meantel health

جسمانی صحت، ذہنی صحت سے جڑی ہے

EjazNews

مارے یہاں ذہنی و نفسیاتی امراض میں اینزائٹی، ڈیپریشن،منشیات کے استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی نفسیاتی الجھنیں اورطبّی مسائل اور سومیٹو فارم ڈس آرڈر (Somato form Disorder)وغیرہ زیادہ عام مرض ہیں۔ اینزائٹی میں بھی مختلف امراض کی شرح بُلند ہے۔جیسے خوف، گھبراہٹ، وہم وغیرہ۔ اگر سومیٹو فارم ڈس آرڈر کی بات کی جائے، تو یہ وہ عوارض ہیں، جن کی علامات تو جسمانی طور پر ظاہر ہوتی ہیں، لیکن وہ درحقیقت ہوتے ذہنی امراض ہی ہیں۔مثلاًاس ڈس آرڈرمیں مبتلافرد جب معالج کے پاس جاتا ہے، تو براہِ راست یہ
نہیں کہتاکہ میرا دِل اُداس ہے،گھبراہٹ یا بےچینی محسوس ہورہی ہے،بلکہ وہ معدے یا کسی اور عضو میں تکلیف کا اظہار کرتا ہے۔

اگر کسی فرد کی کنپٹی پر کوئی پستول رکھ دے، تو اس کی نہ صرف دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، بلکہ معدے میں بھی تیزاب کی مقدار نارمل سے زائد ہوجاتی ہے۔اور یہی کیفیت طبّی اصطلاح میں سومیٹو فارم ڈس آرڈر کہلاتی ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ اُن امراض کا مجموعہ ہے،جن میں مریض اپنی ذہنی پریشانی کا اظہار بول کر نہ کرسکے۔ ہمارے یہاں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے ترقّی پذیر ممالک میں سومیٹو فارم ڈس آرڈر کی شرح بُلند ہے۔ علاوہ ازیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بَھر میں25فیصدافراد (یعنی ہرچار میں سے ایک فرد)جبکہ پاکستان میں 34فیصد(ہر تین میں سے ایک فرد) اینزائٹی اور ڈیپریشن کا شکار ہیں۔اسی طرح شیزوفرینیا کی شرح ایک فیصد اور مینٹل ریٹارڈیشن(ذہنی پس ماندگی) ڈھائی سے تین فیصد ہے۔علاوہ ازیں، مَرد و خواتین میں ڈیپریشن کی شرح یکساں پائی جاتی ہے۔ خواتین میں ڈیپریشن کی کئی وجوہ ہیں، مثلاً غیر منصفانہ رویّہ(والدین کا بیٹے کو بیٹی پر فوقیت دینا، اُس کی رائےکو اہم نہ جاننا، شوہر کا بیوی کو برابری کا درجہ نہ دینا وغیرہ)،پھر مینوپاز ،جس کی عام علامات میں گھبراہٹ، چڑچڑاپن، ذہنی تنائو، موڈ میں تبدیلی، بے خوابی اور یادداشت میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح اکثر خواتین زچگی کے بعد بھی بظاہر کسی سبب کے بغیر ہی ڈیپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔

سیدھی سی بات ہے، جب کوئی حادثہ رونما ہو، تو اس کے تین محرکات ہو سکتے ہیں۔ یعنی ڈرائیور، روڈ یا گاڑی ان تینوں میں سے کوئی ایک وجہ حادثہ بنتا ہے۔ 1977ء میں جارج اینجل نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے کی تین وجوہ ہو سکتی ہیں۔ حیاتیاتی (Biological) سماجی (Sociological) اور نفسیاتی (psychological)۔ چاہے کوئی بھی مرض ہو، اس کے لاحق ہونے میں موروثیت، بائیو کیمسٹری کے ساتھ ساتھ ہمارے رہن سہن اور معاشرتی ماحول کا لازماً عمل دخل ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے یہاں لڑکیوں کی شادی کے موقع پرحد درجہ غیر ضروری اخراجات کیے جاتے ہیں، جب کہ اگر یہی رقم بیٹی کے اکائونٹ میں جمع کروادی جائے، تو نہ صرف دوران حمل یہ رقم حاملہ کی متوازن غذا،بلکہ زچگی اور نومولود کی امیونائیزیشن وغیرہ کے لیےبھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ہم تین سے چار گھنٹے کی شادی بیاہ کی تقریب پر لاکھوں روپےخرچ کردیتے ہیں، جب کہ عمومی صحت، جو حقیقتاً آسودہ زندگی ہی سے مشروط ہے،اس پر توجّہ نہیں دی جاتی۔پھر زیادہ تر لڑکیوں کو دورانِ حمل اپنا خیال رکھنے سے متعلق کوئی خاص معلومات نہیں ہوتیں، تو اس کے اثرات شکم مادر میں پلنے والے بچّے پر بھی پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اب جو بچّے پیدا ہو رہے ہیں، وہ پیدایشی ذہنی پس ماندہ ہیں۔ گاؤں دیہات ہی نہیں، شہروں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر حاملہ اگر بیمار ہونے کی صورت میں معالج سے رجوع کریں، تو حمل سے آگاہ نہیں کرتیں، حالانکہ ماں بننا تو عظمت کی علامت ہے۔یوں وہ ایسی ادویہ استعمال کر لیتی ہیں، جو دورانِ حمل بچّے کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر مضر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ پھر جوں جوں بچہ ہوش سنبھالتا ہے ،تو والدین اس کے ذہن میں کئی چیزوں کا خوف بٹھا دیتے ہیں۔ اسی طرح جب بچّہ سکول جاتا ہے، تو بعض اساتذہ پڑھائی کے معاملے میں اس قدر سختی برتتے ہیں کہ بچّے کو تعلیم نعمت کم اور عذاب زیادہ لگتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جو آئیڈیل بچّے کا تصوّر ہے، وہ کسی روبوٹ سے کم نہیں، جو بالکل غلط ہے۔ بچّوں میں نفسیاتی امراض کے حوالے سے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ شعور سنبھالنے پر جب بچّہ، خصوصاً والدین سے سوال کرتا ہے، تو اسے تسلّی بخش صحیح جواب دینے کی بجائے غیر حقیقی دلائل سے مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،جو قطعاً درست نہیں کہ بچّہ اگر عام ڈگر سے ہٹ کر سوال نہیں کرے گا، تو تلاش و جستجو کیسے کرے گا، اُس کی ذہنی نشوونما کیسے ہوگی۔ نیز، موجودہ دَور میں بچّوں کے لیے جسمانی سرگرمیاں بھی کم ہیں، جب کہ ذہنی نشوونما کے لیے کھیل کود ازحد ضروری ہے۔ بچّوں کے ساتھ ساتھی طلبہ، بڑے بہن بھائیوں، کزنز وغیری کا نامناسب رویّہ بھی انھیں ذہنی تناؤ اور ڈیپریشن میں مبتلا کرسکتا ہے۔سکول میں بڑے طلبہ انھیں تنگ کرتے، ڈراتے دھمکاتے ہیں، تو اس کابھی منفی اثر ہوتا ہے۔ عموماً گھر، اسکول میں بچّوں کو جو مختلف تضحیک آمیز ناموں مثلاً ’’لمبو، چھوٹو، کالی کلوٹی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، تو یہ باتیں بھی بچّے کی ذہنی استعداد متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح ایسے ہی بےشمار عوامل ہیں، جو بچّے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں متاثر کرتے ہیں اور پھر ان کے اثرات ذہنی یا نفسیاتی بیماریوں کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اسموگ سے گھبرائیں نہیں بس احتیاط ضروری ہے

