Lahore-Forest

1883-84میں لاہور کے جنگلات اور مویشی

EjazNews

جنگلات
محکمہ جنگلات کے مسٹرلیمر چند نے ضلع کے جنگلات کے بارے میں درج ذیل معلومات بہم پہنچائی ہیں:
ضلع لاہور میں 269096 ایکڑ رقے (421.50 مربع میل) پر جنگلات موجود ہیں جو پورے ضلع کے کل رقبے کا 11.36 فیصد ہیں۔ ان میں 78 رکھوں کا234119 ایکڑ رقبہ ( 365.81 مربع میل کل رقبے کا تقریبا دس فیصد) محکمہ جنگلات اور باقی رقبہ ضلعی حکام کے کنٹرول میں ہے۔ زیادہ تر جنگلات 1869ء اور 1873ء کی درمیانی مدت میں محکمہ جنگلات کی تحویل میں آنے ضلع میں صرف دس رکھ، جن کا رقبہ 22514 ایکڑ ( 35.17 مربع میل) ہے، ریزرو جنگلات ہیں جو ضلع کے کل جنگلات کا8.37 فیصد ہیں۔
116 میں سے 90 رکھ، جن کا رقبہ 188611 ایکڑ ہے، راوی اور بیاس کے درمیان لاہور اور چونیاں کی تحصیلوں میں ملتان جانے والی ریلوے لائن کے کنارے پر اور80360 ایکڑ رقبے پر محیط باقی 29 جنگلات تحصیل شرقپور میں راوی کے دائیں کنارے پر واقع ہیں۔

جنگلات کی تحصیل وارتقسیم یہ ہے۔
تحصیل چونیاں 42 رکھ 141262ایکڑ
لاہور 40 رکھ 44125ایکڑ
تصور 6 رکھ 7683 ایکڑ
شرقپور 28 رکھ 76026
میزان 116 رکھ 269096ایکڑ

چونیاں تحصیل میں72614 ایکڑ رقبے پرمشتمل ایک قطع کے سوا باقی تمام جنگلات منتشر صورت میں ہیں تحصیل چونیاں کی رکھ گوڈیاں میں مہنت دھیان داس کو اپنی زندگی میں مویشی چرانے اورلنگر کے لیے لکڑیاں کاٹنے کا حق حاصل ہے۔ بعض جنگلات فوج کی چراگاہوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے سوا کسی اورجنگل میں کسی کو کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ جنگلات عام طور پر بار کی زمینوں میں ہیں۔ کل جنگلات میں38887 ایکڑ یا 14فیصد سیلا بہ جبکہ 13845 ایکڑ یا5.14 فیصد حصے پر درخت لگائے گئے ہیں۔
چونیاں، لاہور اور شرقپور تحصیلوں کی بارشوں کی زمین پرکلراورزیر زمین کنکر موجود ہیں البتہ بعض جنگلات کی زمینیں میرا اورروہی ہیں ۔ شرقپور تحصیل میں جہاں بیشتر رقبہ بارشوں کے موسم میں نالہ ڈیک سے زیرآب آجاتا ہے، بہت زیادہ کلر ہے اورزمین کے اوپرکلر کی سفید تہہ بھی جمی ہوئی ہے۔ بار رکھوں میں زیرزمین پانی کی 40سے 60 فٹ جبکہ سیلا به زمین میں 10 سے 20 فٹ ہے۔ شجر کاری کے لیے مخصوص 1200 ایکڑ رقبے اور فوج کی گھاس کی چراگاہوں کے مختص 9521ایکڑ اراضی کے سوامحکمہ جنگلات کے تمام جنگلوں میں سارا سال مویشی چرانے کی اجازت ہے۔ اس طرح جنگلات کے صرف پانچ فیصد رقبے میں مویشی چرانے کی ممانعت ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں ان جنگلات میں74672 مویشی گھاس چرتے رہے ہیں۔
سیلابہ اور بار زمینوں میں اگنے والی گھاس کی اقسام درج ذیل ہیں:
ا۔ ڈب ۲- چمبر ۳- لونک ۴- دب ۵۔ کھمبل۶۔ مرک ۷۔ کھوی ۸-کانا ۔ ۹۔پنی ۱۰۔ سواتک
مویشیوں کے لیے سب سے عمدہ گھاس دب،چمبر، کھبل اورسوانک ہیں جو صرف میرا روہی اورسیلابہ زمینوں میں اگتے ہیں۔ سوانک زیادہ تحصیل شرقپوراور بارش کے موسم میں نالہ ڈیک سے زیر آب آنے والے زریں علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔ سبز سوانک مویشیوں کی من پسند خوراک ہے اور جب یہ پک جاتا ہے تو اس کے بیجوں کوجمع کر کے خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندو پورا سال ہجرت کے دوران اسے کھاتے ہیں۔ کانے سے چکیں اور کرسیاں بنائی جاتی ہیں جبکہ منج گھاس کنوئوں میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  موریا خاندان

