umro ki aqlmandi

عمروکی عقلمندی

EjazNews

دوسرے دن جنگ کا نقارہ بج گیا اور سات دن لڑائی کرنے کے بعد امیرنے لندھور کو شکست دی۔ لندھورنے اطاعت قبول کی اور اپنے ہاں امیر کی دعوت کی۔ امیر سرداروں کے ساتھ دعوت پر گئے۔ مقبل کو اپنے خیمے کی پہرہ داری پر چھوڑا۔ مہرنگاری دو نیزوں نے آ کر مقبل کو بتایا کہ امیر کومہرنگار کا خط اور یہ شربت دینا ہے مقبل امیر کو بلا لایا۔ خیمے میں امیر گئے تو کنیزوں نے خط اور شربت دیا۔ امیرنے خط پڑھ کر شربت پیا تو شربت میں ملے زہر کے اثر سے بیہوش ہوگئے۔ انہوں نے سمجھا کہ مرگئے تو خیمے کی کیلیں نکال کے پیچھے سے چلی گئیں۔ وہاں امیر کو گئے جب دیر ہوگئی تو لندھور نے عمرو کو انعام کا لالچ دے کر بھیجا۔ عمرو آیا تو مقبل نے بتایا کہ امیر خیمے میں مہرنگار کی کنیزوں سے باتیں کررہے ہیں۔ عمرو نے کہا تم نے کیا غضب کیا۔ اپنے آقا کو مروادیا۔ یہ کہہ کر پریشان ہو کر اندر گیا۔ امیر نظر نہ آئے اور اندھیرا تھا۔ روشنی کر کے دیکھا کہ امیر کا سارا جسم کالا ہورہا ہے اور شربت کی بوتل ٹوٹی پڑی ہے۔ عمرو نے ہر طرف کنیزوں کو ڈھونڈ اگر نہ پایا تب خیمے کی کیلیں اکڑی ہوئی دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس راستے سے گئی ہوں گی۔ اس راستے سے دوڑا راستے میں انہیں پا کر ان کو مار ڈالا اور واپس مقبل کو بلایا اور کہا تمہارے ہوتے ہوئے امیر کی یہ حالت ہوئی،مقبل نے جوامیر کی حالت دیکھی تو سر پیٹے گا۔ عمرو نے کہا۔ چپ رہو کسی کو اس بات کی خبرنہیں ہونی چاہئے۔ اب تم خیمے کی چوکیداری کرو کسی کو اندر نہ نے دو۔ اگرکسی نے امیر کو اس حالت میں دیکھ لیا اور ہندوستان کے لشکر کو خبر ہوئی تو وہ اطاعت سے پھر جائیں گے اس کے لئے پہلے میں جا کر بندوبست کرتا ہوں۔ پر امیر کے اچھا ہونے کی تدبیر کریں گے۔ یہ کہہ کرلندھور کے پاس گیا اور اس کو کہا امیر اس وقت نہ آسکیں گے۔ مجھے آپ سے اکیلے میں کچھ کہنا ہے۔ لندھور اکیلے میں عمرو کو لے گیا اور کہا۔ اب کہو عمرو نے کہا نوشیروان کے پاس سے ایک سردار آیا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے امور کی اطاعت پر اعتبار نہیں۔ اب میرا مشورہ یہ ہے کہ ہم آپ کو کچھ دنوں تک قید کر لیتے ہیں اگر آپ کو یہ منظور ہے تو اپنے سرداروں کو سمجھا کر میرے ساتھ چلئے لندھور نے اپنے سرداروں سے کہا کہ میں امیر کے لشکر میں جارہا ہوں۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے تم ان کے ساتھ لڑنا نہیں اور نہ ان کی بے ادبی کرنا۔ یہ کہہ کر لندھور
اپنے ہاتھی پر چڑھ کر عمرو کے ساتھ آ گیا۔
یہاں عمرو نے لندھور کو کھانا کھلایا اور پانی میں بیہوشی کی دوا ملا کر پلا دیا لندھور بیہوش ہوگیا تو اس کو زنجیریں پہنا کر ایک صندوق میں بند کر دیا۔ پھر تیر چلانے والوں کو پہاڑ پر بٹھایا اور کہا لشکر کی حفاظت کرنا اب وہ کسی ایسے قلعہ کوڈھونڈنے نکلا  امیر کو رکھا جائے اور ان کا علاج کرایا جائے۔ اسی لئے جارہا تھا کہ دو آدمی گھوڑوں پر آتے نظر آئے وہ ایک پیڑ کے پیچھے جا کر چھپ گیا۔ وہ سواری وہیں آکر کھڑے ہو گئے اور آپس میں کہنے لگے عمرو نہیں ہے۔ اس کے بعد کہنے لگے۔