ڈیپریشن، یاسیت، افسردگی کا عارضہ ہے، جو طبّی اصطلاح میں “Depressive Disorder” کہلاتا ہے۔ اس کی عام علامات میں، اداسی، مایوسی اور دِلچسپی میں کمی کا وہ احساس، جو دو ہفتے یا اس سے زائد عرصے تک رہے اور شدّت اس قدر ہو کہ معمولاتِ زندگی متاثر ہونے لگیں، شامل ہیں۔ اینزائٹی اور فوبیا کی علامات گھبراہٹ، بلاوجہ کے اندیشے، بےچینی اور ڈروخوف ہیں، جبکہ شیزوفرینیامیں مبتلا فرد کی سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کے ساتھ جذبات، خیالات اور طرزِعمل بھی بہت تبدیل ہوجاتے ہیں۔مریض کو ایسی آوازیںسُنائی دیتی ہیں ،جو عام افراد کو سُنائی نہیں دیتیںیا غیر موجود اشیاء نظر آنے لگتی ہیں۔کبھی اُسے لگتا ہے کہ دوسرے اس کے خیالات سُنتے یا چُرا لیتے ہیں، کوئی اپنے خیالات اُس کے ذہن میں منتقل کررہا ہے یا اُس کی حرکات و سکنات کنٹرول کررہا ہے۔شیزوفرینیا میں مبتلا افراد اپنی دُنیا میں مگن رہتے ہیں اوراپنی صفائی ستھرائی سے بھی غفلت برتتے ہیں۔بائی پولر ڈس آرڈر میں مریض کی شخصیت دو رُخی ہوجاتی ہے۔کبھی حد سے زیادہ خوش ہوتا ہے، تو کبھی بےحد اُداس۔ وہم کا مرض “Obsessive Compulsive Disorder” ہے۔ اس میں مبتلا مریض کو بار بار تکلیف دہ خیالات آتے ہیں یا پھر وہ کسی ایک کام کو دہراتا رہتا ہے اورکوشش کے باوجود ان پر قابو نہیں پاسکتا۔ جنون یا مزاج میں تیزی کی بیماری”Mania”کہلاتی ہے، جس میں مزاج میں ٹھہراؤ نہیں رہتا۔ یعنی بغیر کسی وجہ کے حد سے زیادہ خوش اور پُرجوش رہنا، خود کو بہت معروف شخصیت سمجھنا، بڑے بڑے منصوبے بنانا، جن کا مکمل ہونا ممکن نہیں ہوتا، اس کی اہم علامات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بلا ضرورت آپریشنز،بھاری فیسیں ہیں ،اپنی صحت کا خیال رکھیں

بچّوں میں مینٹل ریٹارڈیشن ڈس آرڈر (Mental Retardation Disorder)، ہائپر کائنیٹک ڈس آرڈرHyper kinetic Disorder))،آٹزم، ایموشنل پرابلمز اور مختلف اقسام کے فوبیا زیادہ عام ہیں۔
شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder)میں موروثیت کا خاصا عمل دخل ہے، جب کہ اینزائٹی، ڈیپریشن اور سومیٹوفارم ڈس آرڈر میں موروثیت 40فیصد سے بھی کم پائی جاتی ہے۔
زیادہ تر ذہنی بیماریوں پر اے بی اور سی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔ یعنی اے فار ایفکٹ(مزاج)، بی فار بی ہویئر(رویّہ)اور سی فار کاگنیشن(فہم)۔اگر مریض کی اے، بی، سی پر خصوصی توجّہ دی جائے، تو صحت یابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہ مفروضہ عام ہے کہ نفسیاتی عوارض قابلِ علاج نہیں، تو ایسا قطعاً نہیں ہے۔ اگر تشخیص و علاج درست ہو اور مستقل مزاجی سے کروایا جائے، تو 70فیصد مریض ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ ویسے ذہنی و نفسیاتی عوارض کے علاج میں ادویہ اور کاؤنسلنگ دونوں ہی طریقے مستعمل ہیں۔کئی امراض سے ادویہ کے ذریعے شفا ملتی ہے،جیسا کہ شیزوفرینیا کے 30فیصد مریض باقاعدگی سے ادویہ استعمال کرنے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ پھر کئی عوارض ایسے ہیں، جن پر ادویہ اور پرہیز کی بدولت مکمل قابو پایا جاسکتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ذیابطیس، بُلند فشارِ خون اور جوڑوں کے درد وغیرہ پر کنٹرول رکھنا ممکن ہے۔نیز،رویّوں کی درستی سے بھی بہت سے امراض کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ساس، بہو سے، بہو ساس سے، بیٹا باپ سے، باپ بیٹے سے ،میاں بیوی سے، بیوی میاں سےرویے درست کرلیں۔ اخلاقیات کا خیال رکھا جائے، نرمی شائستگی اپنائی جائے، تو بہت سے مسائل آپ ہی آپ حل ہوجائیںگے۔

شیزوفرینیا، بائی پولرڈس آرڈر، آرگینک سائیکالوجیکل ڈس آرڈر(Organic Psychological Disorders)، ڈیمنیشیا (Dementia)،پرسنالٹی ڈس آرڈر (Personality Disorder) اور وہم (OCD)وغیرہ جیسے امراض کے علاج کے لیے ادویہ تجویز کی جاتی ہیں،جبکہ کئی امراض محض گفتگو، مختلف موثر تدابیر اور کائونسلنگ ہی سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
نفسیاتی امراض کے علاج کی بھی ایک مدت ہوتی ہے اور علاج مکمل ہونےکے بعدیہ مریض بھی مکمل صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔کئی مریض نسخے کا پرچہ تھامے آتے ہیں اور کہتے ہیں،’’ڈاکٹر صاحب! کوئی اور دوا لکھ دو۔‘‘ وجہ پوچھو تو کہا جاتا ہے،’’ہمیں میڈیکل سٹور والے نے کہا ہے کہ یہ ادویہ استعمال نہ کرنا، عادی ہو جاؤ گے۔ سوال یہ ہے کہ ایک معالج نے چار سال طب کی تعلیم حاصل کی، پھر اسپیشلائزیشن کیا، تب کہیں جاکر وہ اس قابل ہوا کہ مریضوں کا علاج کرسکے،جب کہ میڈیکل سٹور والے کا کام صرف ادویہ دیناہے،لہٰذا معالج کی ہدایت کو فوقیت دی جائے،نہ کہ دوسرے لوگوں کی باتوں پر شک اور وسوسے کا شکار ہوکر اپنا کیس مزید بگاڑ لیا جائے۔
خودکُشی ذہنی صحت کی بدترین کیفیت کا نام ہے،جس کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً محبّت میں ناکامی، امتحانات میں نمبرز کم آنا، ذہنی دبائو، پسند کے خلاف شادی اور مالی اور گھریلو پریشانیاں وغیرہ۔ زیادہ تر impulsiveافراد ہی خودکُشی کرتے ہیں اور ان میں سے 70فیصد ایسے ہوتے ہیں، جو کم از کم ایک ہفتے تک معالج کے رابطے میں بھی رہتے ہیں، لیکن ان کے مرض کی تشخیص نہیں ہوپاتی۔
پاکستان میں ماہرین کی تشویش ناک حد تک کمی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے کم از کم 9سے10ہزار ماہرین درکار ہیں،مگر اس وقت صرف 5سو ہیں۔مزید ستم یہ کہ زیادہ تر ماہرین صرف بڑے شہروں تک محدود ہیں، جب کہ آبادی کا بیش تر حصّہ دیہی علاقوں میں مقیم ہے اور بڑے شہروں میں بھی یہ تعداد ناکافی ہے۔ اب جناح ہسپتال کے شعبۂ نفسیات میں 20ماہرین تعینات ہونے چاہئیں، مگراس وقت صرف تین ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور حالت یہ ہے کہ او پی ڈی میں روزانہ کی تعداد400تک پہنچ جاتی ہے۔یہی صورتحال دیکھتے ہوئے، ہم نے شام کے اوقات میں مختلف نفسیاتی امراض کے الگ الگ کلینکس قائم کردئیے ہیں، تاکہ مریضوں کا تفصیلی معائنہ ہوسکے۔علاج معالجے کی یہ سہولتیں بالکل مفت ہیں، البتہ سی ٹی سکین اور ایم آر آئی وغیرہ کے لیے کچھ فیس لی جاتی ہے۔ویسےچونکہ اب نئے طلبہ کا اس شعبے میںرجحان بڑھ رہا ہے،تو اُمید ہے کہ آئندہ برسوں میں ماہرین کی یہ کمی پوری ہوجائے گی۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں شعبۂ صحت کے لیے انتہائی کم بجٹ مختص کیا جاتا ہے، جبکہ بیرونِ ممالک میںبجٹ کا 6سے 7فیصد تک صرف ذہنی امراض کے لیے مختص ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوانوں کی ذہنی صحت پورے معاشرے کیلئے اہم ہوتی ہے

