Lahore Vellage

دیہی برادریاں اور شرائط کاشتکاری

EjazNews

دیہات میں کاشتکاری کے لیے معیار مقرر ہیں جن میں زمینداری پتی داری اور بھیا چارہ کی قسمیں شامل ہیں۔ ہرگاوں کی دو یا تین ذیلی تقسیم میں کی گئی ہیں جن پرمختلف قواعد کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک گاوں کی چار میں کی گئی ہیں تو ان میں زمین کے ایک حصے پر زمینداری ، دوسرے پر قبضے (بھیا چارہ) جبکہ تیسرے اور چوتھے حصے پر پہرہ داری کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ ہرذیلی تقسیم ایک دوسرے سے الگ اور جدا ہے۔ بعض اوقات ایک حصے کی زمین ایک ہی پٹی (چک بھت) میں واقع ہوتی ہے لیکن اکثر صورتوں میں یہ زمینیں آپس میں خلط ملط ہوتی ہیں۔ اس تقسیم کو کھیت بھت کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں کی زمینیں اس تقسیم کے تحت ایک دوسرے ممالک کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، وہ زمین کے تبادلے کی اہمیت سے بتدریج آگاہ ہورہے ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ضلع لاہور کے کئی علاقوں کے مالکان اراضی نے تبادلوں کے ذریعے زمین کی پیداوار میں اضافہ کرلیا ہے۔ گاوں کی ہرذیلی تقسیم کے لیے ایک نمبردار مقرر ہے جو گاوں کی پنچائت میں ان کی نمائندگی کرتا اور گاوں کے انتظامی اخراجات (ملبہ) کی نگرانی کرتا ہے۔
زیادہ تر رقبے پر مالکان خود کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ مسٹرسونڈرز نے 1869 کی سیٹلمنٹ رپورٹ میں مالکان اور مزاروں کے زیر کاشت رقبے کی فصیل اس طرح بیان کی ہے
76147مالکان کے زیر کاشت رقبہ 1703187ایکڑ
51715 مزارعوں کے زیر کاشت رقبہ 336851ایکڑ
سیٹلمنٹ کے وقت یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ دخیل کاری کے تمام حقوق ختم کیے جارہے ہیں۔ چنانچہ بہت سے مزاروں نے خود کومالک اراضی ظاہر کرنا شروع کردیا حالانکہ اصل میں انہیں محض دخیل کاری کے حقوق حاصل تھے۔ ان حالات میں پورے ضلع میں دوبار? حقوق کاشتکاری کاتعین کرنا پڑا۔
1869 کی سیٹلمنٹ رپورٹ میں مزارعین کے زیر کاشت رقبے کی تفصیل اس طرح ہے:
دنیل کاری کے حقوق رکھنے والے مزارمین کے زیر کاشت رقبہ 13119ایکڑ
مشروط مزارعین کے زیر کاشت رقبہ…13224ایکڑ
عمومی مزارعین کے زیرکاشت رقبہ …54700ایکڑ
ضلع لاہور میں مالکان اراضی مزاروں سے نقد حصہ وصول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مالکان کا حصہ قطعی طور پر تعین نہیں ہے۔ مزارعے مقامی رواج کے مطابق مالکان کو ان کا حصہ دے دیتے ہیں اور جب تک مزاروں اور مالکان کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ 1869ءکی سیٹلمنٹ رپورٹ میں مالکان اراضی کے حصے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔
51715 مزارعین میں سے 182995 ایکڑ رقبہ کاشت کرنے والے27798 مزارعیں فصل کی صورت میں مالکان کو حصہ دیتے ہیں جبکہ153856 ایکڑ رقبہ کاشت کرنے والے 23927 مزارعین نقد حصہ ادا کرتے ہیں 153856 ایکڑ رقبہ کاشت کرنے والے مزارعے مالکان کوفصل کا ایک چوتھائی حصہ 11084 ایکڑ رقبہ زیرکاشت لانے والے مزارعیں نصف حصہ6745ایکڑ رقبہ زیرکاشت لانے والے مزار عین چالیس فیصد اور 49310 ایکڑ زیر کاشت لانے والے مزارعے مالکان کو ایک تہائی حصہ دیتے ہیں۔ بارانی علاقوں میں مالکان کو عام طور پرنصف یا ایک تہائی جبکہ بارانی علاقوں میں ایک چوتھائی حصہ دیا جاتا ہے۔
دریا کنارے ملکیت کے رواج
ستلج کے مخالف کنارے پر واقع دیہات میں گہری ندی یا کشتی بنا اور راوی کے علاقے میں بیوپار کے رواج پرعمل کیا جاتا ہے۔ بیوپار رواج کی روسے ہرگاوں میں الگ الگ آمدنی کا تعین کیا جاتا ہے اور مالکان کواسی حساب سے ان کا حصہ دیا جاتا ہے۔ بعض دیہات میں مالکان کے نقصان کی تلافی شاملات دیہی سے کی جاتی ہے۔
درج ذیل گوشوارے سے ضلع کی ہرتحصیل میں ذیلداروں، اعلی نمبرداروں اور نمبرداروں کی تعداد ظاہر ہوتی ہے۔

