women_eage

بہتر سے بہتر کی تلاش میں شادی کی عمر گنواتی لڑکیاں

EjazNews

زائد العمر لیکن غیر شادی شدہ لڑکیوں کے جذبات و احساسات کو سمجھنا ایک عام سی بات نہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سی چیزوں کو شرم و حیا کی چادر میں لپیٹ کر بالکل نظرانداز کر دیا جاتا ہے جیسے شتر مرغ اپنی گردن ریت میں چھپا کر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے سر سے خطرہ ٹل گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں پھنسی ہوئی لڑکیاں بعض صورتوں میں غلط راہ اپناتی ہیں ۔ متبادل راستے ڈھونڈتی ہیں یا پھر خاندانی اور ذاتی شرافت پر قربان ہو کر ذہنی اور جسمانی امراض میں مبتلا ہو جاتی ہیں ۔

شادی کے بارے میں ہمارے یہاں ہی نہیں مغربی معاشرے میں بھی بڑے متضاد خیالات پائے جاتے ہیں ۔ شادی کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں بھی اور ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بھی لیکن یہ بات پانی جگہ ایک اٹل حقیقت رکھتی ہے کہ یہ سو فیصدی قسمت کا کھیل ہے جس میں کوئی کامیاب رہتا ہے اور کوئی ناکام، کوئی اس کے شکنجے میں جلد جکڑا جاتا ہے اور کوئی تاخیر سے اور کسی کو اس تجربے سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ مشرقی معاشرے میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کو زیادہ گھمبیر صورتحال درپیش رہتی ہے جو کہ بڑھتی ہوئی عمر یا گزرتی جوانی کے خوف میں تو مبتلا رہتی ہیں لیکن معاشرے میں رہتے ہوئے انہیں بعض دوسری الجھنوں سے بھی دامن چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اور جب وہ عمر کے ایک ایسے حصے میں اخل ہوتی ہیں جہاں 30کا ہندسہ 40کا ہندسے کی طرف بڑھنے لگتا ہے تو عام زندگی کی تمام تر کامیابیاں شادی شدہ نہ ہونے کے المیہ پر حاوی ہونے میںناکام رہتی ہیں۔ شادی نہ ہونے کی وجوہات خواہ کچھ بھی رہی ہوں لیکن ایسی خواتین ایک کسک سی دل میں لئے پھرتی ہیں اور کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا ہے۔ یہاں تک کہ والدین بھی اپنی کوششیں ترک کر کے اسے بیٹی کی تقدیر مان لیتے ہیں اور یہ فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ آخر وہ بھی ایک انسان ہے جس کے پاس سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور جذبات بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میراشوہرکھل کر نہیں رہتا ہے- کا بہترین علاج

بعض واقعات ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں کے دفتر کے ساتھی یہاں تک باس بھی شام گزارنے کی دعوت دینے میں نہیں ہچکچاتے اور ایسی حرکات سے بھی باز نہیں رہتے جنہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے لیکن کوئی مستقل طورپر ہاتھ پکڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔ خاص حدتک خوش شکل بلکہ جسمانی اعتبار سے خوبصورت خاتون کبھی دین کی طرف راغب ہو کر سکون تلاش کرتی ہے اور کبھی سنجیدگی سے ملازمت چھوڑنے کا ارادہ لیکن کوئی فیصلہ نہیں کر پاتی، ایسی معلق زندگی گزارنے مجبور ہے۔ جہاں اس کا اپنا آپ ختم ہو چکا ہے بس وہ دوسروں کی خوشی اور فرائض کی ادائیگی کے لئے جی رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف طرح کی ذہنی اور جسمانی مشکلات سے دو چار خاتون کو جس حقیقی اور روحانی خوشی کی ضرورت ہے وہ اس سے یکسر محروم ہے ۔ ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی یا خاتون کا ان احساسات پر بات کرنا خاصا معیوب سمجھا جاتا ہے اور ظاہر ہے اس بارے میں کھل کربات نہیں ہو سکتی لیکن اس سنجیدہ اور حساس موضوع پر کچھ کہے بغیر بھی نہیں رہا جاسکتا۔ڈھلتی عمر کی یہ خواتین کسی وجہ یا وجہ کے بغیر اپنی زندگی کو اس روایتی ڈھب پر لانے میں کیوں ناکام ہیں جس کا تعین اکثریت کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مائیکروویو اوون کے فوائد سے زیادہ نقصانات ہیں

بہتر سے بہتر کی تلاش بھی بعض اوقات بڑے مسائل پیدا کر دیتی ہے اور یہ مسائل آگے چل کر ریڈی میڈفیملی کی چوائس کی جانب بڑھتا ہے اور یہ بڑھتی ہوئی عمر کی لڑکی اور اس کے خاندان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ بہتر سے بہتر کی تلاش جاری رکھنا چاہتے ہیں یا پھر بیٹی کو ایک ریڈی میڈ فیملی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کے مسائل میں بڑھتی ہوئی عمر کی لڑکیاں ہمیں ڈھونڈنا نہیں پڑیں گی عام نظر آجائیں گی ۔ لیکن سب سے اہم مسئلہ ان کے مسائل کا ہے جو ہمارے معاشرے میں خاص توجہ مانگ رہے ہیں۔
راشدہ