ہسٹریا کو اب”Conversion Disorder”کہا جاتا ہے،یہ قابلِ علاج مرض ہے،جس کا علاج ذہن میں چُھپی کسی بھی الجھن کو کائونسلنگ کے ذریعے ختم کرکے کیا جاتا ہے۔ دراصل اس مرض میں مریض لاشعوری طور پر ایسی حرکات کرتا ہے کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور زیادہ تر خواتین ہی اس کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن اس کیفیت کو ڈرامے بازی پر محمول کرنا درست نہیں۔ ایسی خواتین کو کاؤنسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
کئی امراض ایسے ہیں، جن میں مریض ذہنی طور پر پسماندہ نہیں ہوتے،محض ذہنی مریض ہوتے ہیں اور علاج کے ساتھ اپنی ذہنی صلاحیتوں کے باعث نمایاں کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ جیسا کہ جان نیش (John nash)نےاپنے کام کی بدولت نوبل پرائز حاصل کیا،حالانکہ وہ شیزوفرینیا کے مریض تھے۔
مختلف ویڈیو گیمز ذہنی صحت متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر روزانہ کمپیوٹر دو گھنٹے سے زائد استعمال کیا جائے، تو ذہن اور جسم پر اس کے سخت مضر اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔والدین کوشش کریں کہ اپنے بچّوں کو جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور انہیں کمپیوٹر کے دیر تک استعمال کے نقصانات سے بھی آگاہ کریں۔

اگر آپ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، تو اس کا مقابلہ کریں اور اپنی سوچ مثبت رکھیں۔جسمانی صحت کا بھی خاص خیال رکھا جائے،متوازن غذا استعمال کریں، جس میں پھل اور سبزیاں خاص طور پر کیلا، لوبیا، بادام، اخروٹ اور مچھلی شامل ہو۔ تمباکو نوشی بالکل نہ کریں، پان، نسوار، گٹکے، مین پوری، شیشے اور دیگر نشہ آور اشیاء سے اجتناب برتیں، روزانہ صبح یا شام میں خالی پیٹ ورزش کریں، چاہےوہ30منٹ پیدل ہی کیوں نہ ہو۔اہلِ خانہ، رشتےداروں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں، تاکہ زندگی میں توازن قائم رہے۔وقت پر سونے، جاگنے کی عادت ڈالیں۔ عبادت کریں اور جس بھی پیشے سے وابستہ ہیں، وہاںاپنا کام عبادت سمجھ کر انجام دیں۔ کسی جسمانی مرض میں مبتلا افراد اوردودھ پلانے والی خواتین خدانخواستہ کسی ذہنی و نفسیاتی عارضےمیں بھی مبتلا ہوجائیں، تو معالج کو لازماً آگاہ کریں۔ معالج کی ہدایت کے بغیر ادویہ ہرگز ترک نہ کی جائیں،اس سے مرض بگڑ سکتا ہے۔نفسیاتی مسائل کسی کے بھی ساتھ ہوسکتے ہیں، لہٰذا ان کو بیماریاں سمجھیں اور علاج میں پہل کریں۔

کیٹاگری میں : صحت