contact lenses_1

لینسز کب نہیں پہننے چاہئیں

EjazNews

شجس طرح آپ کے پورے جسم کو آرام اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح آنکھوں کی بھی ہوتی ہے ۔ گھٹی ہوئی، زہر آلود اور دھوئیں سے بھری ہوئی فضا میں آپ کی آنکھیں بے چین ہو جاتی ہیں۔ بے آرامی محسوس کرتی ہیں۔ کیونکہ وہ سانس نہیں لے پاتیں۔ ان میں تکلیف ہو جاتی ہے۔ یا خارش ہونےلگتی ہے۔
آپ اس کا تجربہ اس طرح کر سکتی ہیں کہ کچھ دیر کے لئے ایسے کمرے میں چلی جائیں جہاں ہر طرف سگریٹ کا دھواں بھرا ہو۔ کچھ ہی دیر بعد آنکھوں میں جلن شروع ہو جائے گی۔ خارش ہونے لگے گی اس لئے بہتر ہے کہ ایسے ماحول سے دور رہیں۔

کنٹیکٹ لینسز کن کیلئے مفید ہیں

اپنی آنکھوں کو آرام دیتی رہیں۔ اس سلسلے میں آنکھوں کی ہلکی پھلکی ورزشیں بھی کی جاسکتی ہیں۔ آنکھوں کو صاف ٹھنڈے پانی دھوتی رہا کریں۔ اس سے آنکھوں پر خوشگوار تاثر پیدا ہو گا۔
احتیاط کے طور پر اپنے ساتھ اپنی عینک بھی ضرور رکھا کریں۔ جب ماحول میں لینسز کی وجہ سے بے چینی ہو رہی ہو، وہاں لینسز اتار کر عینک لگا لیاکریں ۔ اس سے کسی حد تک آپ کو سکون مل جائے گا۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ الکوحل استعمال کرنے والی خواتین کی آنکھیں خشکی کا شکار ہو جاتی ہیں اور خشکی کے بعد ہی آنکھوں میں بے چینی اور خارش ہونے لگتی ہے۔ وہ ایک صاف ستھری زندگی گزارا کرتی ہیں۔ بہر حال اگر ایسی کو ئی خاتون ہے بھی تو اسے اپنی آنکھوں کی حفاظت کے لئے الکوحل کا استعمال فوری طور پر ترک کر دینا چاہئے۔
اس کے علاوہ کافی دیر تک ٹی وی دیکھنے یا کتابیں پڑھنے کے بعد آپ کی آنکھوں میں جلن یا خارش ہوا کرتی ہے۔ آپ آنکھوں کو بے آرام اور بے چینی محسوس کرتی ہیں اگر ایسا ہے تو اس کی سیدھی سادھی وجہ یہ ہے کہ آپ نے بہت دیر سے پلکیں نہیں جھکائیں اور کسی ایک چیز پر مسلسل اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔ بہر حال یہ بھی کوئی صحت مند بات نہیں ہے۔ آپ کو اس سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  مائیکروویو اوون کے فوائد سے زیادہ نقصانات ہیں

بینائی اور فیشن دونوں کیلئے مفید کنٹیکٹ لینسز

سوئمنگ پول کی کلورین کے علاوہ اور بھی چیزیں آپ کی آنکھوں کے لئے سخت نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ جیسے آئل کلر، کسی قسم کا کیمیکل وغیرہ۔ اگر ایسی کسی چیز کا ایک چھینٹا بھی آنکھوں چلا جائے تو فوری طور پر لینسز اتار کر آنکھیں دھو لیں اور جب یہ اطمینان ہو جائے کہ اب سب ٹھیک ہے تو پھر ان لینسز کو دوبارہ لگا لیں اور اگر صورت حال شدید یا خطرناک ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس چلی جائیں۔
لینسز پہن کر کسی بیوٹی کلینک میں ہرگز داخل نہ ہوں۔ کیونکہ وہاں کی فضا میں ہر طرف اسپرے کے اثرات پھیلے ہوتے ہیں۔ چاہے آپ کے چہرے پر اسپرے ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو۔ آپ کے لینسز مساوی اثرقبول کریں گے۔
تیراکی اور روتے وقت:
آپ میں سے بہت سی خواتین تیراکی کی شوقین ہوں گی اب تو ہمارے یہاں یہ ایک فیشن بنتا جارہا ہے۔ خاص طور پر شہروں میں جہاں کئی لیڈیز ہیلتھ کلب ہیں اور ان میں سوئمنگ پول بھی ہیں۔ جہاں خواتین تیراکی کے شوق کو پورا کرتی رہتی ہیں۔
ایسی خواتین کے لئے مشورہ ہے کہ وہ پانی میں جانے سے پہلے اپنے لینسز اتار لیں۔ ورنہ سخت لینسز تو آنکھوں سے نکل کر پول میں گم ہو جائیں گی اور وہ بھی اس طرح کے شاید دوبارہ نہ مل پائیں اور نرم لینسز پانی میں سے کلورین کا اثر قبول کر لیں گے جس کی وجہ سے آنکھوں میں بے پناہ خارش شروع ہو جائے گی۔
اگر تیراکی کے وقت لینسز کا استعمال بہت ہی ضروری ہے تو پھر ایسا کریں کہ پول میں جانے سے پہلے سوئمنگ گا گلز پہن لیں اس طر ح لینسز گم بھی نہیں ہوں گے اور کلورین وغیرہ کا اثر بھی نہیں ہوگا۔
نہاتے وقت بھی اگر لینسز اتار لیا کریں تو زیادہ بہتر ہے اگر ممکن نہ ہو تو پھر اپنی آنکھوں کو زور سے بند رکھیں تاکہ کسی بھی صورت صابن کا جھاگ آپ کی آنکھوں میں نہ لگ سکے ورنہ صابن کے کیمیکل لینسز کے لئے نقصان کا سبب بن جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنے اوپر ہونے والے تشدد کیخلاف آواز اٹھائیں

کہا جاتا ہے کہ ہر عورت کی آنکھوں میں آنسو بھر ے رہتے ہیں ۔لینسز لگانے والی خواتین کے لئے مشورہ ہے کہ اگر آپ نے نرم لینسز لگا رکھے ہیں تو پھر ایسی صورت میں آنسو بہانا کسی حد تک ٹھیک ہی ہے۔ آنکھوں کی صفائی ہو جاتی ہے اور ایسے لینسز کی وجہ سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔
اگر آپ کے لینسز سخت ہیں تو پھر یہ مشورہ ہے کہ اگر آنسو بہانا ہی چاہتی ہیں تو لینسز اتار لیں ورنہ آنسو ایسے لینسز کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی احتیاطی تدابیر ہیں جنہیں لینسز لگانے والی ہر خاتون کو عمل کرنا چاہئے۔
لینسز کو اتار کر رکھنا:
بعض خواتین لینسز کو اتار کر رکھنے کے سلسلے میں کسی قسم کی احتیاط کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ جس کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ لینسز اتار کر ادھر ادھر رکھ دیتی ہیں اور انہیں تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اپنی رنگت کی وجہ سے وہ فرنیچر وغیرہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
سخت لینسز کو ڈھونڈ لینا نسبتاً آسان ہوا کرتا ہے کیونکہ اس کو چھوٹے سے ہلکی سی آواز آیا کرتی ہے۔ فرض کریں آپ نے اپنے لینسز اتار کر سنگھار میز یا کسی دوسری میز پر رکھ دئیے ہیں اور اب وہ آپ کو نہیں مل رہے تو آپ اپنی انگلی کے پور کو پانی میں بھگو کر میز کی سطح پر تلاش کرنا شروع کر دیں۔ لینسز آپ کی انگلی کے پور سے چپک جائیں گے۔
لینسز کو اتار کر فرش پر کبھی نہ رکھیں۔ ورنہ ان پر خراش پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
نرم لینسز کو تلاش کرنا اور بھی دشوار ہوتا ہے (اگر آپ نے اسے مقررہ جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھ دیا ہو تو )کیونکہ یہ بے رنگ اور بے آواز ہو ا کرتے ہیں۔ فرنیچر وغیرہ کے رنگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ ٹچ کرنے سے کوئی آواز بھی نہیں آتی۔
اگر آپ اپنی انگلی کی مدد سے لینسز کو پالیں تو پھر براہ راست اوپر نہ اٹھالیں۔ بلکہ اسے آہستہ آہستہ میز یا سطح کے کنارے لا کر کسی کاغذ پر گرالیں۔ پھر اس کاغذ سے اٹھا کر بہت آہستگی اور نرم کے ساتھ کیمیکل میں ڈال دیں۔ کیمیکل میں ڈال دینے میں اس کی نرمی برقرار رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں میں لکھنے کا شوق کیسے بڑھایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں