pakistani flag

اپنی اولاد کے دل میں بھی ملک سے محبت کا پودا اگائیں

EjazNews

جذبۂ حُبّ الوطنی انسانی سرشت میں شامل ہے۔ انسان تو انسان، جانور تک جہاں رہتے ہیں، اُس جگہ سے انسیت ہی نہیں رکھتے، بلکہ وہاں کسی غیر کی مداخلت بھی ہرگز پسند نہیں کرتے ۔ یہ فطری جذبہ کبھی مَر تو نہیں سکتا، البتہ کم زور ضرور پڑسکتا ہے۔ وطنِ عزیز کے حوالے سے بات کی جائے، تو یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ روز بروز یہ جذبہ ماند پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ یوں تو اس صورتِ حال کی کئی وجوہ ہیں، لیکن سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت جو لوگ جوان تھے یا جنہوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا تھا، آج ان کی اکثریت ہم میں موجود نہیں ۔ پھر وہ بہادر، نڈر افراد بھی ہمارے درمیان نہیں رہے، جو آگ اور خون کا ایک دریا عبور کرکےاس ارضِ پاک تک پہنچے تھے، جنہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں پھلانگ کر اس ارضِ مقدس تک رسائی کی راہ بنائی تھی، جنہوں نے انسانی بھیڑیوں کو اپنی بہن بیٹیوں کو بھنبھوڑتے دیکھا تھا، لاشوں سے پٹے کنویں دیکھے تھے اور اپنا گھر بار، دھن، دولت اور عصمتیں لُٹا کر اس دیس کو پایا تھا۔ اُنہیں صحیح معنوں میں اس مُلک کی قدروقیمت کا اندازہ تھا، جو تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی اور پُر تشدد ہجرت میں شامل تھے۔ وہ لوگ بھی کم رہ گئے، جنہوں نے ستم رسیدہ قافلوں کا استقبال کیا، مظلوموں کے آنسو پونچھے، انہیں گلے لگایا اور زخموں پر مرہم رکھا تھا۔جو مہاجرین پر ہونے والے مظالم کے عینی شاہدتھےاور ارضِ پاک کی اہمیت کا بہ خُوبی ادراک بھی رکھتے تھے ۔

آج اکثریت ہماری ہے۔ ہم نے یہ ہول ناک واقعات اپنے اسلاف سے سُنے اور اُس کرب کو بھی محسوس کیا، جس سے گزر کر بزرگوں نے آزادی کی نعمت پائی تھی۔ ہمیں بھی کسی حد تک اس وطن کی قدر و قیمت کا احساس ہے،لیکن ہماری نئی نسل اورہمارے بچّے،کیا انہیں بھی یہ احساس ہے، کیا وہ بھی اس کی قدروقیمت جانتے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ نئی نسل کی اکثریت ان قربانیوں کے عُشرِ عشیر سے بھی واقف نہیں اور اس میں ان کا کوئی قصوربھی نہیں کہ اس کی تمام تر ذمّے داری خود ہم پر عاید ہوتی ہے۔ ہم برملا اپنے بچّوں کے سامنے منہگائی، بدعنوانی، اقربا پروری، بدامنی، ناانصافی، انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت،سیاسی ڈرامے بازیوں اور حکومتی کوتاہیوں کا رونا روتے ہیں۔ بے جھجک مُلک، موجودہ حالات اور حکومت چلانے والوں پر تنقید بَھرے تبصرے کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی اولاد کو اس مُلک سے محبّت کا درس دینے کی توفیق نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:  خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ، لمحہ فکریہ ہے

