children_food

بچوں کی خوراک اور نظام ہاضمہ کی تکالیف

EjazNews

بچوں کی خوراک اور نظام ہاضمہ کی تکالیف
نظام ہاضمہ کی ابتدا منہ سے ہوتی ہے ۔ جہاں غذا جاتی ہے اس کے ٹکڑے ہوتے ہیں وہ دانتوں کے درمیان پس کر تھوک میں شامل ہو جاتی ہے تاکہ آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے اتر سکے۔
غدود میں شامل ہو کر غذا پھر پیٹ میں اتر جاتی ہے جہاں مختلف سسٹم کے تحت تیزابیت پیدا ہوتی ہے یہاں اس کے مزید ذرات بنتے ہیں۔
پیٹ میں موجود غدود انزائم پیدا کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہاضمہ کا سسٹم برقرار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ائیڈرو لک ایسڈ بھی پیدا ہوتا ہے۔ انزائم تیزابی ماحول میں زیادہ بہتر انداز سے کام کرتا ہے۔
آنتیں:
نیم ہضم غذائیں تھوڑی مقدار میں چھوٹی آنتوں میں داخل ہو جاتی ہیں یہ ایک طویل ٹیوب کی طرح ہوا کرتی ہیں۔ آنتیں بھی انسانی جسم کا اہم ترین عضو ہیں۔ ہاضمہ کے مراحل میں بہت سی غذائیں جزو بدن ہو جاتی ہیں کچھ حصے فضلہ بن کر جسم سے باہر نکل جاتے ہیں۔
جسم کے دوسرے عضو کی طرح نظام ہضم کو بھی بہت سی بیماریاں لاحق ہوا کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں اور کچھ خطرناک صورت حال اختیار کر لیتی ہیں۔
تشخیص:
معمولی نوعیت کی ہاضمے اور خوراک کی تکالیف بچوں میں بہت عام طور پر ہوا کرتیں ۔ بہر حال اگر پیٹ میں درد اور الٹیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے تو ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کر لینا چاہئے کیونکہ یہ علامات زیادہ خطرناک امراض کی نشاندہی کرتی ہیں۔
تین ماہ کے بچے کا مسلسل رونا۔
تین ماہ کے بچے کی آنتوں میں تکلیف کا امکان۔
پیٹ میں ایک طرف تکلیف۔ خاص طور پر ورزش کے وقت۔ یہ تکلیف اس وقت اور بڑھ جائے جب بچہ ورزش سے پہلے کچھ کھا پی لے۔
اسٹیچ: یہ ورزش کرنے والے بچوں میں بہت عام ہے۔ خاص طور پر بھاگ دوڑ کرنے والے بچوں میں۔
الٹیاں ، مسلسل ہونے والے موشن اور بخار۔
فوڈ پوائزننگ یا گیس کی شکایت۔ بچے کو صاف ستھرا مشروب پینے کو دیں۔ اگر الٹیاں اور ڈائریا شدت اختیار کر لے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔خاص طور پر شیر خوار بچوں میں
کھانے کے بعد پیٹ میں تکلیف یا مروڑ کی شکایت۔ موشن سے پہلے زیادہ ہو جائے۔ سخت موشن۔ بھوک کی کمی اور سستی کا شکار۔
قبض کی شکایت: بچے کو پھلوں کا جوس وغیرہ پلاتی رہیں اور ایسی غذائیں کھانے کو دیں جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو۔
پیشاب میں تکلیف ۔ باربار پیشاب کا آنا اور بخار بھی ہو جائے۔
پیشاب کے سسٹم میں انفیکشن کا امکان:
پیٹ میں ایسا درد جو چھ سات گھنٹوں سے زیادہ رہے۔ خاص طور پر ناف کے نیچے۔ اس کی ابتدا ناف کے نیچے سے ہوتی ہے اور یہ پیٹ کے دائیں طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن بچے عام طور پر درد کے صحیح مقام کی نشان دہی نہیں کر پاتے۔ بچہ پیٹ چھونے کی اجاز ت نہ دے۔ کیونکہ اس طرح اس کی تکلیف میں اضافہ محسوس ہو۔ تین برس سے کم عمر کے بچوں میں یہ بہت کم ہوا کرتا ہے۔
اپنڈے سائٹس کا امکان:فوری طور پر ڈاکٹر کو بلوا لیں۔اور ڈاکٹر کے معائنے سے پہلے بچے کو کوئی بھی چیز کھانے پینے کے لئے نہ دیں۔
کوئی خاص چیز کھا لینے کے ایکی ا دو گھنٹوں کے بعد پیٹ میں درد شروع ہو جائے۔
اس خاص چیز سے بد ہضمی کا امکان :وہ غذا بچے کی خوراک سے دور کر دیں ۔ اگر بنیادی غذا نہ ہو۔
پیٹ میں بار بار درد کا ہونا الٹیوں کے ساتھ اور اس تکلیف کے آثار واضح طور پر دکھائی دیں۔ یعنی بچے کا رنگ زرد ہو جائے اور اسے بھوک محسوس نہ ہو۔
یہ علامت پیٹ کے مائیگرین کی ہے۔ بچے کو اندھیرے کمرے میں خاموشی سے لٹا دیں۔ اور اسے ہلکا میٹھا کوئی مشروب پینے کے لئے دیں۔
پیٹ میں اچانک اٹھنے والا شدید درد : بچہ بے چین ہو کر رو پڑے اور درد سے پہلے وہ بالکل نارمل ہو۔ Intassusceptionفوری طور پر ڈاکٹر سے رجو ع کریں۔
مسلسل رہنے والا ڈائریا۔ موشن میں خون اور بلغم کی آمیزش کا بھی امکان ۔ یہ ہر عمر میں ہو سکتا ہے۔
کولائٹس: چھوٹے بچوں میں یہ مرض بہت کم ہو ا کرتا ہے۔
انتباہ:وہ بچہ جسے بہت شدید پیٹ کا درد ہو۔ اور یہ درد دو تین گھنٹوں سے زیادہ برقرار رہ جائے۔ اسے فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جانا بہت ضروری ہے۔ اگر قریب میں ہاسپٹل ہو تو دیر کئے بغیر وہاں لے جائیں۔
بچوں کو غذا راس نہ آنا
نوعیت:غذائی خرابیاں کسی خاص خوراک یا کسی خاص مصالحے کا رد عمل ہوا کرتی ہیں۔
غذائی الرجی غذائی خرابیوں کی صرف ایک شکل ہے جبکہ غذائی خرابیاں بے شمار ہو سکتی ہیں۔
یہ خرابیاں کھانے پینے کی کسی بھی چیز سے پیدا ہو سکتی ہیں جیسے کری پائوڈر۔ اس سے عام طور پر ڈائریا ہو جایا کرتا ہے یا ایسی کوئی غذا جو آسانی سے ہضم نہ ہو سکے کیونکہ اس کو استعمال کرنے کے بعد جسم مطلوبہ مقدار میں اسے ہضم کرنے کے لئے انزائم یا کیمیکل پیدا نہ کر سکے۔
اس کی ایک عام مثال لیکٹوز (ملک شوگر) ہے جس کے استعمال کے بعد انزائم لیک ٹیز پیدا ہو جاتا ہے۔ نظام ہاضمہ کی یہ کارکردگی خاندانی بھی ہو سکتی ہے اور بعد میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یعنی کسی شخص کو اگر کوئی خاص غذا ہضم نہیں ہوتی تو ممکن ہے کہ اس کی اولاد کوبھی نہ ہو اور اس غذا کے بعد الرجی ہو جاتی ہو۔
ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو براہ راست الرجی پیدا کرتی ہیں اوران کے سبب غذائی خرابیاں واقع ہو جاتی ہیں۔
آپ کی توجہ کیلئے علامات:
ہاضمے کی خرابیاں ، بد ہضمی اور ڈائریا۔
دانے۔
کھانے والی چیز کے اثرال مختلف ہو سکتے ہیں۔
طرح طرح کی پریشانیاں ہوسکتی ہیں۔
کیا کرنا چاہے:
جب اس قسم کی صورت حال ہو جا ئے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی خاص غذا بچے کو راس نہیں آرہی ہے اور وہ غذا اس کے جسم کا حصہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس کا جسم اس غذا کوق بول نہیں کر رہا ہے۔
آپ دو ہفتوں تک معائنہ کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کون سی غذا ہے جو بچے کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ اگر وہ کوئی انتہائی بنیادی اور اہم چیز ہے تو پھر ماہر غذائیت یا ڈاکٹروں سے معولم کریں کہ اس کا نعم البدل کیا ہو سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر دودھ۔
اگر دودھ بچے کو ہضم نہیں ہوتا یا اس کی وجہ سے بد ہضمی ہو جاتی ہے تو پھر دیکھنا ہوگا کہ اس کی جگہ یکا استعمال ہو۔ اگر آپ کو یہ انداز ہ نہ ہو سکے کہ بچے کی الرجی یا ہاضمے کی خرابیو ں کا تعلق کھانے پینے کی کس چیز سے ہے تو پھ ر اپنی آسانی کے لئے ایک ڈائری بنا لیں اور بچے نے جو کچھ بھی کھایا ہو وہ اس ڈائری میں نوٹ کرتی چلی جائیں۔ پھر یہ اندازہ لگا ئیں کہ اس کے لئے کون سی چیز نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ الرجی کے اسپیشلسٹ بھی ہو اکرتے ہیں جو بچے کا تجزیہ کر کے الرجی کا سبب بتا سکتے ہیں۔
انزائم کا نقص:
لیک ٹیز (Lactase) کی کمی کی وجہ سے جسم میں انزائم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اگر چہ یہ بہت کم ہی ہوا کرتی ہیں لیکن بہت خطرناک اور نقصان دہ ہو تی ہیں۔
ان کے اثرات بہت ضرر رساں ہوا کرتی ہیں اور یہ غدود کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ بعض حالات میںی ہ خرابیاں وراثت کے طور پر ملا کرتی ہیں اور بعض حالات میں انسانی جسم میں کسی دیگر خرابی کی وجہ سے نشوونما پانے لگتی ہیں۔
ضمنی دوائیں ور علاج:
ان امراض میں بھی ضمنی دوائیں اور علاج مستقل علاج اور دوائوں کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کولیسٹرول کیا ہے؟

سعدیہ خان

کیٹاگری میں : صحت