health_tips

طبی معلومات

EjazNews

جلد سو جانا عقلمندی ہے
محققین ممکن ہے کہ آنے والے عرصے میں اس نتیجے پر جا پہنچیں کہ بستروں پر تاخیر سے جانے والے بچے آخر کیوں اپنے سکولوں میں بدترین کارکردگی کے حامل ہوتے ہیں۔ نیند کا فقدان دراصل ان کے دماغوں میں موجود اس حصے کوشدید نقصان پہنچاتا ہے جہاں نئی معلومات کی آبیاری ہوتی ہے یا جہاں یادداشت کا ذخیر ہوتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل سکول کے جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے 28رضا کار بچوں میں سے کچھ کو کسی ٹیسٹ یاامتحان سے قبل مکمل نیند کا موقع دیا گیا جبکہ کچھ کو سونے کے مناسب مواقع فراہم نہیں کئے گئے تو علم ہوا کہ بھرپور نیند لینے والے بچوں کی کارکردگی قدرے بہتر ہے۔
ماضی میں اس حوالے سے کی جانے والی تحقیق سےاس بات کا انکشاف ہو چکا ہے کہ کچھ بھی سیکھنے یا سمجھنے کے بعد یادداشت کو محفوظ اورقائم رکھنے کے لئے اچھی نیند از حد ضروری ہے ۔تحقیقات سے ٹھوس شواہد سامنے آئے کہ یادداشت کی بہتری کے لئے مسلسل اچھی نیند لازمی ہے، یعنی کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے عرصے سے قبل بھی مناسب نیند لی جائے تو یادداشت کی تخلیق زیادہ عمدگی سے ہوتی ہے اس کا مطب یہ ہوا کہ متواتر اچھی نیند بچوں کے لئے بہت زیادہ ضروری ہے اور وہ رات کو جلد سو جانے کے بعد دن کا وقت بھی کھیل کود میں گزارنے کے بجائے چند گھنٹے سو کر گزاریں تو ان کی یادداشت میں حیرت انگیز بہتری دیکھنے میں آسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ’’کچھ سیکھنے، سمجھنے، یاد رکھنے اور جاننے سے قبل بھی اچھی نیند کا لینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ بعد میں کیونکہ اس طرح انسانی دماغ اگلے دن یا اگلی بار کی یادداشتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے۔

موبائل فون اور ہیئر ڈرائر آپ کو بیمار کر سکتا ہے

آخر کار ماہرین نے یہ بات تسلیم کرلی کہ موبائل فون، کمپیوٹرز اور مائیکروویواوون لوگوں کی صحت کومتاثر کرسکتے ہیں اور بجلی سے چلنے والی اشیاء کی حساسیت میں مبتلا افراد کے لئے زیادہ بڑا خطرہ ہے جو سر درد، جوڑوں کے درد، ڈپریشن اور بری طرح تھکاوٹ سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ صرف یورپ میں لاکھوں افراد اس نوعیت کی پریشانیوں سے دو چار ہیں جسے ’’الیکٹرو حساسیت‘‘ کے طور پر پہچانا جاتا ہے تاہم اسے ابھی تک ماہرین طب نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ گھروں میں چلنے والے ٹی وی سیٹس اور ہیر ڈرائر بھی ایسے حساس افراد پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں کیونکہ ان اشیاء کی وجہ سے الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ پیدا ہو جاتی ہے لیکن جب وہ اپنی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹروں کو مطلع کرتے ہیں تو ان کی مشکلات کو نفسیاتی کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے ۔
یہ ایک علیحدہ پہلو ہے کہ ایسے مریضوں نے قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موبائل فونز کی لہروں نے انہیں بیمار کر دیا ہے تاہم ایسے امراض میں مبتلا ایک فرد کا کہنا ہے کہ ’’لوگوں کے لئے اس بیماری کی تشخیص اس لئے آسان نہیں کہ اسے ابھی تک سرکاری طور پر بیماری تسلیم ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی ڈاکٹرز اس حوالے سے کسی قسم کی معلومات رکھتے ہیں جو کہ بہت زیادہ ہمدردی کا مظاہرہ کریں تو پھر بھی یہ کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ حد سے زیادہ کام کے بوجھ کا باعث ہے وہ عموماً انفرادی طور پر کسی شخص کا علاج توکرتے ہیں مگر اس بیماری کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ بھی بڑی عجیب سی بات ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین الیکٹرو حساسیت کے مسئلے سے زیادہ دو چار ہوتی ہیں جس کی وجہ عام طور پر موبائل فون یا کمپیوٹرز کا حد سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی انہیں دیگر اقسام کی الرجی بھی ہو سکتی ہے جبکہ انہیں عام استعمال کی دوسری اشیاء مثلاً ٹی وی ، فریج اور کوکرز سے بھی نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ اس حوالے سے بھی جو پریشانیاں سامنے آتی ہیں ان میں سر کا درد، ہڈیوںکے جوڑوں میں دکھن اور کان بجنے جیسی چیزیں بھی شامل ہیں۔ بہت سارے افراد کو بے پناہ تھکن کا تجربہ بھی ہوتاہے جبکہ یادداشت اور توجہ برقرا ررکھنے میں بھی مسائل کا سامنا رہتا ہے نیز وہ مسلسل ڈپریشن میں مبتلا رہتے ہیں۔
ایک طبی ماہر کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی مشکلات کے بعد زندگی بکھر کر رہ جاتی ہے اور بہت سارے لوگ اپنی ملازمتوں کے علاوہ گھریوں سطح پر بھی مختلف امور کے حوالے سے وہ سب کچھ نہیں کر پاتے جو کہ دراصل وہ کر سکتے ہیں۔ ان کی ازدواجی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے یہاں تک کہ جیون ساتھی ، بہترین دوستوں اور دفتر میں باس سے بھی تعلقات میں کشیدگی محسوس ہونے لگتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ متواتر ملازمتیں تبدیل کرنے لگتے ہیں ، کچھ کام چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ان کی سوچ بری طرح متاثرہوتی ہے اور تسلسل کے ساتھ تنہائی یا اکیلا پن انہیں دائمی ڈپریشن کا مریض بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جسمانی صحت، ذہنی صحت سے جڑی ہے

دانتوں کی صفائی، امراض قلب سے حفاظت!

امراض قلب کے خطرات میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے بچائو کی تراکیب اور طریقے سے بھی سامنے آرہے ۔ سائنسدانوں کو برسہا برس سے اس بات کا خدشہ تھا کہ مسوڑھوں کی بیماریاں اس وجہ سے جنم لیتی ہیں کہ دانتو ں کے گرد بیکٹریا جمع ہو جاتا ہے جس کے سبب پورے جسم میں اشتعال کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور جب ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو شریانوں میں خون کا بہائو سست پڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں امراض قلب اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین نے ان تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک آسان ساحل یہ نکالا ہے ہ دانتوں کی مکمل صفائی کا مشورہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر متواتر برش اور فلاس کا طریقہ کار استعمال کیا جاتا رہے تو اس سے ارٹ اٹیک کے خدشات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ایک مشاہدے نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ مسوڑھوں کے امراض کا علاج کران ے والے مریض یا جن کو دانتوں سے متعلق امراض لا حق ہیں اس جانب توجہ مبذول رکھیں کہ ان کا دوران خون متاثر نہ ہو۔
برٹش ہارٹ فائونڈیشن کے پرفیسر پیٹر وائز برگ کا کہناتھا کہ لوگ اپنے دانتوں کی صحت کا خود ہی خیال رکھ سکتے ہیں جن کو دانت کے معمولی در سے بھی تغافل نہیں کرنا چاہیے۔ مسوڑھوں کے امراض 41فیصدی افرادکو اپنے شکنجے میں کسے رہتے ہیں اور ماضی میں ہونے والی تحقیق اس جانب اشارہ کر چکی ہے کہ اس مرض کا براہ راست تعلق بلند درجہ ہارٹ اٹیک سے بھی ہو سکتا ہے اور کسی حد تک فالج سے بھی کیونکہ اس طرح بیکٹریاز کو دوران خون میں شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف کنیکٹی کٹ کی ایک ٹیم نے دانتوں کے امراض میں مبتلا 120افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھ کر ایک مخصوص تھراپی کے عمل سے گزارا جس میں دانتوں کی تبدیلی بھی شامل تھی۔ ابتدا ء میں تو خون کی شریانوں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بڑے گہرے مضر اثرات مرتب ہوئے مگر 6ماہ کے عرصے میں یہ افعال بہتر ی کے ساتھ معمول کے مطابق کام کرنے لگے۔ ماہرین کے مطابق اگر متواتر طورپر دانتوں کی درستگی کے ساتھ صفائی اور فلاسنگ کی جاتی رہے تو امراض قلب کے امکانات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت