crops

1883-84میں لاہور کی پیداوار اور تقسیم

EjazNews

زراعت کے عمومی اعداد وشمار: ذیل میں ہم ضلع لاہور کے بارے میں 1869ءکی سیٹلمنٹ رپورٹ کے اعدادوشمار درج کرتے ہیں:
بنجر اراضی 331271ایکڑ ،قابل کاشت 980870ایکڑ ، زیرکاشت 1950368 ایکڑ، غیر مزروعہ رقبہ 57086ایکڑ۔
اس طرح14 فیصد اراضی بنجر 42فیصد قابل کاشت اور 44فیصد زیر کاشت ہے۔ اس وقت 8 فیصد زمین نہروں سے35فیصد کنوو¿ں سے اور 7فیصدسیلاب سے سیراب ہوتی ہے جبکہ 50فیصد اراضی بنجر ہے۔
موسم اور بارشیں:
فصلوں کی کاشت اور کٹائی کے موسموں کا ذکرہم آئندہ تحریر میں کریں گے۔ ضلع لاہور کی سب سے بڑی فصل ربیع کی ہے۔ اس فصل میں انسانوں کے لیے غلہ اور اناج پیدا ہوتا ہے جبکہ خریف کی فصل میں مویشیوں کے لیے چارہ اور دالیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس اصول کی استثنائی صورت شرقپورتحصیل میں پیدا ہونے والا چاول ہے۔ یہ ایک قیمتی فصل ہے کیونکہ زمیندار اسے نقد فصل تصور کرتے ہیں۔ طلب اور قیمت زیادہ ہونے کے بعد اسے فوری طور پر بازار میں فروخت کر دیا جا تا ہے۔
زمین کی قسمیں:
زمین کی اقسام زرعی پیداوار پر آبپاشی کے بعد سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ 1869ءکی سیٹلمنٹ رپورٹ میں زمین کی درجہ بندی اس طرح کی گئی ہے۔ گو ہیرایا گوبر کی کھاد والی زمین 8 فیصد روہی یا چکنی مٹی کی زمین جس میں نکاس شدہ پانی گرکر اسے زرخیز بنادیتا ہے8 فیصد، روہی یا چکنی مٹی7فیصد ،ٹباجیسے ہاتھ میں 77فیصد۔
آبپاشی:
میجر ویس نے1878ءکے قحط کے بارے میں جو رپورٹ مرتب کی اس میں آبپاشی کے ذرائع کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس وقت 13 فیصد زمین نہروں،24 فیصد کنووں،9فیصد سیلاب اور 54 فیصد بارش کے پانی سے سیراب ہوتی تھی۔ اس بنجر علاقے میں عمدہ فصل کاشت کرنے کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہے۔ ضلع لاہور کی 77 فیصد اراضی کاشت کے قابل ہے۔ زمین توانا اور بہتر پیداوار دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے لیکن اس کے لیے پانی ضروری ہے۔ اگر صرف بارش کے پانی پرانحصار کیا جائے تو دوسری فصل کاشت کرنے کے لیے کافی وقفہ پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ اس علاقے کے زمیندار کی سب سے زیادہ توجہ آبپاشی کے ذرائع پر مرکوز رہتی ہے۔ جن علاقوں میں پانی میٹھا اور اس کی زیر زمین سطح کے قریب ہے، وہاں زمینداروں نے اپنے سرمائے سے یاادھار رقم لے کر کنوئیں کھود لیے ہیں۔ اس کے برعکس بالائی علاقوں کے زمینداروں نے بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے زمین کھود کر نالے بنا لیے ہیں جنہیں مقامی زبان میںسوا کہتے ہیں۔ ان کی لمبائی تقریبا ایک میل ہوتی ہے۔ کھیتوں میں پانی کے بغیر ہل چلانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بارش کے پانی کے حصول اور اس کا رخ متعین کرنے کے سلسلے میں اکثر و بیشتر لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔
ضلع لاہور میں آبپاشی کے لیے کنوئیں جھلاروں،نہروں، دریاوں خاص طور پر راوی اور ستلج میں سیلاب اور ڈھینگلیوں کے ذریعے پانی حاصل کیا جاتا ہے لیکن ان ذرائع سے بہت تھوڑی زمین سیراب ہوتی ہے۔1869ءکی آبادکاری کے وقت ضلع لاہور میں کچھ اور پکے کنووں کی کل تعداد12364 تھی جبکہ 1481 کنوئیں مرمت کے بعد استعمال میں لائے جاسکتے تھے۔ اس سے پہلے کی سیٹلمنٹ کے وقت ضلع میں کنوو¿ں کی تعدا10449 تھی۔ اس وقفے کے دوران 2734 نئے کنوئیں کھودے گئے۔ ان کنووں سے 320477ایکڑ زمین سیراب کی جاتی جو اوسط 26ایکڑفی کنواں ہے۔ کنووں کی تعمیر کا کام عام طور پر معمار کرتے ہیں۔ کنوئیں کے لیے کھدائی کرنے کے بعد چھوٹی اینٹوں اور مٹی کے گارے سے اندرونی دیواریں تعمیر کی جاتی ہیں اور اس کی آخری تہہ میں لکڑی کا چیک ڈالا جاتا ہے۔ کنوئیں کی تعمیر کے اخراجات اس کی گہرائی کی مناسبت سے ایک سو سے پانچ سوروپے کے درمیان ہیں۔ ہر علاقے میں کنوئیں کی گہرائی دوسرے علاقے سے مختلف ہوتی ہے۔ ماجھے اور بار میں یہ گہرائی 50 سے 60فٹ اور دریائی وادیوں میں 20 سے 25 فٹ کے درمیان ہوتی ہے۔ کنوئیں کی تعمیر کے لیے خاصی مہارت درکار ہے۔ اس مقصد کے لیے غوطہ خوروں (چوبیوں) کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو پانی کے اندر غوطہ لگا کر کیچڑ اورمٹی کو باہر نکالتے ہیں۔ چوبوں کی اجرت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ انہیں نقد اجرت کے علاوہ کام شروع کرنے سے پہلے بکری کا گوشت کھلایا جاتا ہے۔ کام کے دوران انہیں گڑ اور گھی بڑی مقدار میں دیا جاتا ہے۔ وہ غوطہ خوری کے آلات کے بغیر طویل مدت تک پانی میں غوطہ لگاتے ہیں۔ ان کے کام کی نوعیت کا تقاضا ہے کہ انہیں عمدہ خوراک دی جائے تا کہ وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کام کر سکیں۔ ایک کنواں کھودنے کے لیے دو سے تین ماہ کی مدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی مشکل کام نہیں اور یہ بات تعجب خیز ہے کہ مزید کنوئیں کیوں نہیں کھودے جار ہے۔
دریاوں اور نہروں میں طغیانی سے زیر آب آنے والے علاقے:
1869 ءکی آبادکاری کے دوران دریاو¿ں میں طغیانی سے زیر آب آنے والے رقبے کی تعداد 65697 ایکڑ تھی۔ اس میں سے ستلج سے16712ایکٹر اور راوی 48985ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے۔ باری دوآب نہر سے72357 ایکڑ، خان واہ سے2707ایکڑ اور سوہاگ سے183 ایکڑ رقبہ سیراب ہوتا ہے۔ جن شہروں میں طغیانی آتی ہے، وہ ضلع لاہور کے انتہائی جنوب مغربی علاقے میں واقع ہیں۔ یہ نہر میں دریائے ستلج سے کٹی ہوئی ہیں اور سیلاب آنے کے بعد زیر یں زمینوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ طغیانی سے ضلع لاہور کی زمینوں کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچتا البتہ ضلع منٹگمری کو اس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔
گوبر کی کھاد اور فصلوں کا تغیر و تبدل
زیریں زمینوں میں گوبر کی کھاد ڈالی جاتی ہے۔ عام طور پر گاﺅں سے لاحق کھیتوں اور کنوں کے نزدیک یہ کھاد استعمال کی جاتی ہے۔ بہتر فصلوں مثلاً گئے اور سبزیوں کی کاشت کے لیے کھاد بے حد ضروری ہے۔ لاہور شہر کے گردونواح میں گوبر کی کھاد کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ جن کھیتوں میں کھاد ڈالی جاتی ہے وہاں کئی برسوں تک اچھی فصلیں پیدا ہوتی ہیں اور ایک سال میں کئی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ او نچی زمینوں میں، جہاں آبپاشی کا کوئی انتظام نہیں ، گوبر کی کھاد استعمال نہیں کی جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ اونچی زمینوں میں کھاد ڈالی جائے تو وہاں فصلیں جل جاتی ہیں۔
ضلع لاہور کے جن علاقوں میں کھاد استعمال کی جاتی ہے اس کی تفصیل درج ذیل گوشوارے سے ظاہر ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  دہلی کو آباد کرنے والے لوگ کیسے تھے؟
یہ اعدادوشمار 1879ءکے قحط کی رپورٹ کے صفحہ255سے لیے گئے ہیں۔

ایک ایکڑ میں اوسطا آٹھ سومن گوبر کی کھاد ڈالی جاتی ہے۔ جن کھیتوں میں کبھی کبھار کھاد ڈالی جاتی ہے وہاں گوبر کی کھاد دوسومن سالانہ کے حساب سے استعمال کی جاتی ہے۔ ہل چلا کر اورکھیت کو پانی دے کرزمین تیار کر لی جاتی ہے۔ گندم اورجو کی فصلوں کے لیے کھیت میں آٹھ مرتبہ اوردالوں کے لیے چار مرتبہ ہل چلائی جاتی ہے۔ موسمی حالات کی مناسبت سے ان فصلوں کو چار سے آٹھ مرتبہ پانی دیا جاتا ہے۔ جن کھیتوں میں کھاد نہیں ڈالی جاتی وہاں فصل کی کٹائی کے بعد چھ ماہ یا ایک سال تک کوئی دوسری فصل کاشت نہیں کی جاتی۔ بارانی زمینوں کی تیاری کے لیے زیادہ ہل چلانا پڑتی ہے۔
کسان کے دشمن
خشک سالی کے بعد طوفانی ژالہ باری کسان کی سب سے بڑی دشمن ہے جوموسم بہار (مارچ اوراپریل) اورموسم خزاں (اکتوبر) میں فصلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ ضلع لاہور میں اس قدر شدید ژالہ باری ہوتی ہے کہ بھیڑ بکریاں اوربعض اوقات انسان بھی اس سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ٹڈی دل بھی کبھی حملہ کرتی ہے۔ یہ فصلوں کو برباد کر دیتی ہے۔ حال ہی میں ٹڈی دل کا صفایا کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت منڈیوں کے انڈوں کو ابتدائی مرحلے میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔ ٹڈیاں محفوظ مقامات پرانڈے دیتی ہیں جس کی وجہ سے ان تک رسائی مشکل ہے۔ چوہے بھی فصلوں کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہیں تلف کرنے کے لیے برہمنوں، مولویوں اورفقیروں سے ٹوٹکے کرائے جاتے ہیں۔ اس ٹوٹکے کے ذریعے کھیت کے چاروں کونوں اوردرمیان میں ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ٹکڑے دفن کر دیے جاتے ہیں۔ غالبا ان ٹکڑوں میں سنکھیا لگا دیا جاتا ہے۔ بہرحال اس سے زمیندار کو چاہے کوئی فائدہ ملے نہ ملے، وہ ٹونا کرنے والوں کو پانچ سیراناج دینے کا پابند ہوجاتا ہے۔ آسمانی بجلی کی گرج چمک سے بھی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے جوگیوں اور فقیروں کو باقاعدگی کے ساتھ غلہ دیا جاتا ہے۔ سفید چیونٹیاں بھی اچانک فصل پر حملہ کرکے اسے مختصر مدت میں مکمل طور پرتباہ کردیتی ہیں۔ یہ عمل خشک موسم یا بارشوں کے دوران ہوتا ہے۔ کنگی زرد رنگ کا ایک کیڑا ہے اوراگرغیرمعمولی گرمی پڑے تو مارچ اوراپریل میں نمودار ہو کرفصلیں غارت کر دیتا ہے۔ کنگیاری اور کنڈل ایک قسم کی سنڈیاں ہیں جو گہیوں اور جوکی فصلوں پرحملہ کرتی ہیں۔ تیلا ایک کیڑا ہے جواس وقت نمودارہوتا ہے جب بہت زیادہ اوس پڑے۔ یہ گنے اور کپاس کی فصلوں پر حملہ کرتا ہے۔ ہودا پچھم سے چلنے والی تیز ہوا ہے جو خربوزوں، سبزیوں اورتمبا کو کوچند گھنٹوں کے اندر اندر سکھا دیتی ہے۔ مختلف اوقات اورسال کے مختلف موسموں میں کئی دوسری قدرتی آفات بھی فصلوں کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ شدید کہر،چڑیاں اور کئی دوسرے پرندے بھی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اہم فصلیں