اے عمرو! حضرت ابراہیم کا کہنا جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ سامنے آجاو اور پریشان مت ہو عمرو نے حضرت ابراہیم کا نام سنا تو فورا نکل کر ان دونوں کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ انہوں نے کہا ہم ہندوستان کے بادشاہ شاہ پال کے بیٹے صابر اور صبور ہیں۔ ہم کو حضرت ابراہیم نے خواب میں تمہارا نام اور پتا بتا کر بھیجا ہے۔ آپ ہمارے قلعہ میں امیر کو لے آئیں۔ وہیں پر ان کو صحت ہوگی عمروبین کر بہت خوش ہوا۔ ان دونوں کو
لے کر آیا اور امیر کوسوار کرا کے صابر اورصبور کے قلعے میں لے آیا۔ عمرو اپنے سارے لشکر کو قلعہ میں لے آیا۔ تیر چلانے والوں کو برچیوں پر بیٹھا دیا اور چوکس رہنے کا حکم دیا۔ سارے انتظام کرنے کے بعد واپس آیا۔
اب عمرونے صابر اور صبور سے پوچھا کہ کوئی حکیم ہے تو بتائیں جو امیر کا علاج کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا علاج صرف حکیم اقلیموں کر سکتے ہیں۔ عمرو نے کہا وہ حکیم کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا یہاں سے دس دن کی راہ پر ایک جزیرہ ہے جسے نارون کہتے ہیں۔ وہاں ایک بہت اچھے حکیم رہتے ہیں۔ ہم ان کے نام تمہیں
لکھ دیتے ہیں تم ان کو لے آو۔ وہ امیر کا علاج کرلیں گے اور امیر ان کے علاج سے ٹھیک ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایک آدمی بھی عمرو کے ساتھ کر دیا جس کا نام داراب تھا اور وہ راستے کو اچھی طرح جانتا تھا۔
عمرو نے سوچا دس دن جانے میں اور دس دن آنے میں لگیں گے پانچ دن حکیم جی کی تیاری میں لگیں گے تو پچیس دن ہوگئے۔ پچیسں دن تک امیر کیسے زندہ رہیں
گے۔ پھر سوچا جانا ضرور ہے۔ کوشش تو انسان کو کرنا چاہئے۔ کوشش کو کامیاب کرنے والا خدا ہے۔ عمرو نے خط لیا اور داراب کو ساتھ لے کر چلا تو داراب نے کہا اے عمرو کسی سواری کا انتظام کرنا چاہیئے کیونکہ راستہ بہت دور ہے‘عمرو نے کہا ہاں جانا تو دور ہے۔ اگر تمہیں سواری چاہئے تھی تو گھر سے کیوں نکلے۔ میں تو عیار پیشہ ہوں اور پیدل چلتا ہوں۔ مجھے سواری سے کیا کام۔ داراب نے کہا۔ میں نے تمہیں انجان سمجھ کر سواری کے لئے کہا۔ معاف کرنا عمرو نے کہا۔ کوئی بات نہیں۔ کچھ دیر اسی تک چلتے رہے تو عمرونے سوچا اگر داراب کے ساتھ چلتا رہا تو وہ دس دن میں پہنچے گا۔ اکیلا ہی چلنا چاہئے۔ یہ سوچ کے ایک درخت کے نیچے آ کر کھڑا ہوگیا اور داراب سے کہا۔آو کچھ کھالیں۔ دونوں کباب روٹی کھانے لگے۔ عمرو کھاتے ہوئے اس سے پوچھا جاتا کہ آگے کون کون سی بستی ہے اور کیسے کیسے دریا آئیں گے۔ اس نے کہا اب آگے نہ کوئی پہاڑ ہے، نہ دریا، نہ تالاب، کچھ نہیں ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے جب وہ جزیہ قریب آئے گا تو راستے میں دائیں طرف ایک گاوں ملے گا اس کے اندر جائیں گے۔ ایک دن تک چلنے کے بعد ایک دریا ملے گا۔ اس دریا کے پار جزیرہ ہے اور وہاں ملاح رہتے ہیں۔ ان ملاحوں کو کچھ دے کر کشتی پر چڑھ جائیں گے اور پار اتریں گے-تو حکیم اقلیموں کا پتہ پوچھ کر ان کے پاس چلے جائیں گے۔ عمرونے پتہ یاد کر لیا۔ کباب میں بے ہوشی کی دوا ملادی اس نے جیسے ہی بیہوشی والا کباب کھایا تو بیہوش ہو گیا۔ اسے درخت سے باندھا اور تیز قدموں سے چل پڑا۔ اس کا مقابلہ چلے اور دوڑنے میں کوئی کسر نہیں سکتا تھا۔
شام کا وقت قریب تھا کہ عمرو دریا کے کنارے پہنچا اور دیکھا کہ کشتی سواریوں سے بھری ہوئی جارہی ہے اور کنارے سے دس پندرہ قدم دور ہوچکی ہے۔ اس نے چھلانگ لگائی اور کشتی میں جا پہنچا۔ لوگ حیران ہوئے کہ یہ کہاں سے آ گیا کیا آسمان سے اترا ہے۔ جب کنارہ تیسں گز رہ گیا تو یہ چھلانگ لگا کے کنارے پر جا پہنچا۔ وہاں جا کے ایک ہندوستانی کی صورت بنائی اور بستی کی طرف چلا۔ بستی میں دیکھا کہ ہر طرف روشنی ہو رہی ہے اور سودا بک رہا ہے۔ ایک آدمی سے پوچھا۔ ”

حکیم اقلیموں کا مکان کونسا ہے۔ اس نے کہا۔ اس بستی کے حاکم وہی ہیں۔ وہ بڑا سا دروازہ جہاں بہت سے لوگ بیٹھے ہیں انہیں کا گھر ہے۔ عمرو نے اس دروازے کے باہر جا کر لوگوں سے کہا۔ حکیم صاحب کو جا کر بتاوکہ ایک قاصد صابر اورصبور کے پاس سے آیا
ہے۔ لوگوں نے جا کر حکیم صاحب کو بتایا۔ انہوں نے عمرو کو اندر بلوالیا اور وہ خط لیا۔ خط میں لکھا تھا۔ آپ جلد آ جائیں۔ اگر امیر کو شفا ہوئی تو یہ بہت دولت دیں گے۔ یہ پڑھ کر حکیم بہت ناخوش ہوا اور کہا یہ لکھا ہوتا تو میں ضرور چلتا۔ لیکن اگر اب جاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ لالچ کے مارے گیا ہے۔ میں بے پرواہ آدمی ہوں۔ دولت کی مجھے پرواہ نہیں ہے۔ جا کر کہہ دو کہ میں نہیں آوں گا عمرو نے کہا۔ ان سے قصور ہوا۔ آپ ان کی غلطی معاف کردیں۔ کچھ خیال نہ کریں اور تشریف لے چلیں، حکیم نے کہا اے بے وقوف تو کیوں درمیان میں بولتا ہے۔ مجھے اس سے کیا جو میں نے کہا ہے جا کر کہہ دے۔ بات ختم عمرو کچھ کہنا چاہتا تھا کہ حکیم نے اپنے غلاموں سے کہا اسے گردن سے پکڑ کر باہر نکال دو غلام چاروں طرف سے دوڑے کہ عمرو کونکال باہر کریں۔ عمرو نے دیکھا کہ کام پڑ گیا ہے تو حکیم کی منتیں کرنے لگا کہ حکیم صاحب میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں۔ اب رات بھی ہوگئی ہے اتنا راستہ
پر چلنا ہے۔ میں تھکا ہوا ہوں چل سکوں گا اگر آپ مجھ پر رحم کریں اور رات کو نہیں رہنے دیں تو رات آرام کر کے چلا جاوں گا۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ مجھے رات نہیں رہنے دیں۔ حکیم کو اس پر ترس آگیا۔ اس نے غلام سے کہا اسے باورچی خانہ میں لے جا کر کھلا اور وہیں سلادے۔
