umro ayar

عمروکی لندھور کے ساتھ شرارت

EjazNews

دوسری صبح عمرو نے امیر سے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ ہندوستان کے بادشاہ کے لشکر کا حال معلوم کروں۔ امیر نے کہا۔ ہاں چلے جائو عمرو چلا اور راستے میں تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک جگہ اپنی صورت ایک خراسانی جیسی بنائی اور ساز ہاتھ میں لے کرلشکر میں آیا اور دربار کے باہر بیٹھ کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا۔ جب دربار کے سارے لوگ جمع ہوگئے تو عمرونے اٹھ کر لوگوں سے کہا بادشاہ سے کہو کہ ایک خراسانی ساز بجانے والا نوشیرواں کے داماد کے ساتھ آیا ہے وہ آپ کے سامنے ساز بجانا چاہتا ہے۔ لوگوں نے بادشاہ کو جا کر بتلایا تو اس نے کہا۔ ”بلائو“ اسے بتایا گیا کہ بادشاہ نے بلایا ہے۔ تو اندر جا کر بادشاہ کو سلام کیا ۔ عمرو نے دیکھا کہ لندھور بادشاہ ایک جڑوا تخت پر شیر کی طرح بیٹھا ہے اور تخت کے چاروں کونوں پر زمرد کے مور بنے ہوئے ہیں ان موروں کی چونچوں میں گوہر شب چراغ نام کے لعل جڑے ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھ کر عمرو بہت خوش ہوا۔ اس نے ایسی باتیں کیں کہ بادشاہ ان کو سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے پوچھا۔ تیرا نام کیا ہے کہنے لگا۔ میرا نام بابا جلد لے جا ہے۔ لندھور اس نام کو سن کر بہت حیران ہوا۔ کہنے لگا۔ کیا نام ہے۔ ایسا نام تو ہم نے بھی نہیں سنا۔ آخراس نام کا مطلب کیا ہے۔ تم کس کو لے جاتے ہو۔ جواب دیا۔ ساز بجا کر ہوش لے جاتا ہوں۔

اس کا جواب سن کر لندھور بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا اب اپنا ساز سنا کر کمال دکھاؤ۔ عمروتخت کے سامنے بیٹھ کر ساز بجانے لگا۔ وہاں کے ساز بجانے والے بہت بگڑے کہ نیا آیا ہے اور سب سے آگے بیٹھا ہے۔ لندھور نے کہا۔” مہمان ہے۔ میں اس کا گانا اچھی طرح سننا چاہتا ہوں اس لئے آگے بڑھایا ہے۔ عمرو نے ساز بجانا شروع کیا اور جب اس کے ساتھ آواز ملا کر گانا گایا تو سب نے بہت تعریف کی۔ ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آتی تھیں۔ جب وہ سنا چکا تو لندھور نے کہا۔ اے شخص ما نگ کیا مانگتا ہے۔ خدا آپ کو سلامت رکھے آپ نے تو کمال کر دیا۔ کوئی آپ کی طرح گا نہیں سکتا، عمرو نے کہا۔ میں نے بھی آپ کی تعریف سنی آپ کو اس سے زیادہ پایا ہے۔ مجھے نوشیرواں کے داماد نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ میرے پاس ہر چیز موجود ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں۔ میں آپ کو دیکھنا چاہتا تھا خدا نے میری بی تمنا پوری کردی۔ آپ مجھ سے خوش ہوئے اور میرے جانے کے بعد بھی یاد رہیں گے۔ لندھور نے دوبارہ کہا۔ جو چاہے مانگ۔ کہنے لگا۔ اگر آپ ضد کرتے ہیں تو تھوڑی دیر مجھے شربت پلانے کی اجازت دے دیں اوردیکھیں کہ میں آپ کو کیسے خوش کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا۔ ضروراور حکم دیا کہ ہماری خاص صراحی اور پیالہ ان کے حوالے کرو۔ ساقی نے عمرو کے حوالے کردیا۔

