڈھولی میں لندھور کے پاس لے چلو۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی پیدائش اور پہلی شرارت

عادی نے ڈھول بند کیا اور ڈھول اٹھا کے لندھور کے پاس لے گیا۔ جیسے ہی عادی نے زمین پرڈھول رکھا اور ڈھول کھولاتو اولاد بن مرزبان خنجر لے کر باہر نکلا اور لندھور کو مارنے دوڑالندھور نے اس کے ہاتھ سے خنجر چھین کر کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھالیا اور اپنے سر سے اوپر لے جا کر زمین پر پھینکا۔ عمرو نے فورا اس کے ہاتھ پاوں باندھ دیئے اور اس کو قید کر لیا۔ وہاں سے عمرومہرنگار کے پاس گیا اور اس کو ساری بات بتائی اور یہی کہ ہم نے اولاد بن مرزبان کو قید کرلیا ہے۔ مہر نگار بہت خوش ہوئی۔ عمرو نے اپنے لوگوں کو شہزادی کی حفاظت کرنے کے لئے چھوڑا اور جا کر امیر کو سارا حال بتایا۔ امیر نے سارا حال سنا تو عمرو کو گلے لگالیا۔ انہوں نے کہا آج تم نے یہ ثابت کر دیا کہ تمہاری اور ہماری عزت الگ نہیں ہے۔ تم نے آج ایسا کام کیا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ہاں بھئی اگرتم ایسانہ کروتو اور کون کرے گا۔

اب امیر نے سلطان بخت مغربی کو کہا کہ تم مہر نگار اور اولاد بن مرزبان کو نوشیرواں کے پاس مدائن لے جاو۔ وہ جو فیصلہ سمجھے گا کرے گا اور میری طرف سے یہ خط بھی لیتے جاو۔ عمرو نے کہا آپ مہرنگار سے تو مل لیتے۔ انہوں نے کہا۔ اس نے مجھے صحت مند دیکھا ہے۔ اب میں بیمار اور کمزور ہوں میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے اس حالت میں دیکھے اب مدائن تین منزل دور ہے۔ وہاں جا کر اسے دیکھوں گا۔ ہاں تم مہرنگار کے ساتھ جاو۔ اس کا دل بہلاو اور اسے پریشان نہ ہونے دو۔ جب یہ مدائن پہنچ جائیں تو مجھے آ کر بتانا۔ اب تم جاﺅ حکیم اقلیموں نے کہا۔آپ مدائن جارہے ہیں تو وہاں نوشیرواں کی سرکاری میں نوشدارو ہے۔ تم تھوڑی سی نوشدارو لیتے آنا۔ اس کے کھانے سے امیر کی صحت اچھی ہوگی۔ لیکن نوشدارو اپنی اصلی صورت میں لینے نہ جانا۔ کیونکہ آپ جا کر نوشدارو مانگیں گے تو دشمن سمجھ لیں گے کہ حمزہ کے لئے ہے اس لئے نہیں دیں گے۔ اب آپ رخصت ہوں۔

عمرو امیر سے رخصت ہوکر مہر نگار کے پاس آیا۔ وہ رورہی تھی۔ عمرو نے اس کے پاس جا کر کہا۔ آپ کیوں روتی ہیں۔ مہرنگار نے کہا۔ امیر نے مجھ سے ملاقات کیوں نہیں کی، عمرو نے کہا آپ نے ان کوصحت کی حالت میں دیکھا تھا۔ اب وہ کمزور اور بیمار ہیں کیونکہ زہر نے ان کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا ہے۔ آپ مدائن میں ان سے اچھی طرح مل لیجئے گا،مہرنگار نے کہا جیسے ان کی مرضی۔اب عمرو اچھی اچھی باتیں کر کے ان کا دل بہلانے لگا۔ جب میدان پہنے تو بادشاہ کافی آگے چل کر اپنی بیٹی کو لینے آیا اور سلطان بنت مغربی کوخلعت دیا۔

کیٹاگری میں : بچے