عمرونے باورچی خانہ میں جا کر کھانا کھایا اور دیکھا کہ حکیم کے ناشتے کے لئے باورچی نہاری تیار کر رہا ہے۔ عمرو اس کے ساتھ بیٹھ کے اسے مزیدار باتیں سنانے لگا۔ باتیں کرتے ہوئے اس نے بیہوشی کے لڈو اس کو کھلا دینے اور باتیں کرتا رہا۔ جیسے ہی وہ بیہوش ہوا تو عمرونے ایک گڑھا کھود کر اسے اس میں گاڑ دیا اور آپ اس کی شکل بنا کے کھانا پکانے لگا۔ رات گزری میں ہوئی تو حکیم نے کھانا مانگا۔ عمرو نے تمام کھانوں میں بے ہوشی کی دوا ڈالی اور کھانا شاگردوں کے ساتھ اٹھا کر لے گیا اور حکیم کے آگے لگا دیا۔ حکیم نے پہلے اور پھر غلاموں نے کھانا کھایا۔ تھوڑی دیر بعد سب بیہوش ہو گئے۔

عمرو نےچادر بچھائی اس پر حکیم کو لٹایا- اس کے کمرے کا سب سامان، کتابیں اور جو کچھ رکھا تھا سب حکیم کے ساتھ رکھ دیا گٹھری بنائی ایک کاغذ پر لکھا کہ اسے سامان کے ساتھ دریا کے پار پہنچادو۔ اس پرحکیم کی مہر لگائی گٹھری کو پیٹ پر باندھا اور چل پڑا۔ دریا کے کنارے آ کر اجازت کا کاغذ ملاح کر دیا۔ ملاح نے اسی وقت دریا پارکرا دیا۔ عمروہوا کی طرح چلتا ہواوہاں پہنچا جہاں داراب کو درخت کے ساتھ باندھ کر گیا تھا۔ داراب کو کھولا اسے ہوش میں لایا جیسے ہی اس کی آنکھ کھلی تو عمرو کی طرف دیکھ کر کہنے لگا۔ بہت دیر ہوگئی۔ جلدی چلو جزیرہ نارون کو جانا ہے۔ عمرو نے کہا۔ اب نہیں جانا، میں حکیم کو لے آیا ہوں۔ وہ بہت حیران ہوا اور عمرو کے قدموں پر گر گیا اور کہنے لگا۔ میں آپ کو اپنا استاد مانتا ہوں۔ اب دونوں مل کر چلے جب قلعہ میں پہنچے تو صابر وصبور کوعمرو نے بتایا کہ میں کسی ترکیب سے حکیم کو لایا ہوں۔ دونوں خوش ہوئے۔
عمرو نے ایک کمرے میں حکیم کے ہاں سے لایا ہوا سامان سجادیا اور حکیم کو ہوش میں لانے لگا۔ جیسے ہی حکیم کو ہوش آیا تو عمرواس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اور کہا۔ حکیم صاحب!صابر اور صبور آپ کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ آپ چلئے سن کر حکیم کو بہت غصہ آیا اور زور سے پکارا ارے کوئی ہے جو اس بے ادب کو مارکر نکال دے۔ وہ پکارتا رہا مگر کوئی آیا کسی نے جواب دیا۔ اب جو اس نے غور سے
دیکھا تو یہ اس کا اپنا گھر نہیں بلکہ کوئی اور جگہ ہے۔ صابر اورصبور نے آکراسے عمرو کے بارے میں بتایا تو وہ بہت حیران ہوا۔ اس نے کہا تم تو بہت کمال والے ہو کہ مجھے اتنی جلدی یہاں لے آئے۔ اگر اسی وقت اپنے بارے میں بتاتے تو میں انکار نہ کرتا اور تمہارے ساتھ چلا آتا عمرو نے کہا۔ میں اب بھی آپ کا شکرگزار ہوں۔ آپ مہربانی کر کے امیر کا علاج کریں حکیم صاحب نے حمزہ کودیکھا تو رونے لگا اور کہا حمزہ کاعلاج یہاں نہیں۔ نوشیرواں کے پاس ایک مہر ہے جسے شاہ مہرہ کہتے ہیں اگر وہ مہرہ لایا جائے تو حمزہ کا علاج ہوسکتا ہے اور نہ صرف شاہ مہرہ سےعلاج ہوگا عمرو?