dahi bardri chart1

نمبردار کا عہدہ وراثت میں ملتا ہے تاہم اس کے لیے ڈپٹی کمشنر کی منظوری ضروری ہے۔ نمبردار مالی جمع کرنے اور جرائم کی سراغ رسانی میں معاونت کا ذمے دار ہے۔ اعلی نمبردار کا تقرر ہر گاو¿ں میں کیا جاتا ہے۔ اسے مالکان اراضی کے ووٹ سے منتخب کیا جاتا ہے جس کے بعد ڈپٹی کمشن اس کے نام کی منظوری دیتا ہے۔ سرکاری احکامات سب سے پہلے اسے موصول ہوتے ہیں البتہ مالی جمع کرنے کے سلسلے میں اس پر کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی۔ زیلدار کا تقرڈپٹی کمشنرکرتا ہے اوراس ضمن میں ذیل کے اعلی نمبرداروں کے ووٹوں، ذاتی موزونیت اور سرکار کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ذیل کے حدود کا تعین کرتے وقت مختلف قبائل کی تقسیم کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اعلی نمبردار کے ساتھ ذیلدارکا تعلق اس طرح ہوتا ہے جیسے اعلی نمبردار کا اپنے گاوں کے لوگوں سے۔
نمبردار
ہر گاوں میں ایک نمبردار مقرر ہے جو پنچائت میں اہل دیہہ کی نمائندگی کرتا اور گاو¿ں کے اخراجات یا ملبے کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ الحاق پنجاب کے بعد سیٹلمنٹ افسروں نے نمبرداروں کا تقررمکمل چھان بین کے بعد کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جوسکھوں کے دور میں بھی سرکاری عہدوں پر کام کرتے رہے تھے۔ نمبردارکا انتخاب ذاتی قابلیت اوراچھے کردار کی بنیاد پر کیا گیا جس کے بعد اس عہدے کو وراستی منصب قرار دے دیا گیا۔ نمبردار کے عہدے کے لیے بہت سے دعویدار تھے اور حکومت کو ان کے تقرر میں بڑی احتیاط سے کام لینا پڑا۔ حکومت نے نمبرداروں کے مشاہرے کے لیے پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جسے وہ زمین کے مالیے کے ساتھ وصول کرتے ہیں۔
اعلی نمبردار
حالیہ سیٹلمنٹ کے بعد گاوں کے نمبرداروں میں ایک کو اعلی نمبردار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے اعلی نمبرداروں کے لیے کل جمع شد? مالی کا ایک فیصد مقرر کیا ہے۔ انہیں گاو¿ں کے پچھوترے کے علاوہ کچھ زمین بھی دی جاتی ہے۔ یہ عہدہ ذاتی کارکردگی کی بنا پر دیا جاتا ہے نہ کہ وراثتا۔ اس عہدے کے لیے ذاتی طور پر کام کرنا پڑتا ہے اور کسی ایجنٹ کی خدمات حاصل نہیں کی جاسکتیں۔ اس عہدے پرتقرر کے لیے کوئی دعوی تسلیم نہیں کیا جا تا کہ سابق? خدمات، کردار، کنٹرول کرنے کی استعداد اور ذاتی موزونیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مالکان دیہہ اکٹھے ہو کر ووٹ کے ذریعے اعلی نمبر دار منتخب کرتے ہیں اورحتمی فیصلہ پریذائیڈنگ آفیسر کرتا ہے۔
ذیل دار
پنجاب کے ضلعوں میں ڈسٹرکٹ آفیسرز اور نمبرداروں کی بڑی تعداد کے درمیان رابطے کا فقدان تھا چنانچہ اس مقصد کے لیے بیسں تیسں یا چالیس دیہات کے ایک حلقے میں ذیل دارکا تقررکیا گیا ہے۔ ذیل دار کی تقرری کے سلسلے میں ہر حلقے میں رہنے والے اکثریتی قبیلے کومدنظر رکھا جاتا ہے اوروہ عام طور پراس قبیلے کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوتا ہے۔ اسے حلقے میں جمع ہونے والے کل ما لیے کا ایک فیصد مشاہرے کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اعلی نمبردار کی حیثیت سے بھی رقم وصول کر سکتا ہے۔ مانگٹانوالہ پولیس سرکل کے قلعہ دھرم سنگھ کے ذیل دار بلاکا سنگھ کو جرائم کا سراغ لگانے میں مدد دینے پر محکمہ پولیس کی طرف سے دو سو روپے سالانہ پینشن ادا کی جاتی ہے۔
اب ہم ذیلداروں کی تعداد اور وہاں موجود اکثریت قبیلوں کی تفصیل بیان کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر کی تخت نشینی

