old_lahore

1883-84میں لاہور کے نامور خاندان

EjazNews

اب ہم ضلع لاہور کے رئیسوں اور درباریوں کی فہرست درج کررہے ہیں جو لاہور میں بڑی زمینداری کے مالک اور وسیع اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔
1۔راجہ ہربنس سنگھ، 2۔نواب نوازش علی خان،3۔ دیوان رام ناتھ،4۔ سردارنریندر سنگھ، 5۔کنور نارنجن ناتھ، 6۔شیخ غلام محبوب سبحانی، 7۔بھائی نندگوپال، 8۔دیوان نریندر ناتھ، 9۔سردار رنجودھ بہر والیہ ، 10۔ سردار رنجودھ بہر والیہ ۔11۔نواب عبدالمجید خان سدوزئی۔12۔ سردارسروپ سگھ، 13۔ سردارفتح سنگھ تھیہ پوریا، 14۔فقیر ظہور الدین، 15۔لالہ بھگوان دان، 16۔فقیر برہان الدین، 17۔فقیر جمال الدین ، 18۔پنڈت ریکھی کیش، 19۔رضا علی خان، 20پنڈت جوالادت، 21مسررام داس، 22احمد یار خان، 23مسٹر سندر داس، 24فقیر قمر الدین ، 25فقیر معرالدین، 26۔کنور بخشیش سنگھ، 27۔کنور ٹھاکر سنگھ، 28کنور نارائن سنگھ، 29کنور بھوپ سنگھ، 30شیخ سندے خان، 31اتم سنگھ ولد سوبی سنگھ، 32فتح جنگ خان، 33کشن سنگھ پووندیا، 34رائے بہادر سیٹھ رام رتن ،35رائے میلا رام، 36حسن بخش، 37کرنل سکندر خان، 38پنڈت پریم ناتھ، ہرکشن داس، 40ہر سکھ سنگھ، 41محمد عظیم، 42شیو رام داس، 43رحیم بخش، 44رائے بہادر دیوان داس مل، 45بولک سنگھ، 46میاں کریم بخش، 47درگا پرشاد، 48شیخ نانک بخش، 49جلال الدین۔
1۔راجا ہربنس سنگھ
2۔سردار نریندر سنگھ
راجا ہربنس سنگھ کا تعلق راج تیجناتھ سنگھ کے خاندان سے ہے جس کا تذکرہ پنجاب چیفس کے صفحہ 29 سے 44 میں کیا گیا ہے۔ وہ راجا کا بھائی اورمتنبی بیٹا ہے جو اپنے بڑے بھائی جمعدار خوشحال سنگھ کے ہمراہ رنجیت سنگھ کے دور میں ضلع میرٹھ کے اکری مقام سے یہاں آیا تھا۔ ہربنس سنگھ کو لاہور امرتسر ڈویژنوں میں 60 ہزار روپے کی جاگیر دی گئی ہے۔ اسے سیکنڈ کلاس مجسٹریٹ کے عدالتی اختیارات اورضلع گوجرانوالہ کے شیخوپورہ پر گنے میں اسسٹنٹ کمشنر کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ سردار نریندرسنگھ راجا تیجا سنگھ کا بیٹا ہے جو اس کی چچازاد کرم کور کے بطن سے پیدا ہوا۔

(2) نواب نوازش علی خان (19) رضاعلی خان..
نواب نوازش علی خان مشہور قزلباش خاندان کا سربراہ ہے۔ وہ نواب علی رضا خان کا بیٹا ہے جس نے 1839ء میں کابل کی پہلی مہم میں برطانوی حکومت کے لیے گرانقدر خدمات انجام دی تھیں۔ نواب علی رضاخان
نے یہ خدمات اپنی جان پر کھیل کر انجام دیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی ساری دولت اور جائیداد سے محروم ہوگیا۔ کابل میں جان کے خطرے کی وجہ سے وہ برطانوی فوج کے ہمراہ ہندوستان آ گیا۔ اس وقت سے یہ خاندان لاہور میں قیام پذیر ہے۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت کے دنوں میں علی رضا خان نے دہلی میں گھڑ سواروں کا ایک دستہ تشکیل دیا اور اپنے بھائیوں محمد رضا خان اور متقی خان کو اس کا کماندار بنا دیا۔ اس نے اس دستے کو اپنے خرچ پر لیس کیا ہے اور یہ اخراجات لاہور میں مکان اور جائیداد گروی رکھ کر پورے کیے گئے ۔ یہ دستہ نامور ہڈسن ہارس کے ساتھ مل کر متقی خان اور محمد رضا خان کی قیادت میں جس دلیری کے ساتھ لڑا، وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ان خدمات کے عوض محمد رضا خان کو فرسٹ کلاس آرڈر آف میرٹ خان بہادر کا خطاب اور دو سو روپے پنشن دی گئی۔ اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے رضا علی خان کو یہ پنشن ملتی رہی ۔ علی رضا خان کو ادوھ میں 147 دیہات کی تعلقداری بھی دی گئی جس کی سالانہ آمدنی 15 ہزار روپے ہے۔ اس جاگیر سے اب اس کے دو بیٹے نوازش علی خان اور نواب نثارعلی خان فائدہ اٹھارہے ہیں۔ تیسرا بیٹا نواب ناصر علی خان انتقال کر چکا ہے۔ اس خاندان کے تمام افراد خاص طور پر دونوں بھائی لوگوں میں بہت مقبول ہیں اور لاہور کے ہندو اور مسلمان ان کی بڑی عزت کرتے ہیں ۔ اودھ میں تعلقداری کے علاوہ حکومت نے نواب نوازش علی خان کور کے ہمنگر میں بھی زمین دی ہے جہاں اس نے پٹھانوں اور قزلباش خاندان کے افراد کو کئی دیہات میں آباد کیا ہے۔ اسے نواب کا خطاب 21 مئی 1866ء کو جاری ہونے والے حکم نمبر521 کے تحت دیا گیا۔ وہ لاہور کا آنریری مجسٹریٹ اور میونسپل اور ڈسٹرکٹ
کمیٹیوں کاممبر ہے۔ اس کا بھائی نصیرعلی خان اور چچازاد بھائی رضا علی خان ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ رضاعلی خان کو دوسور و پرپشن بھی ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اکبر کے مذہبی خیالات اور نئے تاثرات

(3) دیوان رام ناتھ (4) کنور نارانجن ناتھ

دیوان رام ناتھ راجا دینا ناتھ کا پوتا اور کنور نارانجن ناتھ اس کا دوسرا بیٹا ہے۔ اس خاندان کی تاریخ اور برطانوی حکومت کے لیے اس کی خدمات کا ذکر پنجاب چیفس کے صفحہ 157سے164 میں درج ہے۔ اس خاندان کے موجودہ افراد میں سکھ دور میں کشمیر کے گورنرنواب امام الدین خان کا بیٹا غلام محبوب سبحانی اور نواب کے بھائی ش شیخ فیروز دین کا بیٹانصیرالدین شامل ہے۔ غلام محبوب سبحانی کی کوئی اولا نہیں۔ اسے8400 روپے کی جاگیردی گئی ہے۔ شیخ نصیر الدین کا باپ برطانوی حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہا۔ وہ ضلع نگری میں تحصیلدار اور بہاولپور میں وزیر رہا اور 1879ء میں اپنی وفات تک اس عہدے پر کام کرتا رہا۔ نصیر الدین ایک منصف ہے۔ اس سے پہلے وہ ملتان میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائز رہا ہے۔
بھائی خاندان
(6) بھائی نندگوپال (7) بھائی میاں سنگھ
اس خاندان کا تذکرہ پنجاب چیفس کے صفحہ 146 سے 148 میں کیا گیا ہے۔ اس گھرانے کے موجودہ افراد یہ ہیں:
(1) بھائی نند گوپال ولد بھائی گوبندرام (2) بھائی میاں سنگھ پوتا بھائی کاہن سنگھ (3) بھائی تارا سنگھ پوتا بھائی کاہن سنگھ (4) بھائی پرتاب سنگھ برادرتاراسنگھ (5) بھائی گورو دیت سنگھ اور بھائی چرن جیت سنگھ اور اس کے تین نابالغ بھائی

یہ خاندان بھائی بستی رام کی اولاد ہے جو مذہب سے لگن اور طب میں شہرت کی وجہ سے مہاراجا رنجیت سنگھ کامنظور نظر بن گیا تھا۔ اس کے پوتے بھائی کاہن سنگھ بھائی رام سنگھ اور بھائی گو بندرام سکھوں کی حکومت میں بہت بااثر اور قابل احترام تھے۔ بھائی نندگو پال کو 6564 روپے کی جاگیردی گئی ہے۔ بھائی میاں سنگھ آنریری مجسٹریٹ اور 1500 روپے کی جاگیر کا مالک ہے۔ بھائی تاراسنگھ کو بھی جاگیردی گئی ہے اور وہ امرتسر ڈویژن میں تحصیلدار ہے۔ اس کا بھائی پرتاب سنگھ ملازمت نہیں کرتا۔ اس کے پاس 656 روپے کی جاگیر ہے۔ بھائی چرن جیت کے بیٹے نابالغ اور خاصی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے مالک ہیں۔ ان کی جاگیر کی مالیت1487 روپے ہے۔
(8) دیوان نریندر ناتھ ، دیوان بیج ناتھ کا بیٹا اور دیوان اجودھیا پرشاد کا پوتا ہے جس کے خاندان کا ذکر پنجاب چیفس کے صفحہ 121 سے 131 میں درج ہے۔ اس کی عمر بییں سال ہے اور وہ وارڈآف کورٹ ہے۔ لاہور شہر اور دہلی میں مکانوں کے علاوہ ضلع لاہور میں اس کی کافی جائیداد ہے۔ اس کا والدتحصیلدار اور ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر
کے عہدوں پر فائز رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعداسے مکمل اختیارات کے ساتھ آنریری ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مقرر کر دیا گیا۔ اسے دو سو روپے سالانہ پنشن ملتی ہے۔
(9) سردار رنجودہ سنگھ؛ بہروالیہ کاتعلق سردار کاہن سنگھ نکئی کے خاندان سے ہے۔ اس خاندان کا تذکرہ پنجاب چیفس کے صفحہ 118 سے 121 میں کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق ایک سندھو جٹ خاندان سے ہے جس نے مہاراجا رنجیت سنگھ کو بیٹی دی تھی۔
(10) نواب عبدالمجید خان سدوزئی (22) احمد یار خان
نواب عبدالمجید خان لاہور شہر میں ملتان کے نوابوں کا سربراہ ہے۔ اس خاندان کا ذکر پنجاب چیفس کے صفحہ 475 سے 480 میں درج ہے۔ وہ آنریری مجسٹریٹ اور عالم فاضل شخص ہے جسے طب میں بھی گہری دسترس حاصل ہے۔ برطانوی حکومت نے جنوری 1865ء میں اسے نواب کا خطاب دیا۔ اسے سالانہ تین ہزار روپے پنشن دی جاتی ہے۔ وہ اور لاہور کا نائب تحصیلدار احمد یار خان، جسے سالان1440 روپے پنشن ملتی ہے، اس خاندان کے آخری فرد ہیں۔
(11) سردار سروپ سنگھ: یہ جٹ خاندان ہے جو اس سے پہلے نابھہ کے علاقے موراں کلاں میں رہتا تھا جس کی وجہ سے انہیں ملنئی کہا جاتا ہے۔ اس خاندان کی تاریخ پنجاب چیفس کے صفہ192 سے196 میں درج ہے۔ سردار سروپ سنگھ کو اس کے والد سردار کر پال سنگھ کی ملتان میں خدمات کے عوض پانچ ہزار روپے مالیت کی جاگیردی گئی ہے۔
(12) سردار فتح سنگھ تھیہ پوریا اس خاندان کی تاریخ پنجاب چیفس کے صفحہ 222 سے 224 میں درج ہے۔ سردارکو تین ہزار روپے سالانہ کی جاگیردی گئی ہے۔
(13) فقیر خاندان : لاہور شہر کے بااثر فقیر خاندان کا تذکرہ پنجاب چیفس کے صفحہ ر235 سے 248 میں درج ہے۔ اس خاندان کے نامور افراد یہ ہیں :- فقیرظہور الدین ریٹائرڈ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر (2) فقیر برہان الدین ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر (3) فقیر جمال الدین ریٹائرڈ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور آنریری مجسٹریٹ (4) فقیر قمرالدین آنزیری مجسٹریٹ (5) فقیر معراج الدین۔
(14) لالہ بھگوان داس : وہ دیوان رتن چند در ہیوالہ کا بیٹا ہے جس کی تاریخ پنجاب چیفس کے صفحہ 232 سے صفحہ 234 میں درج ہے۔ وہ آنریری مجسٹریٹ اور میونسپل اور ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کا ممبر ہے۔
(18) پنڈت ریکھی کیش
(20) پنڈت جوالا دت پرشاد اور پنڈت ریکھی کیش سنسکرت زبان کے عالم پنڈت رادھا کشن کے بیٹے ہیں۔ اس خاندان کی تاریخ پنجاب چیفس کے صفحہ 1 26 سے صفہ 263 میں درج ہے۔ یہ ایک برہمن خاندان ہے جس نے شمال مغربی سرحدوں میں متھرا سے آ کر سکھ دربار میں بے پناہ اثر ورسوخ حاصل کیا۔ پنڈت ریکھی کیش آنزیری مجسٹریٹ اور بارہ سو روپے سالانہ کی جاگیرکامالک ہے۔
(21) مسر رام داس
(23) مسرسندرداس:مسر رام داس، مسر بیلی رام کا بیٹا اورمسرا روپ لال کا بھتیجا ہے۔ اس خاندان کی تاریخ پنجاب چیفس کے صفحہ 264 سے صفہ 267 میں درج ہے۔ اسے دو ہزار روپے سالانہ کی جاگیر دی گئی ہے۔ وہ فارسی میں شعر کہتا ہے۔ مسر رام داس کا چچازاد سرسندر داس بھی خاندان کا نامورفرد ہے۔
(26) کنور بخشیش سنگھ
(27) کنورٹھاکر سنگھ
(28) کنور نارائن سنگھ یہ تینوں مہاراجا شیر سنگھ کی رانیوں کے لے پالک بیٹے ہیں ۔ کنور بخشیش سنگھ کو 164 روپے کنورٹھا کر سنگھ کو 1800 روپے اور کنور نارائن سنگھ کو دو سوروپے پنشن ملتی ہے۔ ان کا تذکرہ پنجاب چیفس کے صفحہ 9 میں درج ہے۔
(29) کنور بھوپ سنگھ یہ مہاراجا رنجیت سنگھ کی بیوہ رانی تجوری کا لے پالک بیٹا ہے۔
(30)شیخ سندے خان : لاہور کے آنزیری مجسٹریٹ شیخ غلام محبوب سبحانی کاماموں ہے جو ذاتی وسائل پر گزارہ کرتا ہے۔ اس خاندان کی جاگیر ہوشیار پور میں ہے۔
(31) اتم سنگھ کاتعلق سدھ خاندان سے ہے جسے سکھوں کے زمانے میں عروج حاصل ہوا۔ اتم سنگھ کا والد سردار شری سنگھ بہت با اثر شخص تھا۔
(32)2فتح جنگ خان دهدری بہادر گڑھ کے نواب بہادر جنگ خان کا بیٹا ہے۔ وہ گورنمنٹ پنشنر ہے جو غدر کے بعد لاہور آیا تھا۔
(33) کشن سنگھ پورندیا: سردار گلاب سنگھ کا پڑپوتا ہے جس کا ذکر پنجاب چیفس کے صفحہ 370 سے 372 میں موجود ہے۔ اس خاندان کے امرتسر اور منٹگمری ضلعوں میں مکان اور زمینیں ہیں .
(34) رائے بہادر سیٹھ رام رتن : یہ میاں میر کا بہت بڑا بنکار ہے۔ اس کا اصل وطن بیکانیر ہے۔ وہ بنسی لال امیر چند اور بنسی لال رام رتن فرموں کا مالک ہے۔ آخر الذکر فرم لاہور گوجرانوالہ اور امرتسر ڈویژن کے سرکاری خزانوں کی انچارج ہے۔ بنکاری کے کاروبار کے علاوہ اس خاندان کے ضلع لاہور اور وسطی صوبوں میں بہت سے مکان اور جائیداد ہے۔ سیٹھ رام رتن نے کشمیر کے قحط اور کابل کی مہموں میں اناج اور دوسری اشیا سے بہت امداد کی۔
(35) رائے میلا رام :لاہور کا قدیمی کھتری اور ریلوے ڈپارٹمنٹ کا مشہور ٹھیکیدار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  قبیلے ذاتیں اور نامور خاندان