عمرو پلانے اور گانے لگا۔ جب دو دو پیالے پلا چکا تو پیالہ بھر کے لندھور کو دیا۔ لندھور پینے لگا تو آنکھ بچا کے بادشاہ کے تخت کے کونوں پر لگے ہوئے موروں میں سے ایک مور کو اٹھا کر بغل میں دبا لیا۔ بادشاہ نے دیکھا تو کہا۔ یہ کیا کررہے ہو۔ کہنے لگا چپ رہیں ایسا نہ ہو کوئی سن لے۔ اور اس بات پر بہت زور سے ہنسا اور کہا عجیب شخص ہے۔ میری چیز چراتا ہے اور مجھے کہتا ہے چپ رہو، ایسا نہ ہو کوئی سنے۔ بھلا چیز میری ہے دوسرے کے سننے سے کیا ہوتا ہے۔ ارے تیری چوری میں بھی لطف ہے۔ جایہ چاروں مور میں نے تجھے دیئے۔ یہ سن کے عمرو بہت خوش ہوا اور موراتار کے زنبیل میں رکھے اور دوسرا پیالہ بھر کے لندھور کے ہاتھ میں دیا اور گانے بجانے لگا۔ جب دیکھا کہ سب مست ہوئے تو زنبیل میں سے بیہوشی کی دوا نکال کے شربت میں ملائی اور دو دو پیالے پلا دیئے۔ جب سب کو نشہ چڑھا تو سب کھڑے ہو کر کہنے گئے۔ دوستو ہم غوطے کھارہے ہیں کوئی سنبھالے۔ یہ کہہ کر سب زمین پرگرے اور بے ہوش ہو گئے۔
عمرونے قالین، غالیچے، چاندنیاں، فرش اورجو کچھ بھی بچھا تھا سب لپیٹا۔ سب کے کپڑے اتارے صرف پاجامے رہنے دیئے کیونکہ یہ مسلمان تھے کافروں کے تو جسم پر تو چندی بھی نہ رہنے دیتا تھا اور منہ بھی کالا کرتا تھا۔ جتنا بھی سامان اور روپے پیسا تھا سب کی گھٹڑی بنائی۔ ہر چیز زنبیل میں رکھی اور اپنے لشکر کی طرف چل دیا۔ وہاں جا کراپنے خیمے میں جا کر سورہا۔ صبح ہو کر تمام سامان پھیلایا اور تمام اول اور تمام دوم الگ الگ کرنے لگا۔ امیر نے سوچا عمروکو گئے ہوئے بہت دیر ہوگئی ہے کیوں اب تک نہیں آیا۔ انہوں نے ملازموں کو بھیجا جا کر دیکھو کہ عمرو کہاں ہے۔ لوگوں نے جا کر دیکھا کہ وہ اپنے خیمے میں بیٹھا سامان الگ الگ کر رہا ہے۔ آدمیوں نے کہا۔ امیر نے آپ کو بلایا ہے چلئے عمرو سامان رکھ کے جانے لگا تو انہوں نے کہا آپ کو سامان ساتھ لے کر چلنا ہوگا مجبور ہوکر سامان ساتھ لے آیا اور امیر کو سلام کیا۔ امیر نے کہا یہ سامان کیا ہے۔ کہنے لگا لندھور نے دیا ہے۔ امیر نے کہا۔ جھوٹ کہتے ہو۔ ایسا سامان کوئی کیوں دے گا۔ امیر نے وہ سارا سامان عادی پہلوان کو دے کر کہا کہ ہندوستان کے بادشاہ کو دے آؤ اورکہلا بھیجا کہ عمرو نے جو کوئی بے ادبی کی ہوتو بتائیں میں اسے سزا دینے کے لئے آپ کے پاس بھیج دوں گا اور اس کے علاوہ امیر نے لندھور کے لئے کچھ تحفے بھی بھیجے۔ لندهور بادشاہ اور اس کے درباری جب ہوش میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ سب ننگے ہیں اور درباربھی اجڑا پڑا ہے۔ انھوں نے کہا بابا جلد لے جا کہاں ہے اس کو لائو۔ اس وقت لندھور نے دیکھا کہ اس کے گلے میں ایک رقعہ بندھا ہوا ہے۔ رقعہ کھول کر پڑھا تو پتہ چلا کہ بابا جلدلے جا کا اصل نام عمرو ہے اور یہ کام عمرونے دکھایا ہے۔ سب نے جا کر غسل کیا۔ دربار دوبارہ لگایا گیا اور سب آ کر بیٹھے اوراس حرکت پرغور کررہے تھے کہ عیاروں نے اطلاع دی کہ نوشیرواں کے داماد نے اپنے ایک سردار کوایلچی بنا کر بھیجا ہے اوروہ لشکر میں داخل ہوگیا ہے اور کچھ ہی دیر میں یہاں آجائے گا۔ لندھور نے کہا کہ سرداراس کے استقبال کو جائیں اوراسے عزت کے ساتھ لائیں سردار گئے اورعادی پہلوان کو عزت کے ساتھ لے آئے۔ عادی نے بادشاہ کی تعظیم کی اور جولایا تھا پیش کیا۔ امیر نے جو تحفے بیجھے تھے د یئے اورامیر کا پیغام دیا۔ لندھور بہت خوش ہوا۔ عادی پہلوان کو عزت سے بٹھایا اس کو خلعت دیا۔ امیر کے بھیجے ہوئے تحفے رکھ لئے اور جو سامان عمرو لے گیا تھا وہ واپس کردیا اور کہا یہ ہماری طرف سے عمرو کو دیا اور کہا ہم نے تم کو معاف کیا۔ امیر کی خدمت میں عرض کرنا کہ میں عمرو کو دیکھنا چاہتا ہوں اسے کہئے کہ اپنی اصلی صورت میں آئے۔ یہ کہہ کرعادی پہلوان کو رخصت کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بادشاہ اور موچی صحرا میں