dahi bardri aur chart2

dahi bardri aur chart3

Dahi Baradri chart4

خدمت گزار طبقے
زمیندارفصل کی کٹائی کے موقع پر خدمت گزارطبقوں کو ان کی خدمات کے عوض عام طور پراناج دیتے ہیں۔ اس نظام کو سیپ اور خدمت گزاروں کو سیپی کہا جاتا ہے۔ سیپیوں کی دوقسمیں ہیں۔ پہلی قسم کے خدمت گزار کاشتکاری میں زمیندار کا ہاتھ پٹاتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ گھریلو کارکن یا معاون کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگوں میں ترکھان شامل ہیں جوسیپ کے عوض درانتیوں کی مٹھ ہل کنویں کے لیے لکڑی کا سامان اورفرنیچر بناتے ہیں۔ لوہارہل کے پھالے درانتیاں اور کنوو¿ں کے لیے ٹنڈیں فراہم کرتے ہیں۔ موچی کا شتکاری اور گھریلو ضروریات کے لیے اشیا تیار کرتا ہے۔ چوہڑا ہل چلانے میں زمیندار کی معاونت کرتا ہے جس کے عوض اسے کھانا دیا جاتا ہے۔ ہل اور کنوئیں کے لیے چمڑے کے سامان کی فراہمی بھی اس کے ذمے ہوتی ہے۔ ان خدمات کا معاوضہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے بہرحال انہیں مناسب اجرت مل جاتی ہے۔ ترکھان اور کمہارکو ربیع کی فصل پر دومن غلہ دیا جاتا ہے۔ بارانی علاقوں میں کمہار کی خدمات حاصل نہیں کی جاتیں جبکہ ان علاقوں میں ترکھان کو آٹھ سیراناج فی ہل ف? فصل کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس لوہاراورموچی کوترکھان اور کمہار کے مقابلے میں صرف نصف معاوضہ ملتا ہے۔ بارانی علاقوں میں موچی کی خدمات حاصل نہیں کی جاتیں اور لوہار کو آٹھ سیراناج فی ہل کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ چوڑے کوہر فصل پرسو میں سے پانچ من اناج
اور مردہ مویشیوں کی کھالیں دی جاتی ہیں۔
دوسرے طبقے میں حجام سب سے نمایاں ہے جو بال کاٹنے کے علاوہ شادی بیاہ کے انتظامات کرتا اور پیغام رسانی کے فرائض دیتا ہے۔ وہ لوہار کے برابر معاوضہ پاتا ہے۔ دھوبی کو بھی لوہار کے برابر یا ایک پائی فیصد کپڑے کے حساب سے معاوضہ ملتا ہے۔ سق یا کمہار زمینداروں کو پوراسال پانی مہیا کرتا ہے۔ اسے 16 سیراناج یا ایک روپیہ سالانہ دیا جاتا ہے۔ سری کو شادی بیاہ یا خوشی کی دوسری تقریبات پرروپیہ دیا جاتا ہے۔ اسے بچے کی پیدائش پر ایک روپیہ ملتا ہے اور بچوں کے نام بھی وہی رکھتا ہے۔
دیہی واجبات
ضلع لاہور میں مالکان اراضی اپنے اپنے علاقوں کے غیر مالکان سے ایک قسم کا جاگیرداری ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ ضلع کے1054 میں 121 دیہات میں چک اطرافی 1037 دیہات میں شادی پر کھانا پینا اور 953دیہات میں زرعی پیداوار اور اجناس کی فروخت پر دھڑت نام کا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ضلع میں صرف 181 ایسے دیہات ہیں جہاں کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ ٹیکسوں کی آمدنی سے گاو¿ں کے اخراجات ملبہ اور چوکیدار کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ آمدنی نمبردار اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔
کھیت مزدور
کھیت مزدوروں کے بارے میں تفصیلات ضلع لاہور کے ڈسٹرکٹ آفیسر نے 1879ئ کے قحط پر مبنی رپورٹ کے صفحہ716پراس طرح درج کی ہیں:
ضلع لاہور کے کاشتکاروں میں اجرت پر مزدور حاصل کرنے کی رسم موجود ہے۔ زمیندار درج ذیل دو اقسام کے مزدوروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
(1) زمینداروں کے مستقل ملازم جنہیں کاماں کہا جاتا ہے۔ (2) عارضی طور پر کام کے لیے جو مزدور لگائے جاتے ہیں، انہیں لاوا کہتے ہیں۔
کاماں سارا سال زمیندا کا ہاتھ بٹاتا ہے جبکہ لاوا فصلوں کی کٹائی کے موقع پر کام کرتا ہے۔ کاماں اناج اور نقدی کی صورت میں مقررہ معاوضہ لیتا ہے تاہم لاوے کو صرف جنس کی صورت میں اجرت دی جاتی ہے۔ لاووں میں چوہڑے اور چنگڑ شامل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کھیتوں میں مزدوری نہ ملنے کی صورت میں کپڑا بن کر، لکڑیاں کاٹ کر یا مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ ضلع کی کل آبادی میں ان کا تناسب پانچ چھ فیصد ہے۔ ان کی حالت غریب کسانوں سے بھی ابتر ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی سابقہ جما پونجی سے اور بعض آجروں سے ادھار لے کر گزر بسر کرتے ہیں۔
1881ءکی سیٹلمنٹ رپورٹ میں کھیت مزدوروں کی مختلف اقسام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کامے کی اجرت اور کھانا مقرر ہوتا ہے۔
ادھر وگیا وہ لوگ ہیں جن کے پاس اپنا کوئی سرمایہ یا ہل نہیں ہوتے۔ وہ فصل کا ایک چوتھائی حصہ وصول کرتے اور مالیے اور بیج کی قیمت کا ایک چوتھائی حصہ ادا کرتے ہیں۔
چھیڑوعام چرواہے ہیں جنہیں مقررہ اجرت اور کھانا دیا جاتا ہے۔
لچین صرف شرقپور میں موجود ہیں۔ یہ ادہورگئے کی طرح ہیں لیکن ان کی مالی حالت ان جیسی نہیں ہے۔
سانجی زمیندار کے شراکت دار ہوتے ہیں اوراپنے حصے کا سرمایہ اورتیل فراہم کرتے ہیں۔
آتھری عام کاماں لیکن ذات کاچوہڑا ہوتا ہے۔
بخشیش میں ملنے والی معمولی اراضی
بعض اوقات کسی شخص کو برائے نام معاوضے پرزمین پنے یا صرف مالیے کی شرط پر دے دی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں مالک خود زمین کاشت کرتا اور مالیہ ادا کرتا ہے۔ کئی لوگوں کو ان کی خدمات کے معاوضے کے طور پر مالکان حقوق کے ساتھ زمین دے دی جاتی ہے۔ یہ زمین عام طور پر دیہات میں مندروں مسجدوں مقبروں اور گاوں کے ریسٹ ہاوس اور عبادت گاہوں مقدس انسانوں اورمذہبی اداروں کے اساتذہ کی دیکھ بھال کرنے والوں کو بخشیش کے طور پر دے دی جاتی ہے۔ زمین مالکان کی غربت اور دولت 1869ئ میں سیٹلمنٹ آفیسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے
شادی بیاہ کی تقریبات اوراس میں شرکت کرنے والوں کے مصارف کی وجہ سے دیہاتی لوگ مقروض ہوجاتے ہیں۔ اب مالیے کی رقم کم ہونے کی وجہ سے زمینداروں کی ساکھ قدرے بہتر ہوگئی ہے اور ساہوکار زمیندار کو جس قدر زیادہ رقم ادھار دینے لگے ہیں، اسی قدروہ خوشحال ہوگیا ہے۔ چنانچہ اب قرض آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پنجابی کی یہ کہاوت مشہور ہے جو غالبا ساہوکاروں نے بی ایجاد کی ہے:” پیر فقیر کے بغیر بخشش ہوسکتی ہے، نہ ساہوکار کے بغیر عزت مل سکتی ہے۔ راجپوت مسلمان عام طور پر بہت مقروض رہتے ہیں لیکن ضلع لاہور میں جٹ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں ساہوکاروں پرزیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی زمینیں زیادہ ہیں۔ شہروں کے نواحی علاقوں کے سوا دوسرے تمام علاقوں کے جٹ فضول خرچ اورغیرمہذب ہیں۔ وہ ضرورت کے ہر موقع پر ساہوکاروں کے دست نگر ہوتے ہیں۔ ساہوکار بظاہر تذبذب کے ساتھ قرض دیتے ہیں لیکن ان کی نظریں منافع پر بھی ہوتی ہیں۔ اگر بازار میں غلے کی قیمت 20 سیرفی روپیہ ہوتو وہ اٹھارہ سیر یا اس سے ?م اناج دیتے ہیں۔ اگربیج کے لیے اناج دیا جائے تو اس پر مزید ایک چوتھائی منافع وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کاشت کے وقت غل? سستا ہوتو ساہوکاراسے مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔ وہ خوش قسمت ہے جوفصل کے کچھ حصے کو ساہوکار کی دستبرد سے بچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اگر کھانے کے لیے اناج یا روپے ادھار لیا جائے تو اس پر دوآنے فی روپیہ کے حساب سے اور سال کے بعد چار آنے فی روپیہ کے حساب سے سود وصول کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو سود کی شرح آٹھ آنے فی روپیہ کی جاتی ہے۔ سود درسود کی وجہ سے زمیندار قرض کے نیچے دبتا چلاجاتا ہے۔ جب فصل پک جاتی ہے تو ساہوکار من مانے داموں پراناج اٹھا لیتا ہے ورنہ سول عدالتوں میں زمیندار کے خلاف مقدمہ دائرکردیتا ہے اوربدنصیب زمیندار کا گھر بار اورسامان فروخت کر کے اپنی رقم وصول کرلیتا ہے۔ ان پڑھ زمیندارساہوکار کے چنگل سے نجات حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ سنگدل ساہو کار ہماری عدالتوں کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ظلم کی چکی کے طور پر استعال کرتا ہے۔ بیچارہ زمیندار خدا اورساہوکار کے سامنے رحم کے لیے روتا پیٹتا ہے لیکن وہ دونوں اس پر بھی ترس نہیں کھاتے۔