(36) حسین بخش ضلع لاہور میں کاروبار کرتا تھا لیکن اب سیالکوٹ میں تجارت کرتا ہے۔
(37) کرنل سکندرخان سکھ توپ خانے کے جنرل الہی بخش کا بیٹا ہے جس نے الحاق پنجاب کے موقع پر نمایاں خدمات انجام دیں ۔ سکندرخان اکبری داروغہ ہے جسے30 روپے پنشن ملتی ہے۔ لاہور میں اس کی زمینیں بھی ہیں۔
(38) پنڈت پریم ناتھ کشمیری پنڈتوں کے خاندان کے دیوان شکر ناتھ کا لے پالک بیٹا ہے۔ اس خاندان کا تذکرہ پنجاب چیفس کے صفحہ 253 پردرج ہے۔ دیوان کا بڑا پنڈت شیوناتھ کشمیر میں اہم عہدے پر فائز ہے اور
شعر کہتا ہے۔
(39) ہری کرشن داس کا تعلق مہاراجا رنجیت سنگھ کے خاندانی پروہتوں سے ہے۔ وہ پنڈت گلاب رائے کا بیٹا ہے جسے مہاراجا دلیپ سنگھ نے اپنی ماں مہارانی جنداں کی میت کے کریا کرم کے لیے مامور کیا تھا جو اس نے دریائے گوداور میں انجام دیں۔
(41) ہر سکھ رائے کوہ نور پریس کا مالک ہے۔ اس کاتعلق کائستھ خاندان سے ہے جو الحاق پنجاب کے وقت شمال مغربی صوبوں کے شہر کندر آباد سے لاہور آیا تھا۔
(42) محمد عظیم : پنجابی پریسں کا مالک ہے۔ اس کا تعلق شمال مغربی صوبوں سے ہے۔ اس کا بیٹا محمد لطیف ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ہے۔
(43) شیورام داس: سکھ دور کے ریکارڈ کیپر موسدی مل کا بیٹا ہے۔ اس کا چچا زاد رائے گوپال داس ایکسٹرا جوڈیشل اسسٹنٹ کمشنر ہے۔
(44) رحیم بخش : ایک بڑا تاجر ہے جس کے میاں میر اور انارکلی میں کئی مکان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور کی نباتات: گزیٹئر 1883-84لاہور کیسا تھا؟ (۳)