نے یہ سنا تو اسے اپنی محنت ضائع ہونے کا دکھ ہوا۔ ساتھ ہی افسوس بھی ہوا کہ امیر کا علاج نہیں ہوسکتا۔
وہ روتا ہوا باہر آیا۔ یہاں آ کر سوچا علاج تو ہے۔ مدائن جا کر مہرہ لانا چاہئے۔ سوچتے ہی وہ مردان کی طرف جانے کے لئے قلعہ سے باہر آیا۔ وہاں مقبل کھڑا تھا۔ اس نے عمرو سے کہا۔ کہ حکیم نے کیا کہا عمرو نے کہا۔ اے مقبل کیا بتاوں، اتنی محنت سے حکیم صاحب کو لایا اب وہ کہتا ہے کہ ان سے شاہ مہرہ آئے تو امیر کا زہر اترے۔اب مدائن یہاں تو نہیں ہے۔ وہاں جانا پڑے گا، مقبل چپ ہوگیا۔ جب عمرو آگے بڑھا تو مقبل نے کہا اگر مدائن جاو تو شہر کے دروازے کے پاس ایک
بڑھیارہتی ہے، اسے میرا سلام کہنا عمرو کو یہ سن کر بہت غصہ آیا کہ ادھر امیر کی جان پر بنی ہے اور اسے سلاموں کی پڑی ہے۔ مقبل کے برابر آیا اور اس کے سر پراپنی لکڑی ماری تو مقبل کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا مقبل نے جب مار کھائی تو کہا۔ ناراض
کیوں ہوتے ہو، شاہ مہرہ یہیں ہے۔ عمرو نے کہا۔ تیری موت آئی ہے کہ مجھے بہانے بنا کے جانے سے روکتا ہے مقبل نے کہا۔ حمزہ کے سر کی قسم میں ٹھیک کہتا ہوں۔ بزرجمہر نے میرے سامنے مہرہ امیرکی ران میں رکھا تھا۔ عمرو مقبل کو مارنے پر بہت شرمندہ ہوا۔ کہنے لگا۔ غصے کی وجہ سے میں تمہیں مار بیٹھا۔ مجھے معاف کردو اور اسے گلے سے لگالیا مقبل نے کہا۔ میں سمجھتا ہوں۔ امیر کی محبت میں تم نے ایسا کیا
اب عمرو حکیم کے پاس آیا۔ حکیم نے اسے دیکھتے ہی کہا۔ اے عمرو! ابھی تک یہیں ہو۔ شاہ مہرہ کب لاوگے۔عمرو نے جواب دیا میں لے آیا ہوں، حلیم نے کہا۔ ہاں بھئی، سات پیغمبروں کے نوازے ہوئے ہو تم کچھ بھی کر سکتے ہو۔ لے آئے ہوئے تو کہاں ہے عمرو نے کہا۔ امیر کی ران میں حکیم نے دیکھا تو امیر کا سارا جسم کالا ہو رہا تھا مگر جہاں شاہ مہرہ تھا وہاں کارنگ اصلی تھا۔ پر کھ کرحکیم بہت خوش ہوا اور چاندی کے استرے سے ران چیر کر مہرہ نکالا اور دیکھتے ہی کہنے لگا ”ہاں، شاہ مہرہ ہی ہے۔ اس کی وجہ سے امیر زندہ ہیں ورنہ چار دن میں تو کام ختم تھااب دودھ منگوا“۔ دودھ منگوایا گیا اور کٹی کوٹےدودھ سے بھر کر رکھے گئے۔
اس شاہ مہرہ میں ایک سوراخ تھا۔ حکیم نے اس سوراخ میں ریشمی دھاگا ڈالا۔ دھاگے کو ہاتھ میں پکڑا اورشاہ مہرہ کوامیر کے حلق میں اتارا۔ تھوڑی دیر بعد باہر نکال کر دودھ میں ڈالا تو دودھ فالودہ کی طرح جم گیا۔ پھر اس نے اسی طرح مہرہ کوامیر کے حلق میں ڈال کر تھوڑی دیر بعد نکال کر دودھ میں ڈالا تو دودھ فالودہ کی طرح جم گیا۔ اسی طرح پانچ مرتبہ دودھ جم گیا۔ چھٹی مرتبہ کم اثر ہوا۔ حکیم بہت خوش ہوا۔ حکیم نے ایک کتا منگوایا۔ کتے کو دودھ پلایا تو وہ پیتے ہی مر گیا۔ حکیم نے کہا کچھ اور کتے لے آئے۔ حکیم نے مہرہ امیر کے حلق میں ڈالا اور نکال کر دودھ میں ڈالا اور اس دودھ کو کتے کو پلایا تو وہ کتا بھی مرگیا۔اب حکیم اسی طرح کتوں کو دودھ پلاتے رہے اور کتے مرتے گئے۔ جب کتوں کا مرنا بند ہوا تو دو تین مرتبہ مہرہ دودھ میں اور بدلا گیا تو امیر کو چھینک آئی اور انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ سب بہت خوش ہوئے۔
حکیم نے امیر کوگرم چادریں اوڑھائیں کہ پسینا آئے گا اور گائے کے دودھ میں مصری اور گلاب ڈال کر شربت بنا کر امیر کو پلایا۔ حکیم نے سب کو منع کیا کہ امیر کے سامنے زہر کا نام کوئی نہ لے دوسرے دن امیر نے کھانا مانگا۔ امیر کو شوربہ کھلایا گیا اور وہ تکیہ سے لگ کر بیٹھے اور کہا لندھور کہاں ہے اور یہ کون ہے اور میں بیمار کی طرح کیوں ہوں عمرو نے کہا۔ سب حاضر ہیں۔ یہ حکیم ہیں راستے کی تھکن کی وجہ سے آپ بیمار ہو گئے تھے ان کے علاج سے آپ ٹھیک ہوئے۔ کہا۔ ”جاو، ہمارے سرداروں کو لے آ۔
عمرو جا کر ان کو بلا لایا، سب نے سلام کیا اور دعادی اور اپنی حیثیت کے مطابق امیر پر پیسے وارے
۔پہلوان عادی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ان بد زاتوں نے امیرکوز ہردیا لیکن خدانے فضل و کرم کیا۔ زہر کانام سنتے ہی امیر کانپ گئے اور پسینہ پسینے ہو گئے۔ عمرو نے عادی سے کہا۔ اس وقت زہر کا نام کیوں لیا حکیم نے کہا اسے کچھ نہ کہو، اس کی اس بات سے امیر کو پسینہ آ گیا۔ ان کے حق میں اچھا ہوا۔ امیر اٹھ کر بیٹھے اور عمرو کو کہا لندھور کو بلا لاو کہ اس کو دیکھنے کو دل کرتا ہے۔
عمرونے جا کر صندوق کھولا۔ لندھور کی زنجیریں ہٹائیں اور اسے ہوش میں لے آیا اور اس سے کہا۔ ”امیر نے بلایا ہے لندھور نے کہا۔ وہ جونوشیرواں کے پاس
سے آیا تھاوہ ہے یا گیا عمرو نے کہا وہ بات فلم تھی۔ امیر کو دشمنوں نے زہر دیا تھا اور میں نے اس ڈر سے آپ کو قید کیا تھا کہ کہیں پھر نہ جائیں۔ امیر کو اس بات کی خبر نہیں ہے اگر وہ سنیں گے تو مجھ پر بہت ناراض ہوں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ امیر کو نہیں بتائیں گے لندھور نے کہا بھلا تمہاری شکایت امیر سے کیوں کروںاب اس نے نہا کے دوسرے کپڑے بدلے اور عمرو کے ساتھ امیر کے پاس گیا۔ امیر نے کہا بھائی بہت دیر لگادی، کہاں تھےلندھور نے کہا۔ لشکر میں تھا اور اس سے باتیں کرنے لگے۔
عمرو نے صابر صبور کو لا کر امیر کی ان سے ملاقات کرائی۔ امیر نے پوچھا۔ کون ہیں۔ عمرو نے بتایا یہ شاہ پال ہندی کے بیٹے ہیں۔ ان کی وجہ سے خدانے
آپ کو آرام دیا ہے۔ ورنہ بہت مشکل ہوئی تھی۔ امیر سب سے مل کر خوش ہوئے اور ایران واپس جانے کا ارادہ کیا۔ لندھور بھی ساتھ ہو لیا اور حکیم بھی ساتھ تھا۔ کچھ دنوں بعد ایک پہاڑ کے دامن میں آ کر اترے۔ اور کہا یہ بہت اچھی جگہ ہے یہاں چار پانچ دن ٹھریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیر چکما کھا گیا
کیٹاگری میں : بچے