رکھوں میں اگنے والے درختوں میں جنڈ، پھلا، ہورا کریل فراش، بیز (چھوٹی قسم) پیلواوروہی میں ستوشامل ہیں جبکہ قریبی سیلابہ زمینوں میں میرا اورروہی میں سسو،توت اورکیکر پیدا ہوتے ہیں۔ بار کی زمینوں میں لکڑی کی اوسط پیداوار150سے 200 مکعب فٹ فی ایکڑ ہے۔ اس کے برعکس چھانگا مانگا اور سیلابہ زمینوں میں یہ پیداوار1500 سے 2500 مکعب فٹ فی ایکڑ ہے۔ فی سو مکعب فٹ لکڑی کی قیمت فروخت تین سے سات روپے کے درمیان ہے۔ سندھ، پنجاب اور دہلی ریلوے میں اس کی خاصی مانگ ہے۔ لکڑی لاہور کی منڈی میں بھی فروخت ہوتی ہے۔
مویشی:
کسانوں کے لیے سب سے اہم جانور نیل گائے اور بھینس ہے۔ سینگوں والے یہ مویشی کھیتی باڑی میں بے حد معاون ہیں اور ہل چلانے آبپاشی اور اناج بھوسے سے الگ کرنے کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ گائے اور بھینس زمیندارکوگھی اورمکھن فراہم کرتے ہیں جس کی فاضل مقدار بازار میں فروخت کردی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زمیندار اپنے استعمال کے لیے دودھ ان مویشیوں سے حاصل کرتے ہیں جس کے بغیر وہ محنت شاقہ نہیں کر سکتے، خاص طور پر جٹ تو دودھ کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بھینس گرمی میں ہل نہیں چلاسکتی اس لیے ہل چلانے کے لیے بیلوں سے کام لیا جاتا ہے ۔ ضلع لاہور میں چونیاں کے ماجھا کے علاوہ قصور اور لاہور میں زیادہ مویشی پالے جاتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں بہت زیادہ رکھیں ہیں۔ چونکہ ان کی مانگ بہت زیادہ ہے اس لیے حصار، سرا اور منٹگمری سے مویشی بڑی تعداد میں درآمد کیے جاتے ہیں۔ مویشیوں کے بیوپاری زمینداروں کو مویشی ادھار دے دیتے ہیں لیکن ان کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود بیوپاریوں اورزمینداروں کے درمیان کبھی کوئی تنازع نہیں ہوتا جس سے ان کے خوشگوار تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ہندوستان سے بیوپاری مویشی خریدنے کے لیے لاہور آتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ایک یا دو سال کی عمر کے مویشی گوجرانوالہ اور بار سے خریدتے ہیں اور یہ مویشی چراگاہوں سے گزرتے نظر آتے ہیں۔ ایک بیل کی قیمت 15 روپے سے لے کر 80 روپے تک ہے۔ اچھے بیل کی قیمت ایک سو روپے بھی ہے۔ گاۓ10 روپے سے لے کر ساٹھ ستر روپے میں ملتی ہے البتہ زمیندار گائے کو مشکل سے ہی فروخت کرتے ہیں ۔ بھینس جو عام طور پر گائے سے زیادہ دودھ دیتی ہے،20 روپے سے لے کر 125 روپے کے عوض ملتی ہے جبکہ بھینسے کی قیمت 10 روپے سے 50یا40 روپے کے درمیان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈینسو ہال ایک تاریخی عمارت جو حوادث زمانہ کی زد میں ہے

بھیڑیں اور بکریاں
ضلع لاہور میں زیادہ بھیڑیں اور بکریاں نہیں پالی جاتیں البته گوجرانوالہ اور منٹگمری اضلاع کے سرحدی دیہات میں بھیڑ بکریاں پالنے کا رواج ہے۔ ان کی قیمت آٹھ آنے سے چار پانچ روپے کے درمیان ہے۔ بھیڑ بکریاں عام طور پر غیر کاشتکار طبقے پالتے ہیں اور وہ زمیندار کو بھیڑ بکریاں چرانے کی فیس ادا کرتے ہیں۔
اونٹ
ضلع لاہور کے بعض علاقوں اور بار میں اونٹ پالنے کا رواج ہے۔ ایک اونٹ 25 روپے سے 100 روپے کے عوض ملتا ہے۔ اونٹ نقل وحمل کے کام آتا ہے۔ سواری کے لیے بہترین اونٹ حصار، سرسہ اور بیکانیر سے منگوائے جاتے ہیں۔ یہ بات تعجب خیز ہے کہ انڈوں کی زیادہ قیمت کے باوجود ان کنسل کوبہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

گھوڑے
ضلع لاہورمیں گھوڑوں کی افزائش نسل کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ اشراف راوی کے علاقے کے گھوڑے کو جنہیں عرف عام میں کئی گھوڑے کہا جاتا ہے۔ بہت پسند کرتے ہیں لیکن یہ گھوڑے نسل کے اعتبار سے اعلی معیار کے نہیں۔ اس کے برعکس ستلج کے کنارے آباد ڈوگروں کے پاس بہت عمدہ گھوڑے ہیں گو انہیں اس قدر شہرت حاصل نہیں ہے۔ گھوڑوں کی قیمتوں میں موجودہ اضافے کے پیش نظر زمیندار گھوڑوں کی افزائش پر خصوصی توجہ دینے لگے ہیں جس کے نتیجے میں ضلع میں عرب نسل کے گھوڑوں کی تعدا بڑھ رہی ہے۔ اب ہر اصطبل میں تین چار گھوڑیاں نظر آنے لگی ہیں اوران کے بچے بھی پہلے کی طرح بھوک سے نہیں مرتے۔ 1879ء میں لاہور میں گھوڑوں کا پہلا شو منعقد کیا گیا۔ 11 مارچ 1879ء کو قلعے کے پاس پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا میلہ اسپاں تھا۔ اس موقع پر مالکان کو پانچ سو روپے کے انعامات دئیے گئے۔ 1881 ء تک اس سلسلے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تاآنکہ شالا مار باغ کے قریب میلے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ۔ بعد میں شالامار باغ کے دروازے کے سامنے عنایت باغ میں میلہ اسپاں منعقد کیا جانے لگا۔ اب یہاں میلہ چراغاں کے موقعے پر گھوڑوں کا میلہ لگایا جاتا ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ جگہ اور موسم اس میلے کے لیے نہایت مناسب ہے۔ اس باغ میں موجود بے شمار درخت گھوڑوں اور انسانوں کے لیے سائے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ 1883ء میں انعامات کی رقم بڑھا کر750روپے کر دی گئی۔ 1884 کے میلے کے لیے جو نوٹس جاری کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال ایک ہزارروپے کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔

ضلع لاہور میں گھوڑوں کی افزائش کے خصوصی انتظامات کی وجہ سے اب ان کا معیار بہتر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ہمسایہ ریاستوں کے بیوپاری گھوڑے کے بچھڑے خرید کر لے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں زمینداروں اور حکومت کو جو سانڈوں کی دیکھ بھال پرکثیر رقم خرچ کر رہی ہے کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک اوردوسال کے بچے خرید کر ان کی دیکھ بھال خود کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہالی وڈ میں کوئی دلچسپی نہیں: سلمان خان

1878ء میں حکومت نے لاہور میں ایک سلوتری کا تقرر کیا لیکن لوگ اس کی خدمات سے مطمئن نہ ہوئے اور اسے واپس بلا لیا گیا۔ 1881ء میں ایک اور سلوتری مقرر کیا گیا جو ضلع بھر میں سفر کر کے زمینداروں کے بچھیروں کو بلا معاوضہ خصی کرتا ہے۔ 1881ء سے لے کر اب تک وہ 80 بچھروں کوخصسی کرچکا ہے۔
گزشتہ تین برسوں میں سرکاری خدمات کے لیے 24 ریماونٹ حاصل کیے گئے ہیں۔ ضلع لاہور سے باہر کے بیوپاری کتنے بچھیرے لے گئے ہیں، اس بارے میں قطعی اعداد وشمار حاصل نہیں کیے جاسکتے البتہ یہ تعداد خاصی زیادہ ہے۔ مویشیوں کی بیماریاں سینگوں والے مویشی مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اپھارے میں زخم بن جاتے ہیں، سم بھی ناکارہ ہو جاتے ہیں اور مویشی چل پھر نہیں سکتا۔ اس کا کار بالک ایسڈ سے علاج ہو جاتا ہے۔ مقامی باشندے شراب کشید کرنے والی فیکٹری کے بیکار مواد اورٹیزیوں کے پانی سے بیمارمویشی کے سم دھوتے ہیں۔ گل گھوٹو کی بیماری سے مویشی کا گلا گھٹ جاتا ہے۔ اگر مویشی ہل یا کنواں چلانے کے فورا بعد پانی پی لے تو اسے ٹاکو یا جھولا کی بیماری لگ جاتی ہے۔ اس صورت میں مویشی کو اک یامدار کے پودے کا زہریلا دودھ اورادرک اور گڑ وغیرہ دیاجاتا ہے۔
بکریوں کی بیماریاں
بکریوں کو بھی منہ اورسم کی بیماری موکھر لگ جاتی ہے۔ اس کا علاج تارے میرے سے کیا جاتا ہے۔ بھیڑوں کو جوئیں پڑ جاتی ہیں جس پر انہیں سجی سے نہلایا جاتا ہے۔ اس بیاری سے کئی گلے تباہ ہوجاتے ہیں ۔ بکریوں کو سردی میں توبھا کی بیماری لگ جاتی ہے۔ انگلستان میں بھیڑوں کو یہ بیماریاں لاحق نہیں ہوتیں۔

گھوڑوں کی بیماریاں
گھوڑوں کو کئی بیماریاں لگ جاتی ہیں جن میں زہر باد دسب سے زیادہ ہے۔ یہ بیماری سبز چارے سے ملتی ہے جس سے اعضا سوج جاتے ہیں۔ یہ بیماری اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری کا بھلا و یا اجوائن سے علاج کیا جاتا ہے۔ کھب کی بیماری سے گلا سوج جاتا ہے اور دم گھٹ جانے سے گھوڑے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ بیماری بچھیروں پر زیادہ حملہ کرتی ہے۔ سہالو درخت کے پتوں اور گائے کے گوبر کی لیپ سے سوجن کم ہو جاتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں گھوڑا تلف ہوسکتا ہے۔ چاندنی یا جھولا سے جانورمفلوج ہو جاتا ہے۔ اس کا ہلدی سے علاج کیا جاتا ہے۔ پھیلا یا سردی لگ جانے سے بھی جانور کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ کناربھی جان لیوا مرض ہے۔ اگر گھوڑے کو خارش ہوجائے تو اس کا علاج تارا میرا کے تیل یا گندھک سے کیا جاتا ہے۔