(45) رائے بہاری لال
دیوان داس عمل: یہ پشاوری کھتریوں کا خاندان ہے۔ وہ دیوان بھاوانی داس اور دیوی داس خاندان کے رشتے دار ہیں جس کی تاریخ پنجاب چیفس کے صفحہ 283 سے صفحہ 289 میں درج ہے۔ دیوان داس رائے بہادر کو سکھ دور میں باوقار مقام حاصل تھا۔ الحاق پنجاب کے وقت اسے مسٹر بچر کے سر رشتہ دار کی حیثیت سے سرکاری ملازمت میں لے لیا گیا۔ پنشنوں کے دعووں کی تفتیش کا خصوصی کام بھی اس کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے بعداسے چیف کمشنر کا میرمنشی اور آخر کارتحصیلدار مقرر کر دیا گیا۔ وہ 1874ء تک فرائض انجام دیتا رہا اور ریٹائرڈ ہوکر پنشن پائی۔ اب وہ آنزیری مجسٹریٹ ہے۔
(46) بلاتی سنگھ تحصیل چونیاں میں قلعہ دھرم سنگھ کا ذیلدار ہے۔ اسے مویشیوں اور گھوڑوں کی افزائش میں بہت دلچسپی ہے۔
(47) میاں کریم بخش پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کا معروف ٹھیکیدار ہے۔ محض ذاتی محنت کے بل بوتے پر خوشحال ہوا ہے۔
(48) درگا پرشاد: انارکلی کی مشہور فرم چھوٹالال کا مالک ہے۔ وہ انگریز راج کے شروع میں دہلی سے لاہور آ کر کپڑے کا کاروبار کرنے لگا۔ درگا پرشادمیونسپل کمیٹی کا رکن ہے۔
(49) نانک بخش: چیف کورٹ میں وکیل ہے اور لاہور شہر میں اس کی کافی جائیداد ہے۔
(50) جلال الدین کا تعلق ضلع لاہور کے ایک بااثر خاندان سے ہے۔ وہ شالامار باغ کا موروثی باغبان ہے۔ جلال الدین ذیلدار اور شالامار باغ کا داروغہ ہے۔ اسے گھوڑوں کی افزائش میں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