ہمارے بچّے رات دِن ٹی وی، کمپیوٹر، موبائل فون اور گیمز میں گم رہتے ہیں اور ہمیں پروا نہیں۔ نوجوان نسل کا مقصدِحیات محض اچھی نوکری اورپُر تعیش زندگی(فلموں اور ڈراموں میں دکھائی جانے والی) کا حصول بن کر رہ گیا ہے،مگرہمیں کوئی فکر نہیں۔ مُلک و قوم کی تعمیروترقّی کی سوچ تو کہیں پسِ پشت چلی گئی ہے اور اس کے ذمّے دار ہم سب ہیں۔ ہمیں اتنی بھی فرصت نہیں کہ اپنے بچّوں کو ان کے اصلی قومی ہیروز کی کہانیاں سُنائیں کہ جنہوں نے حُبّ الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنا تن مَن دھن سب ہمارے مستقبل کے لیے قربان کردیا تھا۔ ہمارے بچّے دِن رات بیٹ مین، سُپر مین، اسپائڈر مین، کیپٹن امریکا، بلیک فلیش، اسٹار لارڈ اور بلیک پینتھر جیسے اوٹ پٹانگ کرداروں میں کھوئے رہتے ہیں اور انہیں ہی سُپر ہیروز مانتے ہیں۔ ان ہی کرداروں پر مبنی فلمز، کارٹونز اور گیمز وغیرہ دیکھنے اور کھیلنے میں ان کا وقت گزرجاتا ہے۔ ان’’سُپرہیروز‘‘میں سےہرایک کے پاس ماورائی قوّتیں، انوکھی صلاحیتیں ہیں۔ کوئی ہوا میں اُڑتا ہے، کسی پر گولہ بارود اثر نہیں کرتا، کوئی لامحدود قوّت کا مالک ہے۔ کسی کے ہتھوڑے سے بجلی نکلتی ہے، تو کسی کے ہاتھوں سے مکڑی کا جال،تو کوئی ہوا سے تیز دوڑ سکتا ہے۔ یہی کردار ان کے معصوم ذہنوں میں رچ بس گئے ہیں۔فلم یا کارٹون مووی میںیہ کرداربُرائی کے خلاف جنگ اور مظلوموں کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بچّوں کے معصوم ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ کسی کی مدد اور کوئی اچھا کام کرنے کے لیے مافوق الفطرت قوّتوں کا ہونا ضروری ہے۔ بعض بچّے تو ان کرداروں میں اس قدرکھو جاتے ہیں کہ خود کو ان کے جیسا سمجھنے لگتے ہیں۔پھربچّوں کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ کسی بھی مشکل میں پھنس جانے پر کوئی سُپرہیرو ان کی مدد کے لیے ضرور آئے گا۔ یوں’’اپنی مدد آپ‘‘کا تصوّر متاثر ہوجاتا ہے۔ لب لباب یہ کہ بچّے لاشعوری طور پر عملی جدوجہد سے دُور ہوجاتے ہیں۔ان تصوّراتی ہیروز کے ناممکن کارناموں میں گم بچّوں کو ان کے اصلی ہیروز سے متعارف کروانا ہمارا فرض ہے۔ وہ ہیروز جنہوں نے اپنے عزم و حوصلے کے بل پر بے مثال قربانیاں دیں، سخت تکلیفیں اُٹھائیں، لیکن ہمّت نہ ہاری اور اپنا مقصد حاصل کرکے ہی دَم لیا کہ غلامی کے پنجے سے نکال کرآزادی سے ہم کنار کرنا کوئی آسان امر نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ:ایک جائزہ

کچھ گلہ نصابی کتب سے بھی ہے۔ بات تلخ سہی، لیکن حقیقت یہی ہے کہ محمّد علی جناح، علّامہ اقبال، لیاقت علی خان، چوہدری رحمت علی، راجہ صاحب محمود آباد، عبداللہ ہارون،حسین شہید سہروردی، فاطمہ جناح، راشد منہاس شہید اور میجر عزیز بھٹی شہید جیسے کئی محسنوں کے بارے میں مضامین تو نصاب میں شامل ہیں، لیکن تمام تر زور اس بات پر رہتا ہے کہ کون کس تاریخ کو کہاں پیدا ہوا، والدین کا نام کیا تھا،ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی، وفات کب، کہاں کیسےہوئی اور مزار کہاں واقع ہے؟ان مضامین سےتاریخیں اور مقامات یاد کروا کرواکرعلاوہ بچّوں کو بےزار کرنے کے ،کچھ حاصل نہیں ہورہا۔ ان ہستیوں کی خُوبیاں، خدمات اور قربانیاں سب تاریخوں تلے دفن ہو کر رہ گئی ہیں اور پھر سبق کے آخر میں سوالات بھی اسی حوالے سے ہوتے ہیں۔ بچّے پاس ہونے کے لیے رٹّا لگاتے ہیں اور اگلی جماعت میں پہنچ جاتے ہیں،جہاں نئی کتابوں میں مزید چار پانچ نئی ہستیاں پچیس تیس تاریخوں کے ساتھ ان کا استقبال کرتی ہیں۔ایسا کر کے ہم نسلِ نو سے سنگین غفلت برت رہے ہیں۔ یاد ررکھیے، آج کے یہ بچّے ہمارا مستقبل ہیں۔کل انہوں نے ہی اس مُلک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ذرا سوچیے، اپنے ماضی سے بے بہرہ اور اپنی اقدار سے ناواقف رہ کر یہ کیسے اس وطن کو ترقّی سے ہم کنار کر پائیں گے۔ ہمیںبچّوں پربھرپور توجّہ دینا ہوگی کہ ان کا جذبۂ حُبّ الوطنی سرد پڑتا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان نے ہم سے کہا،’’انکل! جب تک اس مُلک سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، وطن سے محبّت کے جذبے میں اضافہ نہیں ہوگا‘‘۔ہم نے کہا، بیٹا! خدا کی قسم جب تک وطن سے محبّت کے جذبے میں اضافہ نہیں ہوگا، اس مُلک سےکرپشن تو کیا، کوئی بھی بُرائی ختم نہیں ہوگی‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی مُلک کی بقا اور تعمیر و ترقّی کا انحصار ہمیشہ اس میں بسنے والوں کے جذبۂ حُبّ الوطنی پررہا ہے۔