یہ بھی پڑھیں:  اکبر کے مذہبی خیالات اور نئے تاثرات
گوشوارے میں زیرکاشت رقبے اور ان پر لگائی جانے والی فصلوں کی تفصیل یہ ہے

گندم ضلع لاہور کی سب سے اہم فصل ہے۔ یہ لاکھوں افراد کی خوراک ہے اور ہرزمینداراپنی زمین کے کچھ حصے پراسے کاشت کرتا ہے۔ گہیوں جو اوردالیں ہی تین ایسی فصلیں ہیں جو ضلعے کی نصف اراضی پر کاشت کی جاتی ہیں۔ گندم کے لیے پانی ضروری ہے جبکہ جواوردالیں پانی کے بغیر کاشت ہوتی ہیں بلکہ دالوں کو زیادہ بارشوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ موسم خزاں کی فصلوں میں کپاس اورچاول سب سے اہم ہیں تاہم زیادہ رقبے پر جواراورموٹھ کاشت کیے جاتے ہیں۔ موٹھ کی فصل کے لیے زیادہ محنت کرنا نہیں پڑتی جبکہ جوارمویشیوں کے چارے کے لیے استعمال ہوتی ہے اورجب گھاس ختم ہو جائے یا بیلوں کو کام کاج کی کثرت کے باعث چراگاہوں میں چھوڑا نہ جا سکے تو انہیں جوارہی کھلائی جاتی ہے۔ اس وقت ضلع میں گنا زیادہ کاشت نہیں ہورہا۔ جو گنا پیدا ہوتا ہے وہ بڑے شہروں اور قصبوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ دیہات میں بیلنے کم کم نظر آتے ہیں۔ صرف شرقپورپرگئے یاتحصل لاہورکے جنوب میں تھوڑا بہت گنا کاشت کیا جاتا ہے۔ لاہور شہر کے گردونواح میں پونا گنا پیدا ہوتا ہے لیکن اس سے گڑیا چینی تیارنہیں کی جاتی اوراسے بازارمیں ہی بیچ دیا جاتا ہے۔

سیٹلمنٹ آفیسر 1869ء کی رپورٹ میں جن بڑی فصلوں کا ذکر کیا ہے، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