عادی نے امیر کو سب باتیں آکر بتائیں امیر بہت خوش ہوئے اورعمرو کوکہا کہ تمہیں بادشاہ نے بلایا ہے اور اس کا جو سامان تم لائے تھے وہ تمہیں دے دیا ہے اب ان کے پاس جاؤ، لیکن اپنی اصلی صورت میں جانا۔ عمروخوش ہو کے لندھور کے لشکر کی طرف چلا۔ راستے میں دیکھا کہ تاجروں کی ایک جماعت خوبصورت تاج کو لے کر جارہی ہے۔ اس تاج میں بڑے قیمتی جواہر جڑے ہوئے تھے اور خوب جگمگارہا تھا۔ عمروبھی ایک بوڑھے تاجر کی شکل بنا کے ان کے ساتھ چلا جب یہ سب لندھور کے پاس پہنچے تو لندھور نے ان کو اپنے پاس بلایا۔ یہ سب اندر جا کر کھڑے ہو گئے اورتاج کوایک خوان میں رکھ کر چوکی پررکھ دیا۔ بادشاہ کے جواہر خانے کا مالک آیا اس نے سوداگروں سے کہا کہ بادشاہ اس تاج کو اسی وقت سرپررکھے گا اوراس کی قیمت اورتمہاری خلعت اورانعام تمہیں دے گا۔ اس کی قیمت کے متعلق جلدی سے بتاؤ۔ باقی سب تاجر تو چپ رہے مگر عمرو نے کہا۔ بادشاہ پہلے تاج کی قیمت ادا کرے پھر سر پررکھے۔ بادشاہ نے یہ بات سنی تو کہا کیا ہے۔ کہا گیا کہ ایک تاجر یہ کہتا ہے۔ بادشاہ نے کہا۔ میں کسی کی چیزمفت نہیں لیتا۔ اس سے پوچھو کہ اس تاج میں اس کا جواہرکونسا ہے تا کہ پہلے اس کی قیمت ادا کروں، عمرو نے کہا مجھے دکھائی کم دیتا ہے۔ روشنی میں دیکھ کر بتاؤں گا۔ بادشاہ نے کہا، ہاں روشنی میں دیکھ کر بتائو۔

یہ بھی پڑھیں:  شعبدہ بازباز گل دستے والا

عمرو تاج لے کر باہر نکلا۔ باقی لوگ بھی ساتھ تھے۔ عمرو نے کہا۔ دیکھو تو آسمان پر گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لوگوں نے اوپر دیکھتے ہوئے کہا کیوں جھوٹ بول رہے ہوں گھٹا کہاں ہے۔ نیچے دیکھا تووہ نہیں ہے اور تاج لئے ہوئے میدان میں بھاگا چلا جارہا ہے۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے لیکن عمرو کوکون پکڑ سکتا تھا۔ سب نے جا کر بادشاہ سے فریاد کی۔ بادشاہ خود ہاتھی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا۔ عمرو نے دیکھا کہ بادشاہ خود پیچھے آرہا ہے تو وہ پہاڑ کے دامن کی طرف بھاگا لیکن وہاں جا کر دیکھا کہ کسی طرف راستہ نہیں ہے تو وہ حیران ہوا کہ اب کہاں جاؤں۔ اتنے میں اسے ایک چکی والے کا گھر نظر آیا۔ وہ دوڑتا ہوا چکی والے کے پاس گیا اور کہا بادشاہ نے تیرا سر کاٹنے کوفوج بھیجی ہے۔ کیونکہ اس نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر تیرے سر کے چمڑے سے جنگ کا طبل بنایا جائے تو بادشاہ کوفتح ہوگی۔ اب وہ اسی نیت سے آرہا ہے۔ وہ یہ بات سن کر بہت ڈرا اور کہنے لگا کہ میں کیسے بچ سکتا ہوں۔ عمرو نے کہا کہ تمہارے بچنے کی صرف ایک صورت ہے کہ اپنے کپڑے مجھے دے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملا نصیر الدین کی چالاکی

دو میں تمہارے کپڑے پہن کر چکی پیسوں اورتم حوض میں جا کر چھپ جاؤ۔ جب لوگ آئیں گے تو میں خود ان کو جواب دے دوں گا۔ اس نے عمرو کو بہت دعائیں دیں اور کپڑے اتارکرعمروکودیئے اورخود حوض میں اتر گیا۔ عمرو اس کے کپڑے پہن کر چکی پر بیٹھا۔جب لندھور آیا اور اس نے پوچھا کہ یہاں اس حلیئے کا آدمی آیا تھا وہ کہاں ہے۔ عمرو نے کہا۔ وہ اس حوض میں ہے لندھور نے اپنے کپڑے اتارے اورحوض میں اترا۔ عمرو نے بھاگ کر لندھور کے سب کپڑے لے لئے اور باہرآ کر کھڑی ہوئی فوج سے کہا کہ بادشاہ نے نشانی مجھے دے کر بھیجی ہے۔ مجھے دو سو روپے دے دو۔ فوج نے عمرو کو دو سو روپے دے دیئے۔ عمرودوسوروپے لے کر اپنے لشکر کی طرف چلا گیا۔ وہاں لندھور جب پانی میں اترا تواس نے چکی والے کو پکڑ لیا اور کہا باہرنکل۔ چکی والے نے پتھر مار کر اپنے سر کو زخمی کر لیا اور کہا اب اس سر کا چمڑا خراب ہوگیا ہے اور کسی کام کا نہیں کسی اور چکی والے کو ڈھونڈو۔

لندھوریہ سن کر حیران ہوا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب ساری بات اس کو پتہ چلی تو دیکھا کہ وہ نہیں ہے اور میرے کپڑے بھی غائب ہیں۔ اب وہ سمجھ گیا کہ وہی عمرو تھا، باہرآ کر پوچھا کہ کوئی آدی ادھر سے گیا ہے۔ انہوں نے کہا اورتو کوئی نہیں مگر جسے آپ نے نشانی دے کر بھیجا تھا وہ دو سوروپے لے کر گیا ہے عمرو کی اس حرکت کی وجہ سے بادشاہ کوعمرو بہت پسند آیا۔ اب بادشاہ عمرو سے ملنے کو بیتاب ہوگیا۔ بادشاہ نے دوسرا لباس منگوایا۔ اپنی فوج کو رخصت کر دیا اور دوسرا لباس پہن کر اکیلا امیر کے لشکر کی طرف چلا۔ عیاروں نے امیر کو بتایا کہ لندھورآپ سے ملنے آرہا ہے۔ امیرنے سرداروں کو استقبال کے لئے بھیجا۔ سردارلندھور کو عزت سے لے آئے۔ امیر نے اس کی تنظیم کی اور جڑائو کرسی پراپنے پاس بٹھایا اور اس کے لئے جشن کی تیاری کی۔ لندهورامیر کا اتنا اچھا سلوک دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا۔ عمرو کہاں ہے۔ میں اسے دیکھتا چاہتا ہوں۔ وہ جب بھی جاتا ہے اپنی اصلی صورت میں نہیں جاتا۔ اس کو اسی وقت بلوائے۔ امیر نے عمرو کو بلوایا۔ امیر کے پاس آکر عمرو نے سلام کیا۔ لندھور کو دیکھ کر چونکا اوران کو دعا دے کر اپنی کرسی پر جا بیٹھا۔ لندھور نے کہا۔ اے عمرو وہ تاج بھی ہم نے تم کو دے دیا۔ ہمارا دل کرتا ہے کہ اپنی اسی صورت میں ہمارے پاس آیا کرولیکن اس وقت میں بہت شوق لے کر تمہارے پاس آیا ہوں، مجھے خوش کرو عمرونے اٹھ کر گانا اور بجانا شروع کیا۔ لندھور نے عمرو کو بہت سا انعام دیا اور کہا۔ شاباش ہم نے تمہارے برابرکسی کونہیں دیکھا۔یہ فن تم پر ختم ہے۔ جب شام ہوئی تو لندھور چلا گیا۔

کیٹاگری میں : بچے