چاول
چاول کی فصل ڈیک کے کناروں اورتحصیل شرقپور کے بانگڑ حلقے میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے لیے نمدارزمین موزوں ہے تاہم آبپاشی کا انتظام صحیح ہونا چاہیے۔ حال ہی میں باری دوآب نہر پرمانجھے کےعلاقے میں چاول کی فصل کاشت کی گئی ہے لیکن وہاں آبپاشی کا مناسب انتظام نہیں چنانچہ فصل کا تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔
کیاس
یہ فصل بیاس اورستلج کے درمیان چونیاں اورقصور کی زیریں زمینوں میں کاشت کی جاتی ہے لیکن یہ اعلی قسم کی کپاس نہیں اس لیے زیادہ تر گھریلو استعمال میں کام آتی ہے۔ ماجھے میں اگائی جانے والی کپاس بھی معیاری نہیں ہے۔
گندم
لاہور میں سب سے بہترین گندم اچھرے اور ڈھولنوال کے دیہات میں پیدا ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں گندم کی مشہور قسم وڈانک بھی ہوئی جاتی ہے۔ چونیاں اور قصور میں بہت زیادہ گندم پیدا ہوتی ہے۔ ماجھے کی نئی زمینوں میں، جہاں نہری پانی دستیاب ہے اگر فصلوں کا مناسب ردوبدل کیا جائے اور گوبر کی کھاد استعمال کی جائے تو وہاں بہترین پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔
پھل
ضلع لاہور میں پیدا ہونے والے پھلوں میں شہتوت (جومئی میں پکتا ہے)، آڑو، آلوچہ، لوکاٹ، فالسہ، آم، خربوزہ اور تربوز شامل ہیں یہ سب پھل جون جبکہ سیب، امرود اورانارجولائی یا اگست میں پکتے ہیں۔ لیموں اورکاغذی لیموں ستمبراورمالٹے نومبر میں تیار ہوتے ہیں۔ کیلے سارا سال لگتے ہیں۔ لاہور کے نزدیک ساندے اور دوسرے دیہات میں پیدا ہونے والے آڑو اعلی قسم کے ہیں۔ شالامار باغ کے آم اور مالٹے بہت عمدہ ہیں البتہ اس کے سوا دوسرے علاقوں میں پیدا ہونے والے پھل گھٹیا درجے کے ہیں۔
سبزیاں
احتیاط اورتوجہ سے کام لیا جائے تو نومبر سے مارچ اپریل تک تمام ولائتی سبزیاں اگائی جاسکتی ہیں۔ غالباً لوبئے کی پھلی دوسری تمام سبزیوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب نہیں البتہ کریلے، ساگ چقندر، گوبھی اوربند گوبھی کاشت کی جاسکتی ہے۔ یہ سبزیاں برطانوی سبزیوں کے مقابلے میں کسی طور کمترنہیں۔ ان علاقوں میں انگلستان
سے براہ راست درآمد کیے جانے والے بیجوں کے مقابلے میں امریکن، کیپ اور آسٹریلوی بیج زیادہ کامیاب ہیں۔ مقامی باشندے بند گوبھی کے سوا کوئی اور ولائتی سبزی کاشت نہیں کرتے۔
آلو
یہ سبزی اب تجارتی مقاصد کے لیے کاشت کی جاتی ہے۔ پنجاب میں اس کی کھپت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ آلولا ہور کے قرب و جوار میں کاشت کیے جاتے ہیں اور سارا سال دستیاب ہوتے ہیں البتہ اگست سے دسمبر تک پہاڑی علاقوں سے آلو درآمد کیے جاتے ہیں کیونکہ گرمیوں میں میدانی علاقوں میں ان کی کاشت ممکن نہیں۔
نیل
ضلع لاہور میں پچھلے چند برسوں سے نیل کی کاشت شروع ہوگئی ہے لیکن ابھی تک اس کا تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔
افیون
ضلع لاہورمیں پوست کی کاشت بہت محدود ہے لیکن اس کی کھیت پیداوارکے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اسے عام طور پرشاہ پوریا پہاڑی علاقوں سے درآمد کیا جاتا ہے کیونکہ پوست کی فصل کے لیے ریتلی زمین اورزیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے جو لاہور میں کم ہوتا ہے۔
اوسط پیداوار اور اناج کی کھپت

یہ بھی پڑھیں:  جنگ پلاسی کی اہمیت
گوشوارے میں82-1881ء کی ایڈمنسٹریشن رپورٹ کے مطابق اناج کے اوسط استمال کی تفصیل درج ہے

یہ اعداد و شمار789666 افراد کے لیے ہیں۔ اسی طرح اناج کی کل پیداوار برآمد اور درآمد کے بارے میں اعدادوشمار بھی جمع کیے گئے ہیں۔ قحط سے متعلق 1878ء کی رپورٹ کے صفحہ 152 میں درج اعدادوشمار کے مطابق تقریباًنولا کھ من گندم اور دالیں ہرسال قصور سے امرتسر اور سندھ کو برآمد کی جاتی ہیں اور تقریباً اتنی ہی مقدار میں غلہ فیروز پور منٹگمری اور فرید کوٹ سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مسٹر سونڈر نے بارانی علاقوں کی اوسط پیداوارکا تجزیہ اس طرح کیا ہے:
مختلف علاقوں میں مختلف فصلوں کی پیداوارمختلف ہے۔ اس کا انحصار زمین کی زرخیزی اور اس پر کی جانے والی محنت پر ہے۔

عام بارانی زمین کی فی ایکڑ پیداوار کی شرح یہ ہے: